زندہ قومیں، زندہ فلسفہ، اور تائب ہونے والی سیکولر اداکارہ

کچھ دن پہلے ایک سابقہ اداکارہ جو اداکاری سے توبہ تائب ہو چکی ہیں۔ محترمہ فرما رہی تھی کہ وہ پہلے بہت سیکولر تھی اب نادم ہے اور مذہبی ہو چکی ہے۔
رینی ڈیکارٹ کا قول ہے کہ کسی بھی قوم کے تہذیب یافتہ ہونے کا براہ راست تعلق اس کی فلسفیانہ برتری پر ہے مطلب کہ وہ قومی زندہ ہیں جن کا فلسفہ زندہ ہے۔ فلسفہ؟ ہمارے سماج میں شاعروں اور دانشوروں کو ویسے ہی فارغ العقل سمجھا جاتا ہے اور فلسفی۔ علم سے مراد اعلی سے اعلی ڈگری اور اعلی سے اعلی نوکری۔
جاننے کی جبلت انسان میں فطری ہے۔ اسی جبلت کی وجہ سے انسان نے سوچنا شروع کیا اور علم کی بنیاد رکھی۔ ہر انسان اپنی ذات میں فلسفی ہوتا ہے۔ تاریخ سے رجوع کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ مسائل کو حل کرنے کی کوششوں سے جو منطق اور تجربہ حاصل ہوتا رہا وہ وقت کے ساتھ ساتھ علم بن گیا۔ مگر آج ہمارا تعلیم یافتہ نوجوان کے مسائل کو حل کرنے میں ناکام ہے اور عملی طور پر انحطاط کا شکار ہے؟ میرے مشاہدے میں اس کی بنیادی وجوہات میں ایک نصاب سازی ہے۔
علم کا مقصد مسائل جاننا، حل کرنا اور بہتر مستقبل کی طرف گامزن ہونا ہے۔ ہمارا تعلیمی نصاب دراصل وہ تحریک پیدا کرنے میں میں ناکام ہو گیا ہے جس کی وجہ سے سے طالب علم میں وہ تخلیقی صلاحیت پیدا ہی نہیں ہو رہی کہ وہ علمی مظاہرہ کر سکے، بلکہ وہ الٹا تعلیم کو ہی ایک مسئلہ سمجھنے لگ گیا ہے۔ مثلاً اعلیٰ ابتدائی تعلیم، جن کو مڈل جماعتیں بھی کہا جاتا ہے ہے اس سطح پر طالب علم اپنی ذاتی شناخت بلکہ سماج کے ساتھ تعلق سے آگاہ ہونے کی کوشش کر رہا ہوتا ہے۔ وہ نہ صرف اپنی نفسیات بلکہ سماجی، سیاسی اور خاندانی تعلقات کی نفسیات کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہے۔ مگر ہمارے نصاب میں ان جماعتوں میں غیر ضروری مضمون کی بھرمار ہے جن کا طلبہ کی عمر اور ذہانت سے براہ راست کوئی تعلق نہیں اور جو صرف نفسیاتی طور پر طلبہ پر دباؤ بڑھانے والی بات ہے۔
ہمارے طلباء گریجویٹ بھی ہو جائیں تو بھی انگریزی ان کے لئے ایک معمہ ہی رہتی ہے کیونکہ نصاب اس طرح ترتیب دیا جاتا ہے کہ سوالات جوابات اور الفاظ معنی وغیرہ کو ہی یاد کر کہ امتحان پاس کیا جاتا ہے۔ کسی بھی زبان کو بغیر گرائمر سمجھنا نہایت ہی مشکل ہوتا ہے جب کہ ہمارا پورا تعلیمی نظام ہی انگریزی پر مشتمل ہے۔ اس طرح طلبہ نفسیاتی طور پر خوف اور احساس کمتری کا کا شکار ہو جاتے ہیں اپنے آپ کو نالائق سمجھ بیٹھے ہیں۔ اپنی خوداعتمادی کھو دیتے ہیں۔
اسی طرح تاریخ اور جغرافیہ کی بات کی جائے تو بادشاہوں کے قصے کہانیوں سے طالب علم کا کیا تعلق؟ اس کی جگہ اگر نفسیات کا مضمون شامل کیا جائے کیونکہ ہر بچے کی اپنی نفسیات اور صلاحیت ہوتی ہیں۔ ہر بچے کا سماجی اور معاشی خاندانی پس منظر مختلف ہے جو کہ ہر بچے کی نفسیات پر اثر انداز ہوتا ہے۔ ابتدائی تعلیم کے دوران بچہ نہ صرف اپنی نفسیاتی حیثیت کو بلکہ سماجی اور خاندانی نفسیات کو بھی سمجھنے کی کوشش میں ہوتا ہے اور لاشعوری طور پر سوالات اور ان کے جوابات ڈھونڈنے کی کوشش کرتا ہے۔
نفسیات سے سے وہ اپنی ذات کو پہچاننے اور مسائل کو حل کرنے کرنے میں مددگار کار ثابت ہوگی۔ نفسیاتی طور پر پر صحت مندانہ کردار ہی اس میں خود اعتمادی پیدا کرے گا۔ اور جغرافیہ کی جگہ فلسفہ پڑھایا جائے آئے تو طلباء کو دلیل اور منطق کو سمجھنے کی صلاحیت پیدا ہو۔ سوالات کی نوعیت اور ان کا مقصد ان کو سمجھ آئے۔ ان کے اثرات سے معاشرہ اور تاریخ کیسے تبدیل ہوئی۔ معاشرہ اور تاریخ کو کن نظریات نے کیسے متاثر کیا۔ مختلف دلیلیں اور نظریات کیوں ضروری ہوتی ہے اور اسی طرح جدلیاتی اور جمالیاتی حس ہے وہ آرٹ، شاعری اور زندگی، فرد اور سماج کی خوبصورتی کو سمجھ سکیں۔
ہمارے نصاب میں جماعت اول سے ہائی جماعت تک مطالعہ پاکستان لازمی حصہ ہوتا ہے۔ مطلب کے پرانی گاڑی اور نئے ٹائر۔ نفسیات کے مطابق بار بار بچے کو ایک ہی چیز پڑھانے سے بچہ بوریت کا شکار ہوجاتا ہے اور دلچسپی ختم کر دیتا ہے۔ اس کی جگہ سوکس کا مضمون پڑھایا جائے تا کہ طلبہ میں میں مہذب زندگی کا شعور پیدا ہو۔ ان کو اپنے حقوق اور فرائض کا علم ہو۔ وہ کمیونیٹی سیاست کے تضادات کے بارے میں جان سکیں۔ سماج میں وہ کس طرح اور کیسے سیاسی کردار ادا کر سکتا ہے۔ فرسودہ تعصبات کو ختم کر کے سماج میں ہم آہنگی لائی جائے۔
اس کی مثال میں اس طرح دیتا ہوں کہ کہ ایک ڈاکٹر اپنے شعبے میں نمایاں خدمات سرانجام دے رہا ہے مگر اس نے اپنے پورے تعلیمی سفر میں سیاسیات کا مضمون دیکھا ہی نہیں تو وہ کس طرح سماج کے سیاسی عمل کی تشکیل میں توانا کردار ادا کر سکتا ہے؟
کالج کے طالب علم نے مجھ سے پوچھا کہ آپ کون سا مضمون پڑھاتے ہیں جواب سن کر وہ بولا یہ کون سا مضمون ہے میں نے تو نام ہی پہلی بار سنا ہے۔ اس کو سمجھانے لے میں نے صرف اتنا ہی جواب دیا کہ ”فزکس کی چھوٹی بہن سوکس“ اور پاکستان کے مستقبل کے بارے میں سوچنے لگا کہ یہ بچہ سیاست کو کیا سمجھتا ہو گا؟

