خط بنام وزیر اعظم بسلسلہ سیلاب کا عذاب
محترم جناب وزیر اعظم شہباز شریف صاحب! اسلام وعلیکم،
آپ کا اقبال بلند ہو، سدا خوش رہیں، حکومت کرتے رہیں اور پاکستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے میں اپنا بھر پور حصہ ڈالتے رہیں۔ آپ کی حکومت کو قریب قریب آٹھ ماہ کا عرصہ گزر چکا ہے۔ اس عرصے میں معیشت کہاں تک سدھری یہ تجزیہ کار بہتر بتا سکتے ہیں۔ ہماری ”سیلاب“ سے بکھری زندگی آج بھی ویسے ہی بکھری ہے۔
اگست 2022 شدید بارشوں کے باعث ملک کے کئی حصے زیر آب آ گئے۔ سندھ، بلوچستان اور جنوبی پنجاب دنوں میں اجڑ گئے۔ ہنستی مسکراتی بستیاں، لہلہاتے کھیت سب ویران ہو گئے۔ ایسا ہی ایک سیلاب 2010 میں بھی جنوبی پنجاب کو خستہ حال کر گیا تھا۔ تب وہ وقت تھا جب آپ کو خادم اعلیٰ ہونے کا شرف حاصل تھا۔
اس وقت آپ نے خادم اعلیٰ ہونے کا پورا فرض ادا کیا اور سیلاب زدگان کو مشکل کی اس گھڑی میں ایک لمحہ بھی اکیلے پن کا احساس نہیں ہونے دیا۔ بے نام سے شہر مظفرگڑھ کا نقشہ مہینوں میں پلٹ دیا۔ ترکی کی دوستی کی علامت رجب طیب اردگان ہسپتال، سیلاب زدگان کے لئے ترک کالونیاں آج بھی آپ کی خدمت کی یاد دلاتی ہیں۔ گمنام سی بستیاں ”ماڈل ویلج“ بنی پوری شان سے مسکراتی ہیں۔
اس بار جنوبی پنجاب کے لاوارث اضلاع، ڈیرہ غازی خان، تونسہ شریف اور راجن پور آپ کی آمد کے منتظر ہی رہے۔ رود کوہی نا صرف بستیاں اجاڑ گیا ہے بلکہ اگلے کئی سالوں کے لئے قابل کاشت زمینوں کو بے ترتیب کر گیا۔ کسان جن کی پوری زندگی کی کل کمائی ان زمینوں سے آ نے والی پیداوار تھی بے بسی سے آسمان کو تکتے ہیں۔ سیلاب زمین ہی نہیں کئی آنکھوں کے خواب بنجر کر گیا ہے۔
وہ زمین جہاں کبھی رنگ برنگ کھیتیاں لہلہاتی تھیں اب وہاں ریت ہی ریت بکھری ہے۔ وہ علاقے جہاں رود کوہی معمول کا سلسلہ ہے وہاں اگلے کئی برس تک کاشتکاری ممکن نظر نہیں آتی۔ پچھلے چند برسوں میں تبدیلی کے خواب دکھانے والی حکومت کی بدولت ”تبدیلی“ کی راہ تکتی آنکھوں کے سارے خواب سیلاب کے ہمراہ بہہ گئے۔
سیلاب، رود کوہی (کوہ سلیمان پر ہونے والی بارشوں کا پانی) برسوں سے جنوبی پنجاب کے دیہاتوں کو بہا لے جاتا ہے۔
جناب عالی! کیا جنوبی پنجاب کے ان علاقوں کے لئے کوئی ایسا انتظام ممکن نہیں کہ اس پانی کو ذخیرہ کر لیا جائے؟ بارشوں پہ زور نہیں لیکن منہ زور ”رود کوہی“ پر کوئی بند باندھ لیا جائے تو آنے والی نسلوں کا بھلا ہو جائے۔
آپ نے دنیا دیکھی ہے جانتے ہی ہوں گے کہ ملائشیا، تھائی لینڈ ایسے ممالک ہیں جہاں بارشیں روز کا معمول ہیں۔ لیکن ایسی بدترین صورتحال وہاں بھی دیکھنے میں نہیں آتی۔ وہاں بارش کے دوران اور بارش کے بعد معمولات زندگی ”نارمل“ ہی رہتے ہیں۔ کیا پاکستان ایسے انتظامات نہیں کر سکتا؟
زیر آب آنے والی بستیوں کے مکین آج بھی اسی آس میں ہیں کہ کوئی ”نجات دہندہ“ اس مسلسل اذیت سے سے نکالنے آئے گا۔ آپ کو مظفرگڑھ سے جو محبت ہے اسی کا کچھ حصہ ڈیرہ غازیخان کو عنایت کر دیجئے۔ ان علاقوں کے سرداروں کو جو دکھائی نہیں دیتا وہ آ کے کبھی دیکھ لیجیے۔
ہم تو منتظر ہی رہے کہ سردار نا سہی، فرزند ڈیرہ غازی خان ”حذیفہ رحمنٰ“ صاحب اس مسئلے پہ قلم اٹھائیں گے مگر ان کے فارم ہاؤس تک شاید ”رود کوہی“ نہیں جاتا۔
معلوم نہیں آپ اب ”خادم اعلیٰ“ کہلاتے ہیں یا ”حاکم اعلیٰ“ ، لیکن ہم اپنے ملک کے منتخب وزیراعظم سے اسی شفقت کے منتظر ہیں جو 2010 کے سیلاب کے بعد زیر آب علاقوں کے حصے میں آئی تھی۔ اب کے جو امداد ملی ہے اس کا ایسا ”استعمال“ کیجئے کہ پھر کبھی ”امداد“ مانگنے کی نوبت ہی نہ آئے۔
والسلام
ڈیرہ غازیخان سے ایک بیٹی جو جواب کی منتظر رہے گی۔


