مادرم زہراء (ع)
بیس جمادی الثانی وہ مقدس و بابرکت دن ہے کہ جب خداوند متعال نے نبی آخرالزمان (ص) کو فاطمہ زہرا کے ملکوتی وجود سے نوازا۔ آپ علیہا السلام حضرت محمد مصطفٰی کی عزیز دختر تھیں جن کے شرف و کمال کا احاطہ ممکن نہیں۔ نسبتوں کے اعتبار سے آپ کو وہ مقام حاصل ہے کہ جس میں کوئی اور آپ کا ثانی نہیں ہے۔ آپ حبیبہ خدا ہیں، آپ دلبند مصطفٰی ہیں، آپ زوجہ مرتضٰی ہیں، اور آپ مادر حسنین کریمین ہیں۔
ایک مستور کی جس قدر ممکنہ نسبتیں ہو سکتی ہیں آپ ان تمام نسبتوں میں کائنات کے بلند ترین اشخاص سے جڑی ہوئی ہیں۔ لیکن کیا یہ اعلٰی و ارفع نسبتیں ہی فاطمہ کا مکمل تعارف ہیں؟ نہیں ایسا نہیں ہے۔ فاطمہ اپنی ذات میں بھرپور شخصیت ہیں۔ آپ عالمہ غیر معلمہ ہیں، آپ عصمت کے آخری بلند مقام پہ فائز ہیں، آپ فہمہ غیر مفہمہ ہیں، آپ عابدہ، زاہدہ، مبارکہ، محدثہ، صدیقہ طاہرہ ہیں۔ آپ اپنی ذات میں اتنی بلند و بالا ہیں کہ نہ فقط زنان عالم کے لیے بلکہ مردان عالم کے لیے بھی مشعل ہدایت ہیں۔ آپ نے اپنی ظاہری مختصر حیات مبارکہ میں ہدایت و رہنمائی کے وہ باب وضع کیے جو تاقیامت موثر و موجود رہیں گے۔ آپ کا گھر وہ گھر ہے کہ جہاں نبوت و امامت جمع ہوتی ہیں۔
آپ آغوش رسالت کی پروردہ ہیں اور آپ کی پاک و پاکیزہ گود میں حسنین کریمین شہیدین جیسے امام پرورش پاتے ہیں۔ محسن نقوی اسی لطیف تسلسل کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ
حضور زہرا بشر سے ہٹ کے انبیاء کے کچھ سلام بھی ہیں
کہ اس کی گودی میں پلنے والے حسین ع جیسے امام بھی ہیں
آپ جزو رسالت ہیں، آپ باذن اللہ ہادیہ ہیں، آپ ایسی گوہر نایاب ہیں کہ خدائے بزرگ آپ کی ولادت کو اپنی خاص عطا کہتے ہوئے اپنے حبیب محمد مصطفٰی سے کہتا ہے کہ
فصل لربک وانحر
نماز پڑھ اور قربانی کر
یوں کہنا مناسب ہو گا کہ اگر محمد مصطفٰی عالمین پہ خدا کی عطا ہیں تو حضرت زہرا محمد مصطفٰی پہ خدا کی خاص عطا ہیں۔ گھریلو زندگی ہو یا مذہبی تبلیغات، سیاسی فہم و شعور ہو عوامی بیداری کی جدوجہد، اپنی اولاد کی تربیت ہو یا امت محمدی کی اصلاح، فاطمہ زہراء ہمیشہ نمایاں رہی ہیں۔ وہ معاشرہ کہ جہاں بیٹی کا کوئی مقام تھا نہ عورت کا، اس معاشرے میں دو روایت شکن باپ بیٹی ہی تھے جنہوں نے عربوں کی صدیوں پرانی ریتی رواج کے بت توڑ ڈالے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ جب بھی حضرت زہراء پیمبر گرامی کے پاس تشریف لاتیں تو آپ اپنے مقام سے بلند ہوتے اور سیدہ کی جانب چل کے جاتے، سیدہ کے ہاتھ پہ بوسہ دیتے اور اپنی جگہ پہ لا کے بٹھاتے۔
آپ علیہا السلام علم و فضل کے اس مقام پہ تھیں آئمہ اہلبیت فرماتے ہیں کہ ہم نے اپنے علم کا نوے فیصد حصہ اپنی جدہ فاطمہ زہراء سے لیا ہے۔ ہمیں سمجھنا ہو گا کہ سیدہ فقط اک عام سادہ سی گھریلو خاتون نہیں تھیں۔ آپ علمی و عملی کارنامے جا بجا تاریخ کی کتب میں درج ہیں۔ اور تا قیامت جو کوئی حق و صداقت کا متلاشی ہو گا اسے در زہراء پہ آنا پڑے گا، جو علم و تقوٰی کا شیدائی ہو گا اسے در زہراء پہ آنا پڑے گا۔
آپ علیہا السلام کی ولادت کا دن ہی دراصل یوم مادر ہونا چاہیے کیونکہ آپ ہی اک ایسی آئیڈیل ماں ہیں کہ جن کی اولاد آدمیت کے ماتھے کا نور ہے۔ سیدہ عالمیان حضرت امام حسن ع کو لوری سناتی تھیں اور فرماتی تھیں۔ اے حسن ع اپنے باپ کی طرح شجاع بننا۔ گویا پرورش کے اصول بتا رہی ہیں کہ ماں ہی عظیم صفات اپنے بچے کے اندر پیدا کر سکتی ہے اور باپ ہی اپنی اولاد کے لیے اچھا نمونہ بن سکتا ہے۔ یوم مادر کے موقع پہ یہی عرض کروں گی کہ اپنی اولاد کے لیے ایسی عظیم ہستیوں کو نمونہ عمل قرار دیجیے اور ان کی تعلیمات اپنے بچوں کے سامنے عملی طور پہ پیش کیجیے۔ خدائے بزرگ آپ سب کا حامی و ناصر ہو۔
اے فاطمہ زہراء اگر تو ماوٴں میں نہ ہوتی
جنت کبھی ماں کے پاوٴں میں نہ ہوتی

