اداکاراؤں کے خلاف سوشل میڈیا پر مہم: ’مرد کو نشانہ بنانا ہو توعورت کا کندھا استعمال کیا جاتا ہے‘


پاکستان میں کسی بھی خاتون کو آن لائن ہراساں کرنا، اس کے خلاف منفی مہم چلانا یا اس پر الزامات عائد کرتے ہوئے اس کی کردار کشی کرنا ایک عام رحجان بن چکا ہے۔

ملک میں سوشل میڈیا پر بڑھتی سیاسی، معاشرتی اور نظریاتی تقسیم نے آن لائن ہراساں کرنے کے رحجان کو بہت فروغ دیا ہے اور بظاہر اس کا سب سے بڑا نشانہ عموماً پاکستانی خواتین ہی بنتی ہیں اس بات سے قطع نظر کہ چاہے وہ کوئی ادارکارہ ہوں، صحافی ہوں، سماجی شخصیت یا سیاستدان۔

گذشتہ چند روز سے پاکستان کے سوشل میڈیا پر پاکستان کی چند معروف اداکاراؤں کی کردار کشی کی جا رہی ہے اور ان کے خلاف ایک منفی مہم چلائی جا رہی ہے۔

اس مہم کا آغاز اس وقت ہوا جب ایک وی لاگر نے کسی بھی اداکارہ کا نام لیے بغیر اُن پر الزامات لگائے۔

اس وی لاگ کے بعد سوشل میڈیا پر ملک کی چار نامور اداکاراؤں، کبریٰ خان، مہوش حیات، سجل علی اور ماہرہ خان کی کردار کشی کی مہم شروع ہو گئی اور ان اداکاراؤں کی جعلی ویڈیوز اور تصاویر شیئر ہونے لگیں۔

 اداکاراؤں کا مبینہ الزامات اور منفی مہم پر ردعمل

ٹرولنگ

سوشل میڈیا صارفین کی طرف سے کردار کشی اور منفی مہم کا جواب دیتے ہوئے اداکارہ کبریٰ خان نے سوشل میڈیا پر ایک بیان جاری کرتے ہوئے وی لاگر سے الزامات واپس لینے اور کردار کشی کی مہم پر معافی مانگنے کا مطالبہ کیا اور ایسا نہ کرنے کی صورت میں ان کے خلاف برطانیہ میں کیس دائر کرنے کا اعلان کیا ہے۔

اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر جاری بیان میں اداکارہ کبریٰ خان کا کہنا تھا کہ ’میں پہلے خاموش رہی کیونکہ ایک جعلی ویڈیو میری شخصیت پر اثر انداز نہیں ہو سکتی مگر اب بہت ہو گیا۔ آپ کو لگتا ہے کہ کوئی بھی عام  لوگ مجھ پر انگلی اٹھائیں گے اور میں چپ بیٹھوں گی تو یہ آپ کی سوچ ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’آپ لوگوں پر الزامات کا ڈھیر لگائیں اس سے پہلے آپ ثبوت دیں، جسے آپ حق اور سچ قرار دیتے ہیں اسے ثابت کرنے کے لیے آپ کے پاس تین دن کا وقت ہے اور ایسا نہیں کر سکتے تو اپنا بیان واپس لیں اور سب کے سامنے معافی مانگیں ورنہ میں آپ کے خلاف مجھے بدنام کرنے کے الزام پر مقدمہ دائر کروں گی اور اس کے لیے میں برطانیہ بھی آ سکتی ہوں۔‘

اداکارہ کبریٰ خان کے علاوہ مہوش حیات نے بھی اس کا ردعمل دیتے ہوئے وی لاگر پر الزام عائد کیا کہ وہ یہ سب کچھ سستی شہرت حاصل کرنے کے لیے کر رہے ہیں۔

https://twitter.com/MehwishHayat/status/1609991537999638528

مہوش حیات نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر لکھا کہ ’سستی شہرت حاصل کرنے کے لیے کچھ لوگ انسانیت کے درجے سے بھی نیچے گر جاتے ہیں۔ امید ہیں کہ آپ دو منٹ کی شہرت سے لطف اٹھا رہے ہوں گے۔ کیونکہ میں ایک اداکارہ ہوں اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ آپ میرا نام لے کر اس طرح مجھے بدنام کریں۔‘

’آپ کو کسی ایسے شخص پر بےبنیاد اور جھوٹے الزامات لگاتے ہوئے شرم آنی چاہیے جس کے بارے میں کچھ نہیں جانتے۔ اور اس سے زیادہ شرم ان لوگوں کو آنی چاہیے جو اس قسم کی فضول باتوں پر اتنی آسانی سے یقین کر لیتے ہیں۔ یہ سلسلہ رکنا چاہیے۔ میں کسی کو اپنا نام بدنام کرنے کی اجازت نہیں دوں گی۔‘

جبکہ اداکارہ سجل علی نے بھی اس پر ردعمل دیتے ہوئے لکھا کہ ’یہ بہت افسوسناک ہے کہ ہمارا ملک اخلاقی گراوٹ اور بدنمائی کا شکار ہے، کسی کی کردار کشی کرنا انسانیت کی سب سے بدتر قسم اور گناہ ہے۔‘

https://twitter.com/Iamsajalali/status/1609791464145580038?cxt=HHwWjMDT7dezkNcsAAAA

یہ بھی پڑھیے

‘ٹرولنگ پاکستانی معاشرے کی سب سے بڑی لعنت ہے‘

پاکستان کی بعض خواتین صحافیوں کی جانب سے مشترکہ بیان میں سوشل میڈیا پر ٹرولنگ اور ہراسانی کی شکایات

پاکستان میں خصوصاً خاتون صحافیوں پر سوشل میڈیا پر بڑھتے ذاتی حملوں کی وجہ کیا ہے؟

’یہ سب عورت سے نفرت والی ذہنیت کا حصہ ہے‘

انٹرنیٹ

یہ سلسلہ کچھ نیا نہیں

پاکستان کے سوشل میڈیا پر خواتین پر الزامات لگائے جانے کا یہ سلسلہ کوئی نیا نہیں بلکہ ماضی میں بھی ہمیں درجنوں ایسی مثالیں ملتی ہیں جس میں خواتین کو سوشل میڈیا پر ٹرول کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی کردار کشی بھی کی جاتی رہی ہے۔

لیکن خواتین کی کردارکشی اور ٹرولنگ صرف اداکارؤں تک محدود نہیں بلکہ اس کی لپیٹ میں تقریباً ہر شبعے سے تعلق رکھنے والے خواتین آتی ہیں جیسا کہ صحافی عاصمہ شرازی اور غریدہ فاروقی بھی۔

انھیں ان کے کام کی وجہ سے کئی مرتبہ ٹرولنگ اور کردار کشی کا سامنا کرنا پڑا جبکہ ان کے خلاف اخلاق سے گرے ٹرینڈز بھی چلائے گئے۔

مسلم لیگ ن سے تعلق رکھنے والی ایم پی اے حنا پرویز بٹ کو بھی اکثر سوشل میڈیا پر ان کی مخالف سیاسی سوچ رکھنے والوں کی جانب سے ٹرول کیا جاتا ہے۔

اسی بارے میں بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے حنا پرویز بٹ کا کہنا تھا کہ یہ رویے اتنے بڑھ گئے ہیں کہ ٹرولنگ کے ساتھ ساتھ اب کردارکشی بھی کی جاتی ہے۔

’کبھی کوئی ویڈیو تو کبھی کسی تصویر کو غلط رنگ دیا جاتا ہے۔ یہ سب باتیں بطور انسان اور بطور عورت انتہائی تکلیف دہ ہوتی ہیں۔ میں کوشش کرتی ہوں ایسی باتیں نہ پڑھوں لیکن آپ جو مرضی کر لیں آپ تک گالیاں اور اخلاق سے گری باتیں پہنچ ہی جاتی ہیں۔‘

’میرا بیٹا ہے سوچیں کہ آپ کا بیٹا، باپ، گھر والے ایسی باتیں پڑھ یا دیکھ لیں تو ان کے لیے کتنی تکلیف دہ بات ہو گی۔ جو لوگ یہ سب کرتے ہیں وہ آپ کے بارے میں ایک غلط رائے قائم کرنا چاہتے ہیں۔ لوگ اس رائے پر اس لیے یقین کر لیتے ہیں کیونکہ وہ یہ نہیں جانتے کہ آپ ماں کیسی ہیں یا ایک بیٹی یا انسان کیسی ہیں۔‘

حنا پرویز بٹ نے مزید بتایا کہ ’جب جب میری تصاویر یا ویڈیوز وائرل کر کے مجھے ٹرول کیا گیا تو میں سائبر کرائم کے محکمے میں گئی۔ شکایات بھی درج کروائی ہیں اور کئی اکاونٹس بند بھی ہوئے ہیں لیکن یہ تو ہر دوسرے دن کی کہانی ہے۔‘

صارفین بغیر کسی ثبوت کے ایسی مہم پر یقین کیسے کر لیتے ہیں؟

یہاں بنیادی سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایسی جھوٹی سوشل میڈیا مہم پر سوشل میڈیا صارفین بغیر کسی ثبوت کے باآسانی یقین کیسے کر لیتے ہیں؟

اس سوال کا جواب دیتے ہوئے پاکستانی ڈیجیٹل رائٹس ایکسپرٹ نگہت داد کہتی ہیں کہ ’کسی بھی خاتون کے بارے میں جب ایسی منفی مہم چلائی جاتی ہے یا اسے ٹرول کیا جاتا ہے تو ایسا نہیں کہ بس کسی نے اٹھ کر کوئی وی لاگ بنا دیا اور الزام لگا دیا اور لوگ اس مہم کو اٹھا کر اس پر بات کرنے لگ جائیں۔ ایسی مہم  باقاعدہ طور پر ڈیزائن کی جاتی ہیں۔ اس میں ایک بندہ ڈگ ویسل کرتا ہے جس کے بعد باقی لوگ پلان کے مطابق اس مہم کو اٹھاتے ہیں۔‘

نگہت داد کہتی ہیں کہ ’پاکستانی ادکاراؤں کے معاملے میں بھی ایسا ہی ہوا۔ ایک شخص نے اشارہ دیا۔ جس کے بعد مختلف لوگوں کی جانب سے ان خواتین کا نام بھی لیا گیا اور تصویریں آنا شروع ہو گئیں۔ یہی نہیں اگر آپ غور کریں تو ایسی مہم میں مواد بھی ہر جگہ ایک سا ہی ملتا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’جہاں تک رہی بات لوگ ایسی باتوں پر اتنی آسانی یقین کیسے کر لیتے ہیں تو آپ یہ دیکھیں کہ اس کیس میں بھی ان خواتین کے نام لیے گئے ہیں جنھوں نے آئی ایس پی آر کے ڈاراموں میں کام کیا ہے۔ تاہم یہاں ہدف ان خواتین سے زیادہ کوئی اور تھا، لیکن کیونکہ یہ خواتین آسان ہدف تھیں اس لیے خواتین کو نشانہ بنایا گیا۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ جو لوگ ایسی مہم ڈیزائن کرتے ہیں وہ انتہائی چالاکی سے یہ سب کرتے ہیں۔ ان کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ وہ ایسے کام کریں کہ وہ اپنی مرضی کی بات بھی کر لیں اور کسی قانون کی گرفت میں بھی نہ آئیں۔

سوشل میڈیا

اس طرح کے الزامات اور مہم کے قانونی پہلوؤں پر مزید بات کرتے ہوئے نگہت داد کا کہنا تھا کہ سائبر کرائم کے تحت ہمارے ملک میں باقاعدہ کوئی نظام دکھائی نہیں دیتا۔

’یہ قانون خواتین کی حفاظت کے لیے بنایا گیا تھا لیکن قانون موجود ہونے کے باوجود بھی ہمیں یہ نظر نہیں آتا کہ خواتین کو وہ تحفظ مل رہا ہے جو انھیں ملنا چاہیے۔‘

نگہت داد کا کہنا ہے کہ انھیں خوشی ہے کہ یہ تمام خواتین اب آگے بڑھ کر ایسے لوگوں کے خلاف آواز اٹھا رہی ہیں جو کسی کی کردار کشی کرتے ہیں۔

’یہاں لوگوں کو بھی سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اگر کوئی خاتون مشہور ہے تو اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ آپ کو یہ حق حاصل ہے کہ آپ کا جب دل کرے آپ اس کی کردار کشی شروع کر دیں۔ ہمیں معاشرتی طور پر اپنی اس ذہنیت کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔‘

’لوگوں کو مرچ مسالے لگی بات زیادہ پسند آتی ہے‘

اس حوالے سے جینڈر ایکسپرٹ اور سماجی کارکن ڈاکٹر فوزیہ سعید کہتی ہیں کہ ایسی باتوں پر لوگ اس لیے جلدی یقین کرتے ہیں کیونکہ انھیں مرچ مسالے لگا کر کی گئی بات زیادہ پسند آتی ہے۔

’ایسی کہانیوں کو سننے والے بھی زیادہ ہوتے ہیں اور سننانے والے بھی زیادہ ہوتے ہی۔ ہمارے معاشرے کے پدر شاہی نظام میں خواتین کی کردار کشی کرنا آخری حربہ ہوتا ہے جس کے تحت آپ ہر اس خاتون کو نشانہ بناتے ہیں جس کی کامیابی تک آپ نہیں پہنچ سکتے ہیں اور زیادہ تر ایسے الزامات نامور خواتین لگائے جاتے ہیں۔‘

خواتین کے حقوق کی کارکن طاہرہ عبداللہ نے اس موضوع پر بتصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ کوئی نئی بات نہیں۔

’عرصہ دراز سے یہی ہوتا آ رہا ہے کہ جب بھی کسی مرد کو نشانہ بنانا ہوتا ہے تو عورت کا کندھا استعمال کیا جاتا کے۔ ایسی کئی مثالیں ہمارے سامنے ہیں کہ عدلیہ ہو، کوئی سرکار افسر ہو، فوج ہو، سیاست دان ہو یا پھر کوئی اور طاقتور شخص ہو، ہمیشہ عورت کے کردار پر بات کرکے اصلی ہدف تک پہنچا جاتا ہے۔‘

’اس میں کوئی شک نہیں کہ مردوں کے ساتھ ساتھ ایسی بہت سی خواتین بھی ہوتی ہیں جو سمجھتی ہیں کہ واقعی ہی عورت کا قصور ہے اور وہ عورت کو ہی برا کہتی ہیں۔ خصوصی طور پر سوشل میڈیا کے اس دور میں جس کا دل کرتا ہے وہ منہ اٹھا کر عورت پر الزام لگا دیتا ہے۔‘

’ایسا عورت پر بات کی جاتی ہے، جو مشہور ہو جبکہ لوگ اس لیے یقین کرتے ہیں کیونکہ عموماً مصروف خواتین فضول باتوں پر وقت ضائع کرنے سے زیادہ خاموش رہنے کو ترجیح دیتی ہیں۔‘

‎پاکستان میں نامور اداکاراؤں کے خلاف شروع کی گئی حالیہ مہم پر بات کرتے ہوئے خواتین حقوق کی کارکن ندا کرمانی کا کہنا تھا کہ یہ انتہائی قابل مذمت ہے۔

’ہمارے جیسے انتہائی پدرانہ معاشرے میں، یہ خواتین کا کردار ہے جس کی ہمیشہ جانچ پڑتال کی جاتی ہے۔ عورت چاہے کتنی ہی باصلاحیت کیوں نہ ہو، اسے ہمیشہ شک کا نشانہ بنایا جائے گا جبکہ طاقتور مرد پر کوئی انگلی نہیں اٹھاتا ہے۔ اس معاملے میں بھی مردوں کے زیر تسلط اداروں کے درمیان طاقت کے کھیل میں خواتین کو پیادے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے‘۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 27680 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments