شبانہ چلی گئی، مثال چھوڑ گئی


پاکستانی نژاد نارویجئن شہری شبانہ رحمان نے بہادری سے کینسر جیسے موذی مرض کا مقابلہ کیا اور آخری لمحے تک اس بیماری سے شکست قبول کرنے سے انکار کرتی رہی۔ اس کا جسم سرطان کے حملہ سے چھلنی ہو چکا تھا لیکن اس کی روح تازہ اور اس کا دماغ زندگی اور امید کا پیغام دینے میں سرگرم تھا۔ اس نے اپنی زندگی کے آخری مہینوں، ہفتوں اور دنوں میں ایک ہی پیغام دیا کہ زندگی کا ایک ایک لمحہ جی لینا چاہیے اور اس کے لئے ہر حد سے گزر جانا چاہیے۔

46 سال کی عمر میں جمعرات 29 دسمبر کو ناروے کے ایک ہسپتال میں سکون سے اپنے آخری سفر پر روانہ ہونے سے پہلے شبانہ رحمان نے اہل ناروے اور انسانوں کو یہی پیغام دیا کہ زندگی ایک ایسی نعمت ہے جس سے انکار کرنا کسی باشعور انسان کو زیب نہیں دیتا۔ یوں تو اپنی مختصر زندگی میں شبانہ رحمان نے لکھنے، مباحث، اسٹینڈ اپ کامیڈی، اسٹیج ڈرامے اور ریڈیو پروگرام کرنے تک مواصلات کے تقریباً ہر شعبہ میں طبع آزمائی کی اور انسانی آزادی اور خود مختاری کا پیغام عام کیا۔ لیکن گزشتہ سال اپریل میں جان لیوا کینسر تشخیص ہو جانے کے بعد شبانہ نے نہایت اولوالعزمی سے اس بیماری کے بارے میں گفتگو کی۔

مضامین کے سلسلہ میں اپنی بیماری کے تناظر میں زندگی کے پیغام کو سمجھنے اور عام کرنے کی کوشش کی۔ اور پوڈ کاسٹ نشریات کے ذریعے اپنے تجربہ و مشاہدہ کے علاوہ جسم و جان پر بیتنے والے احساسات بیان کر کے زندگی کے آخری لمحے تک اپنی بھرپور تخلیقی صلاحیتیوں کا مظاہرہ کیا۔ یہ حوصلہ مندانہ کام شبانہ کی شخصیت، عزم، پیغام اور مقصد کے بارے میں بہت سے پہلوؤں پر روشنی ڈالتا ہے۔ زندگی اور اس کے مسائل، بین الانسانی رشتوں کی تفہیم اور سماج میں اپنی شناخت کے ساتھ کھڑا ہونے کی جد و جہد کے حوالے سے بیماری کے چند ماہ کے دوران تحریر کیے گئے بلاگ اور ریکارڈ کیے گئے پروگرام یا میڈیا کو دیے گئے انٹرویوز بلاشبہ قابل قدر تحفہ ہیں جن کی قدر و قیمت میں وقت کے ساتھ اضافہ ہو گا۔ یہ سب تحریریں اور اس دوران ریکارڈ کی جانے والی سب باتیں شبانہ کا ایک ہی پیغام سامنے لاتی ہیں کہ زندگی کو اپنی شرائط پر جینا چاہیے۔ اور یہ کہ کوئی مشکل ایسی سنگین یا بڑی نہیں ہو سکتی کہ اس کے مقابلے میں ہار مان کر خود اپنے ہونے سے انکار کر دیا جائے۔

شبانہ رحمان ناروے کی ایک متنازعہ فنکارہ تھی۔ اس نے سماجی مباحث میں حصہ دار کے طور پر اپنی صاف گوئی اور غیر روایتی طریقوں سے متعدد لوگوں کو ناراض کیا لیکن خود کبھی کسی کے بارے میں غم و غصہ کا اظہار نہیں کیا۔ وہ خود ہنستی تھی اور دوسروں کو ہنساتے ہوئے ایک ہی بات سامنے لاتی تھی کہ میں جو چاہتی ہوں وہی کرتی ہوں، آپ ایسا کیوں نہیں کر سکتے۔ شبانہ رحمان کی اس بات سے انکار کی گنجائش نہیں ہے کہ آخر کسی منفی روایت، علت یا برائی کو اپنایا جاسکتا ہے اور نسل در نسل اسے منتقل کر کے خاص طرح کے ماحول میں نوجوانوں اور خاص طور سے لڑکیوں کی زندگیوں کو اجیرن کیا جاسکتا ہے تو کیا وجہ ہے کہ ان بری عادات، طریقوں اور ہتھکنڈوں کا ذکر نہیں کیا جاسکتا، ان پر انگلی نہیں اٹھائی جا سکتی یا ان پر ہنسا نہیں جاسکتا۔ یہ ایک جائز اور مناسب سوال تھا لیکن جب شبانہ نے پچیس برس پہلے اپنے طریقے سے اس سوال کو اٹھانا شروع کیا اور بعض معاشرتی گروہوں کے تضادات کو مختلف انداز میں پیش کرنے کی کوشش کی تو اس پر پتھر اٹھانے والوں کی کمی نہیں تھی۔ لیکن جیسے اس نے کینسر کے حملے کی پرواہ نہیں کی اور آخری سانس تک زندگی کا پیغام عام کرتی رہی، بالکل ویسے ہی اس نے انسانی آزادی، فیصلوں کی خود مختاری اور انفرادی سوچ کی حفاظت کے لئے ہر قدم پورے حوصلہ و جرات کے ساتھ اٹھایا اور کبھی سامنے آنے والے اعتراضات کو درخور اعتنا نہیں سمجھا۔

وہ انفرادی آزادی اور آزادی اظہار کی علمبردار تھی۔ اس نے اپنی بات کہنے کا حق مانگنے کی بجائے، اسے بڑھ کر حاصل کیا اور ساری زندگی اپنا نقطہ نظر اپنے طریقہ سے پیش کیا۔ متعدد مواقع پر اس کے طریقوں سے اختلاف کیا جاسکتا ہے۔ ایسے موضوعات بھی ہوں گے کہ اس کی دلیل یا حجت کو مسترد کیا جا سکے۔ شبانہ رحمان نے جیسے دوہرے سماجی معیارات، تعصبات، ظلم و زیادتی کے خلاف اپنی بات کہنے پر کسی قسم کی مفاہمت کرنے سے انکار کیا، بالکل ویسے ہی اس نے کبھی دوسروں کے حق اظہار پر کسی قسم کی قدغن لگانے کی بات بھی نہیں کی۔ یہ نہیں ہے کہ وہ اس بات پر مصر تھی کہ بس وہی ٹھیک ہے اور باقی سب غلط ہیں۔ بس اس کا یہ دعویٰ تھا کہ اپنی بات دلیل سے سامنے لائی جائے۔ جب اس نے محسوس کیا کہ دلیل سے اختلافی نقطہ نظر سمجھانا ممکن نہیں یا اس کی مناسب الفاظ میں وضاحت نہیں کی جا سکتی تو اس نے کوئی ایسا غیر روایتی ہتھکنڈا اختیار کیا کہ لوگوں نے حیرت سے انگلی منہ میں دبا لی، مذمت کا نعرہ بلند کیا اور نفرت کا اظہار بھی کیا۔ لیکن شبانہ کے پاس نہ تو نفرت کے لئے وقت تھا اور نہ ہی وہ نفرت پھیلانے پر یقین رکھتی تھی۔ وہ نفرت ختم کرنے کا عزم رکھتی تھی اور یہی ساری زندگی اس کا مشن رہا۔

شبانہ رحمان کا سب سے بڑا کریڈٹ یہ ہے کہ اس نے ناروے میں آباد اقلیتی گروہوں میں پائے جانے والے تعصبات اور بچوں پر غیر ضروری سماجی کنٹرول کے خلاف آواز بلند کی۔ اس مقصد کے لئے اس نے کوئی تنظیم قائم کر کے کوئی تحریک شروع کرنے کی بجائے خود ہی ایک ایسی تحریک کی شکل اختیار کرلی کہ ان کی کہی ہوئی بات اتھارٹی کی حیثیت اختیار کرنے لگی۔ ان کے سوال سادہ تھے کہ ان اقلیتی گروہوں کے بچوں سے ایک خاص ڈھب پر ہی آگے بڑھنے اور زندگی گزارنے کی توقع کیوں کی جاتی ہے۔ وہ معاشرے کے باقی لوگوں کی طرح اپنے فیصلے خود کیوں نہیں کر سکتے۔ کیا وجہ ہے کہ ماں باپ اپنی بچیوں (کسی حد تک لڑکوں کو بھی) اپنی مرضی سے شادی کے بندھن میں باند ہ دیں؟ انہیں اپنا شریک حیات چننے کا حق دینا کیوں اتنا بڑا مسئلہ ہے۔ کیا وجہ ہے کہ اعتقادات، سماجی رویوں، ثقافتی طریقوں اور انسانی طرز عمل کے بارے میں سوال نہیں اٹھائے جاتے۔ وہ کون سے عوامل ہیں کہ تارکین وطن نئے سماج کی مثبت اور قابل قدر روایات کو اپنانے اور انہیں فخر سے قبول کرنے پر آمادہ نہیں ہوتے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ کسی معاشرے کا حصہ بننے کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے۔ کیا ترک وطن کر کے نئے معاشرے میں سہولتیں کھوجنے والوں پر بھی اس حوالے سے کچھ فرائض عائد ہوتے ہیں۔

تاہم شبانہ کا بنیادی پیغام انفرادی آزادی اور اپنی زندگی کے فیصلے کرنے کا حق تھا۔ اس نے اس مقصد کے لئے ہر طریقے سے اپنا پیغام عام کرنے کی کوشش کی اور اس حد تک کامیاب رہی کہ نارویجئن معاشرے میں اسے آزادی رائے اور انفرادی حق کی اہم اور مضبوط علامت کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ آزادی کے اس سفر میں اس نے بعض جرات مندانہ اسٹنٹ بھی کیے جن میں اپنے جسم پر ناروے کا جھنڈا پینٹ کر کے اخبار میں تصاویر شائع کروانا، عراق کے جلاوطن مذہبی رہنما ملا کریکر کی کتاب کی تقریب میں اسے بانہوں میں اوپر اٹھا لینا یا اسٹیج پر اپنے کولہے سے کپڑا سرکا دینا۔ 25 سال کے کیریر میں شبانہ رحمان کے یہ چند سب سے متنازعہ اسٹنٹ تھے لیکن ان میں سے ہر طریقے سے اس نے ایک ہی مقصد حاصل کیا: کہ ہر شخص کو اپنی مرضی سے کچھ بھی کرنے کا حق حاصل ہونا چاہیے تھا۔ ان طریقوں سے اس نے معاشرے کو یہ پیغام بھی دیا کہ ایک پاکستانی نژاد لڑکی بھی اپنے فعل میں آزاد ہو سکتی ہے اور لگی بندھی سماجی رکاوٹوں و بندشوں کو ایک ٹھوکر سے گرانے کا حوصلہ رکھتی ہے۔

اپنے جسم پر اپنا حق اور انفرادی فعل کی ذمہ داری قبول کرنے کے حوالے سے شبانہ رحمان نے جو اصول متعین کیے، انہیں مسترد نہیں کیا جاسکتا۔ نارویجئن معاشرے میں شبانہ نے مساوی حقوق کے مباحث کو ایک نئی جہت اور نئی قوت عطا کی۔ اس کا یہ احسان کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ وہ خود چلی گئی لیکن معاشرے میں آزادی اظہار اور انفرادی شعور کی ایسی جوت جگا گئی جس سے آنے والی نسلیں روشنی حاصل کرتی رہیں گی۔ اور انسان کے وقار و احترام میں اضافہ کے لئے جد و جہد انگیختہ ہوتی رہے گی۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 2380 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments