بھوک، مہنگائی اور تفریح

مرغی کے گوشت کی بڑھتی قیمتیں : مڈل کلاس چکن کھانا بند کر دے گی اور خاموش ہو جائے گی، بعض لوگوں کا کہنا ہے اس وجہ سے پاکستان کبھی ترقی نہیں کرسکے گا کیونکہ ایک طرف بدعنوان نظام ہے اور دوسری جانب نام نہاد قوم۔
یہ بی بی سی پر مہنگائی سے متعلق فیچر میں سوشل میڈیا پر چلنے والے کمنٹس ہیں۔ لیکن اسے عوام کی آواز ہی کہا جائے گا۔ اگرچہ وہاں سابق اور موجودہ حکومت کے حق اور مخالفت میں لوگوں کے تاثرات موجود تھے۔ لیکن حقیقت یہی ہے کہ معاشی حالات پچھلے چار برسوں میں اپنی بدترین شکل اختیار کرتے جا رہے ہیں۔ معاشی عدم تحفظ کا احساس شاید سوشل میڈیا پر چلنے والی مختلف خبروں سے زیادہ پایا جانے لگا ہے، جسے دور کرنے کے لئے حکومتی ٹیم کو وزیر خزانہ کی قیادت میں وضاحتیں کرنا پڑیں، وہ اپنی سیاسی مخالف جماعت پر سارا ملبہ ڈال رہے تھے یعنی اس کے سوشل میڈیا پروپیگنڈے کے نتیجے میں لوگ پریشان ہیں وگرنہ ایسا ہرگز نہیں ہے۔
اب اسی دن کی ایک خبر پر نگاہ ڈال لیں، چشتیاں کے ایک گاؤں میں دو مزدوروں نے بھوک مٹانے کے لئے آج بڑا کھانا کھانے کی نیت بنائی اور کہہ لیں بڑا ہاتھ مارا، وہ ایک شادی ہال میں بارات آنے کے بعد داخل ہو گئے پیٹ بھر کر مرغی کھائی اور نہ جانے کب کی خواہش پوری کی۔ باراتیوں نے شک پڑنے پر انہیں دھر لیا اور پٹائی کرنے کے بعد کان پکڑوا کے مرغا بنایا اور موبائل فوٹیج سوشل میڈیا پر ڈال دی، جہاں یقینی طور پر وائرل ہو گئی، قوم اب اس کام پر لگ گئی ہے۔ اسے کچھ مرچ مسالہ ملے، مزے لے کر دیکھتے اور ثواب سمجھ کر آگے پہنچاتے ہیں، یہ کام بلا امتیاز پڑھے اور ان پڑھ سب کرتے ہیں۔ یہ بھول جائیں کہ اس عمل میں سوجھ بوجھ کا کوئی عمل دخل ہے۔ تفریح کے تمام ذرائع مفقود ہوچکے ہیں اب خوشی اور غمی کا حصول یہیں پر ہے۔
کسی کی بھوک اور پریشانی، حادثہ یا تکلیف سب دیکھ کر اپنی رائے دیتے ہیں کسی کو سیاست یاد آجاتی ہے، کوئی ادب کی گہرائیوں میں ڈوب کر شعر و شاعری کرتا ہے۔ کوئی سنجیدہ علمی بحث کرنے پر مجبور ہوجاتا ہے مگر اصل موضوع کئی بار بین السطور میں چلا جاتا ہے۔ بڑے اداروں اور اہل اقتدار اس صورتحال پر اکثر مطمئن رہتے ہیں، کیونکہ لوگ مصروف رہتے ہیں لیکن کئی بار یہی ان کے لئے وبال بن جاتی ہے۔
جیسا کہ اسحاق ڈار کی وضاحتیں یا پھر کچھ دن پہلے حساس اداروں کے تمہید پر مبنی بیانات تھے۔ سوشل میڈیا مہنگائی ختم کرانے میں معاون شاید نہ ہو لیکن بھوک کے مارے محنت کشوں کی تذلیل کرنا اگرچہ کمزور طبقات ایسی ہتک آمیز سلوک کے عادی ہوتے ہیں مگر سماجی رابطوں پر ایک دوسرے سے جڑے سب ٹھیکیداروں سے سوال ہے کہ ہم لوگ نہ جانے کس طرف جا رہے ہیں۔ یہ اظہار رائے کی نام نہاد آزادی ایک دوسرے کو نیچا دکھانے اور تسکین طبع کی خاطر ہر حد عبور کر جاتی ہے۔

