کیا انسانی زندگی کا کوئی مقصد ہونا چاہئے؟
امریکہ میں میرے گھر کے قریب ایک مشہور پہاڑ ہے جس کی بلندی تقریباً پندرہ ہزار فٹ ہے۔ پہاڑ تک پہنچنے کے لئے گاڑی کا سفر دو گھنٹے کا ہے۔ ابھی پچھلے اگست میرے ایک دوست نے فون کیا اور پوچھا کہ پہاڑ پر چڑھنے کا پروگرام بناتے ہیں۔ میں نے حامی بھر لی اور کہا ہفتے کی صبح نو بجے نکلتے ہیں، گیارہ بجے تک پہنچ جائیں گے۔
میرے دوست نے مجھے سمجھایا کہ اگر ہم گیارہ بجے پہنچیں گے تو دو گھنٹے ہمیں پارکنگ میں جگہ ملنے میں لگ جائیں گے کیونکہ وہ محدود گاڑیوں کو نیشنل پارک کے اندر جانے دیتے ہیں۔ گاڑیوں کی ایک طویل قطار ہوتی ہے، ایک گاڑی پارکنگ لاٹ سے نکلتی ہے تو ایک گاڑی کو اندر جانے کی جگہ ملتی ہے۔
پھر تمہارا مشورہ کیا ہے، میں نے اپنے دوست سے سوال کیا۔ دیکھو ناصر عابدی، مجھے پتا ہے کہ ہفتے کی صبح جلدی اٹھنا تمہارے لئے دشوار ہوتا ہے لیکن اگر تمہیں اپنی زندگی کی ایک خوبصورت ہائک کرنی ہے تو ہمیں صبح فجر سے پہلے یعنی ساڑھے چار بجے گھر چھوڑ دینا چاہیے۔ ساڑھے چھ تک ہم پارکنگ لاٹ میں ہوں گے۔ سات بجے تک پارکنگ میں جگہ ہوتی ہے جو آٹھ بجے تک بھر جاتی ہے۔ اس کے بعد ہمیں مجموعی طور پر چار گھنٹے چلنا ہو گا۔ ڈھائی گھنٹے پہاڑ کے اوپر کی طرف اور پھر ڈیڑھ گھنٹہ نیچے اترنا۔
ساڑھے دس گیارہ بجے تک ہم نیچے اتر جائیں گے اور دوپہر کو ایک بجے واپس گھر۔ میرے دوست نے اپنی بات ختم کی۔ گاڑی کون چلانے گا؟ میں نے پوچھا۔ تم چلنے کی حامی تو بھرو، میں تمہیں گھر سے اٹھا لوں گا۔ ٹھیک ہے، میں تیار ہوں، تم چائے اچھی بناتے ہو تو چائے کا تھرماس رکھ لینا اور انڈے پراٹھے کے رول میں لے آؤں گا۔ صبح کا ناشتہ پہاڑ پر ہی کریں گے۔ میں نے فون رکھتے ہوئے کہا۔
وقت مقررہ پر میرا دوست علی اصبح چار بجے پہنچ گیا اور ہم دونوں اپنی منزل کی جانب روانہ ہو گئے۔ ابھی کافی اندھیرا تھا، سورج نکلنے میں ابھی کچھ وقت تھا۔ اندھیرے میں بھی پہاڑ کی چوٹی برف سے ڈھکی ہوئی تھی اور ہمیں دور سے نظر آ رہی تھی۔ ہمارے سڑک کے دونوں طرف گھنے سرسبز درخت تھے جو انتہائی حسین منظر پیش کر رہے تھے۔ اچانک میرے دوست نے بریک لگائے اور گاڑی کی رفتار آہستہ کرنے لگا۔ ہم نے دیکھا کہ تین خوبصورت ہرن سڑک پر موجود تھے اور دوسری طرف درختوں کے پاس دو ہرن اور کھڑے تھے۔ میرے دوست نے گاڑی کو سڑک کے کنارے لگایا اور اتر کر ہرن کی تصویریں لینے لگا اور تھوڑی فلم بھی بنائی۔ اتنے میں ہرن چلتے ہوئے درختوں میں گم ہو گئے۔
میرا دوست گاڑی میں واپس آیا اور ہم اپنی منزل کی طرف واپس چل دیے لیکن یہاں سے ہمارے مکالمے کا آغاز ہوتا ہے۔ میں نے اپنے دوست سے کہا کہ پہلے انسان پہاڑ پر ہی رہتا تھا، ساحلوں کے کنارے، جنگلوں میں۔ یہ جانور ہم شکار کرتے تھے، ہم مچھلی پکڑتے تھے۔ ہمارا قدرت سے گہرا تعلق تھا۔ اب ہم چھٹیاں منانے پہاڑ پر جاتے ہیں، سمندر کے قریب مہنگے سے مہنگا گھر لیتے ہیں۔ جو پہلے انسان کا طرز زندگی تھا، وہ اب نایاب ہو گیا ہے اور صرف چھٹیاں منانے کی حد تک محدود۔ ہم ترقی کر کے یہ کہاں آ گئے۔ اچھا ہوتا ہم غاروں میں ہی رہتے، شکار کرتے، ساحل سمندر کا مزہ لیتے۔ یہ نوکری اور کاروبار، سائنسی ترقی، یہ سب دھوکا ہے۔ میرے نزدیک انسانی زندگی کا کوئی مقصد نہیں ہونا چاہیے۔
میرے دوست نے جو خود بھی ایک انتہائی تعلیم یافتہ شخص ہے، مجھ سے اختلاف کیا۔ کہنے لگا کہ زندگی کا ایک مقصد ضرور ہونا چاہیے، اس کو بے مقصد گزارنا وقت کا ضیاع ہے۔ ہم میں سے ہر انسان کوئی نہ کوئی صلاحیت لے کر پیدا ہوا ہے۔ اس فن اور صلاحیت کو انسان کی فلاح اور بہبود پر مرکوز کرنا چاہیے۔ میں تمہیں پولینڈ کی سائنس داں میری کیوری کی مثال دیتا ہوں۔ میری کیوری نے انتہائی نا مساعد حالات اور غربت کا سامنا کرتے ہوئے بھی دو نوبل انعام جیتے۔
وہ دنیا کی دو نوبل انعام جیتنے والی واحد عورت ہے۔ اس نے ریڈیم اور پلونیم جیسے عناصر دریافت کیے جن سے آج لاکھوں انسانوں کا علاج ہو رہا ہے۔ اس کے پاس ریسرچ کے پیسے تک نہیں ہوتے تھے، وہ بھوکی رہتی تھی اور اپنے کھانے کے پیسے بچا کر اپنی تحقیق پر خرچ کرتی۔ اگر وہ اپنی زندگی بے مقصد گزارتی تو کینسر کا علاج دریافت نہیں ہوتا۔ ایلون مسک نے بیٹری سے چلنے والی گاڑی تیار کی، اگر وہ نہیں کرتا تو ہماری زمین کا درجہ حرارت اگلے پچاس یا سو سالوں میں اتنا بڑھ جاتا کہ یہ زمین رہنے کے قابل نہیں ہوتی۔ اسی طرح کی کئی مثالیں ہیں جو میں دے سکتا ہوں۔ میرا دوست اب خاموش ہو گیا۔
دیکھو سائنس نے انسان کی بھلائی کے لئے چیزیں دریافت کی ہیں تو دوسری طرف ایٹم بم، کلاشنکوف، میزائل اور انسانیت کو تباہ کرنے والی چیزیں بھی بنائی ہیں۔ پہلے ہم نے صنعتی انقلاب برپا کیا، اب ہمیں پتا چلا کہ ان صنعتوں سے جو کاربن مونو آکسائیڈ اور دیگر گیسز خارج ہوتی ہیں، وہ ہمارے ماحول اور زمین کے لئے انتہائی خطرناک ہیں۔ سائنس کی بحث دونوں طرف جا، سکتی ہے۔
میں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ تم غلط سمجھے کہ زندگی کا ایک مقصد ہونا چاہیے۔ اوشو کہتا ہے کہ ہر انسان اپنے اندر ایک انفرادیت لے کر پیدا ہوتا ہے۔ کبھی بھی مقصد کو نہ ڈھونڈو بلکہ تم کون ہو، یہ جاننے کی کوشش کرو۔ جس دن تم نے اپنے آپ کو، اپنے وجود کو پا لیا، اس دن تمہیں زندگی کا مقصد بھی پتا چل جائے گا۔ تم اپنے آپ کو ٹٹولے بغیر زندگی کا مقصد نہیں پا سکتے۔ مقصد ثانوی چیز ہے، زندگی بنیادی ہے۔ جو کام تم کرتے ہو، وہ زندگی نہیں ہے، وہ زندگی کا مقصد نہیں ہے۔
کوئی ڈانسر بھی ہو سکتا ہے، کوئی جوتے بنانا والا بھی ہو سکتا ہے، کوئی ڈاکٹر، انجینئر بھی ہو سکتا ہے لیکن اگر وہ کام تمہیں خوشی نہیں دے پا رہا، تمہارے اندر سکون پیدا نہیں کر رہا تو وہ بیکار ہے۔ کام اہم نہیں ہے لیکن کام کرتے وقت تم کس کیفیت سے گزرتے ہو، وہ اہم ہے۔ ایک جوتے بنانے والا جو بہت اچھے جوتے بناتا ہے اور وہ اپنے کام سے بہت خوش ہے، اس کو جوتے بناتے ہوئے مزہ آتا ہے، اس ڈاکٹر سے کہیں بہتر ہے جو اپنے کام سے عاجز ہے اور بے سکونی میں مبتلا ہے۔ لہذا مقصد مت ڈھونڈو، اپنے آپ کو تلاش کرو، تم کیا ہو، تمہیں کیا چیز سکون دیتی ہے۔ جس دن تم نے یہ راز پا لیا، اس دن تمہیں زندگی کا مقصد بھی مل جائے گا۔
تمہاری زندگی کا کیا مقصد ہے؟ تمہیں کیا چیز سکون دیتی ہے؟ میرے دوست نے مجھ سے سوال کیا۔ میں نے جواب دیا، دیکھو میں اس معاملے میں بالکل غالب پر گیا ہوں، کہتے ہیں
جی ڈھونڈتا ہے پھر وہی فرصت کے رات دن
بیٹھے رہیں تصور جاناں کیے ہوئے
اور پھر گلزار صاحب نے میری طرح سوچتے ہوئے لکھا کہ
جاڑوں کی نرم دھوپ اور آنگن میں لیٹ کر
آنکھوں پہ کھینچ کر، ترے دامن کے سائے کو
اوندھے پڑے رہیں، کبھی کروٹ لئے ہوئے
دل ڈھونڈتا ہے پھر وہی فرصت کے رات دن
ہماری گاڑی اب پارکنگ لاٹ میں داخل ہو رہی تھی۔ سورج نکل رہا تھا اور پہاڑ پر پڑتی اس کی شعاعیں ایک دلکش منظر پیش کر رہی تھیں۔ کاش میرے دوست کی بجائے یہاں میرے ساتھ وہ ہوتی!
عشق اور محبت سے بڑا انسانی زندگی کا اور کیا مقصد ہو سکتا ہے!


