دہشت گردی اور ہم: غور و فکر کی بجائے عملی اقدامات کی ضرورت
قومی سلامتی کمیٹی کے اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ ’پاکستان کو للکارنے والوں کو پوری قوت سے جواب دیا جائے گا‘ ۔ یہ ایک بیان راولپنڈی اور اسلام آباد میں گزشتہ تین روز کے دوران ہونے والے مختلف اجلاسوں اور ملاقاتوں کے بعد سامنے آیا ہے۔ پہلے جی ایچ کیو میں کور کمانڈرز میٹنگ ہوئی، اس کے بعد گزشتہ روز آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے وزیر اعظم شہباز شریف سے ملاقات کی اور بالآخر آج قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں دہشت گردی سے پیدا ہونے والی صورت حال پر غور کے بعد یہ دو ٹوک بیان جاری کیا گیا۔
ایک بات واضح ہونی چاہیے کہ این ایس سی کا یہ بیان کسی دہشت گرد گروہ کو دھمکانے کے لئے نہیں ہے کیوں کہ دہشت گردی جیسے سماج دشمن کام میں مشغول عناصر نے سوچ سمجھ کر تباہی و بربادی کا یہ راستہ چنا ہوتا ہے جس میں وہ مرنے اور مارنے کے راستے پر گامزن ہوتے ہیں۔ دہشت گرد درحقیقت عسکری اداروں ہی کو اکساتے ہیں تاکہ انہیں مصروف رکھ کر وہ پاکستانی کی قومی دفاع کی صلاحیت کو کمزور، حکومت کو عاجز اور عوام کو بے حوصلہ کریں۔ دہشت گردی محض کسی ایک واقعہ میں ہونے والے جانی و مالی نقصان ہی کا سبب نہیں بنتی بلکہ اس کے پورے قومی مزاج پر اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ دہشت گرد، یہ صورت حال پیدا کر کے ریاست کو کمزور اور عوام و حکومت کے درمیان ربط کو کمزور کرنا چاہتے ہیں۔ تاکہ انہیں اپنے مذموم مقاصد حاصل کرنے کا موقع مل جائے۔
لہذا یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس سے قبل کور کمانڈرز کانفرنس اور وزیر اعظم و آرمی چیف کی ملاقاتوں کے ذریعے پاکستانی عوام کو ریاست پر اعتبار کرنے اور حوصلہ رکھنے کا پیغام دیا گیا ہے تاکہ دہشت گرد انتشار اور تقسیم کے بنیادی مقصد میں کامیاب نہ ہو سکیں۔ دہشت گردی کے حوالے سے یہ اہم ترین چیلنج ہے، اسی لئے قومی سلامتی کمیٹی کے اعلامیہ میں قومی یک جہتی اور سکیورٹی فورسز کے چوکنا رہنے کا پیغام خاص طور سے دیا گیا ہے۔ امید کرنی چاہیے کہ این ایس سی کے اجلاس میں قومی یک جہتی کے بارے میں جس امید کا اظہار سامنے آیا ہے، وہ محض قیاس آرائی پر ہی مبنی نہ ہو بلکہ حکومت اور سکیورٹی ادارے معاشرے کے مختلف حلقوں سے ملنے والی فیڈ بیک کی روشنی میں ٹھوس معلومات کی بنیاد پر یہ دعویٰ کر رہے ہوں گے۔ اگر قومی اداروں اور عوام کے درمیان بداعتمادی پیدا ہونا شروع ہو جائے تو یہ دہشت گردی جیسے عفریت کو پروان چڑھانے میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہے۔ یا دوسرے لفظوں میں کہا جاسکتا ہے کہ ایسی ہی صورت حال پیدا کرنا درحقیقت دہشت گرد گروہوں کا اصل مقصد ہوتا ہے۔
ملک میں دہشت گردی کی موجودہ لہر بنیادی طور پر تحریک طالبان پاکستان کے متحرک ہونے اور ریاست پاکستان کے خلاف ہتھیار اٹھانے کا باقاعدہ اعلان کرنے کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے۔ اس گروہ نے متعدد سکیورٹی ناکوں یا چوکیوں پر حملے کیے ہیں اور عسکری اداروں کو نشانہ بنایا ہے۔ حتی کہ ایک دہشت گرد نے کثیر مقدار میں دھماکہ خیز مواد لے کر اسلام آباد میں داخل ہونے کی کوشش کی۔ موقع پر موجود پولیس افسر چوکس تھے اور ایک افسر نے اپنی جان کی قربانی دے کر اس کوشش کو ناکام بنا دیا اور دہشت گرد پولیس ناکے پر ہی دھماکہ کرنے پر مجبور ہو گیا۔ پاکستان کے دارالحکومت میں دہشت گردی کے اس منصوبہ کا انکشاف ہونے کے بعد ہی امریکہ کے علاوہ متعدد ممالک کے سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کو چوکنا رہنے اور عوامی مقامات پر جانے سے گریز کا مشورہ دیا ہے۔ یہ وارننگ کسی ملک کی طرف سے اپنے شہریوں کو متنبہ کرنے کا دوسرا سنگین درجہ کہا جاسکتا ہے۔ انتہائی ابتر صورت حال میں بعض ممالک اپنے شہریوں کو ایسے کسی ملک کا سفر کرنے سے گریز کا مشورہ دیتے ہیں۔
دہشت گردی کا موجودہ سلسلہ اس حوالے سے بھی پریشان کن ہے کہ اب ٹی ٹی پی نے بلوچستان کے علیحدگی پسند گروہوں میں شامل کچھ عناصر کو بھی ساتھ ملانے کا دعویٰ کیا ہے۔ بلوچستان پہلے ہی امن و امان کی صورت حال کا شکار ہے۔ چمن میں شہریوں کو کراس بارڈر فائرنگ جیسے واقعات کا سامنا ہے جبکہ گوادر میں مقامی شہری متعدد سیاسی مطالبات کے لئے احتجاج کر رہے ہیں اور اس احتجاج کے دوران سکیورٹی فورسز سے تصادم کی خبریں بھی رپورٹ ہوئی ہیں۔ بے چینی اور عوامی ناراضی کے اس ماحول میں کسی دہشت گرد گروپ کا اس صوبے پر توجہ دینا اور وہاں بعض ناراض عناصر کو اپنے ساتھ ملا لینا تشویشناک خبر ہے۔ اس کا تدارک کرنے کے لئے صرف دہشت گرد عناصر کی گروہ بندی کو توڑنا ہی ضروری نہیں ہے بلکہ عوامی سطح پر اعتماد سازی کا کام کرنا بھی بے حد ضروری ہے۔ ملک اس وقت قومی سطح پر سیاسی تصادم کی جس وسیع صورت حال کا سامنا کر رہا ہے، اس کے تناظر میں تو بے حد اہم ہے کہ حکومت فوری طور سے افغان فورسز کی فائرنگ کے واقعات کو ختم کرنے کے لئے ٹھوس سفارتی اقدامات کرے یا افغان فورسز کو طاقت کے زور پر پاکستانی سرحدوں کی خلاف ورزی سے روکا جائے۔ تاہم اس حوالے سے سب سے اہم گوادر میں پائی جانے والی بے چینی کو ختم کرنا ضروری ہو گا۔
یہ اتنا اہم معاملہ ہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف کو ذاتی طور پر اس کا نوٹس لینا چاہیے اور بنفس نفیس گوادر جاکر پرامن احتجاج کرنے والے گروہوں کو یقین دلانا چاہیے کہ حکومت ان کے حقوق کی حفاظت کرے گی اور شفاف اقدامات کے ذریعے ان شکایات کو دور کیا جائے گا جو بنیادی سہولتوں اور ماہی گیری کے حقوق کے حوالے سے سامنے آئی ہیں۔ بلوچستان میں سیاسی محرومی کی ایک طویل تاریخ ہے۔ بدقسمتی سے ہر حکومت وہاں پر آباد عوام کے مسائل حل کرنے کا دعویٰ کرتی ہے لیکن دہائیاں بیت جانے کے باوجود اعتماد سازی کا ماحول پیدا نہیں ہوسکا۔ شہباز شریف وزیر اعلیٰ پنجاب کے طور پر بلوچستان کے ساتھ خیر سگالی کے متعدد اقدامات کرتے رہے تھے۔ اب وہ ملک کے وزیر اعظم ہیں۔ بہتر ہو گا کہ وزیر اعظم کسی مجبوری کی وجہ سے وہاں کیمپ آفس قائم نہیں بھی کر سکتے تو وہ خود وہاں کا دورہ کریں اور مسائل سن کر انہیں حل کرنے کے منصوبہ پر اتفاق رائے پیدا کیا جائے۔ اسی طرح دہشت گرد گروہوں کو پیغام دیا جا سکے گا کہ وہ عوام اور ریاست کے درمیان بداعتمادی پیدا کرنے میں کامیاب نہیں ہوں گے۔
بلوچستان کے حوالے سے اہم ترین مسئلہ لاپتہ افراد کا معاملہ ہے۔ اس بارے میں وسیع تر سیاسی اتفاق رائے موجود ہے کہ ماورائے قانون طریقے سے لوگوں کو اٹھا لینا اور تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد بعض لوگوں کی لاشوں کو پھینک دینا ناقابل قبول طرز عمل ہے۔ قومی سلامتی یا مفاد کے نام پر اس قسم کی غیر انسانی اسکیم جاری رکھنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ وزیر اعظم کو فوج کی نئی قیادت کے ساتھ مل کر قومی سلامتی اور عوامی بہبود کے اس اہم ترین مسئلہ کو حل کرنے کے لئے ٹھوس منصوبہ پر کام کرنا چاہیے۔ اس منصوبہ کی وسیع پیمانے پر تشہیر بھی کی جائے تاکہ دہشت گردوں کو خبر ہو جائے کہ پاکستان اب انہیں اپنی کمزوریوں کو اپنی ہی سلامتی کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے سکتا۔ یہ منصوبہ دو اہم ترین مرحلوں میں پورا کیا جاسکتا ہے۔ پہلے مرحلے میں تمام لاپتہ افراد کو رہا کیا جائے یا ان کے خلاف ملکی عدالتوں میں مقدمے قائم کر کے انہیں اپنے اہل خانہ سے ملاقات کی اجازت دی جائے۔ دوسرے مرحلے میں قومی سلامتی کے اس نام نہاد منصوبہ کے تحت گزشتہ دو دہائی کے دوران اٹھائے جانے والے تمام لاپتہ افراد کے بارے میں معلومات فراہم کی جائیں تاکہ ان کے لواحقین کو حقیقی صورت حال کا علم ہو اور وہ بے یقینی کی کیفیت سے باہر نکل سکیں۔
یہ درست ہے کہ اس حوالے سے لاپتہ افراد کے لواحقین اور سکیورٹی اداروں کے درمیان نہ صرف اختلاف رائے موجود ہے بلکہ سال ہا سال سے موجود اس تنازعہ کی وجہ سے بداعتمادی کی وسیع خلیج بھی حائل ہے۔ سکیورٹی اداروں کا موقف رہا ہے کہ متعدد لاپتہ افراد اپنی مرضی سے ملک دشمن گروہوں میں شامل ہو گئے ہیں اور کسی ہمسایہ ملک میں موجود ہیں۔ البتہ اگر پاکستانی شہریوں کو کسی قانونی اختیار کے بغیر شہریوں کو اٹھانے کے سالوں پرانے طریقہ کو ختم کر دیا جائے اور سکیورٹی ادارے دو ٹوک الفاظ میں اعلان کریں کہ ان کی تحویل میں کوئی ایسا پاکستانی موجود نہیں ہے جس کا باقاعدہ ریکارڈ متعلقہ اداروں کو فراہم نہ کیا گیا ہو تو غلط فہمیاں دور کی جا سکتی ہیں۔ ملک کی سیاسی اور عسکری قیادت کو یکساں طور سے سمجھنا چاہیے کہ لاپتہ افراد کے معاملہ کو غیر ضروری طور سے مؤخر کیا گیا ہے اور اب اسی فوری طور سے قومی یک جہتی کے وسیع تر مقصد سے حل کرنے کی ضرورت ہے۔ کسی وزیر اعظم کا لاپتہ افراد کی بازیابی کا مطالبہ سننے کے بعد یہ کہنا کہ ’وہ اس بارے میں با اختیار حلقوں سے بات کریں گے‘ درحقیقت قومی سلامتی و یک جہتی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ اب ہمیں کسی ایسے وزیر اعظم کی ضرورت ہے جو کہہ سکے کہ ملک کے کسی ادارے یا ذیلی ادارے کے پاس کوئی شخص غیر قانونی طور سے زیر حراست نہیں ہے۔
دہشت گردی کی موجودہ لہر کے تین فوری عوامل کسی عمیق غور خوض کے بغیر پہنچانے اور سمجھے جا سکتے ہیں۔ ایک: افغان حکومت کا رویہ۔ دوئم :ملک میں پایا جانے والا سیاسی تصادم و بے چینی اور سوئم : عام طور سے مذہبی معاملات میں شدت پسندانہ رجحانات میں اضافہ۔ ان رجحانات کو راسخ کرنے میں ملکی دس گاہیں اور میڈیا یکساں طور سے کردار ادا کر رہا ہے۔ ان تینوں پہلوؤں پر فوری اور بیک وقت کام کرنے کی ضرورت ہے۔ جو عناصر ان مقاصد کے لئے وسیع تر قومی تعاون کا حصہ بننے پر آمادہ نہ ہوں، ان کے بارے میں طے کیا جائے کہ وہ کس حد تک قومی یک جہتی و مفاد کے علمبردار ہیں۔


