پختون مستقبل کی تشکیل: منظور پشتون یا محمود خان اچکزئی؟


اسٹیبلشمنٹ نہیں چاہتی کہ مستقبل میں پختونخوا میں عمران خان کو اکثریت ملے، لیکن چاہنے سے کیا ہوتا ہے؟ انہوں نے برسوں کی محنت جوڑ توڑ اور پولٹیکل انجینئرنگ سے جو سیاسی توازن پختونخوا میں قائم کر دیا تھا اس پر منظور پشتون کی ’غیر پارلیمانی‘ طوفانی سیاست نے مکمل پانی پھیر دیا ہے۔ جہاں پر قوم پرستوں کو مذہبی سیاستدان روکتے اور مذہبیوں کو قوم پرست کنٹرول کرتے اور دونوں کو روکنے کے لئے کبھی کبھار کسی تیسری فریق کو باری دی جاتی تھی اور سب خوش منتظر اور راضی بازی ہو جاتے۔

لیکن مذہبی جنونیوں کے ہاتھوں اور ہدایات کی منتظر سافٹ لیڈرشپ کی وجہ سے جس طرح اے این پی کو بے دست و پا کر کے غیر موثر کر دیا گیا اور جس کے بدلے میں عمران خان اور اس کی پارٹی کو وہاں پر مستقل مقام دے دیا گیا تھا، اور اس نے جس طرح بیک فائر کیا ہے، اس کی توقع کم ازکم انجینئرنگ کمپنی کو کبھی بھی نہیں تھی۔ اگر اے این پی اس طرح ختم نہ کردی جاتی تو آج وہ عمران خان اور مولانا کے درمیان انتخابی توازن قائم کرنے کی کام آتی۔

مبشر لقمان کی حالیہ ہرزہ سرائی سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ اے این پی کے ساتھ جاری مذاکرات کامیابی سے ہم کنار نہیں ہوئے۔ اگرچہ اسٹیبلشمنٹ کو عمران خان کو روکنے کے لئے اے این پی کی ضرورت ہے لیکن بد اعتمادی کی وجہ سے یہ بیل منڈھے نہیں چڑھتی۔ دوسری طرف منظور پشتون نے پختونخوا کی سیاست کی بنت کو جس طرح تار تار کر دیا ہے اس کا احساس جتنا اسٹیبلشمنٹ کو ہے ممکن نہیں کسی اور کو ہو۔ اے این پی کا انقلابی اور اینٹی سٹیٹس کوو جوان سیاسی ورکر تو پہلے ہی منظور پشتون کا گرویدہ اور ساتھی بن گیا تھا اب پی ٹی آئی کے لوگ بھی عمران سے مایوس ہو کر اس کے ساتھ مل رہے ہیں۔

افغانستان میں متوقع تبدیلیاں پختونخوا میں قابل اعتماد سیاسی سیٹ اپ کے بغیر بہت مشکل ہوجاتی ہیں۔ مشرف کے دور میں انجینئرنگ کمپنی نے ایم ایم اے کو تخلیق کر کے جس طرح ایک طرف قوم پرست سیاست اور دوسری طرف امریکہ کو مصیبت میں ڈالا تھا اس کی وجہ سے مولانا کو دوبارہ کھلا میدان دینا ممکن نہیں رہا، کیونکہ امریکہ کی برسر اقتدار پارٹی کا انتخابی نشان گدھا ہونے کے باوجود یاداشت ہاتھی جیسی ہے۔

منظور پشتون کی سیاسی آمد نے سب سے زیادہ نقصان اے این پی کی متذبذب سیاست کو پہنچایا ہے، چونکہ اس کی لیڈرشپ کسی بیانیے سمت یا ٹارگٹ کے بغیر محض اپنی موجودگی کے اظہار کے لئے تھوڑی دیر بولتی اور پھر اچانک غائب ہو جاتی ہے، اس لیے اب یا تو ان کو تبدیل شدہ حالات کا احساس نہیں ہے یا اس کے پاس کوئی قابل عمل طریقہ نہیں ہے، اس لیے وہ اپنے ارد گرد بننے والی دلدل میں پھنستی اور دھنستی چلی جا رہی ہے۔

منظور پشتون اگر پارلیمانی سیاست میں ہوتے تو پہلے تو انہیں یہ شہرت نہ ملتی جو آج ان کی منفرد اور مخصوص جرات آمیز بیانیے کی وجہ سے انہیں ملی ہے۔ لیکن اگر وہ پارلیمنٹ جانا چاہتے تو آج ان کے لئے راستہ کھلا اور حالات بہت سازگار ہوتے۔ لیکن ان کا راستہ الیکشن اور پارلیمنٹ سے نہیں گزرتا، اس لیے اے این پی پر چھائی ہوئی مردنی میں عمران خان کی واپس آنے کے اتنے ہی چانسز ہیں جتنے دو ہزار اٹھارہ اور اس سے پہلے تھے جبکہ دوسری طرف عمران خان کی پختونخوا میں آئندہ حکومت نواز شریف اور اسٹیبلشمنٹ کے لئے ایک خوفناک خواب سے کم نہیں۔

قومی اور بین الاقوامی لحاظ سے پختونخوا جتنا ماضی میں اہم تھا آج اس سے زیادہ اہم ہے۔ پاکستان کی سلامتی بین الاقوامی تعلقات امن اور خوشحالی کا کل دار و مدار بلوچستان کی صورتحال پر نہیں بلکہ پختونخوا کے مستقبل کی حکومت پر ہے۔ نواز شریف بذات خود، اپنے اتحادیوں کے ذریعے، اور اسٹیبلشمنٹ کی شدید خواہش پر، پوری کوشش کریں گے کہ آنے والی انتخابات میں عمران خان کو ٹف ٹائم دے سکیں کیونکہ پہلی دفعہ یہاں عمران خان کی حکومت بننے دینے کی غلطی وہ ایک بار کر کے ابھی تک بھگت رہے ہیں۔

امریکہ کے ساتھ پاکستان کے مستقبل کے تعلقات کا دار و مدار بھی اس بات پر ہے کہ آنے والی انتخابات میں پختونخوا میں عمران خان کتنی کامیابی یا ناکامی سے دوچار ہوتے ہیں۔ اب اے این پی گیم سے باہر اور منظور پشتون پارلیمانی سیاست سے متنفر اور پختون قوم پرست ووٹ کو تقسیم ہونے سے بچانا ہو تو بہترین امیدوار پختونخوا ملی عوامی پارٹی بچتی ہے، جو بلوچستان کے پختون علاقوں سے کبھی نکلی ہی نہیں، لیکن زمینی حقائق کو دیکھ کر امید رکھی جا سکتی ہے کہ پختونخوا کے قوم پرست ووٹ کو یکجا کر کے پختونخوا ملی عوامی پارٹی اس دفعہ یہاں ایک حیران کن کردار ادا کرنے کی پوزیشن میں ہوگی۔ جس کی خشک اور بوسیدہ شاخیں جھڑنے کے بعد نئی کونپلیں مستقبل کی بہار کی نوید بن سکتی ہیں۔

پختونخوا ملی عوامی پارٹی کی زیرک قیادت نے شاید اس بات کا احساس پہلے سے کر لیا ہے کیونکہ جس تیزی اور موثر انداز سے یہ پارٹی پختونخوا میں منظم کی جا رہی ہے اور جو عوامی پذیرائی اسے یہاں مل رہی ہے اس کو دیکھتے ہوئے پختونخوا کے سیاسی ڈائنامکس پر گہری نظر رکھنے والے تجزیہ نگار پیشگوئی کرتے ہیں کہ آنے والی انتخابات میں محمود خان اچکزئی کی پارٹی حیران کن مثبت نتائج دے سکتی ہے۔

مذہبی ووٹ پہلے سے مولانا کی جیب میں ہونے کے باوجود مولانا کی اپنی سیٹ گنڈاپور کی زد میں ہے جس کے غالب چانسز ہیں کہ مولانا وہ ایک دفعہ پھر جیت نہ سکیں۔ معتبر ذرائع کے مطابق مولانا نواز شریف اور زرداری سے آنے والے انتخابات میں اپنا مناسب حصہ نہ ملنے پر ناراض بھی ہیں، لیکن اسٹیبلشمنٹ سمیت نواز شریف اور زرداری بھی پختونخوا کو پی ٹی آئی کے بعد مولانا کے حوالے کرنے کے لئے تیار نہیں ہوں گے، کیونکہ اس صورت میں افغانستان میں حسب توقع امن آنا ناممکن ہو جائے گا، جس کی وجہ سے امریکہ سے ہمارے فاصلے فیصلہ کن طور منفی اثرات کے حامل ہو جائیں گے، جبکہ امریکہ کی خواہش ہے کہ وہ یوکرین میں پھنسے ہوئے روس کے پچھواڑے میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کے لئے مزید انتظار نہیں کر سکتا۔

مشرف کے دور میں پختونخوا میں ایم ایم اے کی حکومت لائی گئی تھی، جس کی مرضی سے شدت پسندی کو فروغ ملا، امریکہ کے لئے مشکلات پیدا کی گئی اور نتیجتاً آج تک وہاں پر امن ناپید ہے۔ اس لیے مولانا کی دوبارہ حمایت کر کے امریکہ کو دوسری دفعہ ایک جیسے حربے سے مطمئن نہیں کیا جاسکتا۔ اسی ڈر کی وجہ سے طالبان کے تعلقات پاکستان کے ساتھ روزبروز خراب ہوتے جا رہے ہیں، اگرچہ طالبان بھی ایک حد تک ہی پاکستان کے خلاف جا سکتے ہیں کیونکہ افغانستان میں سیاسی تبدیلیوں کی صورت میں ان کے پاس پاکستان کے علاوہ سر چھپانے کے لئے کوئی مناسب ٹھکانہ نہیں، جس کا تلخ تجربہ وہ نائن الیون کے بعد حکومت سے ہاتھ دھو کر ایک دفعہ پہلے بھی کر چکے ہیں، جس کا ثبوت ہزار تلخیوں کے باوجود ان کو بعد میں پاکستان کے پلڑے میں اپنا وزن ڈالتے ہوئے دیکھا گیا۔

محمود خان اچکزئی نئی توانائی کے ساتھ شاید پہلی دفعہ واضح مقاصد، ٹھوس حکمت عملی اور حالات کی مناسبت سے بلوچستان کے پختون علاقوں سے نکل کر پختونخوا کے پختونوں کے پاس، پاکستان کے سب پختون علاقوں کو ایک وحدت میں تبدیل اور منظم کرنے کے پیغام کے ساتھ آئے ہیں۔ جس کے تحت وہ جنوبی پختونخوا (صوبہ بلوچستان کے پختون علاقوں)، شمالی پختونخوا (سابقہ صوبہ سرحد اور نئے ضم شدہ قبائلی علاقے) مشرقی پختونخوا (میانوالی اور اٹک کی اضلاع) اور ہزارہ ڈویژن (جس کو اے این پی نے نون لیگ کے لئے کھلا چھوڑا ہے) کو ایک پختون وحدت میں پاکستان کے اندر افغانیہ صوبہ کے نام سے متحد اور منظم کرنے کا پروگرام لے کر نکلے ہیں۔ جس کا نتیجہ میں تین صوبوں اور اطراف میں بکھرے ہوئے پختون ایک صوبے میں اور قومی اسمبلی میں یک آواز ہو کر اپنے سارے مسائل حل کرنے کے ساتھ ساتھ شاندار سیاسی مالی اقتصادی اور ثقافتی کامیابیاں حاصل کر سکتے ہیں۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

شازار جیلانی

مصنف کا تعارف وجاہت مسعود کچھ یوں کرواتے ہیں: "الحمدللہ، خاکسار کو شازار جیلانی نام کے شخص سے تعارف نہیں۔ یہ کوئی درجہ اول کا فتنہ پرور انسان ہے جو پاکستان کے بچوں کو علم، سیاسی شعور اور سماجی آگہی جیسی برائیوں میں مبتلا کرنا چاہتا ہے۔ یہ شخص چاہتا ہے کہ ہمارے ہونہار بچے عبدالغفار خان، حسین شہید سہروردی، غوث بخش بزنجو اور فیض احمد فیض جیسے افراد کو اچھا سمجھنے لگیں نیز ایوب خان، یحییٰ، ضیاالحق اور مشرف جیسے محسنین قوم کی عظمت سے انکار کریں۔ پڑھنے والے گواہ رہیں، میں نے سرعام شازار جیلانی نامی شخص کے گمراہ خیالات سے لاتعلقی کا اعلان کیا"۔

syed-shazar-jilani has 111 posts and counting.See all posts by syed-shazar-jilani

Subscribe
Notify of
guest
1 Comment (Email address is not required)
Oldest
Newest Most Voted
Inline Feedbacks
View all comments