خود شناسی سے خدا شناسی تک کا سفر


خود شناسی سے مراد ہے ”انسان کا اپنے مقام، اپنی صلاحیتوں اور ذمہ داریوں سے آگاہ ہونا“ ۔ یعنی میں دنیا میں کیوں آیا ہوں اللہ نے مجھے ایسی کون سی صلاحیتوں سے نوازا ہے جو تمام عالم سے مجھے ممتاز کرتی ہے۔

جب انسان کو اس بات کا ادراک ہو جاتا ہے کے اللہ نے اس میں کون کون سی خوبیاں رکھی ہیں جس کی بنا پر اسے پر اشرف المخلوقات کا ٹیگ لگا دیا ہے؟ انسان خود شناسی کی منزل تک خدا شناسی کے راستے سے گزر کر ہی پہنچتا ہے۔ ہم نماز پڑھتے ہیں کیونکہ کے یہ حکم خداوندی ہے ہاں اس سے کچھ اور بھی فوائد گنوائے جاتے ہیں لیکن محض اٹھنے بیٹھنے کے عمل سے گزرنے اور دیگر فوائد حاصل کرنے کے لئے ہم نماز نہیں پڑھتے ہمارا مقصد خدا کی چاہت، محبت، اس کی قربت اس کی ہمسائیگی اور دل میں ایک خلش ملاقات کا پالنا اور اس دوری اور مسافت کو قریب تر کرنا اس کو اپنے دل کی دھڑکن اور رگوں کا خون بنانا ہوتا ہے۔

جب اللہ سے ایسا انس پیدا ہو جائے ایسی محبت پیدا ہو جائے تو خود شناسی قریب تر آجاتی ہے۔ لیکن اگر ہم اپنی ہی ذات کو اہم تر سمجھیں گے اپنی ہی ذات کو محترم سمجھیں گے اور دنیا کے مقاصد میں اپنے آپ کو کسی بھی طریقے سے اپنے آپ کو مظلوم سمجھیں گے تو پھر ہم خدا نہیں پا سکتے۔ اپنی ذات کے ساتھ ہمدردی اللہ کے راستے میں سب سے بڑا نفسی جرم ہے۔ اپنی ہی خوبیوں پر تفاخر یا دنیاوی مقاصد کو اہم تر سمجھتا ہے وہ خدا کے قریب نہیں جا سکتا۔

”اور لیکن جو اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈرتا رہا اور اس نے اپنے نفس کو بری خواہش سے روکا“ ۔

یعنی ہم اگر اللہ کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈریں اور اپنی ہر ذاتی خواہش کی مخالفت کریں جو خدا کے راستے سے ہمیں روکے

انسان کا اخلاص اس کی محبت خداوندی سلامت رہے تو یہی سبب اپنی ذات کے اصلاح کا بنتا ہے۔ اور بالآخر وہ اپنے رب کریم کو پلٹتا ہے۔ اسی نفس کو اللہ نے مخاطب کر کے کہا:

” (ارشاد ہو گا) اے نفس مطمئن۔ تو اس حالت میں اپنے پروردگار کی طرف چل کہ تو اس سے راضی ہے اور وہ تجھ سے راضی ہے۔ پس تو میرے (خاص) بندوں میں داخل ہو جا اور میری جنت میں داخل ہو جا“ ۔

ہم اگر کوئی بھولے سے نیکی کر ہی بیٹھتے ہیں تو جب تک ہم دس لوگوں کو نا بتا دیں وہ نیکی ہمیں کھٹکتی رہتی ہے اور ہم بڑے تفاخر کے ساتھ بتا رہے ہوتے ہیں کے دیکھو یار اللہ نے مجھ سے یہ نیکی کا کام لیا ہماری ذاتی تشخیص اس درجے ناقص ہو گئیں ہیں کے ہم خود شناسی کے ان مراتب تک پہنچ ہی نہیں سکتے جو اللہ کی شناخت کے لئے بہت زیادہ ضروری ہیں۔

ترجمہ:

”تم ہرگز بھلائی کو نہیں پا سکو گے جب تک راہ خدا میں اپنی پیاری چیز خرچ نہ کرو اور تم جو کچھ خرچ کرتے ہو اللہ اسے جانتا ہے“ ۔

ہم اللہ تک کبھی بھی نہیں پہنچ سکتے اگر ہم اپنی محبتوں کی برات کو اللہ کی راہ میں قربان نہیں کرتے۔

اور ذرا ہم اپنے اوپر نظر ڈالیں تو نظر آتا ہے کے میرے پاس یہ نہیں وہ نہیں میرے ساتھ یہ ہو گیا وہ ہو گیا؟ میں ہی کیوں آخر میرے ساتھ ہی ایسا کیوں ہوا؟ اس دور حزن و ملال میں ہر بندہ ہی درد مند ہے اداس ہے۔

ہمیں اگر اس دور میں کوئی ایسا بندہ مل جائے جس کی زبان پہ شکوے گلے نا ہوں تو وہ اور کوئی اور ہو ہی نہیں سکتا کے یہ خدا کا دوست ہے۔ مگر حزن و ملال کی اس برات تک پہنچنے کے لئے خود کے ایک ایک پل کو ہمیں ایک ایک مرحلے کو طے کرنا پڑتا ہے۔

شیخ عبد القادر جیلانی فرماتے ہیں :
”خدا جب کسی بستی قلب میں داخل ہوتا ہے تو سب سے پہلے اسے اجاڑ کر ویران کر دیتا ہے۔ “

کہ دل میں بڑی بڑی سرگرداں، خواہشات کے بت بنے ہوتے ہیں۔ تو جب خدا کسی بستی قلب میں داخل ہوتا تو سب سے پہلے ان بتوں کو توڑتا ہے۔ ان کو ذلیل و رسواء کر دیتا ہے۔ اور جب اس زمین کو صاف شفاف کر لیتا ہے تو اپنا تخت قلب انساں پر جما دیتا ہے۔

خود شناسی ایک انتہائی تکلیف دے امر ہے۔ جب انسان پر برے دن آئیں گے وہ تکلیفوں اور مصیبتوں میں رہے گا اور اپنی محبوب چیزیں اللہ کی راہ میں قربان ہوتے دیکھے گا تو خود شناسی کے قریب تر ہوتا جائے گا۔

خود شناسی ایک ایسا سوال ہے جو کے ”مولانا روم“ اور ”شمس تبریز“ کے ملاقات کے وقت آیا ”شمس تبریزی“ نے مولانا سے پوچھا تھا: ”کہ کیا وجہ ہے کے آپ ﷺ فرماتے ہیں کے میں ستر دفع استغفار کرتا ہوں یا سو مرتبہ استغفار کرتا ہوں تو کس چیز سے استغفار کرتے ہیں“ ؟

تو انہوں نے اپنے معرفت کے انداز میں جواب دیا: ”کہ مقامات جب آگے بڑھتے تھے ختم نبوت تو ایک عہدہ ایک چیز ہے۔ جو رسول اللہ صلی علیہ و آلہ و سلم کو ملی نبوت بلند ترین چیز اللہ نے انہیں عطا کی اس کے بعد آگے کو چیزیں ہیں آگے جو دنیائیں ہیں۔ روحانیت کی اور اس سے آگے جو چیزیں اللہ کی قرب کی ہیں۔ جتنا اس قرب میں ترقی ہو جاتی تھی یا آگے چلے جاتے تھے پچھلے مقام پر جب نظر پڑتی تھی تو سمجھتے تھے یہ تو مقام گناہ کا ہے۔ یہ مقام ایسا ہے جو کم ہے اس لئے استغفار کرتے تھے۔“

اس لئے خدا تک پہنچنے کا بہترین راستہ خود شناسی ہی ہے اور ہم اشرف المخلوقات تب ہی بن سکتے ہیں اگر ہم اپنے آپ کو جان جائیں اپنے آپ کو پہچان جائیں اور یہ وقت اپنے آپ کی کھوج میں صرف کریں۔