برطانوی شاہی خاندان: مالا کے موتی بکھرنے لگے
مالا کے موتی بکھرتے جا رہے ہیں۔ بیس پچیس سال پہلے جو آئینے میں بال آ گیا تھا، وہ باقاعدہ دراڑ کی صورت اختیار کرتا نظر آ رہا ہے۔ کچھ مہینے پہلے ہم نے ایک مضمون ”بادشاہ مر گیا، بادشاہ زندہ باد“ کے محاورے پر لکھا تھا لیکن ہمیں یہ امید نہیں تھی کہ صرف چھ مہینوں کے اندر ملکہ برطانیہ انتقال کر جائیں گی۔ اب حیران ہیں کہ کیا لکھیں؟ ملکہ مر گئیں، بادشاہ زندہ باد؟ ملکہ برطانیہ ایک ہر دل عزیز اور پر وقار شخصیت کی مالک خاتون تھیں۔
ان جیسی شخصیت کی حامل ملکہ اب ہمیں شاید ہی نظر آئیں۔ ان کی طرح بہت نوعمری میں تخت پر بیٹھنے اور طویل عرصے تک حکمران رہنے کا موقع بھی بہت عرصے تک شاید کسی کونہ ملے گا۔ ان کی وجہ سے شاہی خاندان کے اندر جو اختلافات تھے، وہ دبے رہے یا یوں کہیے کہ ان کی سنگینی چھپی رہی۔ ویسے تو یہ قدرت اور زمانے کا دستور ہے کہ ان کی وفات کے بعد ان کے ولی عہد (یعنی شہزادہ چارلس) نے ہی بادشاہ بننا تھا۔
لیکن اب ملکہ کی وفات کے ساتھ ہی شاہی خاندان کے اتحاد کی مالا واضح طور پر بکھرتی نظر آنے لگی ہے۔ بلکہ شاید یوں کہنا بہتر ہو گا کہ ان کے شوہر شہزادہ فلپ کی وفات کے وقت سے ہی ملکہ کی خاندان پر گرفت ڈھیلی پڑنے لگی تھی۔ اس لیے ان کی وفات سے ایک ڈیڑھ سال پہلے ہی شاہی خاندان کے اختلافات کھل کر سامنے آنے لگے تھے۔ اس وقت شاہی خاندان کے اراکین مان کر نہیں دے رہے تھے کہ ان کے اتحاد کی مالا ٹوٹ چکی ہے۔ جو انہیں کرنا تھا، وہ نہیں کیا اور جو نہیں کرنا تھا، وہ کر دیا۔
جس کا نتیجہ ایسی جدائی کی شکل میں نکلنا تھا۔ وہ اس وقت صحافیوں اور ذرائع ابلاغ کو مورد الزام ٹھہرا رہے تھے کہ یہ لوگ اپنی خبریں شائع کرانے کے لیے ہمارے درمیان دوریوں کی افواہیں پھیلا رہے ہیں، رائی کا پہاڑ بنا رہے ہیں لیکن سچی بات تو یہ ہے کہ جہاں سے دھواں اٹھ رہا ہو، آگ وہیں لگتی ہے۔ شاہی خاندان والے اب بھی اسے چھپانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ شہزادی ڈیانا کو تو لوگوں نے کمائی کا ذریعہ بنا لیا ہے۔ کوئی ان کی حمایت تو کوئی مخالفت میں کہانیاں، ڈرامے اور فلمیں بنا رہے ہیں۔ حالانکہ وہ تو اب گزرا ہوا ماضی بن چکی ہیں۔ خود شاہی خاندان کے افراد بھی ان کی جان نہیں چھوڑ رہے ہیں۔ گاہے بگاہے ان کی جانب سے ان کا تذکرہ چھیڑ دیا جاتا ہے۔ یوں ملکہ کی وفات اور چارلس کے بادشاہ بننے پر کماحقہ توجہ نہیں دی جا رہی ہے۔
اب چارلس کو بھی بخشا نہیں جا رہا ہے، کوئی اسے پسند تو کوئی ناپسند کرنے کا دعوٰی کرتا ہے۔ یوں پھر سے رائی کا پہاڑ بنایا جا رہا ہے۔ صرف صحافی ہی اس کام میں شامل نہیں۔ کبھی ایک رشتہ دار کہتا ہے کہ میرے ساتھ شاہ کے اچھے تعلقات ہیں تو کوئی دوسرا شکوہ کناں ہوتا ہے کہ میرے ساتھ ان کا سلوک اچھا نہیں ہے۔ ہمیں تو حیرت ہے کہ رائی کا یہ پہاڑ کب تک بنتا رہے گا۔
ابھی تو چارلس کو بادشاہ بنے چھ ماہ بھی نہیں ہوئے کہ دعوے ہو رہے ہیں کہ چارلس ایک سال کے اندر اندر تخت سے دستبردار ہو جائیں گے۔ یا اتنی ذمہ داریوں کا بوجھ نہ اٹھا سکنے پر جلد ہی فوت ہو جائیں گے۔ حالانکہ ان کی والدہ پچانوے سال کی عمر تک تخت پر براہ جمان رہیں، اور چارلس کے چوہتر پچھتر سال کی عمر میں فوت ہو جانے کی باتیں ہو رہی ہیں۔ حالانکہ شاہی خاندان میں طویل عمر کی روایت ہے۔ یعنی ایک طرح سے چارلس کو ذہنی اذیت کا شکار کیا جا رہا ہے۔
ایسی باتوں کی وجہ سے ان کی امور مملکت سے توجہ ہٹ رہی ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ ملکہ کمیلا، شہزادہ ولیم اور کیٹ، بادشاہ کے ساتھ کھڑے ہو کر سختی سے بیان جاری کرتے کہ اس طرح کی افواہوں سے گریز کیا جائے لیکن وہ کبھی کبھار الگ تھلگ سے ڈھیلا ڈھالا سا بیان داغ دے دیتے ہیں۔ دوسری طرف بھائیوں کے اتنے اختلافات ہیں کہ ولیم امریکا جا کر بھی سگے بھائی سے نہیں ملے۔ چارلس ابھی سے ناپسندیدہ ہو رہے ہیں۔ شاہی خاندان برطانیہ میں اقتدار کے استحکام کی علامت ہے۔
لیکن ان پر ایک مہینے میں دو دفعہ انڈے برسانے کی کوشش اور بکھنگم محل کی دیوار کو آگ لگانے کی کوشش اسی جانب اشارہ ہیں۔ ملکہ کی خاص ملازمہ اور شہزادہ ولیم کی آیا کی طرف سے شاہی محل کی تقریب میں مدعو سیاہ فام خاتون کو برطانوی شہری نہ ماننے پر اصرار کا واقعہ بھی اسی جانب اشارہ کرتا ہے کہ اندرون خانہ معاملات ٹھیک نہیں چل رہے ہیں۔
ہماری طرف سے ملکہ کی وفات پر دلی تعزیت اور نئے بادشاہ کے لیے نیک تمنائیں۔
ملکہ مر گئیں، بادشاہ چارلس زندہ باد


