سارے جہاں کا درد (حصہ اول)۔

نومبر کی خنک شام میں سرسراتی خشک ہوا نے اداسی کا رنگ مزید گہرا کر دیا تھا۔ تربیت گاہ میں قدم دھرنے والوں کے چہروں سے پژمردگی اور پھیکا پن صاف چھلک رہا تھا۔ سب کے دلوں کو یہ خیال کچوکے لگا رہا تھا کہ سال بھر کا یہ طویل عرصہ اس قید خانے میں کیونکر کٹے گا۔ اجنبی ماحول میں ہر طرف اجنبی لوگ پھرتے دکھائی دے رہے تھے۔ درو دیوار کی وحشت نے لہجے گنگ کر ڈالے تھے۔ ہر کوئی اپنے سامان پہ نگاہ رکھے تھا کہ مبادا ادھر ادھر ہو جائے۔ گروہ در گروہ بیٹھے افراد کے سروں پہ وحشت نے دبیز چادر تان رکھی تھی۔ نگاہوں میں سو سو سوال تھے مگر زبانیں کلام کی طاقت کھو بیٹھی تھیں۔
میں اس خوف اور دباؤ کی کیفیت سے تنگ آ کر ٹہلنے لگا۔ مجھے کچھ دور کینٹین کا بورڈ دکھائی دیا تو میں غیر ارادی طور پر اس طرف چل دیا۔ کینٹین میں جابجا پلاسٹک کا فرنیچر سجا ہوا تھا۔ پوری کینٹین میں سوائے ایک شخص کے کوئی بھی نہیں تھا جو کھڑکی کے قریب والی کرسی پر بیٹھا مہنگے برانڈ کے پیکٹ سے سگریٹ نکال کر سلگا رہا تھا۔ نجانے کیوں میری نظریں اس اجنبی پر جم گئیں، وہ ایک شان بے نیازی سے چائے کی چسکی لینے کے بعد ایک لمبا کش لگاتا اور پھر اپنی نیم وا آنکھوں سے کھڑکی کے باہر دیکھنے لگتا۔ شکل و شباہت سے تو وہ مجھے اپنے جیسا کوئی ٹرینی ہی لگا مگر اس کی طور اطوار سے شبہ ہوا کہ ہو سکتا ہے یہ میری خام خیالی ہو۔ اس حبس زدہ ماحول میں اس کا یہ آسودہ انداز مجھے ایسا بھلا لگا کہ اس کا ٹانگ پہ ٹانگ دھرے سگریٹ اور چائے سے لطف اندوز ہونا میرے دل پہ نقش ہو گیا۔
ہفتہ بھر کے بعد ٹریننگ اپنے مخصوص انداز میں آگے بڑھنا شروع ہوئی تو معلوم ہوا کہ بہت سی مجوزہ مشکلات اور تکالیف جو ہمارے ذہن کی پیداوار تھیں ان کا تو ہمیں سامنا ہی نہیں کرنا پڑا، حقیقی دنیا میں ان کا کوئی وجود ہی نہیں تھا۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ ایسی بہت صعوبتیں بھی دیدے پھاڑ کے ہمیں گھور رہی تھیں جن کا سامنا کرنے کا ہم نے کبھی سوچا تھا نہ ان سے نبرد آزما ہونے کی ہماری تیاری تھی۔ کلاس روم میں جہاں بھانت بھانت کی عجیب و غریب بولیاں سننے کو مل رہی تھیں وہیں کہیں پچھلے بنچوں پر ایک شستہ لہجے اور نفیس آواز کا حامل شخص بھی بیٹھتا تھا اور یہ کوئی اور نہیں بلکہ چائے اور سگریٹ کا گرویدہ وہی شخص تھا جسے میں نے پہلے دن کینٹین میں بیٹھے دیکھا تھا۔
اس کا پورا نام امجد صابری تھا، شاعری سے ناصرف گہرا شغف رکھتا تھا بلکہ خود بھی شعر کہتا تھا اور ”صابری“ تخلص کے طور پر استعمال کرتا تھا۔ گہرے سانولے رنگ پر موٹی سیاہ مونچھوں نے اس کی شخصیت کو رعب و دبدبے سے بھر دیا تھا مگر اس کی گفتگو شگفتگی اور ملائمت سے بھرپور تھی۔ اس کا چہرہ مہرہ دیکھ کر یہ اندازہ لگانا چنداں سہل نہیں تھا کہ وہ اندر سے ایک نرم و ملائم طبیعت کا مالک ہو گا۔
پابندیوں سے بھرپور اس ماحول میں ہمارا جسم اور مزاج دونوں طوعاً یا کرہاً ڈھلتے چلے جا رہے تھے۔ خاموشیاں سرگوشیوں میں تبدیل ہو رہی تھیں اور ہلکی مسکراہٹوں کے عقب سے فلک شگاف قہقہے نمودار ہونا شروع ہو گئے تھے۔ ایک دن امجد صابری نے کلاس روم کے وائٹ بورڈ پہ ممتاز شاعر منیر نیازی کی غزل کا ایک مصرعہ ”نظر سے دل کا غبار اترا تو میں نے دیکھا“ لکھا اور سب کلاس سے مخاطب ہو کر کہا کہ کلاس میں اگر کوئی شعر کہنے والا ہے تو اس طرح مصرع پہ اشعار کہے، جو حضرات اشعار یا پوری غزل کہہ لیں گے ایک ہفتے بعد ان کی ایک نشست منعقد کی جائے گی۔
پولیس کی ٹریننگ کے جکڑے ہوئے ماحول میں یہ خبر ایک کلاس سے ہوتی ہوئی سینہ بہ سینہ پورے بیج تک پھیل گئی۔ کچھ حیران ہوئے، کچھ ہنس دیے، کسی نے مذاق اڑایا، کسی نے حوصلہ افزائی کی۔ سات دن کے بعد جب نشست کا انعقاد کیا گیا تو دس بارہ ایسے لوگ نکل آئے جنھوں نے اس طرح مصرع پر اشعار کہے تھے، مزید یہ کہ دس پندرہ لوگ جو شعر و سخن میں تھوڑی بہت دلچسپی رکھتے تھے سامع بن کر آ گئے۔ ڈی جی خان سے تعلق رکھنے والے ایک شفیق طبع استاد محترم کی صدارت میں ایک کامیاب نشست منعقد ہوئی۔ نت نئے شاعروں نے عجیب و غریب مضامین سے بھرپور اشعار سنائے۔ نشست کے اختتام پر سب کے چہروں پہ مسکراہٹ تھی اور اس کا تمام تر سہرا امجد صابری کو جاتا تھا۔
اس نشست کے بعد ہم کالج میں شاعر کے طور پر پہچانے جانے لگے۔ شام کی مصروفیات سے فارغ ہو کر ہم ہاسٹل کی چھت پر جمع ہو جاتے اور اپنی اپنی تخلیقات ایک دوسرے کے سامنے پیش کرتے۔ اس طرح وہ اشعار اور نظمیں بھی سنانے کا حوصلہ پیدا ہو گیا تھا جن کے بارے میں ہمارا اپنا خیال تھا کہ ہم ان کو کبھی کسی کو سنا سکیں گے نہ دکھا سکیں گے۔ ان نشستوں کے روح رواں ہونے کے ناتے امجد صابری کا ذوق و شوق دیدنی ہوتا تھا۔ وہ بہت محبت، خلوص اور احترام کے ساتھ نشست میں شرکت کی دعوت دیتے تھے۔
ان نشستوں کا باقاعدگی سے حصہ بننے والوں میں میرے علاوہ امجد صابری، کامران قمر، اختر زیدی، ابرار شاہ، راز بلوچ اور فدا حسین ہوا کرتے تھے۔ ٹریننگ کے سخت ڈسپلن والے ماحول میں شدید اکتاہٹ اور تھکان کے باوجود ہم اس لیے بھی ان نشستوں میں باقاعدگی سے شرکت کرتے تھے کہ اس طرح ہمیں کچھ اور سوچنے اور لکھنے کا حوصلہ، ہمت اور ولولہ عطا ہوتا تھا۔
ہماری ان علمی و ادبی سرگرمیوں کی خبر نجانے کیسے کمانڈنٹ صاحب پولیس کالج کو ہو گئی کہ انھوں نے ہم سات شاعروں کو ملاقات کے لیے اپنے پر شکوہ دفتر میں طلب کر لیا۔ ہم خوشی اور تجسس کے ملے جلے جذبات لیے ان سے ملاقات کو پہنچے تو ان کے دفتر میں ایک بہت سینئر اور مشہور شاعر و نثر نگار پہلے سے موجود تھے۔ کمانڈنٹ صاحب نے ہمارا تعارف کروایا تو وہ حیرت میں مبتلا ہوئے بنا نہ رہ سکے اور پولیس میں شاعروں کے ظہور کو اس دور کا ایک ”ادبی وقوعہ“ قرار دینے لگے۔
ان دونوں حضرات نے ہم سب سے اشعار سنے اور ہم پر داد و تحسین کے ایسے ڈونگرے برسائے کہ واپسی پر ہمارے پاؤں زمین پر نہیں پڑ رہے تھے۔ اس ملاقات کے مابعد اثرات اور نتائج پر غور و خوض کے لیے بلا توقف ایک اجلاس طلب کر لیا گیا جس میں بہت سے معاملات پر سیر حاصل گفتگو کرنے کے بعد ڈھیر ساری تجاویز سامنے آئیں۔ ناقابل عمل اور محیرالعقول تجاویز کے انبار میں سے ایک تجویز ایسی بھی تھی جو گویا سب کے دل کی آواز بن کر ابھری اور یہ تجویز بھی امجد صابری نے ہی پیش کی تھی۔
تجویز یہ تھی کہ ایسا کارنامہ سر انجام دیا جائے جو پولیس ٹریننگ کالج کی تاریخ میں کبھی کسی نے سر انجام نہ دیا ہو، وہ کارنامہ یہ کہ ہم سات شاعر مل کر ایک کتاب تخلیق کریں، اس کتاب میں شامل کرنے کے لیے ہر شاعر اپنا منتخب کلام فراہم کرے۔ ہر ممکن کوشش کی جائے کہ اس کتاب کی اشاعت دوران ٹریننگ ہی مکمل ہو جائے تاکہ ایک یادگار علمی و ادبی کاوش کے طور پر اس خدمت کو تادیر یاد رکھا جائے۔
کتاب کی اشاعت در حقیقت ایک دقیق اور محنت طلب امر تھا مگر امجد صابری جیسا پرخلوص انسان دامے، درمے، سخنے خود کو اس کام کے لیے وقف کر چکا تھا۔ اس کی شبانہ روز کاوشوں اور مہینوں کی محنت کا نتیجہ تھا کہ ہماری منتخب غزلوں اور نظموں پر مشتمل کتاب ”سارے جہاں کا درد“ ٹریننگ ختم ہونے سے دو ہفتے قبل شائع ہو کر کالج پہنچ گئی۔ کتاب کا شائع ہو کر کالج پہنچنا ایسا واقعہ تھا جس نے ایک بھونچال برپا کر دیا تھا۔ ہمارے ہی ساتھی ٹرینی ورطہ حیرت میں مبتلا تھے کہ پرلے درجے کے سست شاعروں نے کتاب کی اشاعت میں کیسی سرگرمی دکھائی تھی۔ کتاب میں ہم سات شعراء کا تعارف اور پھر چنیدہ کلام مختلف حصوں میں منقسم تھا۔ کتاب میں اپنی غزلیں اور نظمیں پڑھ کر اور ان پر لوگوں کے تبصرے جان کر ہمارا دل خوشی سے پھولے نہیں سماتا تھا۔
مگر ہمیں کیا خبر تھی کہ ہماری خوشی کا چاند اتنی جلدی گہنا جائے گا اور وہی ایک کتاب جس نے ہمارا سر فخر سے بلند کر دیا تھا، ہماری تحقیر اور رسوائی کا سامان بن جائے گی۔ (جاری ہے )

