سالگرہ
بالی کی طبیعت اپنے دوستوں سے ذرا الگ تھی۔ چونکہ وہ گاؤں کے ماحول میں پلا بڑھا تھا اس لئے شہری لڑکوں والی خصلتیں اس میں کم ہی پائی جاتی تھیں۔ جو لڑکے شیخی مارتے، اوچھی حرکتیں کرتے یا آج کل کی اصطلاح میں ممی ڈیڈی بچے ہوتے، وہ بالی کو ذرا نہ بھاتے تھے۔
بالی کی طبیعت میں ویسے کوئی الجھن یا بیزاری نہیں تھی۔ عمر کے ہر حصے میں اس کے بے شمار دوست رہے۔ وہ ہر طرح کے لوگوں سے ملنا جلنا پسند کرتا اور دوسرے بھی اس کو اچھا بھلا ہی سمجھتے تھے۔ بس چند ایک عادتیں جو عموماً جوان لڑکوں میں پائی جاتی ہیں وہ اس میں نہیں تھیں۔ اور وہ بچپن سے ہی سادہ مزاج تھا۔
بچپن میں اس کے گھر کے حالات بھی ایسے نہیں تھے کہ ادھر منہ سے کوئی بات نکالی اور ادھر پوری ہو گئی۔ ان کے گھر کا ماحول ہی ایسا نہیں تھا جہاں بچوں کو سر پر چڑھا لیا جاتا ہو۔ لیکن ضرورت کی ہر چیز موجود تھی۔ صرف اتنا فرق تھا کہ بھرے پیٹ کے چونچلے نہیں ہوتے تھے۔
بالی سکول میں بھی کوئی خاص طالب علم نہیں تھا۔ وہی رسمی سی تعلیم حاصل کرنے کے لئے جہاں دوسرے بچے سرکاری سکول میں بھیڑ بکریاں بنے بیٹھے تھے یہ بھی ان کے ساتھ شامل ہو گیا۔ جس طرح بھیڑ بکریاں سارا دن چراگاہ میں گھاس چرتی ہیں، ادھر ادھر گھوما، آپس میں سینگ لڑائے اور واپس چلی گئیں۔ یہی حال ان طالب علموں کا تھا اور بالی بھی اس معاملے میں انہیں جیسا تھا۔
وقت گزرتا گیا، اللہ کی کرنی ایسی ہوئی کہ بالی کبھی فیل اور کبھی پاس ہوتا، آرٹس پڑھتا ہوا کالج اور پھر کالج سے یونی ورسٹی پہنچ گیا۔ چونکہ یونی ورسٹی دوسرے شہر میں تھی اور اس کے لئے ہاسٹل میں رہنا پڑتا تھا۔ بالی بھی ہاسٹل میں رہنے لگا اور یونی ورسٹی کی تعلیم حاصل کرنے لگا۔ یہاں کا ماحول اس کے پچھلے ماحول سے کافی مختلف تھا۔ یہاں کا لباس پینٹ شرٹ، مرد و زن برابر، ہر شخص با اختیار یعنی ہر کسی کا اپنا اپنا قبلہ و کعبہ تھا۔ وقت کے ساتھ ساتھ بالی نے خود کو کچھ تبدیل کیا، شلوار قمیض سے وہ بھی پینٹ شرٹ پہننے لگا، یعنی ضرورت اور وقت کے مطابق وہ اپنے آپ کو ڈھالنے لگا۔
ہاسٹل میں اسے دو سال گزر گئے اور کافی دوست بن گئے لیکن چار پانچ دوست زیادہ قریب تھے۔ ان دوستوں نے ایک اصول بنایا کہ جس کسی کی سالگرہ ہوگی اسے ایک اچھے ہوٹل میں جاکر خوب منایا جائے گا۔ جس کی سالگرہ ہوگی وہ خود کوئی خرچہ نہیں کرے گا جبکہ اس کے دوست کریں گے۔ اب باری باری سب کی سالگرہ آتی گئی بالی بھی ان میں شامل ہو گیا۔ جب بالی کی باری آئی تو گرمیوں کی چھٹیوں کی وجہ سے سب گھر گئے ہوئے تھے۔ دوستوں نے فیصلہ کیا کہ جونہی چھٹیاں ختم ہوں گی بالی کی سالگرہ منائی جائے گی۔
جب چھٹیاں ختم ہوئیں سب دوست آ گئے مگر ایک دن بعد ایک دوست کی دادی فوت ہو گئیں۔ سب نے سوچا فی الحال مناسب نہیں ہے اس لئے چند دن بعد اس بارے میں سوچتے ہیں۔ کچھ تعلیمی رکاوٹوں اور پھر امتحانات کی وجہ سے سالگرہ ملتوی کرتے کرتے دسمبر کا مہینہ آ گیا جبکہ بالی کی سالگرہ جون میں تھی۔ اب دوبارہ سردیوں کی چھٹیاں ہو گئیں۔ سب دوستوں نے کہا گھر جانے سے پہلے آج ہی سالگرہ منائیں گے کیونکہ اگر اب ملتوی ہو گئی تو رہ ہی جائے گی۔
ایک موٹر سائیکل کا انتظام خود بالی نے کیا دوسرے کا دوستوں نے کر لیا۔ طے ہوا کہ لاہور ڈی۔ ایچ۔ اے فیز 3 میں ایک نیا ہوٹل بنا ہے، وہاں چلتے ہیں۔ وہ ہوٹل ہاسٹل سے تقریباً 25 کلومیٹر دور تھا۔ بالی خود ہی موٹر سائیکل چلا رہا تھا اور جاڑا کہہ رہا تھا کہ میں آج ہی ہوں۔ لاہور میں ان دنوں دھند اتنی شدید پڑ رہی تھی کہ کھڑے ہوئے بندے کو اپنے پیر بھی نظر نہ آتے۔ رات کو سردی شدید ہونے لگی مگر بالی کے علاوہ کوئی اور بہتر موٹر سائیکل نہیں چلا سکتا تھا۔
اب اللہ اللہ کر کے کانپتے اور ٹھٹھرتے ہوٹل کے قریب پہنچے۔ ایک بڑی عمارت کے چوتھے فلور پر ہوٹل تھا، اوپر جانے کے لئے لفٹ دیکھی تو وہ بھی خراب، اب سب دندناتے ہوئے، ہاتھوں کو پھونکوں سے گرم کرتے، کانپتے کانپتے سیڑھیوں کے ذریعے ہوٹل تک پہنچے۔ وہاں جاکر دیکھا تو سب کے پیروں تلے زمیں ہی نکل گئی۔ ہوٹل ہی بند پڑا تھا۔
اب طے ہوا کہ یہاں سے 12 کلومیٹر دور ایک کیفے پر چلتے ہیں، اتنا سفر کر لیا ہے تو کسی ہوٹل میں نہیں تو کیفے میں ہی چلتے ہیں۔ وہاں پہنچے تو معلوم ہوا کہ رات دس بجے کے بعد کیفے بند ہو جاتا ہے۔ اب قریب ہی ایک اور کیفے نظر آیا وہ بند ہونے والا تھا لیکن ان کی منت کی تو دو پیزے تیار ہو کر آ گئے، سب نے جلدی جلدی پیزا زہر مار کیا، اب سارے خاموش کھڑے تھے۔ ایک اصول یہ بھی تھا کہ جس کی سالگرہ ہوگی وہ خاموش رہے گا۔
لیکن بالی سردی سے کانپ رہا تھا اور خود ہی خاموشی توڑ کر بولا: ”اب مجھ سے موٹر سائیکل نہیں چلائی جاتی۔“ خیر اس کی حامی ایک اور دوست نے بھر لی اور خدا خدا کرتے ٹھٹھرتے کانپتے برکت مارکیٹ آئے۔ یہاں آ کر دیکھتے ہیں کہ ہر طرف لوگوں کا رش تو ہے لیکن کوئی روشنی نہیں ہے۔ ہر دکان میں اندھیرا تھا جس سے خدشہ ہوا کہ ساری مارکیٹ بند ہے۔ بعد میں معلوم ہوا کہ حکومت نے بجلی کی بچت کے لئے لائٹیں بند کرنے کا حکم دیا ہے۔
ڈھونڈتے ڈھونڈتے ایک کیفے دکھائی دیا جس میں قدرے روشنی تھی۔ رش کی وجہ سے وہاں انتظار کرنا پڑا۔ جب باری آئی تو فٹ سے مینیو دیکھ کر برگر کھانے کا فیصلہ کیا اور ساتھ ٹھنڈی بوتل منگوائی۔ سب نے برگر کھائے اور ساتھ بوتل بھی نوش کی۔ سردی اور دھند کو چیرتے ہوئے نوجوان راستے میں دھند کی وجہ سے کبھی رک رک کر وقفے کرتے، کبھی تیز چلتے۔ بہرحال رات 2 بجے واپس آئے۔ جن سے موٹر سائیکلیں لی ہوئی تھیں انہیں واپس کیں اور اپنے ہاسٹل کے دروازے پر پہنچے۔ یہاں آ کر دروازہ کھٹکھٹا کھٹکھٹا کر سب نڈھال ہو گئے۔ لیکن دروازہ سحری کے وقت کہیں جاکر کھلا۔ اور اس کے بعد بالی پورا ایک مہینہ بیمار رہا۔
اس واقعے کو گزرے ہوئے کئی سال ہو گئے ہیں۔ بالی کی شادی کے بعد اب بچے بھی ہو گئے ہیں۔ وہ دن اور آج کا دن کبھی کسی نے بالی کی سالگرہ کا نام بھی نہیں لیا۔ مگر بالی دو دن سے خاصا پریشان نظر آ رہا تھا کیونکہ بیگم کہہ رہی تھیں : ”چاہے جو کچھ بھی ہو جائے بچے بھی بڑا اصرار کر رہے تھے کہ اس بار ہم نے آپ کی سالگرہ ضرور منانی ہے۔“


