سیاسی کارناموں کا نتیجہ: جو ہونا چاہیے، وہ ہو رہا ہے


اپریل 2022 میں عمران خان حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد پاکستانی سیاست میں جو بحران شروع ہوا عمران کی احتجاجی سیاست نے اسے پنجاب اور خیبر پختون خوا کی اسمبلیوں کی تحلیل تک پہنچا دیا ہے۔ پنجاب میں مسلم لیگ (ق) اور تحریک انصاف کی مخلوط حکومت تھی، وزارت علیا پرویز الٰہی کے پاس تھی، اسمبلی کی تحلیل کے خلاف مزاحمت موجود تھی تاہم عمران خان نے بالا آخر پرویز الہی سے پنجاب اسمبلی کی تحلیل کے لئے سمری پر دستخط کروا لیے۔ اسی طرح خیبر پختون خوا کی اسمبلی بھی عمران خان کی خواہش کے مطابق اسی انجام سے دوچار ہونے جا رہی ہے۔ آئین کے مطابق ان دونوں صوبوں میں نئے انتخابات نوے روز میں ہونا ضروری ہیں۔

عمران خان اپنے خلاف تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد مسلسل فوری انتخابات کا مطالبہ لے کر سڑکوں پر رہے، کسی لمحے بھی انہوں نے اپنا احتجاجی رویہ ترک نہیں کیا۔ ضمنی انتخابات میں گیارہ نشستوں میں سے نو جیت کر ایک ریکارڈ قائم کیا۔ جس سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ انہیں عوامی مقبولیت حاصل ہے۔ عمران خان اپنے ہدف ”فوری انتخابات“ کی طرف مسلسل پیش قدمی کرتے رہے۔ ایک لمحے کے لئے بھی نظریں اپنے ہدف سے نہیں ہٹائیں۔ انہوں نے جنرل باجوہ کو مسلسل نشانے پر رکھا، دشنام اور بہتان کی سیاست جاری رکھی۔ شریفوں، زرداری اور دیگر سیاستدانوں پر تنقید کے نشتر چلاتے اور اتحادی حکومت کو ، کوسنے دے کر ، سیاسی عدم استحکام پھیلائے رکھا وہ حکومت کو ناکام اور غیر نمائندہ ثابت کرتے رہے۔

عمران خان کی نا اہلیوں اور ناکامیوں کا بوجھ اٹھاتے اٹھاتے شہباز حکومت عوام پر معاشی بوجھ بڑھاتی چلی گئی۔ آئی ایم ایف کو مناتے مناتے، ان کی شرائط پر عمل درآمد کرتے کرتے، مہنگائی کا طوفان سونامی کی شکل اختیار کر گیا اشیاء ضروریہ کی قیمتوں میں حیرت ناک اضافہ اور اس پر ان کی رسد میں مشکلات نے معاملات کو سنگین تر کر دیا۔ کارکردگی کبھی بھی عمران خان کا ایشو نہیں رہا، وہ بیانیے بنانے اور ان پر زور دینے اور دیتے ہی چلے جانے کی پالیسی اختیار کیے رکھنے کے باعث بڑی مستعدی سے سیاسی انارکی پھیلانے میں کامیاب رہے۔

حکومت نے اس دوران سفارتی اور معاشی میدان میں جو تھوڑی بہت کامیابیاں حاصل کیں، ان کے ثمرات حصول سے پہلے ہی عمران خان اسمبلیوں کی تحلیل سے نیا بحران پیدا کرنے میں کامیاب ہو چکے ہیں۔ اس عمل سے پاکستان میں فی الوقت یہ نظر آ رہا ہے کہ سیاسی بحران میں مزید اضافہ ہو گا۔ حکمران اتحاد اور عمران خان اس طرح صف آراء ہیں کہ کسی بھی فریق کے لئے اپنے موقف سے پیچھے ہٹنا اس کی سیاسی موت ثابت ہو سکتا ہے۔ سردست عمران خان بڑی کامیابی کے ساتھ سیاسی افتراق و انتشار پھیلانے اور بڑھانے میں مصروف ہیں۔

پاکستان میں سیلاب کی تباہ کاریوں سے ساڑھے 3 کروڑ لوگ بے گھر ہوئے اور لگ بھگ 20 ارب ڈالروں کا نقصان ہوا۔ اسی سلسلے میں جنیوا میں کانفرنس کا انعقاد ہوا جس پر عمران خاں نے کہا کہ شہباز شریف اور بلاول بھیک مانگنے جنیوا جا رہے ہیں لیکن انہیں کچھ نہیں ملے گا کیونکہ ان پر کوئی اعتماد کرنے کو تیار نہیں۔ میاں شہباز شریف تو جنیوا سے 9 ارب 80 کروڑ ڈالر کی امدادی وعدے لے کر لوٹے اور پوری عالمی برادری سیلاب کی تباہ کاریوں سے نپٹنے کے لیے پاکستان کی پشت پر آن کھڑی ہوئی۔

اگر عمران خاں نے پاکستان کو ڈیفالٹ کے کنارے تک نہ پہنچایا ہوتا تو شاید اس امداد کی ضرورت ہی پیش نہ آتی۔ کئی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ جب عمران خاں نے دیکھا کہ حکومت، پاکستان کی معیشت عالمی برادری کے تعاون سے سنبھالتی نظر آتی ہے ایسے میں کہیں ان کا دو تہائی اکثریت کا خواب چکنا چور نہ ہو جائے، انہوں نے افراتفری پھیلانے کے لیے پنجاب اسمبلی تحلیل کرا دی۔ چودھری پرویز الٰہی کسی بھی صورت میں پنجاب اسمبلی تحلیل نہیں کرنا چاہتے تھے۔ وہ اگلے چھ سات ماہ میں کارکردگی دکھا کر انتخابی اکھاڑے میں اترنا چاہتے تھے لیکن عمران خاں نے ان کی ایک نہ چلنے دی۔

اب صورت حال کچھ یوں ہے کہ پنجاب میں پرویز الٰہی اور حمزہ شہباز نے متفقہ عبوری وزیراعلیٰ کا انتخاب کرنا ہے۔ اگر دونوں کسی ایک نام پر متفق نہیں ہوتے تو سپیکر دونوں طرف سے تین، تین ناموں کا انتخاب کر کے کمیٹی تشکیل دیں گے۔ اگر یہ کمیٹی تین دنوں میں کسی ایک نام پر متفق نہیں ہوتی تو معاملہ الیکشن کمیشن میں جائے گا جہاں چیف الیکشن کمیشن عبوری وزیر اعلیٰ کے لیے کسی ایک نام کا اعلان کریں گے۔ موجودہ صورت حال میں حتمی طور پر معاملہ الیکشن کمیشن ہی میں جاتا دکھائی دیتا ہے الا یہ کہ کوئی انہونی ہو جائے۔ سوال مگر یہ ہے کہ کیا عمران خاں چیف الیکشن کمیشن سکندر سلطان راجہ کے منتخب کردہ عبوری وزیراعلیٰ کو تسلیم کر لیں گے؟ یہ وہی چیف الیکشن کمیشن ہیں جن کے خلاف عمران خاں ہمہ وقت زہر اگلتے ہوئے انہیں نواز لیگ کا ورکر قرار دیتے رہتے ہین۔

عمران خان کی غیر مفاہمانہ سیاست کے باعث دونوں صوبوں میں انتخابی مراحل طے ہونا بھی آسان نہیں ہو گا۔ وفاقی حکومت پورے ملک میں انتخابات کے عمل سے گریزاں ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ وہ سخت معاشی فیصلے ہیں جو اس حکومت کو حالات کے جبر کے تحت کرنے پڑے اور جس کے نتیجے میں بڑھتی ہوئی مہنگائی نے عوام میں اس کی سیاسی ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا، دوسری جانب عمران خان نے جارحانہ سیاسی حکمت عملی سے اپنی مقبولیت میں جو اضافہ کیا، وہ اپنے زعم میں فوری طور پر اسے کیش کرا کے دو تہائی اکثریت حاصل کرنے کے خواہاں ہیں۔ پنجاب اور خیبر پختون خوا کی اسمبلیاں تحلیل کرنے کا فیصلہ نئے انتخابات کے لیے پی ڈی ایم پر دباؤ میں شدت پیدا کرنے کے لئے ہے۔

بہر حال عمران خان نے جو پتہ کھیلا ہے اس کا مقصد یہی ہے کہ سیاسی عدم استحکام بڑھے، معاشی بہتری کا تاثر زائل ہو اور حکومت کی معاشی شعبے میں معمولی کامیابی بھی ناکامی میں بدل جائے۔ عمران خان انتخابات کے لیے اتنی جلدی کی ایک وجہ یہ خدشہ بھی ہے کہ انہیں سیاست سے نا اہل کر دیا جائے گا اور دوسرا خوف یہ سوار ہے کہ ان کی مقبولیت کی لہر شاید زیادہ دیر تک برقرار نہ رہ سکے۔ لہٰذا وہ ہر صورت ہر رکاوٹ اور ہر ریڈ لائن کو کراس کرنے پہ تلے بیٹھے ہیں۔

اب گیند وفاق کے پاس ہے کہ وہ کیسے پنجاب اور خیبرپختونخوا کے انتخابات کو اگست سے آگے لے جاتی ہے۔ وہ معاشی ایمرجنسی اور پنجاب اور پختونخوا میں گورنر راج لگا سکتی ہے۔ اس بات کو جواز بھی بنا سکتی ہے کہ اپریل میں نئی مردم شماری کے نتائج شائع ہونے پر اس کے مطابق حلقہ بندیوں کی تشکیل نو، جولائی، اگست تک مکمل ہوگی لہٰذا انتخابات اپنے وقت، اکتوبر ہی میں منعقد ہو سکیں گے۔ یہی آئینی پوزیشن الیکشن کمیشن آف پاکستان کی ہوگی اور بالآخر معاملہ سپریم کوٹ کے پاس ہو گا۔

اگر سیاسی قوتوں میں انتخابات کی شفافیت اور آزادانہ نوعیت پر سمجھوتہ نہ ہوسکا تو پھر اگلے انتخابات بھی متنازعہ ہوجائیں گے اور سیاسی بحران جاری رہے گا۔ سیاسی قوتوں کو ہوش کے ناخن لینے چاہئیں، اپنی اور آئینی نظام کی قبر کھودنے سے باز رہنا چاہیے۔ عمران خان کے لیے بھی بہتر ہے کہ وہ جمہوریت کے گورکن بننے سے اجتناب کریں۔

عمران خان کے حاوی ہو نے کی بڑی وجہ ایک پیج کا ورق تار تار ہونے پر اتحادی جماعتوں کی ضرورت سے زیادہ خود اعتمادی تھی مگر جب معاملات اس نہج تک پہنچ گئے کہ پی ڈی ایم عمران خان کے مقابلے میں کوئی بیانیہ نہ بنا سکی۔ عمران خان ریڈ لائنز تک عبور کرتے آڈیو، ویڈیوز لیکس کے باوجود جارحانہ انداز اپنائے رہے تو اب وہ خوف کا شکار ہوتی دکھائی دیتی ہے۔ اس کی مثال اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات میں شکست کے خوف سے راہ فرار اختیار کرنا تھا جو عوام کو غلط میسیج دے گیا۔

عمران خان کی بطور حکمران کارکردگی افسوسناک ہی نہیں عبرت ناک بھی تھی، ایسے نامہ اعمال کے باوجود تحریک انصاف نے حکومت اور اس کے حلیفوں کو ڈرا رکھا ہے۔ عمران اقتدار میں ہیں نہ ایک پیج کی کیفیت باقی رہی، پھر بھی خوف بڑھتا ہی چلا جا رہا ہے۔ پی ڈی ایم اگر آئینی، قانونی اور انتظامی پیچیدگیوں کے بہانے اور عذر تراشنے کی بجائے اپنے بیانیے کی تشکیل پر توجہ دے تو اس کے لیے بہتر ہو گا کیونکہ الیکشن تو ایک نہ ایک دن ہونے ہی ہیں۔

اصل سوال یہ نہیں کہ پی ڈی ایم اپنی مہارت سے الیکشن کو کتنا موخر کر سکتی ہے، بلکہ یہ ہے کہ پی ڈی ایم خوف سے کیسے نجات حاصل کرے گی۔ اب تک اس کے پاس کوئی متبادل بیانیہ ہے نہ کوئی لائحہ عمل دکھائی دیتا ہے۔ عمران ہیجان اور افراتفری کے سوا کسی اور چیز میں مہارت نہیں رکھتے لیکن اس کے باوجود ان کے آگے کسی کا چراغ نہیں جل پا رہا۔ دیکھا جائے تو اس معاشرے کی سماجی، عصری، سیاسی اور فکری پسماندگی کو تحریک انصاف نے کیش کرا یا ہے۔

حب الوطنی سے لے کر امریکہ دشمنی تک اور اسلام دوستی سے اینٹی اسٹیبلشمنٹ تک سارے بیانیے اسی کے ہاتھ میں ہیں۔ اسمبلیوں کی تحلیل کے بعد معیشت کا چند ماہ میں سنبھلنا ممکن نہیں نظر آتا۔ پی ڈی ایم کے لیے ایسے واضح بیانیے کی تلاش وقت کی ضرورت ہے جو عوام میں اسے مقبول بنا سکے ورنہ اس کی ناکامی نوشتہ دیوار ہے، ابھی تک کوئی الہ دین کا چراغ اس کے ہاتھ نہیں لگا جس کے ذریعے وہ عمرانی ہیجان کی راہ روک سکے۔

دوسری جانب یہ بھی دیکھنا ہے کہ عمران خان نے اسمبلیوں کی تحلیل کے ذریعہ جو دباؤ بڑھایا ہے، کیا وفاقی حکومت اس دباؤ میں آئے گی اور کیا سندھ، بلوچستان اور وفاق کے بغیر دو صوبوں میں انتخابات کا انعقاد آئندہ عام انتخابات کے موقع پر اتحادی جماعتوں کے لئے سازگار ہو گا یا نہیں اور کیا ان دو صوبوں میں انتخابات کے بعد پاکستان کی سیاسی مشکلات کم ہو پائیں گی۔ پنجاب اور خیبر پختون خوا میں دوبارہ انتخابات جیتنے کے بعد ، تحریک انصاف صورت حال کو کس طرح چلا پائے گی؟ مستقبل کے حالات کے متعلق ایسے بے شمار سوالات موجود ہیں۔

وفاق کی حکمران سیاسی جماعتیں عوام کی حمایت کے حصول میں جس تذبذب کا شکار ہیں۔ کیا مشکل ترین معاشی صورتحال میں ایسے اقدامات کر پائیں گی، جس کے نتیجے میں ملک میں مہنگائی کا طوفان تھم سکے۔ انتخابات کا انعقاد اکتوبر تک بہر حال ہونا ہے۔ ان کے پرامن اور شفاف انعقاد کو ممکن بنانے کے لئے سیاسی قیادت کا مکالمہ کرنا سیاسی ضرورت ہی نہیں، آئینی تقاضا بھی ہے اس سے گریز ممکن نہیں۔ پی ڈی ایم کو بساط سیاست میں یہ مدنظر رکھنا چاہیے کہ بسا اوقات جیت کے لئے عارضی پسپائی بھی اختیار کرنی پڑتی ہے۔

پاکستان تحریک انصاف اپنی ناقص حکومتی کارکردگی اور بہت سارے غلط فیصلوں کے باوجود اپنے بیانیوں اور یوٹرنوں سمیت مقبولیت کی بلند سطح پر ہے تو پی ڈی ایم کے جغادری لیڈر اگر اس کا توڑ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے تو پھر انہیں سیاست کے بجائے گوشہ نشینی اختیار کر لینی چاہیے۔ جمہوری سیاست میں بقا کے لئے ضد، ذاتی انا اور ہٹ دھرمی سے گریز کرنا ہی سیاسی دانائی ہے جس کے لیے دونوں سیاسی فریقوں کو اپنا اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔

موجودہ نازک ترین حالات کا تقاضا ہے کہ سیاسی قوتیں اور دیگر سٹیک ہولڈرز مل جل کر بیٹھیں اور اتحاد و اتفاق سے کوئی بھی ایسا لائحہ عمل اختیار کریں جو سیاسی استحکام لائے اور قوم کو معاشی بدحالی سے نجات دلائے۔ ورنہ بساط سیاست میں اس وقت کا منظر نامہ انور شعور کے الفاظ میں سیاست دانوں کے کارناموں کی بدولت ہی ہے۔

نہیں ناقابل فہم و تصور
یہاں شام و سحر جو ہو رہا ہے
ہمارے کارناموں کا نتیجہ
جو ہونا چاہیے، وہ ہو رہا ہے

Facebook Comments HS