بیماری کا علاج دعاؤں سے لیکن مردانہ کمزوری کا دواؤں سے


پاکستان آبادی کے لحاظ سے دنیا کا پانچواں بڑا ملک ہے، اور بیماری کا بوجھ اس سے بھی کہیں زیادہ ہے۔ بیماری کا بوجھ آبادی کے تناسب سے زیادہ ہونے کی وجوہات میں بے بس اور بے اختیار ماں، صحت اور فیملی پلاننگ کی سہولیات کا فقدان اور غربت ہے۔

ہماری آبادی بہت تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ 1947 میں ہم تقریباً ساڑھے تین کروڑ تھے اور اب بائیس یا شاید تئیس کروڑ سے بھی زیادہ ہیں۔ اسی رفتار سے بڑھتے رہے تو 2050 میں پینتیس کروڑ ہو جائیں گے۔ اگر آج اڑھائی کروڑ بچے سکولوں سے باہر ہیں تو کل پانچ کروڑ باہر ہوں گے۔

ہمارے ہاں نوزائیدہ بچوں کی اموات کی شرح (NMR) دنیا میں دوسرے نمبر پر زیادہ ہے۔ یعنی زندہ پیدا ہونے والے ہر 1000 بچوں میں سے چالیس بچے زندگی کے پہلے 28 دنوں کے اندر مر جاتے ہیں۔ پاکستان سے خراب صورت حال صرف ایک ملک لیسوتھو کی ہے اس چھوٹے سے ملک کا نام بھی بہت کم پاکستانیوں نے سن رکھا ہو گا۔ بتاتا چلوں کہ خدا فن لینڈ پر بہت مہربان ہے جہاں زندہ پیدا ہونے والے ہر 1000 بچوں میں پہلے اٹھائیس دنوں میں صرف ایک بچہ موت کا شکار ہوتا ہے۔ ایران کا یہی نمبر آٹھ ہے۔

پاکستان میں پیدا ہونے والے ہر ہزار بچے میں سے 59 بچے پانچویں سالگرہ دیکھنے سے پہلے مر جاتے ہیں۔ جبکہ فن لینڈ اور ایران کے یہی نمبرز بالترتیب ڈیڑھ اور گیارہ ہیں۔

پاکستان میں پانچ سال سے کم عمر کے 37.6 فیصد بچوں کے قد اور دماغ کی نشوونما ٹھیک نہیں ہو رہی۔ اس کی وجہ غذا کی کمی کی ہے۔ اس سلسلے میں دنیا میں ہم تیرہویں نمبر پر ہیں یعنی 180 ممالک کی کارکردگی ہم سے بہتر ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ ماؤں کی صحت کا ٹھیک نہ ہونا ہے۔

پولیو کے بارے میں تو آپ جانتے ہی ہوں گے۔ پاکستان اور افغانستان، پوری دنیا میں صرف دو ممالک ہیں جہاں ابھی تک پولیو کا خاتمہ نہیں ہو سکا۔ پوری دنیا زور لگا رہی ہے لیکن ہم ہیں کہ بضد ہیں۔ دنیا کی پریشانی یہ ہے کہ کہیں ہم انہیں بھی پولیو ایکسپورٹ نہ کر دیں۔

ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں ایک کروڑ افراد کو ہیپاٹائٹس سی کی بیماری لاحق ہے۔ اس سلسلے میں ہم نمبر ون ہیں۔ یعنی بھارت اور چین بھی ہم سے پیچھے ہیں۔ ہیپاٹائٹس سی کی ایک وجہ ڈسپوزایبل سرنجوں کا دوبارہ استعمال ہے۔ پاکستان میں ٹیکے لگانے کا رواج بہت زیادہ ہے اور ہیپاٹائٹس کے ساتھ ساتھ ایچ آئی وی کے پھیلنے کا باعث بھی بنتا ہے۔ اس وقت پاکستان میں، ایک اندازے کے مطابق، 190,000 افراد ایچ آئی وی کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔ فلپائن کے بعد ، ہمارے پاس ایشیا میں ایچ آئی وی کا پھیلاؤ تیز ترین ہے۔

اسی طرح پاکستان، ایک اور اندازے کے مطابق، ٹی بی کے سالانہ 510,000 نئے کیسز کے ساتھ دنیا میں پانچویں نمبر پر ہے۔

صحت کا ماحولیاتی تعین کرنے کے حوالے سے پاکستان دنیا کا چوتھا آلودہ ترین ملک بن گیا ہے، اور لاہور کو اب کرہ ارض پر سب سے زیادہ آلودہ شہر ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ ہم دنیا کے سرفہرست 15 ممالک میں شامل ہیں جہاں تمباکو کے بڑے پیمانے پر استعمال اور تمباکو سے متعلقہ صحت کے مسائل کی شرح بہت بلند ہے۔

پاکستان میں موجودہ متوقع عمر 67.7 سال ہے۔ دنیا کے ایک سو انتالیس ممالک میں متوقع عمر ہم سے زیادہ ہے۔ ایک اوسط پاکستانی ہانگ کانگ کے باشندے سے 17.3 سال کم جیتا ہے۔ بنگلہ دیش پر بھی خدا ہم سے زیادہ مہربان ہے، وہ ہم سے پانچ سال زیادہ جیتے ہیں۔

ہم اتنی بدتر حالت میں کیوں ہیں؟ عوام، ان کی صحت، تعلیم، سکھ سکون اور معیار زندگی ہماری ترجیح کبھی تھی نہ ہے۔ قوم کو دعائیں ہی سکھائی گئی ہیں۔ ہم بیماری کا علاج دعاؤں سے کرانے پر مجبور ہیں لیکن مردانہ کمزوری کا علاج بہرحال دواؤں سے ہی کراتے ہیں۔

نوٹ: اس آرٹیکل میں زیادہ تر معلومات ڈاکٹر ظفر کے ڈان میں چند دن قبل شائع ہونے والے آرٹیکل سے لی گئی ہیں۔

Facebook Comments HS

سلیم ملک

سلیم ملک پاکستان میں شخصی آزادی کے راج کا خواب دیکھتا ہے۔ انوکھا لاڈلا کھیلن کو مانگے چاند۔

salim-malik has 366 posts and counting.See all posts by salim-malik