آج کے دور کی مشکلات


آج کے دور میں ہم بہت سے مشکلات سے گزر رہے ہیں۔ آخر اس کی وجہ کیا ہے؟ مشکل کا دوسرا نام مصیبت ہے۔ مشکل کب بنتی ہے؟ مشکل اس وقت بنتی ہے جب جب کوئی انسان ہر کام سے غافل ہو جاتا ہے۔ آج کے دور میں انسان اللہ تعالیٰ سے بہت غافل ہو گیا ہے۔ انسان کے دل میں دنیاوی کام کے علاوہ کچھ بھی نہیں۔ آج مسجدیں ویران ہیں۔ کوئی قرآن مجید کے قریب نہیں جاتا۔ نوجوان اللہ تعالیٰ کی عبادت سے بہت پیچھے ہٹ رہے ہیں۔ سب نے غفلت کی چادریں اوڑھی ہوئی ہیں۔ سب بے راہ روی کا شکار ہیں۔ آج کے دور میں بے حیائی دن بہ دن بڑھ رہی ہے۔ کسی کے دل میں اللہ تعالیٰ کا ڈر نہیں۔ سب اپنی اپنی مرضی کے مطابق جی رہے ہیں۔

آج کے دور میں ان سب چیزوں میں اہم کردار ادا کرنے والی پہلی چیز موبائل فون ہے۔ اگر ہم موبائل فون کی بجائے کچھ وقت اللہ تعالیٰ کی عبادت میں گزار تو انشاء اللہ ہمارے ہر کام میں برکت ہو گی۔ اذان کی آواز سن کر بھی ہم میں سے اکثر موبائلوں پر پڑے رہتے ہیں۔ موبائل ایک ایسی چیز ہے جو عنقریب ہمیں تباہ و برباد کر دے گی۔ موبائل ہمیں دنیا سے تو ملا دے گا مگر اللہ سے جدا کر دے گا۔

جب ہم لوگ فارغ بیٹھے ہوں تو ہم میں سے اکثر گانے بجانے سن رہے ہوتے ہیں لیکن اگر ہم اس کی بجائے اللہ تعالیٰ کا ذکر و اذکار کریں تو انشاء اللہ ہم کسی منزل تک پہنچ سکتے ہیں۔ ہمیں کسی مشکل کا سامنا نہ کرنا پڑے گا ہم فجر کی نماز کے وقت بستر میں ظہر کی نماز کام میں عصر کی نماز کام سے گھر واپسی میں مغرب کی نماز کھانے میں اور عشاء کی نماز پھر سونے میں گزار دیتے ہیں سارا دن ہم گناہ پے گناہ کرتے ہیں۔ اسی لیے ہماری مصیبتیں اور مشکلات بڑھ رہی ہیں۔ نوجوان سارا دن گناہوں میں گزار دیتے ہیں گانوں بجانے میں گزار دیتے ہیں حالانکہ اب ہمارے بچوں میں بھی یہی عادات جنم لے رہی ہیں۔ کسی کے دل میں کوئی خوف خدا نہیں ہے۔

ہر انسان کو صرف دنیا کی لگی ہوئی ہے۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے یہ دنیا محض کھیل تماشے کے لیے نہیں بلکہ آخرت کی تیاری کے لئے بنائی ہے۔ کوئی اپنے ماں باپ کی قدر نہیں کرتا حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ماں کے پاؤں کے نیچے جنت اور باپ کو جنت کا دروازہ قرار دیا ہے۔ شیطان کی باتوں پر لگے ہوئے ہیں اور اپنی اپنی موج مستی کر رہے ہیں۔ قبر میں سب سے پہلا پوچھا جانے والا سوال نماز ہے لیکن آج ہم نماز کو کوئی اہمیت ہی نہیں دیتے۔

آج کے دور میں بچوں سے جوان ہو رہے ہیں جوانوں سے بوڑھے ہو رہے ہیں لیکن کسی کو کلمہ، نماز، زکوٰۃ، حج اور روزے کا کوئی پتہ ہی نہیں ہے۔ لوگوں کے پاس لاکھوں کروڑوں روپے ہوتے ہیں لیکن کوئی زکوٰۃ دینا مناسب ہی نہیں سمجھتا۔ حالانکہ آخرت کے دن لوگو کو مال کے ذریعے نہیں بلکہ اعمال کے ذریعے بخشا جائے گا۔ آج کے دور میں اسی وجہ سے ہمیں بہت سی مصیبتوں و مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ہمارے رزق میں بے برکتی و تنگی اور ہماری زندگیوں میں بے چینی پیدا ہو رہی ہے۔ سب جانتے ہیں کہ ہر جاندار چیز نے موت کا مزہ چکھنا ہے لیکن پھر بھی کسی کے دل میں یہ خوف نہیں ہوتا۔ آج کے دور میں اسی وجہ سے ہماری زندگیاں تنگ ہوئی پڑی ہیں۔

Facebook Comments HS