گلگت بلتستان کا مسئلہ کیا ہے؟
پچھلے کچھ دنوں سے گلگت بلتستان کے عوام شدید سردی میں سڑکوں پر احتجاج کر رہے ہیں۔ منفی دس سے نیچے کے درجہ حرارت میں یہ لوگ اس سرد موسم میں اپنے حقوق کی باتیں کرتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔ مزید یہ احتجاج وسیع یا قلیل پیمانے پر ملک کے دیگر شہروں جیسے لاہور میں پریس کلب، کراچی سمیت ہر شہر میں ہو رہے ہیں۔ عوام اس بات پر بھی نالاں ہے کہ منفی دس سے نیچے درجہ حرارت میں ان کے احتجاج کی کوریج مقامی میڈیا نہیں کرتا۔ بہت سے لوگ سوال کرتے ہیں کہ اس خوب صورت دھرتی کے باسیوں کا آخر مسئلہ کیا ہے۔ کیوں وہ چین سے نہیں بیٹھتے۔ اس سے پہلے کہ یہاں احتجاج اور دیگر چیزوں پر کوئی موقف قائم کیا جائے یہ سمجھنا ہو گا کہ گلگت بلتستان کے لوگوں کا مسئلہ کیا ہے؟
1948 کو اپنی مدد آپ کے تحت آزاد ہونے والا یہ خطہ اس سرزمین کے خوب صورت ترین خطوں میں سے ایک ہے۔ ثقافتی، سماجی لحاظ سے اپنی منفرد پہچان رکھتا ہے۔ یہاں موسم زیادہ تر سرد رہتا ہے لیکن لوگوں کی مہمان نوازی اور سادگی ہنوز برقرار ہے۔ بلند ترین پہاڑی سلسلے اور خوب صورت وادیوں سے ڈھکا یہ خطہ دفاعی، معاشی اور خوب صورتی لحاظ سے اپنی مثال آپ ہے۔ لوگ خلوص کی پیالہ ہاتھوں میں تھامے آنے جانے والوں سے ہمیشہ پرتپاک طریقے سے ملتے ہیں۔
دفاعی لحاظ سے اس کے بارڈرز دو بڑے ممالک انڈیا اور چائنہ سے جڑتے ہیں۔ یہاں معیاری تعلیم کی شرح دیگر علاقوں سے زیادہ ہے۔ یہاں چونکہ آباد خطہ کم ہے اور پہاڑی خطہ ہونے کی وجہ سے لوگوں کے پاس کاشتکاری سمیت دیگر ذرائع مفقود ہیں لہذا یہاں کے افراد گزر بسر کرنے کے لیے ملک کے دیگر خطوں میں چلے جاتے ہیں۔ پچھلے کچھ دنوں سے جو لوگ احتجاج کر رہے ہیں۔ ان کے بنیادی نکات مندرجہ ذیل ہیں۔
خالصہ سرکار کا خاتمہ :
اٹھارہویں صدی میں مہاراجہ رنجیت سنگھ کی لاہور میں قائم ہونے والی حکومت کو خالصہ کہا جاتا تھا، جس کی حکومت انیسویں صدی میں ان کے گورنر گلاب سنگھ کے ذریعے جموں کشمیر سے کر لداخ اور گلگت بلتستان تک پھیل گئی۔ سکھا شاہی دور حکومت میں تمام زیر کاشت اراضی کو بندوبستی کاغذات میں درج کیا گیا۔ خالصہ سرکار سے مراد وہ بنجر زمین یا قابل کاشت کسی کے استعمال یا خالی پڑی ہو۔ لیکن کسی فرد واحد کی ملکیت کے نام پر نہیں بلکہ خالصہ سرکار کے نام پر قدیم بندوبستی کاغذات میں رجسٹرڈ ہے۔
اگرچہ کئی دفعہ حکومتی حلقوں کی طرف سے لینڈ ریفارم کے اعلانات کیے گئے مگر وہ معاملہ بھی تہہ خانے کی نظر ہو گیا۔ گلگت بلتستان کے باسیوں کے مطابق کسی بھی عوامی زمین کو خالصہ سرکار کہہ کر اسے حکومتی تحویل میں لینا دانش مندی نہیں۔ اس کی مثالیں آپ کو گلگت بلتستان میں جابجا ملیں گی جہاں ایکڑوں کے حساب سے زمینوں پر گورنمنٹ کی تعمیرات نظر آئیں گی۔ یہاں کے عوام اسی قانون کو خاتمہ چاہتے ہیں۔ ان کے مطابق زمین عوامی ہے تو کیسے اسے زمانہ قدیم کے قانون کے تحت حکومت کسی بھی وقت تحویل میں لے سکتی ہے اور ایک قانون کو نافذ کیا گیا جب کہ اسی سے ملتا جلتا دوسرا قانون سٹیٹ سبجیکٹ رول ختم کیا گیا۔
بجلی کی قیمتوں میں کمی :
حالیہ دنوں مین بیس گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کے بعد بھی بجلی کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ کیا گیا ہے۔ گلگت بلتستان میں بجلی کا محمکہ پی ڈبلیو ڈی کے پاس ہے اور سب سے زیادہ سرکاری ملازم بھی اسی محکمے میں ملیں گے۔ چونکہ گلگت بلتستان میں آبشاروں اور جھیلوں کی کمی نہیں لہذا زیادہ تر ہائیڈرو پروجیکٹ سے سستی بجلی حاصل کی جاتی ہے۔ لیکن حکومتی دیکھ ریکھ اور منصوبہ سازی نہ ہونے کی وجہ بجلی کی پروجیکشن میں بالکل اضافہ نہیں کیا گیا اور بہت سے ایسے پروجیکٹ جو پہلے سے چل رہے تھے مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے وہ منصوبے بھی یا تو التوا کا شکار ہوئے یا خراب مشینری کی وجہ سے وہ ڈسٹ بن کا حصہ بنے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے سال بہ سال بجلی کا بحران شدید سے شدید تر ہوتا جا رہا ہے اور اس بارے میں کوئی منصوبہ بنانے کی بجائے بجلی کی قیمتوں میں من چاہا اضافہ کیا جا رہا ہے۔
سٹیٹ سبجیکٹ رول کی بحالی :
سٹیٹ سبجیکٹ رول کو بنیادی طور پر گلگت بلتستان کے تحفظ کا ایکٹ کہہ سکتے ہیں۔ یہ وہی رول ہے جسے 2019 میں مودی کی حکومت میں ختم کیا گیا اور اس پر پاکستان میں شدید احتجاج ہوا کہ اس رول کے ختم ہونے سے کشمیر کی سرزمین دیگر لوگوں کے پاس چلی جائی گی۔ جب کہ گلگت بلتستان کے باسی اسے بحال کرنے کے لیے کافی عرصے سے کوشش کر رہے ہیں۔
مہاراجہ ہری سنگھ نے یہ قانون گلگت بلتستان کے لوگوں کے لیے بنایا تاکہ ان کا بنیادی تحفظ کیا جا سکے۔ یہ قانون ابھی بھی آزاد کشمیر میں نافذ العمل میں جب کہ گلگت بلتستان میں اسے 1974 میں ختم کیا گیا۔ اسے مندرجہ ذیل چار درجوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے
درجہ اول :
جموں و کشمیر، گلگت بلتستان کے ایسے تمام باسی جو راجہ گلاب سنگھ کی آمد سے پہلے ( 1842 ) پیدا ہوئے انہیں مستقل شہری سمجھا جائے گا اور انہیں درجہ اول کے حقوق حاصل ہوں گے۔
درجہ دوم:
ایسے تمام باسی جو سموٹ سال کے ختم ہونے تک گلگت بلتستان کے باسی تھے اور یہاں منقول غیر منقولہ جائیدادیں حاصل کرچکے تھے۔ انہیں درجہ دوم کا شہری سمجھا جائے گا۔
درجہ سوم:
ایسے تمام افراد جو درجہ اول، دوم کے علاوہ ریاست کے مستقل باشندے ہیں اور انہوں نے ریعت نامہ کے ذریعے یہاں کی شہریت حاصل کی۔ انہیں درجہ سوم
ت۔ مام اف۔ راد جو درجہ اول اور دوم ک۔ ے ع۔ لاوہ ری۔ اس۔ ت کے مس۔ ت۔ قل ب۔ اش۔ ندے ہ۔ یں ج۔ و غ۔ یر م۔ نقولہ ج۔ ائی۔ یدار رع۔ ای۔ ت ن۔ امہ ک۔ ے ذریعے ح۔ اص۔ ل ک۔ ر چکے ہیں، یا د۔ س س۔ ال س۔ ے مس۔ لس۔ ل اج۔ ازت ن۔ امہ اور رعای۔ ت ن۔ امہ رک۔ ہ۔ تے ہ۔ یں۔
درجہ چہارم :
ایسی کمپنیز یا ادارے جو گلگت بلتستان یا کشمیر کے اندر رجسٹرڈ ہوں جنہیں حکومت نے اس غرض سے بنایا ہو تاکہ لوگوں کے مالی اور معاشی مفادات کا تحفظ ہو سکے اور اس دور میں مہاراجہ کے خاص حکم سے انہیں اسٹیٹ سبجیکٹ قرار دیا گیا ہو۔ وہ درجہ چہارم میں شمار ہوں گے۔
یہ چار بنیادی درجے ہیں ان درجوں کی افادیت کو سمجھنے کے لیے مندرجہ ذیل پہلوؤں کو سمجھنا ہو گا۔
پہلو نمبر 1 :
ریاست کی اسکالر شپ، مکانات کی خریدو فروخت، تعمیراتی مقاصد، ریاستی ملازمتوں میں حصہ سمیت تمام بنیادی حقوق میں درجہ اول کو باقی درجوں پر فوقیت حاصل ہوگی۔
پہلو نمبر 2 :
ایسے تمام افراد ان کی اولادیں، پوتے، پڑپوتوں کو بھی درجہ دوم سمجھا جائے گا۔ انہیں درجہ اول کے حقوق حاصل نہیں ہوں گے۔ مکان کی تعمیر ہو یا خرید و فروخت، یا پھر گورنمنٹ ملازمتوں کا حصول سمیت کسی بھی امکانی فائدوں کے لیے درجہ اول پر کبھی فوقیت نہیں دی جائے گی۔
پہلو نمبر 3 :
بیوہ اور بیوی کو وہی درجہ ملے گا جو اس کے شوہر کا ہو گا۔ لیکن اس کے لیے لازم ہو گا کہ وہ ریاست میں لمبے عرصے کے لیے رہے۔
پہلو نمبر 5 :
اس قانون کے تحت غیر مقامی افراد یہاں زمینیں نہیں خرید سکتے۔ مقامی افراد کی طرح خود کو ملازمتوں کا اہل نہیں سمجھ سکتے۔ انہیں گلگت بلتستان کا شہری تسلیم نہیں کیا جائے گا۔ نہ ہی وہ یہاں کے قدرتی وسائل کے مالک بن سکتے ہیں۔
پہلو نمبر 6 :
یہ قانون آزاد کشمیر میں ابھی بھی موجود ہے چوں کہ گلگت بلتستان کی حیثیت متنازعہ ہے اور گورنمنٹ کے مطابق اس کا حال کشمیر سے جڑا ہے تو اس قانون کو دوبارہ یہاں نافذ ہونا چاہیے۔ اگر ایسا نہیں ہوتا تو پھر گلگت بلتستان کو مکمل آئینی حقوق دیے جانے چاہئیں۔
اسٹیٹ سبجیکٹ رول یہاں کے لوگوں کی متوقع آواز اور درد ہے جسے ہر طور سنا جانا چاہیے۔
اس رول کے تحت تمام مقامی ملازمتوں، تعمیرات، مکانات کی تعمیر سمیت دیگر تمام مواقع کے لیے درجہ اول کے لوگوں کے لوگوں کے ترجیح دی جائے گی اس کے بعد باقی درجات کے ساتھ ایسا ہو گا۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ حکومت نے 1974 میں سٹیٹ سجیکٹ رول تو گلگت بلتستان سے ختم کیا مگر خالصہ سرکار جو پرانے زمانے کا قانون ہے اسے ابھی تک بحال رکھا جس کی وجہ سے یہاں کی آدھی سے زیادہ اراضی مقامی لوگوں کے ہاتھوں سے چلی گئی۔ جب کہ آزاد کشمیر میں یہ رول ابھی تک بحال ہے۔ یہاں کے باشندوں کے مطابق یہاں کی زمین کسی غیر مقامی فرد کو نہیں بیچی جا سکتی اور سٹیٹ سبجیکٹ رول اس امر کو یقینی بناتا ہے مگر یہاں کی زمین ہر کوئی نہ صرف خرید رہا ہے بلکہ اس پر تعمیرات سمیت یہاں کا ڈومیسائل بھی بنوا رہا ہے جب کہ دوسری طرف خالصہ قانون ختم ہونے کی بجائے اسی طرح بحال ہے۔
ہر قسم کے ٹیکسز کا خاتمہ
یہاں کے لوگ ہر قسم کا ٹیکس دیتے ہیں۔ خواہ وہ سیلز ٹیکس ہو یا دوسرے ان ڈائریکٹ ٹیکسز، قانون کی شق کے مطابق چوں کہ گلگت بلتستان متنازعہ علاقہ ہے اور ابھی تک آئین میں ایسی تبدیلی نہیں ہوئی جس کی بنا پر اسے ریاست پاکستان کا باقاعدہ حصہ بنایا گیا ہے صرف ایک ایگزیکٹو آرڈر کی بنا پر یہاں فیصلے ہوتے ہیں۔ لہذا یہاں کے باسیوں کا مطالبہ ہے کہ یہاں سے ہر قسم کے ٹیکسز کا خاتمہ کیا جائے۔ خواہ وہ کسی بھی شکل میں ہو یا پھر اسے مکمل آئینی حقوق دیے جائیں۔
گندم کوٹہ کی بحالی
وفاقی حکومت گلگت بلتستان میں گندم کی 16 لاکھ بوریوں کی فراہمی پر سبسڈی دیتی ہے۔ البتہ اب وفاق نے اس میں کمی کر دی ہے جس کی وجہ سے یہاں گندم کا مسئلہ بحران میں تبدیل ہو چکا ہے اور بقول یہاں کے لوگوں کے انہیں گندم بھی اب میسر نہیں ہے۔
یہ چند بنیادی مسئلہ ہیں اس کے علاوہ دیگر مسائل ہیں جیسے یہاں کے لوگوں کے مطابق انہیں نہ تو چائنہ سے ہونے والی ٹریڈ اور کنٹینرز کی آمدنی میں سے کوئی حصہ ملتا ہے ہے نہ سی پیک میں سے کوئی حصہ دیا گیا۔ دریائے سندھ سمیت دیگر پانی کے ذرائع پربھی کسی قسم کی رائلٹی نہیں ملتی ہے۔ جنگلات اور سیاحت کی آمدنی میں حصہ شاید خام خیالی شمار کی جائے گی۔ اعلی تعلیم کے مواقع ہیں نہ روزگار سمیت دیگر امور پر کسی بھی قسم کا کوئی کام کیا گیا ہے۔
یہاں کے لوگ کارگل روڈ کو کھولنے کی بات کرتے ہیں۔ مقامی باسیوں کے زیادہ تر رشتے دار انڈیا کے زیر انتظام کارگل میں ہیں۔ یہاں کے باسی سکردو کارگل ٹریڈ کی بات کرتے ہیں جو کہ ان کے نزدیک ایک منفعت بخش امر ہے کیوں کہ یہاں معاشی لحاظ سے کوئی انفراسٹرکچر موجود نہیں جس کی وجہ سے یہاں کا ہر فرد مجبور ہے کہ وہ دوسرے علاقوں میں جاکر روزگار ڈھونڈے۔ یہاں کے لوگ دنیا کے پرامن ترین لوگ ہیں۔ وہ محبت بانٹتے ہیں۔ یہاں کے لوگ دہشت گرد نہیں۔
وہ ہتھیار نہیں اٹھاتے لیکن محبت کا پیغام عام کرتے ہیں۔ وہ اپنے حسن سلوک اور اخلاق کے ہتھیار سے اگلوں کو متاثر کرتے ہیں۔ محبتیں تقسیم کرتے ہیں۔ وہ محبت چاہتے ہیں۔ وہ تقسیم کی بات نہیں کرتے۔ وہ آئین میں اپنے لیے حصہ مانگتے ہیں جب کہ انڈیا اسی خطے کو اپنا اٹوٹ انگ کہتا ہے۔ لہذا اب حکومت کو بھی چاہیے کہ اس معاملے کو سنجیدہ لے اور یہاں کے محبت کرنے والے لوگوں کے مطالبوں پر صدق دل سے غور کرے
(اس تحریر کی تیاری اور درست معلومات کی فراہمی کے لیے گوگل، لوگوں کی مختلف فورمز پر آرا سمیت مختلف ویب سائیٹ سے مدد لی گئی ہے۔ )


