توانائی بحران : ایسا نہ ہو کہ درد بنے درد لادوا


ملک شدید توانائی بحران کا شکار ہے اور ہر گزرتے دن کے ساتھ یہ بحران سنگین سے سنگین تر ہوتا جا رہا ہے جس کا نتیجہ لوڈ شیڈنگ اور صنعتی پہیہ جام ہے۔ ایسی صورتحال میں وفاقی حکومت کی طرف سے حال ہی میں توانائی بچت پلان کا اعلان ایک اہم پیشرفت ہے۔

توانائی بچت کے تحت سرکاری اداروں میں بجلی کے استعمال میں 30 فیصد کمی اور انہیں سولر انرجی پر منتقل کیا جائے گا۔ اسی طرح ملک میں ای بائیکس متعارف کرائی جائیں گی جن کے استعمال سے سالانہ 3 ارب ڈالر، پیٹرول کی بچت ہوگی جب کہ مخصوص پنکھوں پر اضافی ڈیوٹی عائد کرنے سے 15 ارب روپے حاصل ہوں گے۔ حکومت کے توانائی بچت پلان کے تحت ملک بھر میں مارکیٹیں ساڑھے 8 بجے، شادی ہالز اور ریستوران 10 بجے بند ہوں گے۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ اس کے اس اقدام سے 62 ارب روپے کی بچت ہوگی۔

حکومتی اعلان کے بعد صوبہ پنجاب اور پختونخوا کی حکومتوں، تاجر تنظیموں اور کاروباری افراد نے وفاقی حکومت کے فیصلے پر عملدرآمد سے انکار کر دیا ہے۔ تاجروں کا موقف ہے کہ اس اقدام سے ان کے کاروبار کو شدید نقصان پہنچے گا۔ اس طرح حکومت کا یہ توانائی بچت منصوبہ بظاہر ماضی کی طرح ناکام ہوتا نظر آ رہا ہے۔ ملک میں توانائی بچت کا منصوبہ بنانے کا یہ پہلا موقع نہیں۔ ماضی میں بھی حکومتیں توانائی بحران کے لیے مختلف منصوبے پیش کرتی رہیں۔

» بینظیر حکومت نے یورپی ممالک کی طرز پر پاکستان میں گھڑیاں ایک گھنٹے آگے کرنے کا فیصلہ کیا لیکن عوامی سطح پر مخالفت کے باعث یہ فیصلہ واپس لینا پڑا۔

» نواز شریف دور میں توانائی بچت پلان کے تحت دفاتر میں اے سی اور لائٹوں کے کم سے کم استعمال کے منصوبے کا اعلان کیا گیا لیکن افسر شاہی نے اسے ناکام بنا دیا۔

»پرویز مشرف نے گھڑیاں ایک گھنٹے آگے کرنے کا اعلان کیا لیکن یہ منصوبہ بھی زیادہ عرصہ نہ چل سکا۔

»پیپلز پارٹی نے اپنے پرانے توانائی بچت پلان کے تحت اپریل 2010 ء سے اگست 2010 ء تک گھڑیاں ایک گھنٹے آگے کیں جسے توسیع دے کر اکتوبر 2010 ء تک کر دیا گیا۔ اس فیصلے پر کسی حد تک عمل درآمد تو ہوا مگر حکومت متوقع نتائج حاصل نہ کر سکی۔

پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی درآمد 20 ارب ڈالر تک جا پہنچی ہیں جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 105 فیصد زیادہ ہے۔ پاکستان کی مجموعی برآمدات 30 ارب ڈالر ہیں، ان میں سے 20 ارب ڈالر پیٹرولیم مصنوعات میں چلے جائیں تو زرمبادلہ کا بڑا حصہ صرف پیٹرول کی امپورٹ میں چلا جاتا ہے۔

توانائی بحران پر قابو پانے کے لیے حکومت کو سنجیدگی سے تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مذاکرات کر کے فی الفور یہ اقدامات کرنے چاہئیں۔

» سستی بجلی کے لئے بلاتاخیر نئے ڈیم تعمیر کیے جائیں۔
» پوری دنیا سولرائزیشن پر منتقل ہو چکی ہے، ہمیں بھی سولر انرجی سے استفادہ کر نا چاہیے۔

» دنیا میں دفاتر اور مارکیٹیں بند ہونے کا وقت مقرر ہے، پاکستان میں سختی سے مارکیٹیں، ریستوران اور شادی ہال مقررہ اوقات پر بند کرانے ہوں گے۔

» کفایت شعاری کی پالیسی ایک مثبت اقدام ہے تاہم حکومت صنعتی اور تجارتی شعبے کو سستی بجلی فراہم کرنے کی منصوبہ بندی بھی کرے تاکہ معاشی و اقتصادی سرگرمیوں کو فروغ ملے۔

» سرکاری دفاتر میں بجلی کی کھپت میں حقیقی طور پر تیس فیصد کمی کی جائے۔

»موٹر سائیکلوں میں اگر 3 ارب ڈالر کا ایندھن استعمال ہوتا ہے تو بلا تاخیر الیکٹرک بائیک کی تیاری ملکی سطح پر کی جائے۔

»گرمیوں میں پنکھے دن رات چلتے ہیں کم بجلی والے پنکھے بنانے اور چلانے سے بجلی کی کافی بچت ہوگی اس کے لیے صنعت کاروں کو اعتماد میں لے کر فوری اقدامات کیے جائیں۔

»بلاوجہ عوامی اور حکومتی دونوں سطح پر چراغاں سے اجتناب کیا جائے۔

»عوام کو یہ باور کرایا جائے کہ وہ اپنا لائف سٹائل تبدیل کریں رات گئے گھروں سے باہر رہنے اور شاپنگ کا رجحان ختم کر کے اپنے حصے کی قربانی دیں۔

توانائی کے مسائل ترقی یافتہ ممالک میں بھی شدت اختیار کر چکے ہیں، گیس کی کمیابی کے باعث برطانوی عوام اب پورے گھر کو ہیٹر سے گرم کرنے کے قابل نہیں، حکومت انہیں گرم کمبل خریدنے کی تاکید کر رہی ہے۔ یہ سب اس ملک میں ہو رہا ہے جس کا دارالحکومت لندن دنیا کا بزنس حب اور دنیا کے پانچ طاقتور ترین ممالک میں سے ایک ہے۔ اگر برطانیہ جیسا ملک ایسے سنگین بحران کا شکار ہے تو پاکستان کی اس کے مقابلے میں کیا حیثیت ہے؟

امریکہ اور یورپی ممالک میں بھی معاشی حالات خراب ہیں اور حکومتیں سخت پابندیاں عائد کر رہی ہیں تاکہ گیس ’پانی اور بجلی جیسی نعمتوں کو ضائع ہونے سے بچا کر ان کا بہتر استعمال کیا جائے۔ ان ممالک میں لوگ سرشام چھ سات بجے تک کھانا کھا لیتے ہیں‘ اسی ٹائم پر شاپنگ سٹور بھی بند ہو جاتے ہیں لیکن ہمارے ہاں جب بھی حکومت دکانیں جلد بند کرنے اور کفایت شعاری کی بات کرتی ہے تو لوگ لٹھ لے کر پیچھے پڑ جاتے ہیں۔ دکاندار کہتے ہیں کہ لوگ شام کو ہی شاپنگ کے لیے نکلتے ہیں ’اس لیے جلدی دکانیں بند کرنا ممکن نہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا اس طرح حالات سدھر سکیں گے؟ شاپنگ سٹورز کا رات کے دو بجے تک کھلا رکھنے کا جواز سمجھ سے باہر ہے۔ یہی لوگ باہر کے ملکوں میں جاکر دن کے وقت شاپنگ کر سکتے ہیں تو پاکستان میں ان کے لیے یہ کیوں مشکل ہے۔ ہفتہ، اتوار کی چھٹی میں بھی شاپنگ ہو سکتی ہے۔

ملائیشیا ’سنگاپور‘ تھائی لینڈ حتیٰ کہ نیپال جیسے چھوٹے اور پسماندہ ملک میں بھی کاروبار شام کے بعد بند ہو جاتے ہیں۔ لندن کی آکسفورڈ اسٹریٹ ہی نہیں، فرانس کی شانزے لیزے اسٹریٹ، مراکو کی شاہراہ محمد خامس پر رات 8 بجے کے بعد دکانیں کھلی نظر نہیں آتیں۔

ایندھن کے درآمدی بل میں کمی کے لئے توانائی بچت پلان پر عملدرآمد اور متبادل توانائی کا استعمال ناگزیر ہے جس میں ہم سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔ ہم ترقی یافتہ ملک بننے کے خواہش مند ہونے میں سنجیدہ ہوتے تو اپنے معمولات بھی بہتر بناتے۔ پاکستان ایسا ملک ہے جہاں ہر کوئی رات کو ضروری کام نمٹانے کے لیے نکلتا ہے جس سے ایک طرف رات کو ٹریفک کے مسائل پیدا ہوتے ہیں اور دوسری جانب دکانوں میں بڑے بڑے بلب بجلی چوستے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ سردیوں میں بجلی بار بار ٹرپ کرتی ہے۔ ہم بجلی ’گیس اور پانی کی اہمیت ان ممالک سے پوچھیں جہاں یہ چیزیں پہلے ہی نایاب ہیں اگر ہمارے رویوں سے یہ یہاں بھی نایاب ہو گئیں تو ہم لوگ ہی گلہ کریں گے لیکن یہ بھول جائیں گے کہ یہ سب ہمارے اعمال کا نتیجہ ہے۔ سابق دور میں کورونا وائرس کی وجہ سے تیل و گیس کی قیمتیں عالمی سطح پر کم ہو رہی تھیں تاہم سابق حکومت نے توانائی کے مسئلے کا کوئی حل نکالنے کی کوشش نہیں کی۔

روس سے بھی عالمی مارکیٹوں کے مقابلے میں سستا تیل ملتا رہا‘ بھارت نے روس کے سستے پٹرول کا بھرپور فائدہ اٹھایا جس کے باعث اسے توانائی بحران کا سامنا نہیں ہوا۔ موجودہ حکومت نے روس سے سستا تیل درآمد کرنے کے لیے مذاکرات کا آغاز کیا ہے ’خدا کرے یہ بات چیت کامیابی سے آگے بڑھ سکے۔ تاہم جتنی بھی بجلی آ جائے اس کا کفایت شعاری سے استعمال پھر بھی لازم رہے گا۔ یہ بات بھی طے ہے کہ عوامی اور قومی رویوں کی اصلاح کیے بغیر حالات بہتر نہیں ہو سکتے۔ بہتری کے لیے پہلے ہمیں اپنے لائف سٹائل پر نظر ثانی کرنا ہو گی‘ اسی سے تعمیر و ترقی کا سفر ممکن ہو سکے گا۔

توانائی بچت پلان، وقت کی اہم ضرورت ہے۔ سرکاری اداروں میں گرمیوں میں ائرکنڈیشنز اور سردیوں میں ہیٹر اندھا دھند استعمال کیے جاتے ہیں۔ حکمران اور بیوروکریٹ پروٹوکول، مفت بجلی اور مفت پٹرول ختم کیا جائے۔ بجلی اور گیس چوری بھی روکی جائے۔

دنیا بھر کے حکمران سادہ زندگی گزارتے ہیں۔ مغربی صدور کی مدت پوری ہونے کے بعد کی زندگی سے لوگ واقف ہیں تو حکمرانی کے دور کی مصروفیات اور اخراجات سے کیوں ناواقف ہیں۔ ہمارے حکمران ہی نہیں، ارکان اسمبلی بھی گھروں سے نکلتے ہیں تو چار چار ہزار سی سی کی دس دس گاڑیاں ساتھ ہوتی ہیں۔ بجلی، پٹرول، گیس انہیں مفت میں ملتا ہے۔ تاجر بھی اگر آج کل کے حساب سے ساڑھے سات بجے کاروبار شروع کریں اور شام ساڑھے چھے بجے یا سورج غروب ہوتے ہی بند کر دیں تو کاروبار معیشت کا پہیہ 12 گھنٹے چلے گا اور گرمیوں میں یہ پہیہ چودہ گھنٹے تک چلے گا۔ آخر ایک مسلمان تاجر دوپہر بارہ بجے تک سوتے رہنے پر کیوں مصر ہے۔ اگر تاجر دوپہر ڈیڑھ بجے سے رات دس بجے تک کاروبار پر مصر ہیں تو اس میں تو صرف نو گھنٹے معیشت کا پہیہ چلتا ہے۔

حکومت کی جانب سے مارکیٹیں بند کرنے کے اوقات مقرر کرنے کی پابندی اس لئے ممکن نہیں ہوتی کہ پولیس اور سرکاری اہلکار خود اس کو ناکام بناتے ہیں۔ پولیس کھڑی ہوتی ہے اور دکانیں کھلی رہتی ہیں۔ یہی اہلکار سارا بھتا اپنی جیبوں میں نہیں ڈالتے بلکہ ان حکومتی اداروں میں باقاعدہ ریٹ طے ہیں کہ کس چیز کے کیا ریٹ ہیں۔ دکانوں کے الگ، ٹھیلوں کے الگ اور فیکٹریوں کے الگ۔ یہ لوگ ان سے بھتے لے کر کام کی اجازت دیتے ہیں، دکانوں کو کہا جاتا ہے کہ باہر کی لائٹس نہیں جلانا، بس پھر کافی ہوجاتا ہے۔ کبھی شکایت آ جائے تو چھاپے سے قبل خود اطلاع کر دیتے ہیں کہ چھاپا پڑنے والا ہے۔ نمائشی طور پر کسی کا شوکیس کا ٹھیلا اٹھا کر بھی لے جاتے ہیں اسے واپس کرنے کے ریٹ الگ ہیں۔

حکمران اور تاجر ایک جگہ بیٹھیں حکمران بھی اپنا طرز زندگی بدلیں اور تاجروں کو سمجھائیں کہ 12 گھنٹے پہیہ چلنے سے زیادہ پیداوار ہوگی اور موجودہ 9 گھنٹوں کے معمول سے توانائی ضائع ہو رہی ہے۔ دونوں کسی نہ کسی نتیجے پر پہنچ ہی جائیں گے۔

Facebook Comments HS