1945 کی ایک حیران کن تصویر سے
اس کے چہرے پر کھردرا پن سمیت وحشت کا خوفناک سایہ تھا، اس کی مونچھ ٹھیک اس کے ناک کی طرح موٹی اور بہت چھوٹی تھیں کہ ناک کے سوراخ والے حصے سے بھی دائیں اور بائیں کی طرف نہیں پھیلتی تھی۔ آنکھیں بڑی بڑی اور اس میں چمک اور بے باکی اس قدر کہ دنیا کی تباہی دیکھنے کے لیے انتہا کی حد تک ہمیشہ پر شوق رہتی تھیں۔ اس کے گلے میں ایک خوبصورت ٹائی کا قلادہ تھا اور بدن پر بھورے رنگ کا شیروانی نما ایک خاص لباس، جس پر ایک علامتی لیبل کو بازو اور سینے کی جگہ چسپاں کیا گیا تھا جو اپنے آپ میں اس کے تشدد کی آبرو کا علمبردار تھا۔
پینٹنگ اور آرٹ سے بھی کبھی اسے بہت دلچسپی رہتی تھی۔ وقت اس سے برہم تھا کہ اس کے ہاتھ میں اس نے کبھی برش نہیں دیا۔ وہ بڑا ہوا تو اس کی ذہنی تربیت بدل چکی تھی، وہ ایک کینوس پر سرخ لوہے سے دنیا کی تصویر بنانے لگا۔ وہ لہو سے منعکس ہونے والی ایک تاریخی تصویر تھی جس میں پوری دنیا ایک وحشت زدہ فریم میں قید ہو گئی تھی۔ کروڑوں انسان تھے جن کے خون کا قطرہ قطرہ اس پینٹنگ میں منجمد ہو گیا تھا۔ وہ 1945 کی خوف زدہ کردینے والی تصویر تھی جس میں حبس اور گھٹن کے سوا کچھ بھی نہیں دکھائی دیتا تھا۔
اسی فریم میں ایک دوسری تصویر تھی، اس میں ایک بچہ تھا، اس کے چہرے پر مسکراہٹ نہیں تھی مگر موسم خزاں میں اچانک چھا جانے والے بہار کی مانند اس کی زندگی پر مسکراہٹ کا رقص ضرور حاوی تھا۔ دوسری جنگ عظیم کے فوراً بعد جب انسانی راکھ سے آفریدہ سیاہ دھند نے بارودی سرنگوں میں بھی اپنی جگہ بنالی تھی، عین اسی لمحہ موجود میں نئے جوتے کا اس کے خالی ہاتھ میں آجانا نہ صرف اس کے لیے بلکہ اس تصویر کو کشید کرنے والے کے لیے بھی خوش گوار حیرت کی بات تھی۔ 2021 کو ایک فریم میں اتارنے کی کوشش کیجیے تو وہاں بھی کچھ ایسا ہی منظر ابھر کر سامنے آتا ہے۔ 2022 اسی فریم کی دوسری تصویر ہے جس میں اردو فکشن کی پذیرائی کسی معجزے اور Surprised کی مانند ہے جو گزشتہ سے پیوستہ برس میں وقوع پذیر ہونے والے حادثے کے ہر نوحے کو ہمارے ذہن سے چھو منتر کر دیتا ہے۔
اجمالی طور پر کم و بیش 2021 میں یہی کچھ تھا کہ کچھ خوش کن خبریں تھیں تو کچھ بڑی اندوہناک اور ناقابل یقین حادثے تھے۔ میں نے اس وقت بھی 2021 کو الوداع کہتے ہوئے یہی کہا تھا کہ 2020 کی طرح یہ سال بھی اردو کے لیے ہلاکت و بربادی کا سال ثابت ہوا۔
﴿ ”مگر 2022 کیسا ہو گا؟ اس کا جواب ہم اومیکرون کے قید میں رہ کر تو نہیں دے سکتے۔
بس امکان ہے کہ ابھی ہم جئیں گے
ہمیں منزل کا پتا ہے نہ سراغ کوئی کامیابی کا
پھر بھی
خشمناک لہروں کی طرح ساحل پہ
ہم جھومیں گے اور گائیں گے
ہم اداس ہوں / یا ہوں مایوسی کے شکنجے میں
نغمے سنیں گے
کہ ہماری موت کے سناٹے میں جب تک زندگی کی حرکت برقرار رہے گی
موسیقی کی ایک خاموش لے ہمارے وجود کے ہر ریشے میں موجود رہے گی ”﴾
﴿اپنی ایک غیر کاغذی عرض داشت سے ﴾
قفل بندی نے دنیا پر حبس اور سموگ کی سیاہ چادر تان دیا تھا 2022 اسے ہٹانے میں کافی حد تک کامیاب رہا۔ رسائل و جریدے چاند اور سورج کی طرح افق پر نمودار ہوتے رہے۔ اثبات، دربھنگہ ٹائمز، آج کل، جہان اردو، عالمی فلک، مژگاں، اردو جرنل پٹنہ، نیا ورق، تمثیل نو، انتساب، استفسار، امروز، رہروان ادب، انشا، فکر و تحریر، تکمیل اور جدید فکرو فن وغیرہ پابندی سے شائع ہوئے۔ کچھ نئے رسالے بھی عالم وجود میں آئے، جن میں سر فہرست نند کشور وکرم کا رسالہ عالمی اردو ادب کی تجدید عمل میں آئی اور ادب عالیہ وغیرہ نے بھی اپنی ابتدائی سفر کا آغاز کیا۔
2022 اس لیے بھی ہمیشہ اہمیت کا حامل رہے گا کہ اس میں اردو فکشن کی عظمت کا اظہار جے سی بی انعام (JCB Prize) کی شکل میں وارد ہوا۔ پھر بھی آپ اور مجھ سمیت دیگر افراد کو جے سی بی سے پہلے فاروقی صاحب اور پدم شری نجمہ اختر صاحبہ کا شکر گزار ہونا چاہیے کہ جب خالد جاوید کے فکشن کو مغلظات کہہ کر لوگ اپنا دامن جھاڑ چکے تھے کہ ’ہزاروں برس سے لوگ کوڑا کرکٹ کو کوڑا کرکٹ ہی بولتے آئے ہیں تو میں کیوں۔ ‘ اس سے بہت پہلے بھی کوئی تھا جس نے خالد کے فکشن کی عظمت کا برملا اعتراف کیا تھا۔
آج سے نصف صدی یا ایک صدی بعد جب اردو فکشن پر گفتگو ہوگی تو 2022 اور خالد جاوید ہمیشہ سر فہرست رہیں گے۔ لیکن ابھی ٹھہریے کہ فریم کی دوسری تصویر میں خالد جاوید پوری اردو تہذیب کے لیے ترجمان اور Surprised کی شکل میں نظر آئیں گے۔ زیریں زمیں سے برآمد ہونے والی تنقید میں بھی اور آسمان سے وحی کی صورت نازل ہونے والی تخلیق میں بھی۔ 2022 میرے لیے 1945 کی اسی فریم کردہ تصویر کی مانند ہے جس میں 2020 اور 2021 کی وہ بھی تصویر ہے جس میں مرگ انبوہ کا سلسلہ کبھی ناپید نہیں رہا، دنیا اور اس کی ہر چیز تباہ ہو گئی مگر خالد جاوید کے ہاتھ میں ایک نئی تصویر ہے، نیا ادب اور نیا نظریہ بھی اور اس میں نئی تہذیب کا عکس بھی اور اردو کی کیفیت وہی ہے جو 1945 میں جنگ عظیم کے بعد surprised ہوتے وقت اس ننھے بچے کی آنکھ کی چمک میں رہی ہوگی کہ خالد نے اسے ایک معجزاتی surprised دیا ہے۔




