پشتونخوا ملی عوامی پارٹی اور مستقبل کے چیلنج
محمود خان اچکزئی ایک تجربہ کار اور منجھے ہوئے سیاستدان ہیں جنہیں عملی سیاست کا تقریباً پانچ دہائیوں کا تجربہ ہے۔ انہوں نے پارٹی کی صدارت اس وقت سنبھالی جب 2 دسمبر 1973 کو ان کے والد اور معروف قوم پرست رہنما عبدالصمد خان اچکزئی کو شہید کر دیا گیا یہ وہ وقت تھا جب پارٹی کو قیادت کے بہت بڑے بحران کا سامنا تھا، محمود خان اچکزئی نے قیادت کے اس خلا کو پر کیا۔
اس کے بعد پارٹی نے کئی اتار چڑھاؤ دیکھے ہیں۔ جنرل ضیاء الحق کے مارشل لا کے خلاف پشتونخوا ملی عوامی پارٹی نے بھرپور کردار ادا کیا گاہے بگاہے احتجاج کے دوران پارٹی کے بہت سے ارکان کو شہید بھی کر دیا گیا تھا۔ یہ وہ وقت تھا جب محمود خان اچکزئی خود ساختہ جلاوطنی بھی اختیار کر گئے۔ اس کے باوجود اس نازک ترین وقت میں بھی پارٹی کو نہ تو کمزور کیا گیا نہ ہی تقسیم۔
فی الحال، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی دو دھڑوں میں تقسیم ہو چکی ہے۔ اس کا ایک بہت بڑا دھڑا الگ ہو گیا ہے۔ اس گروپ میں صوبائی ایگزیکٹو کے پانچ ممبران اور مرکزی ایگزیکٹو کے کئی ممبران بشمول سیکرٹری جنرل، سیکرٹری خزانہ اور سیکرٹری اطلاعات کے ساتھ ساتھ صوبہ خیبر پختونخوا کا تقریباً پورا صوبائی سیٹ اپ بھی شامل تھا۔ اس گروپ کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے کل 110 ممبران میں سے اس گروپ کو 70 ممبران کی حمایت حاصل ہے جس کو محمود خان اچکزئی مسترد کرتے ہیں۔
حال ہی میں، الگ ہونے والے دھڑے نے اپنی کانگریس منعقد کی اور مرکزی کمیٹی اور صوبائی صدور اور ان کی کمیٹیوں کے ساتھ اپنے چیئرمین کا اعلان کیا۔ ان کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ انہیں پارٹی کے جھنڈے اور انتخابی نشان کے ساتھ بطور پارٹی پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے نام کے ساتھ رجسٹر کیا جائے جس کے لیے انہوں نے الیکشن کمیشن سے بھی رجوع کیا ہے۔
پارٹی کی تقسیم سے پیدا ہونے والے موجودہ چیلنجز محمود خان اچکزئی کے لیے چونکا دینے والے ہو سکتے ہیں کیونکہ پارٹی کے قیام کے بعد سے محمود خان اچکزئی نے اتنے بڑے پیمانے پر تقسیم کبھی نہیں دیکھی تھی۔ محمود خان اچکزئی کے بہت سے رہنما اور قریبی ساتھی جن کی پارٹی سے تقریباً 5 دہائیوں سے وابستگی تھی محمود خان اچکزئی کو الوداع کہہ چکے ہیں۔
اس الگ ہونے والے دھڑے نے تقریباً تمام پشتون اضلاع سے معقول رہنماؤں اور کارکنوں کو اپنی طرف متوجہ کیا ہے۔ اس نے محمود خان اچکزئی کے لیے ایک بہت بڑا چیلنج پیدا کر دیا ہے کہ وہ ان اضلاع میں دوبارہ حمایت کیسے حاصل کریں۔ جس کے لئے محمود خان اچکزئی نے تمام اضلاع میں نئے سیکرٹریز اور ان کی کابینہ کا اعلان بھی کر دیا ہے، لیکن تقسیم ہونے والے دھڑے کا سامنا کیسے کیا جائے (جس کو بڑے پیمانے پر عوامی حمایت بھی حاصل ہے ) محمود خان اچکزئی کی قیادت کا امتحان ہو گا۔
پارٹی کانگریس میں محمود خان اچکزئی اپنے بڑے بیٹے کو مرکزی کمیٹی میں ڈپٹی چیئرمین کے طور پر لائے ہیں جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ انہوں نے اپنے ممکنہ جانشین کا اعلان کر دیا ہے جو مستقبل قریب میں پارٹی کی قیادت کرے گا۔ ان کا بیٹا اس وقت برطانیہ میں پڑھ رہا ہے اور اسے عملی سیاست کا زیادہ تجربہ نہیں ہے۔ کیا محمود خان اچکزئی کا یہ اقدام ثمر آور ہو گا اور کیا ان کا بیٹا اپنے دادا اور والد کی وراثت کو کامیابی سے آگے بڑھانے کا اہل ثابت ہو گا جیسا کہ ان کے دادا اور والد نے کیا؟ اس کا جواب غیر یقینی ہے۔
2013 کے انتخابات کے بعد جب محمود خان اچکزئی کے بڑے بھائی محمد خان اچکزئی کو بلوچستان کا گورنر منتخب کیا گیا تو پارٹی کے اندر اختلافات ابھر کر سامنے آئے جس نے محمود خان اچکزئی پر اپنے رشتہ داروں کی طرفداری کا الزام لگا کر ان کی شہرت کو نقصان پہنچایا۔ اب چونکہ اختلافی دھڑا الگ ہو چکا ہے اور محمود خان اچکزئی نے نئے مرکزی اور صوبائی سیٹ اپ کا اعلان بھی کر دیا ہے، تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ محمود خان اچکزئی کو اپنی امیج کی بہتری کے لیے کیا کرنا چاہیے؟ کیا محمود خان اچکزئی مستقبل قریب میں اپنی مقبولیت برقرار رکھ پائیں گے؟
پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے منقسم دھڑے کو محمود خان اچکزئی کی طالبان کے حوالے سے پالیسی میں تبدیلی پر تحفظات تھے۔ محمود خان اچکزئی بارہا کہہ چکے ہیں کہ طالبان بھی پشتون سرزمین کا حصہ ہیں اور ان کے ساتھ مفاہمت میں کوئی مضائقہ نہیں۔ سیاست اور جمہوری طرز عمل میں مفاہمت ہمیشہ قابل تعریف اقدام ہوتا ہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مفاہمت کس حد تک ممکن ہے۔ کیا طالبان نے لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی نہیں لگائی؟ کیا طالبان نے جمہوریت اور الیکشن کو مسترد نہیں کیا؟ کیا طالبان نے قومی حکومت کی تجویز کو مسترد نہیں کی؟ کیا طالبان نے روایتی موسیقی اور فن پر پابندی لگا کر پشتون ثقافت کو نقصان نہیں پہنچایا؟ کیا طالبان کی یہ پالیسیاں پی کے میپ کے منشور اور محمود خان اچکزئی کے پرانے پالیسی بیانات کے خلاف نہیں ہیں؟ ان اختلافات کے درمیان، کیا اب بھی مفاہمت ممکن ہو سکے گی؟ محمود خان اچکزئی کو مستقبل میں ایسے سوالات کا سامنا کرنا پڑے گا۔
پارٹی کی تقسیم کا ایک اور نکتہ جس پر منقسم گروپ نے الزام لگایا ہے یہ تھا کہ پارٹی کے اندرونی ادارے ناکارہ ہو چکے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ پارٹی کا سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی جو کہ سب سے طاقتور اور فیصلہ کن ادارہ تھا مفلوج ہو کر رہ گیا تھا کیونکہ ایک دہائی سے اس کا اجلاس نہیں ہوا۔ تاریخ گواہ ہے کہ ایک جمہوری پارٹی کے اندر جمہوریت ہی واحد قابل عمل آپشن ہوتا ہے جس میں پارٹی کو نچلے سطح تک مستحکم کیا جا سکتا ہے جہاں پارٹی کے عام کارکنوں کے جذبات و احساسات سے پارٹی کی قیادت آگاہی رکھتی ہے۔
کیا نئے سیٹ اپ میں پارٹی کے اداروں کو جمہوری اصولوں اور اقدار کے مطابق زیادہ اہمیت دی جا سکے گی؟ محمود خان اچکزئی پارٹی کے اندرونی اداروں کو نظرانداز کرنے کے منقسم دھڑے کی جانب سے لگائے گئے الزام کا جواب کیسے دیں گے؟ یقیناً اس کا بہتری جواب اداروں کو زیادہ اختیارات دینے سے یہ اور سب سے اہم پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کو مناسب کردار دینا ہو گا۔ کیا جناب اچکزئی اس پر توجہ دیں گے؟ عقل سلیم کا تقاضا ہے کہ ان کو اس نکتے پر دھیان دینا چاہیے۔
محمود خان اچکزئی ایک تجربہ کار سیاست دان، حالات پر گہری نظر رکھنے والا، اور پاپولر پشتون قوم پرست رہنما ہے جس نے پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کی قیادت ایک اہم موڑ پر سنبھالی جب ان کے والد عبدالصمد خان اچکزئی کو شہید کر دیا گیا تھا جس کی وجہ سے 5 دہائیاں قبل قیادت کا بحران پیدا ہو گیا تھا۔ پشتونخوا ملی عوامی پارٹی بہت مسائل کے باوجود 5 دہائیوں تک قائم رہی۔ اس وقت پارٹی تقسیم ہو چکئی ہے اور ایک نئے دھڑے جسے غیر معمولی عوامی حمایت حاصل ہے نے خود کو PKMAP کا حقیقی دھڑا ظاہر کرتے ہوئے اپنی پارٹی کا اعلان کیا ہے۔ اس صورتحال نے محمود خان اچکزئی کے لیے بے شمار چیلنجز پیدا کیے ہیں۔ کیا جناب محمود خان اچکزئی ان چیلنجز کا مقابلہ کر پائیں گے؟ آنے والے مرحلے کٹھن ہیں۔


