کتاب: میرا زمانہ میری کہانی


2022 کا اختتام میں نے ایک کتاب کو پڑھتے ہوئے کیا! سال کا اختتامی وقت جب پیچھے ٹی وی پر نئے سال کہ رونقیں نیوز پر دکھائی جا رہی ہیں۔ نیوز کاسٹر کی آواز میری سماعتوں کے ساتھ ٹکرا رہی ہے اور میں کچھ لکھنے کی کوشش میں ہوں، اس کتاب کے بارے میں جو کتاب میں نے پڑھی ہے۔ کتاب کا نام ہے ”میرا زمانہ میری کہانی“ اور مصنفہ ہیں ماہ پارہ صفدر صاحبہ۔

میں نے جس دن کتاب پڑھنا شروع کی تھی دوسرے دن پڑھ کر پوری کر دیتا مگر۔ سالانہ کلوزنگ کی وجہ سے کچھ کنسنٹریشن ممکن نہ ہو سکی اور میں سمجھتا ہوں کہ ذہن کا فوکس نہ ہو تو کتاب پڑھنی بھی نہیں چاہیے۔

463 صفحات پر مشتمل یہ کتاب بڑی خوبصورت کتاب ہے۔ جس طرح بک کارنر جہلم نے اس کتاب کو شایع کیا ہے وہ اپنی مثال آپ ہے۔

ماہ پارہ صفدر صاحبہ کی یہ خود نوشت ایک لازوال دستاویز، ان کے عمر بھر کے مشاہدات کی شاید مکمل تصویر نہ ہو لیکن ایک مفصل اور واضح تصویر ضرور ہے۔

پروفیشنل نیوز کاسٹر، کہوں؟ کہہ لوں؟

کہ ایک صاف شفاف چہرہ، سلیقے اور نہایت احتیاط کے ساتھ دوپٹہ اوڑھے نیوز اسٹوڈیو میں سامنے دیکھتے ہوئے میز پر رکھی خبریں پڑھتی ہوئی یہ لڑکی۔ اپنی پوری شخصیت میں مکمل سادگی، وقار اور اعتماد لیے ہوئے پانچ دہائیوں کی صداقت بھری خبریں آپ کے سامنے بیان کر رہی ہے اور آپ سطر در سطر، ورق در ورق پڑھتے /سنتے جا رہے ہیں۔ جیسے الفاظ سے دھیمی دھیمی آواز اٹھ رہی ہو۔

میں اپنی بات کہاں سے شروع کروں؟
کیا ساری کتاب ہی لکھ ڈالوں؟ نقل کروں؟ کس بات کو ہائی لائٹ کروں اور کس بات کو چھوڑ دوں؟
انداز بیاں، سادہ اور جامع تحریروں کا مجموعہ کہ باتیں دل میں اترتی جا رہی ہیں۔

سوچ رہا ہوں، امی ہمیں بچپن سے جو باتیں چیدہ چیدہ باتیں بھٹو صاحب کے متعلق بتاتی آئی ہیں یہ کتاب ان باتوں کا تصدیق نامہ ہے؟

میں اکثر و بیشتر امی کی باتوں کو، جو وہ بھٹو صاحب کے متعلق بتاتی آتی ہیں انہیں بچپن سے مانتا آیا ہوں اور آج بھی بھٹو صاحب کا تذکرہ کرتی ہیں تو میری آنکھیں نم ہو جاتی ہیں۔

لیکن باہر جب میں وہی باتیں کسی کے ساتھ کرتا ہوں تو لوگ رد کرتے ہیں ان باتوں کو، کہتے ہیں کہ یہ سب جذباتی باتیں ہیں۔ اسی لیے میں یہ سمجھنے لگ جاتا ہوں کہ امی کی باتیں جذباتی وابستگی کا نتیجہ ہیں۔ لیکن نہیں!

ایسا نہیں ہے۔
یہ کتاب ہر بات کی حرف بہ حرف تصدیق کرتی ہے۔
کتاب، ایک اور ہی دنیا ہے۔ بیتے زمانوں کی الفاظ سے بنائی گئی وڈیو ہے یا تصویری صورت ہے۔

آپ، کتاب پڑھتے ہوئے مصنف کی انگلی تھامے، یا اس کے سنگ سنگ گھومتے پھرتے جاکر ان زمانوں میں نکلتے ہیں جو بیت چکے ہیں۔ یوں بقول واصف صاحب، بیتے ہوئے مناظر دوبارہ بیتنے لگتے ہیں۔

جب بک کارنر جہلم نے یہ خود نوشت شایع کی، تو مجھے کتاب کا سرورق دیکھتے ہی ایک منظر آنکھوں کے سامنے گھومتا نظر آیا کہ یہ تو تصویر ایک گانے کے نئے ایڈٹ کیے گئے ورژن میں دکھایا جاتا ہے۔ اچھا تو یہ ہیں نیوز کاسٹر، اور ان کا نام ماہ پارہ صفدر ہے۔ بس اسی خیال میں کتاب منگوا لی۔ اور پڑھنا بھی شروع کر دی۔

یہ خود نوشت، جس کا اگر ایک سطر میں جامع تبصرہ کیا جائے تو میں کہوں گا کہ ”یہ کتاب پاکستان کی گزشتہ 50 برس کی مستند دستاویز ہے“ ۔جس میں پاکستان کی سیاسی بیلنس شیٹ کھول کر رکھی گئی ہے کہ کیا پایا؟ کیا کھویا؟ کتنا خسارا ہوا؟ اور کتنا نفع ہوا؟

یہ کتاب مجھے بار بار اپنے بچپن کی طرف لے گئی۔ حالاں کہ میرے بچپن کے شعور کو خبر نامے کا شعور نہیں تھا لیکن پی ٹی وی کا لوگو دیکھ کر بارہا میں بچپن کی طرف لوٹا۔ جو گولڈن پٹیاں گھوم پھر کر پی ٹی وی کا لوگو بنتی تھیں وہ اب بھی آنکھوں کے سامنے آنے لگیں۔ کیا معتبر خبر نامے ہوا کرتے تھے۔

دوسری بات

کیا یہ کتاب پوسٹ مارٹم رپورٹ ہے؟ بنا کسی لگی لپٹی کے بہت ہی عام سے سادہ سے گفتگو والے انداز میں ماہ پارہ صفدر صاحبہ میرے ساتھ باتیں کر رہی تھیں پر سکون انداز میں آواز ان کے لکھے ہوئے الفاظ سے آ رہی تھی۔

سادہ پر اثر، منظم، جامع، تحریریں۔ سیدھی روح میں بنا کسی انتشار کے اتر جانے والی باتیں۔
یہ تو پورا ایک عہد ہے۔ اس کو سمجھنے کے لیے یہ شعر ملاحظہ فرمائیں :
وقت اک پل تو ٹھہر جا تو یہ احسان تیرا
چند یادیں میرے پہلو سے گزرنا چاہیں۔
یہ کتاب کی شروعات ہے دیکھیے کتنی پر مغز اور لطیف بات کہی ہے
”یادیں وہ تاریخ ہیں جو سینہ بہ سینہ چلتی ہے“
”ویسے بھی سن 80 کا عشرہ کوئی عام سا زمانہ نہیں تھا“
مجھے محسوس ہوا کہ ان کے وجود میں کتنی کڑواہٹ سمو گیا ہے سن اسی کا زمانہ۔
اس کتاب کو ماہ پارہ صفدر صاحبہ نے تین ابواب میں تقسیم کیا ہے
پہلا حصہ، اپنے بچپن، لڑکپن، تعلیمی مراحل اور ساٹھ ستر کی طالب علمی و نوکری کے کیریئر کو بیان کیا ہے
دوسرے حصے میں
سن اسی کے عشرے کو بیان کیا ہے
تیسرے حصے میں
میڈیا کارکن کی حیثیت سے لندن میں گزاری ہوئی زندگی کا تذکرہ کیا ہے۔

یہ سحر انگیزی ہر مصنف کو حاصل نہیں ہوتی جناب۔ یہ روانی، اثر اور فکر انگیزی تحریروں میں لے آنا عطا ہے، محنت و مشقت ہے اور مسلسل مطالعے کا نتیجہ ہے۔

جن باتوں کو تحریر کیا ہے ماہ پارہ صفدر صاحبہ نے ان کو لکھنے تو کیا سوچنے کے لیے بھی شاید جگرا چاہیے۔ ہم یہ تلخ حقائق لکھتے تو کیا سوچتے بھی نہیں۔

”لے سانس بھی آہستہ“ کے مصداق پاکستان میں ہجرت کر کے آنے والی کتنی فیملیز تھیں! ان سب حالات میں واقعی ان کی نانی درست فرماتی تھیں کہ ”ہم نے سونا دے کر یہ مٹی پائی ہے“ ۔ یہ ان حالات میں پل کر بڑی ہوئیں، تعلیم حاصل کی اور کیرئیر بنایا۔

خواتین کی اہمیت کیا تھی اس زمانے میں! ساٹھ ستر کے عشروں میں چھہ بہنیں پڑھ کر مختلف شعبوں میں اپنا آپ منواتی ہیں۔ کیا یہ کمال نہیں؟

اور کیا ہی خوبصورت جملہ ہے ذرا پڑھیے!
”بیٹیوں والے زیدی صاحب“ اخیر ہی ہو گئی نا۔

والدہ اور والد صاحب کا جو کنٹریبیوشن ہے اپنی بیٹیوں کی زندگیوں میں وہ لا جواب اور بے مثال ہے۔ ساتھ میں بہنوئی صاحبان کا کردار بھی۔

دیکھیں نہ جیسے جیسے کتاب پڑھتے جائیں گے۔ ہو سکتا ہے کچھ لوگوں نے عمر کے حساب سے وہ مناظر دیکھے ہوں۔ لیکن ہم نے جنہوں نے نہیں دیکھے تو ہم تو جیسے کھو سے گئے ان الفاظ کی جادو گری اور جادو نگری میں۔

یہ فقرہ ملاحظہ فرمائیں ذرا،
”حقیقت یہ ہے کہ محبتوں اور احترام کے رشتے زمان و مکان سے ماورا ہیں“ ۔

اس زمانے میں سب کچھ کتنا آسان اور سادہ ہوا کرتا تھا۔ نفرتیں کدورتیں بغض سب کچھ جیسے وافر مقدار میں آج کل موجود ہے جب کہ ان گئے وقتوں میں یہ سب کچھ اتنا زیادہ نہیں تھا۔

ذرا یہ فقرہ دیکھیے :
کچھ منظر اور لفظوں کی کاٹ ایسی ہوتی ہے جو ذہن سے محو نہیں ہوتی ”۔

ماہ پارہ صفدر صاحبہ کئی ایک جگہوں پر معاشرے کی منافقت اور دوہرے معیار کا تذکرہ کرتی نظر آئی ہیں پہلے باب میں خاص طور پر تعلیم نسواں اور بیٹی کی پیدائش اور اہمیت پر جو مدلل تحریریں ہیں وہ نظر انداز کرنے سے رہے آپ۔

ذرا یہ سنیے
”میں اپنے کانوں سے سنتی تھی کہ لڑکیاں اچھے رشتوں کے انتظار میں کالج جاتی ہیں“ ۔

ہمارے معاشرے کا وہ چہرہ جو ہم آپ نے نہیں دیکھا وہ آپ اس کتاب کو پڑھتے ہوئے دیکھ سکتے ہیں۔ مجرمانہ چہرہ جس پر غفلت اور جہالت کی تہیں چڑھ چکی ہیں اب۔

پینسٹھ اور اکہتر کی جنگ یا بھٹو صاحب کے بارے اور دور حکومت پر لکھے گئے ابواب سارے کے سارے ہائی لائٹ کرنے پڑے مجھے کہ وہ باتیں ساری دستاویزات محسوس ہوئیں۔ حالات کی نوعیت دیکھیے کہ جب ٹی وی والوں نے ان سے پوچھا کہ

بھٹو صاحب کی پھانسی کی خبر پڑھ سکو گی؟
یا پھر جب انہوں نے ایک جملہ لکھا ہے اس فقرے میں موجود تلخی اور کڑواہٹ محسوس کر سکیں گے کہ
”پاکستان میں منافقت کا اگر کوئی چہرہ دیکھنا ہو تو جنرل ضیا کو دیکھا جا سکتا ہے“ ۔
یا پھر وہ وقت جب جنرل ضیا نے کہا،
” ماہ پارہ سے پوچھیں دوپٹے کا مذاق اڑا رہی ہے“
یہ سب کچھ کیا اتنا ضروری تھا؟ کیا واقعی ضروری تھا؟

مجھے ان سب باتوں سے یاد آ جاتا ہے کہ ہمارے معاشرے میں یہ سب اسلامی ٹچ ٹائپ کی منافقت کیوں کی جاتی ہے ہمارے معاشرے میں؟

مجھے کئی ایک نام یاد آ گئے۔

ایک اداکارہ نے فوٹو شوٹ کروا کے پھر عمرے کیے مولانا طارق جمیل کے ہاتھ پر نکاح کیا دوسری نے عبایہ پہنی خود کو عابدہ زاہدہ بنا کر پیش کرنے کی ضرورت کیا ہے آخر؟ ہم لوگ اسلام اور دین مذہب کا کیمو فلاج کیوں اوڑھتے ہیں؟

ایک دو اداکاروں نے کہا اب میں عمرہ کر کے آیا ہوں فلمیں ڈرامے نہیں کروں گا
دوسرے نے کہا وہ فلمیں کروں گا جن سے معاشرے کی اصطلاح ہو جائے۔
دین، مذہب اور اسلام کا اس طرح مذاق تو غیر مسلم بھی نہیں اڑاتے۔

سچ میں ہمارا معاشرہ بڑا ہی منافقت بھرا معاشرہ ہے۔ آپ کو سنانے کے لیے بات نعمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم سے شروع کریں گے اور کھال تک اتار لیں گے۔

میرے پاس کرنے کو بہت ساری باتیں ہیں۔ بہت سارے قصوں کو میں نے نوٹ کیے ہیں لیکن آپ احباب کتاب پڑھیے اور سمجھ لیجیے کہ پچھلے پچاس برسوں کو آپ نے ایک دو دن میں جی لیا یا دیکھ لیا۔

Facebook Comments HS