بھینسوں کا شاہ رخ خان

ہمارے دیہاتی کلچر میں نناوے فیصد کٹوں کا مستقبل قصائی کی چھریاں یا پھر مولوی صاحب کا پیٹ ہوتا ہے۔ باقی ایک فیصد بچے کٹوں میں سے کچھ گھریلو یا پھر مسیت کے مالی بننے میں کامیاب ہوتے ہیں۔
اب شہر کے رہنے والے دوستوں کو مسیت کے مالی کی سمجھ نہیں آئی ہو گی۔ میں وضاحت کیے دیتا ہوں۔ شہر کے لوگوں کو لگتا ہے کہ دیہات کے لوگ بہت سادہ لوح ہوتے ہیں۔ مگر وہ اتنے سادہ لوح بھی نہیں ہوتے جتنے آپ کو لگتے ہیں۔ ہمارے دیہاتی کلچر میں ہر کوئی سنڈھا پالنا افورڈ نہیں کر سکتا لہذا سارا گاؤں مل کر ایک سنڈھا خریدتا ہے۔ لوہا گرم کر کے اس پر اپنے گاؤں کے نام کی مہر ثبت کرتے ہیں اور اسے ”مسجد کے مالی“ کا نام دے دیتے ہیں۔ مسجد کا نام ساتھ جڑنے کی وجہ سے، گاؤں کے ہر شخص پر اس کا احترام ”واجب“ ہو جاتا ہے۔ پورے گاؤں میں وہ کسی کھیت یا گھر میں گھس جائے تو نا تو کوئی شخص اسے ڈنڈا مارتا ہے اور نا ہی اسے ڈانٹتا ہے۔
کھیت یا گھر سے نکالنا ضروری ہو، تو بھی حفظ مراتب کا خیال رکھتے ہوئے بہت پیار سے باہر کا راستہ دکھایا جاتا ہے۔
مسجد کے مالی کو گھر سے نکالے جانے کی کتنی ہی کارروائیوں کا میں چشم دید گواہ ہوں۔ مسجد کا مالی اگر کسی ایسے گھر میں گھسنے کی کوشش کرتا، جہاں پر بندھی بھینس کم عمر یا پھر پہلے سے ”شادی شدہ“ ہو، تو اس گھر پر موجود بزرگ بہت احترام سے درخواست کرتے ہیں کہ ”او کرما آلیا کوئی ہور بوہا ویکھ، ساڈی تے اجے پچھلے مہینے ای سوئی آ“ ۔ ( محترم کسی اور گھر کا دروازہ کھٹکھٹائیں، ہماری بھینس تو پہلے ہی شادی شدہ ہے، اور پچھلے مہینے ہی ماں بنی ہے ) ۔ آسان الفاظ میں کہیں تو وہ ”مالی صاحب“ سے گزارش کرتے ہیں کہ آپ کو مطلوبہ سہولت فی الحال مسیر نہیں ہے۔
مسجد کے مالی کی موجیں ہوتیں ہیں۔ وہ جو مرضی کھائے پیئے جس مرضی گھر میں گھس جائے۔ اس کے فرائض منصبی میں فقط کہ گاؤں یا علاقے کی تمام کٹے اور کٹیوں کا ”ابا“ بننا ہوتا ہے۔ جب تک وہ محنت اور لگن سے اپنے فرائض منصبی ادا کرتا رہتا ہے۔ وہ پورے گاؤں کا لاڈلا ہوتا ہے۔ تاہم عمر بڑھنے کے ساتھ جیسے ہی وہ اپنے فرائض منصبی ادا کرنے کے قابل نہیں رہتا۔ گاؤں کے بزرگوں کی کمیٹی کا اجلاس طلب کیا جاتا ہے۔ کثرت رائے سے قرار داد پاس کرنے کے بعد اسے قصائی کے حوالے کر کے نیا اور تازہ دم مالی کھڑا کر دیا جاتا ہے۔
مسیت کے مالی کی زندگی میں اور پاکستان کی سیاسی تاریخ میں اگر آپ کو کوئی مماثلت نظر آئے تو اس میں میری کوئی غلطی نہیں ہے۔ میں آج بالکل غیر سیاسی تحریر لکھ رہا ہوں۔
بات کہیں اور نکل گئی ہے۔ واپس شاہ رخ خان اور اس کی زندگی کے موازنے پر آتے ہیں۔
شاہ رخ خان ایک رومانٹک ہیرو ہے۔ بیشتر فلموں میں، سرسوں کے کھیت میں بانہیں پھیلائے کاجل، مادھوری اور ایشوریا سمیت صف اول کی اداکاراؤں سے عشق لڑا رہا ہوتا ہے۔ اسی طرح ہمارا ”شاہ رخ خان“ بھی خوبصورت بھینس کو دیکھتے ہی آسمان کی طرف ترچھا سا منہ کر کے یہی گیت گنگناتا ہے کہ ”تجھے دیکھا تو یہ جانا صنم پیار ہوتا ہے دیوانہ صنم“ ۔ بھینس بھی گانا سنتے ہی رسہ چھڑا کر اس کی طرف بھاگی چلی آتی ہے۔ دونوں نزدیک آتے ہیں، گردن سے گردن ملا کر کوئی سرگوشی کرتے ہیں۔ اور پھر ”شیطانیاں“ کرنے کے بعد اپنا اپنا رستہ ناپتے ہیں۔
اصلی شاہ رخ خان کی طرح یہ ہمیشہ رومانوی کردار ہی ادا نہیں کرتا بلکہ جب کوئی اتھری بھینس اس کے ساتھ ”شان پتی“ کرنے کی کوشش کرے تو پھر اسے ”بازیگر“ یا پھر ”ڈر“ والا روپ دھارتے بھی دیر نہیں لگتی۔ اتھری بھینس سے محبت میں گرفتار ہو جانے کی صورت میں یہ ”تیرا جسم میری مرضی“ پر عمل کرتے ہوئے یہ بھینس کو دو چار ٹکریں مار کر بھی سیدھا کر لیتا ہے۔
اپنے بھینسوں کے ”شاہ رخ خان“ کی گاؤں اور علاقے کی انہیں خدمات کے پیش نظر، گزشتہ گرمیوں کی چھٹیوں میں جب میں اور میرے چچازاد بھائی چوہدری وسیم زمان سوئٹزرلینڈ گئے۔ وہاں سے ہم نے وہی ”ٹلی“ خریدی جو شاہ رخ خان نے کاجل کے لیے خریدی تھی۔ بدقسمتی سے، باوجود تلاش کرنے کے ہمیں اتنی بڑی ٹلی تو نہیں مل سکی جتنی شاہ رخ خان کے پاس تھی۔ مگر بات تو نسبت کی ہوتی ہے لہذا ہم نے بھی اسی ٹلی کا ”بچہ“ خرید لیا۔ ویسے آپس کی بات ہے ہمارا شاہ رخ خان بھی تو اصلی شاہ رخ خان سے تھوڑا چھوٹا سٹار ہے لہذا ”نکی ٹلی“ سے بھی کام چلا لے گا۔
میں آج ہی پاکستان پہنچا ہوں اور پاکستان پہنچتے ہی ”ٹلی پہنائی“ کی پر وقار تقریب منعقد کی ہے۔ تقریب کے مہمان خصوصی ”شاہ رخ خان“ کا خیال رکھنے کی ذمہ دار شخصیت علی حسن تھے۔ علی حسن نے اپنے کنوارے ہاتھوں سے ”شاہ رخ خان“ کو ٹلی پہنا کراس کی گراں قدر خدمات کو خراج تحسین پیش کیا۔

