الخدمت کے روشن خوابوں کا سفر
دکھوں کی اس خیمہ بستی میں داخل ہوتے وقت میرے عجیب سے احساسات تھے مجھے لگتا تھا کہ جیسے ہی میرا وجود اس بستی کی مٹی سے آشنا ہو گا جیسے ہی میری آنکھیں جگہ جگہ پھیلے تباہی کے نشانات دیکھیں گی جیسے ہی میرے کانوں میں پانی کا وہی کھولتا ہوا شور سنائے دے گا جس نے لمحوں میں بستیاں اجاڑ دی تھیں۔ اس لمحے کے حصار میں آج بھی لوگ افسردہ اور خالی ہاتھ ہوں گے۔ ان بستیوں میں کوئی ہنسنا نہیں جانتا ہو گا سب لوگ اپنی اپنی محرومیوں کو گلے سے لگائے بیٹھے ہوں گے لیکن جیسے ہی میں اپنی ٹیم کے ساتھ خیمہ بستی میں داخل ہوئی ایک مسکراتے چہرے نے بہت اپنائیت سے مجھے گلے لگا لیا۔
زندگی سے بھرپور اس روشن چہرے پر۔ سکون اور اطمینان کی جو لہریں تھیں ان کا سہرا بلاشبہ ان لوگوں کے سر جاتا ہے جو ان بستیوں میں روشنی پھیلانے کا کام کر رہے ہیں۔ میری زندگی کے اس یادگار سفر کا نام الخدمت تھا۔ الخدمت ایک مسیحا کا نام ہے۔ ایک ایسا مسیحا جس نے دھوپ میں جھلستے چہروں کے لئے بہت سے شجر سایہ دار فراہم کر دیے ہیں جن کی چھاؤں میں بیٹھ کر اپنا بہت کچھ کھونے کے بعد کھونے والے کچھ نیا پانے کی جستجو میں ایک نئی زندگی کی داستان لکھ رہے ہیں۔
زخموں سے چور انسانوں کے وجود پر مرہم رکھتے اس مسیحا نے چند دن پہلے مجھ سمیت مختلف چینلز اور پرنٹ میڈیا سے وابستہ خواتین کو وہی شجر سایہ دار دکھانے کا اہتمام کیا۔ الخدمت فاونڈیشن کے ساتھ میرا یہ پہلا مکمل تعارف تھا۔ میں نے اس سے پہلے ان کی کسی تقریب میں شاید ہی شرکت کی ہو لیکن میری خوش قسمتی کہ میں اس خوبصورت سفر کا حصہ بنی۔ امسال وطن عزیز میں سیلاب کی تباہ کاریوں نے جہاں ان علاقوں میں مشکلات کا پہاڑ کھڑا کر دیا وہیں بہت سے مسیحا بھی منظرعام پر آئے جنہوں نے ڈوبتے ہوئے ہاتھوں کو آگے بڑھ کر تھام لیا۔
الخدمت فاونڈیشن کا نام مسیحاؤں کی اس فہرست میں خاصا نمایاں ہے ہمارا یہ سفر لاہور سے شروع ہوا۔ ہمارا پہلا پڑاؤ صوبہ سندھ کے شہر سکھر میں تھا جہاں سے آگے ہم نے جگہ جگہ الخدمت فاونڈیشن کے لگائے ہوئے بہت سے پودے دیکھے جن میں الخدمت کے قائم کیے گئے فیلڈ ہسپتال ،موبائل ہیلتھ یونٹ،شاپس،خیمہ بستیاں اور اب نئے گھروں کی تعمیر نو سمیت بہت سے کام جن کا اکیلے بیڑا اس تنظیم نے اٹھایا ہے۔ جعفر آباد اور نصیرآباد سمیت بہت سے پسماندہ علاقوں میں یہ تمام لوگ کسی مجاہد کی طرح کام کر رہے ہیں لیکن ان علاقوں میں مجھے کسی حکومتی امداد کی ہلکی سی جھلک بھی نظر نہیں آئی۔
سندھ کی پسماندگی دیکھ کر احساس ہوا کہ ہم لوگ آج بھی شخصیت پرستی کے حصار سے باہر نہیں نکلے۔ ان علاقوں میں سیلاب نے بہت کچھ ختم کر دیا لیکن وہ لوگ آج بھی بھٹو زندہ ہے کا نعرہ لگاتے ہی نظر آتے ہیں۔ جب تک ہم لوگ شخصیت پرستی سے باہر نہیں نکلیں گے مشکل ہے کہ بنجر زمین سیراب ہو۔ الخدمت فاونڈیشن کی قائم کردہ اس خیمہ بستی میں بہت سے بچے بھی تھے اور ان بہت سے بچوں میں ایک بچہ عبدالاحد بھی تھا جس کے ہاتھ میں ایک پین تھا۔
میں نے عبدالاحد کو ایک کاغذ دیا جس پر اس نے مجھے ابتدائی حروف تہجی لکھ کر دیے۔ اس بچے کی آنکھوں میں جو چمک تھی اسے دیکھ کر مجھے یوں لگا جیسے اندھیرے میں کسی نے کوئی چراغ روشن کر دیا ہو۔ میں نے سامنے دیکھا تو الخدمت کے رضاکار بہت سے ایسے چراغ ہاتھوں میں لئے کھڑے تھے۔ خدمت کے اس سفر کا اختتام ہو چکا ہے لیکن ایک خوشبو میرے وجود سے لپٹی ہوئی ہے۔ خدمت کی اس خوشبو کا نام الخدمت ہے اور یہ خوشبو کبھی ختم نہیں ہو گی۔


