پلے بوائے خان اور آڈیو لیکس کے ثمرات

پچھلے دنوں عمران خان کی متعدد آڈیوز لیک ہوئیں جن میں مبینہ طور پر وہ کسی خاتون کے ساتھ جنسی گفتگو کرتے پائے گئے، سننے میں آ رہا ہے کہ مزید آڈیوز اور ویڈیوز لیک ہو سکتی ہیں۔
درست یا فیک؟ یہ ایک الگ بحث ہے، اس وقت سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا یہ، یا اس سے ملتے جلتے اسکینڈلز عمران خان اور ان کے چاہنے والے سپورٹرز کے درمیان دوریاں پیدا کر سکتے ہیں یا نہیں؟
اس کا جواب حاصل کرنے کے لئے پاکستانی معاشرہ، عوام اور خان صاحب کے سپورٹرز کی نفسیات کا جائزہ لینا ضروری ہے، پاکستانی معاشرہ زیادہ تر غریب اور لوئر مڈل کلاس پر مشتمل ہے، جن کے مردوں کی ایوریج ہائیٹ پانچ فٹ چھ انچ، ایوریج رنگ گندمی ڈارک مائل، معاشرے میں موجود گھٹن کے باعث ان کے لیے مخالف جنس ایک ہوا اور اسے متاثر کرنا زندگی کا مقصد و بڑا چیلنج۔
اب قد چھوٹے ہیں تو سب کچھ چھوٹا، یعنی پاؤں بھی چھوٹے اور انگلیاں بھی، انگوٹھا بھی چھوٹا تو چھوٹا زندگی کا کل مقصد بھی، مقصد چھوٹا تو دوڑ بھی چھوٹی، یعنی
معدہ مضبوط اور مثانہ کمزور
دیواراں کالیاں، کراچی تا پشور
ببلی مضبوط اور گڈو کمزور
اس کے علاوہ گوری رنگت کے حصول کی جستجو، رنگ برنگی رنگ گورا کرنے والی کریموں اور دیسی ٹوٹکوں کی مقبولیت (بلا تخصیص جنس) سے عیاں ہے۔
یہاں تھوڑی سی وضاحت کہ پلے بوائے کون ہوتا ہے؟ پلے بوائے ایسے مرد کو کہتے ہیں جس کے تعلقات انواع و اقسام کی عورتوں کے ساتھ ہوں، آج اگر وہ کسی ایک عورت کے ساتھ نظر آئے تو کچھ ہی دنوں کے بعد کسی اور کے ساتھ، ان عورتوں کے ساتھ تعلقات کی نوعیت شدید جنسی تصور کی جاتی ہے، یعنی سوچنے والا تعلق کی شدت کو حسب ذائقہ اپنی مرضی کے ساتھ ایڈجسٹ کر سکتا ہے۔
عمران خان کی شہرت ایک پلے بوائے کے طور پر ان کے تمام اسپورٹرز میں انتہائی مقبولیت رکھتی ہے، یعنی ان کے جنسی تعلقات کو ان کے سپورٹرز ناصرف قبول کر چکے ہیں بلکہ کسی حد تک وہ ہمیشہ سے اس پر فخر بھی کرتے نظر آتے ہیں۔
دوران وزارت عظمی، عمران خان اگر کسی ملک کے دورے پر گئے یا کوئی غیر ملکی سربراہ مملکت دورے پر پاکستان آیا تو ان کے ساتھ موجود خواتین اسٹاف کی حرکات و سکنات پر خان صاحب کے سپورٹرز کی جانب سے خاص نظر رکھی گئی کہ وہ خان کو کس للچائی نظروں سے دیکھ رہی تھیں، او پیارے اور ہینڈسم خان، کسی کو تو چھوڑ دو، فلاں کی بیوی تو خان پر مر مٹی، وغیرہ وغیرہ۔
اس کے علاوہ جلسوں میں موجود ہر عمر کی خواتین کے چھوٹے چھوٹے ویڈیو کلپس (جن میں وہ خان سے اظہار محبت کے ساتھ رشتہ ازدواج کی خواہش میں مبتلا نظر آئیں ) خان کے مداحوں نے مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر دھڑا دھڑ شیئر کیے کہ خان کبھی بوڑھا نہیں ہوتا، خان تو ایک منہ زور گھوڑا ہے جب چاہے کاٹھی ڈال لو۔
خان صاحب بھی جلسوں میں وقتاً فوقتاً ڈنڈ پیلتے نظر آئے، یا ان کا خفیہ کیمرہ مین جہاں ان کی نماز پڑھتے ہوئے ویڈیوز کیپچر کر رہا تھا وہیں خان کی آدھ ننگے جسم کے ساتھ تیز دوڑ کی ویڈیوز بھی بنائے جا رہا تھا کہ خان آج بھی بہت تیز دوڑتا ہے اور تھکتا بھی نہیں، واہ خان تیرے کیا کہنے۔
تو حضور ایسے ہجوم کے سامنے دراز قامت، گورے رنگ والا ”پلے بوائے“ جس کے تعلقات ہمسایہ ملک کی فلمی ہیروئنوں سے بھی رہے ہوں ( یعنی پوری قوم کی طرف سے تمام شکستوں کا بدلہ ) جنسی آڈیو ویڈیو لیکس خان پر ان کے ایمان کو مزید پختہ کر سکتی ہیں۔

