ثاقب نثار کا سچ سامنے آنا چاہیے


وطن عزیز کا نظام عدل ایک بار پھر سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی وجہ سے ایک مرتبہ پھر موضوع گفتگو ہے۔ ثاقب نثار پر ماضی میں جی بی کے چیف جج بھی الزام لگا چکے ہیں اور خود ان کی ایک آڈیو ٹیپ بھی سامنے آ چکی ہے۔ اس مرتبہ لیکن ثاقب نثار صاحب کے دور میں ہونے والی پولیٹیکل انجنیئرنگ میں ملوث رہنے کا الزام کسی متاثرہ فریق کی طرف سے نہیں بلکہ ان کے دور میں ملک کے آرمی چیف رہنے والے قمر جاوید باجوہ کی گفتگو کے حوالے سے سامنے آیا ہے۔

لہذا کم از کم اس معاملے میں اپنی ذات کی صفائی اور نظام عدل کی ساکھ پر لگائے گئے الزامات کے دفاع کے لیے ثاقب نثار کو وضاحت ضرور دینی چاہیے۔ اس معاملے پر بھی اگر انہوں نے خاموشی پر تکیہ کیا یا پھر بات دبانے کی کوشش کی تو شکوک و شبہات میں کمی کی بجائے مزید اضافہ ہو گا۔ جی بی کے چیف جج کے حلفیہ الزامات کے بعد بھی انہوں نے کسی قسم کی قانونی کارروائی نہ کرنے کا اعلان کیا تھا اور آڈیو ٹیپ کے سامنے آنے پر بھی وہ اپنے اقدامات کی صفائی دینے کی بجائے ”مٹی ڈالنے“ کی پالیسی پر پیرا رہے۔

سوال یہ ہے کہ ایک حساس منصب پر بیٹھے شخص کی جانب سے، خود پر لگنے والے ان الزامات کے بعد جن کے باعث تاریخ کے دھارے کا رخ تبدیل ہو گیا، بے اعتنائی اور لا پرواہی کو کیا نام دیا جائے؟ ثاقب نثار صاحب کو احساس ہونا چاہیے ان کی ساکھ کی اہمیت ہے یا نہیں، جس مسند پر وہ فائز رہے اس کی حرمت تقاضا کرتی ہے کہ وہ آگے بڑھ کر اپنی صداقت پیش کریں۔

ثاقب نثار صاحب کی ذات پر لگنے والے الزامات کی صحت کے بارے تحقیق اس لیے ضروری ہے کیونکہ وہ سب سے بڑے عدالتی منصب پر فائز رہے ہیں اور نظام عدل کی ساکھ کا دار و مدار ان کے اقدامات کے میرٹ پر ہے۔ عدل و انصاف کسی بھی ریاست، سماج اور معاشرے کا جزو لاینفک ہے۔ کسی بھی ریاست کا نظم و ضبط برقرار رکھنے میں انصاف کی بلا امتیاز فراہمی کا بہت بڑا کردار ہے۔ کوئی بھی ریاست اس وقت تک مستحکم نہیں ہو سکتی جب تک وہاں نظام عدل فعال نہ ہو۔

نظام عدل کو فعال اس وقت تک نہیں کہا جا سکتا ہے جب تک معاشرے کے تمام افراد کا اس پر یقین یکساں قائم نہ ہو اور اس کی غیر جانبداری کسی بھی شک و شبہے سے بالاتر نہ ہو۔ نظام عدل کی جانبداری کی صورت طاقت کا توازن بری طرح متاثر ہوتا ہے اور ایسے معاشروں میں استحکام کی کوئی ضمانت نہیں رہتی۔ جن ریاستوں اور معاشروں میں نظام عدل کمزور یا غیر فعال ہو وہاں لوگ اپنے باہمی اختلافات کو زور بازو سے حل کرنے کی کوشش کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں رہتا۔ نظام عدل پر شکوک و شبہات ہی انارکی کا سبب بنتے ہیں، اور انارکی کا اختتام ریاستی و معاشرتی نظام کا شیرازہ بکھرنے پر ہوا کرتا ہے۔ اسی لیے زور دیا جاتا ہے کہ عدلیہ کا کام مقبول فیصلے دینا نہیں بلکہ آئین و قانون کے مطابق بلا امتیاز انصاف فراہم کرنا عدلیہ کی اصل ذمہ داری ہے۔

کالم نگار جاوید چوہدری کے جنرل باجوہ کے حوالے سے کیے گئے انکشافات میں کوئی نئی بات نہیں۔ آئین و قانون سے مکمل نا بلد شخص بھی جانتا ہے کہ ثاقب نثار کے دور میں سنے گئے سیاسی مقدمات پر بہت سے شکوک و شبہات ہیں۔ جس دور میں یہ کام ہو رہا تھا ہم ایسے اس وقت سے ہی مسلسل دہائی دے رہے ہیں۔ ثاقب نثار کے دور کے فیصلوں کو متنازعہ بنانے کی پہلی بنیاد تو یہ ہے کہ نواز شریف کو سنائی گئی سزا کی وجہ، مقدمے کی بنیاد سے یکسر مختلف تھی۔

اور شاید عدالتی تاریخ میں یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ بھی تھا، جس میں سزا سنانے کے بعد جرم کے ثبوت ڈھونڈنے کا آغاز ہوا۔ سپریم کورٹ نے نا اہلی کا فیصلہ کرتے وقت ایک ٹرائل کورٹ تشکیل دینے کا حکم دیا تھا جس نے جے آئی ٹی کی طرف سے لگائے گئے الزامات کی حقیقت کا پتہ لگانا تھا۔ نا اہلی کے فیصلے کے وقت تک ملنے والی تفصیل کے مطابق جو سوالات اٹھائیس جولائی کو تشنہ تھے وہ مگر پھر بھی جوں کے توں رہے۔ مثال کے طور پر یہ واضح ہونے کے بعد بھی کہ لندن میں موجود فلیٹس نواز شریف کے بچوں کی ملکیت ہیں، نیب یہ ثابت کرنے میں ناکام رہا، کہ اس جائیداد سے براہ راست نواز شریف کا کیا تعلق ہے؟

یہ تسلیم اگر کر لیا جائے کہ ان فلیٹس کی خریداری کے وقت میاں صاحب کے بچے کم عمر تھے، تو پھر بھی محض اس دلیل کو جواز ٹھہرانے کے علاوہ اس بات کا کیا ثبوت تھا کہ ان کی خریداری کے لیے پیسے نواز شریف صاحب نے ہی غیر قانونی آمدن سے بھیجے تھے؟ استغاثہ کی جانب سے شواہد پیش کرنے میں ناکامی کے باوجود محض مفروضوں کی بنیاد پر ملزم کو زنداں بھیجنے کا انتہائی حکم دے دیا گیا۔ دنیا بھر کے جوڈیشل سسٹمز میں ملزم کو شک کا فائدہ دیا جاتا ہے۔ اگرچہ کہا جا سکتا ہے کہ نیب قوانین کے مطابق بار ثبوت ملزم پر تھا، مگر یہ سوال اٹھتا رہے گا اس اصول کا اطلاق اور کس کس شخصیت پر ہوا۔ اسی دور میں عمران خان صاحب بھی بنی گالا اراضی کی ملکیت بارے وضاحت پیش کر رہے تھے۔ سوال تو ہو سکتا ہے کہ کیا اس مقدمے میں بھی نواز شریف والا معیار تھا؟

نواز شریف کا قصہ کچھ دیر کے لیے فراموش کر دیتے ہیں۔ اس بات سے مگر کوئی انکار نہیں کر سکتا ہر گروہ اور جماعت میں اچھے برے ہر قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔ یہ کبھی نہیں ہو سکتا کہ تمام پارسا یا تمام گنہگار ایک جماعت میں جمع ہو جائیں۔ ثاقب نثار کے دور کے حالات دیکھ کر مگر لگتا تھا کہ تمام تر برائیوں کی جڑ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون ہیں۔ کرپشن، منی لانڈرنگ، گمنامی جائیداد، کک بیکس اور منشیات فروشی کون سا ایسا جرم تھا جس کا طوق مذکورہ جماعتوں کے گلے میں نہیں ڈالا گیا؟

جس کیس میں جنرل باجوہ نے ثاقب نثار پر انداز ہونے کا اعتراف کیا اس کے میرٹ اور ثاقب نثار کے دہرے معیار کے بارے میں اس وقت ہم نے تفصیل سے لکھا تھا۔ ثاقب نثار کے دیانت و صداقت کے معیار کو دیکھتے ہوئے بارہا ہم نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ بالفرض جہانگیر ترین کو سزا میرٹ پر سنائی تو ان کو سزا ہونے کے بعد بھی کابینہ اجلاسوں میں شرکت کی اجازت کیسے ہے اور اس پر کوئی نوٹس کیوں نہیں لیا گیا۔ حالانکہ اسی نوعیت کے کیسز میں نہ صرف اپوزیشن رہنماؤں کو پارٹی عہدے رکھنے سے بھی روک دیا جاتا تھا بلکہ ایک جماعت کے ارکان انتخابی نشان سے ہی محروم کر دیے گئے۔

جنرل باجوہ کے اعتراف کے بعد اہم بات جس کی طرف کوئی توجہ نہیں دے رہا کیونکہ اس بارے کچھ کہنا آسان نہیں یہ ہے کہ ملکی آئین کی ہمارے ہاں کیا حیثیت ہے اور ریاستی معاملات کس طرح چلائے جاتے ہیں۔ وطن عزیز کی تاریخ مدنظر رکھتے ہوئے غالب امکان یہی ہے کہ یہ معاملہ بھی دو چار روز میڈیا پر بحث کا موضوع بننے کے بعد دب جائے گا۔ کاش طاقتور مناصب پر بیٹھے افراد کو احساس ہو جائے کہ قانون کی حکمرانی اعتماد کے رشتے پر استوار ہوتی ہے اور لوگ اس اعتماد کی وجہ سے ہی انصاف حاصل کرنے کے لیے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹاتے ہیں۔ یہ اعتماد ختم ہو گیا تو لوگ انصاف کے لیے عدالت کے دروازے پر دستک دینے کی بجائے اپنے زور بازو پر انحصار کو ترجیح دیں گے۔ میری چیف جسٹس صاحب سے درخواست ہے کہ ثاقب نثار صاحب اگر اب بھی اپنی صفائی پیش نہی کرنا چاہتے تو بھی ازخود نوٹس لے کر ان تمام معاملات کی سچائی عوام کے سامنے لائی جائے۔

Facebook Comments HS