جدید برطانیہ کی تشکیل میں نوآبادیاتی دولت کا کردار

برطانیہ سفر کرنے کا تجربہ رکھنے والے افراد بخوبی جانتے ہیں کہ لندن یا دیگر شہروں میں قائم پر شکوہ عمارتیں کیسے ایک ترقی یافتہ سماج کا تاثر ذہن پر نقش کرتی ہیں۔ برطانیہ کی ان تاریخی عمارتوں کے سامنے تصاویر بنانا، اس تاثر کو مزید تقویت پہنچاتا ہے کہ کوئی شخص اس جگہ سے کس حد تک متاثر ہوا ہے۔ یہ محض عمارتیں نہیں ہیں، برطانیہ کی ماضی کی تاریخ ہیں، ان عمارتوں کی بنیادوں میں چھپی الم ناک تاریخ کو کریدنا ضروری ہے۔ یہاں کی بیشتر عمارتیں اٹھارہویں صدی کے انقلاب سے گہرا تعلق رکھتی ہیں۔ جدید برطانیہ نے دراصل نوآبادیاتی عہد میں جنم لیا۔ صنعتی انقلاب، نوآبادیات کی محکومیت سے منسلک ہے۔ عہد رفتہ میں، ہمیں عالمی سماج کے ارتقائی عمل کو سمجھنا چاہیے تاکہ پسماندہ سماج کے ماضی و حال کا ادراک کیا جا سکے۔
برطانیہ نے اپنی ادارہ جاتی تشکیل کی تنظیمی مہارتوں کی بنیاد پر برٹش ایمپائر کی بنیاد رکھی، تنظیمی مہارتوں کے ساتھ ملٹری ازم نے برطانوی ایمپائر کو مضبوط کیا۔ امریکا نے جب برطانیہ سے بہ طور نوآبادیات چھٹکارا حاصل کیا تو برطانیہ کے نوآبادیاتی عزائم کا رخ ہندستان کی جانب ہوا۔ امریکا سے لوٹے گئے مقامی وسائل کی بنیاد پر جدید برطانیہ کا سماج استوار کرنا ممکن نہیں تھا۔ ہمیں برطانیہ کی مادی ترقی کے دو ادوار کا مطالعہ کرنا ہو گا۔ اول؛ 1779 ء (امریکی آزادی) سے قبل کا برطانیہ۔ دوم؛ ہندستانی و افریقی تناظر میں، 1765 ء سے 1947 ء تک کا عہد۔
برطانوی سامراجیت کے ماضی کی جھلک، نوآبادیاتی عہد میں یہاں پر تعمیر ہونے والی عمارتوں میں دیکھی جا سکتی ہے۔ لندن، لیمنگٹن، لیور پول اور سپاء کی سڑکوں پر گھومنے سے وکٹورین سامراجی عہد کی الم ناک داستان تازہ ہوجاتی ہے۔ یہ تاریخی عمارتیں، دراصل برطانیہ کی سامراجی جنگوں، تجارتی لوٹ کھسوٹ اور بیوروکریسی کے مال و غنیمت کی مجسم کرتی ہیں۔ برطانیہ کے ترقی یافتہ شہروں میں افریقی فتوحات، کییربین غلامی اور ہندستانی راج کے عہد میں لوٹے گئے مادی وسائل کے آثار نمایاں ہوتے ہیں۔ ان عمارتوں کے مالکان میں ایسٹ انڈیا کمپنی سے منسلک سیاستدانوں، انتظامی افسران اور خاندانوں کی اقتصادی وسائل لوٹنے کی داستان رقم ہے۔ 1757 ء کی جنگ پلاسی کے بعد سے ہی، ہندستان کی دولت برطانیہ منتقل ہونا شروع ہوئی، سامراجی کارناموں کا یہ سیاہ باب اب جدید دنیا میں آئے روز عیاں ہو رہا ہے۔
برطانیہ کی نوآبادیاتی وارداتیں اور مابعد نوآبادیاتی ورثہ کا گہرا تعلق، دراصل میٹروپولیٹن بندرگاہوں سے بھی آگے تک پھیلا ہوا ہے جو سامراجی تجارت کے نوڈل پوائنٹس کے طور پر کام کرتی رہی ہیں۔ 1802 ء میں لندن میں چینی ذخیرہ کرنے کے لیے ایک گودام بنایا گیا تھا، ویسٹ انڈین باغات میں غلام مزدوروں پر ہونے والے جبر اور ان کی زرعی مشقت سے تیار ہونے والی چینی اس گودام میں رکھی جاتی، اب اس گودام میں ڈاک لینڈز میوزیم قائم کیا گیا ہے۔ ایسٹ انڈیا کمپنی کے انتظامی دفتر کی پرشکوہ عمارت میں وکٹوریہ اینڈ البرٹ میوزیم قائم کیا گیا ہے، اس عمارت کی بنیادوں میں کروڑوں انسانوں کا خون سینچا گیا تھا۔
کمپنی سے حاصل شدہ منافع نے برطانیہ میں عمارتوں کی تعمیرات، سرمایہ کاری اور جدید طرز پر مبنی رہائش گاہیں تعمیر کرنے میں معاونت کی، اٹھارہویں صدی کے اوائل میں ہی، ہندستانی منافع نے برطانوی رہائشیوں پر نمایاں نشانات چھوڑنا شروع کر دیے تھے۔ جنگ پلاسی کے بعد ، کمپنی کے ملازمین، فوجی افسران، سرجنز سمیت دیگر یورپی افراد نے ہندستان میں آبادکاری شروع کی، کمپنی نے فوجی توسیع کے ساتھ اپنی سیاسی انتظامیہ کی تشکیل اور تجارت پر گرفت حاصل کرنا شروع کر دی تھی۔
1760 ء میں ڈربی شائر میں کیڈلسٹن ہال تعمیر کیا گیا، ہال کا نوکلاسیکی ڈیزائن، ہندستانی سلطنت سے جڑے برطانیہ کے مادی رشتوں کی تاریخ کا اظہار کرتا ہے۔ روم کے دوبارہ جنم لینے کی مثال دینے کے لیے، یہ تاریخی عمارت برٹش انڈیا کی کلکتہ میں صدر عمارت کے لیے تعمیراتی نمونہ کے طور پر استعمال ہوئی، بعد ازاں کلکتہ کی یہ عمارت ہندستان کے گورنر جنرل کے زیر استعمال رہی۔ کیڈلسٹن ہال میں برطانوی گورنر جنرل مارکوئس ویلزلی ( 1799 ء تا 1803 ء) رہائش پذیر رہے اور بعد ازاں ہندستانی وائسرائے لارڈ کرزن ( 1899 ء تا 1905 ء) کی ملکیت ہوا۔ لارڈ کرزن نے ناجائز طریقے سے ہندستانی اشیاء و نوادرات برطانیہ منتقل کیے، کیڈلسٹن ہال اب میوزیم بن چکا ہے، اس میوزیم میں رکھی ہندستانی اشیاء، برطانیہ کے ظلم و جبر کی تاریخ کے اوراق پلٹتی ہوئی نظر آتی ہیں۔
برطانیہ میں موجود، اس عہد کی دیگر عمارتیں، دراصل جارجیائی یا وکٹورین عہد کی سامراجی طاقت کی شناخت ہیں۔ اکیسویں صدی میں، برطانیہ ان عمارتوں کو اپنے تابناک ماضی سے تعبیر کرتا ہے۔ ان عمارتوں سے جڑا ماضی، تابناک ہے یا الم ناک، نوآبادیاتی ریاستوں سے جڑی تاریخ کو اب مورخین نے تلاش کرنا شروع کر دیا ہے، جارجیائی یا وکٹورین عہد کے مخفی پہلوؤں سے مادی نشانات کو عیاں کیا جا رہا ہے۔ 1814 ء میں بننے والے جین آسٹن کے مینز فیلڈ پارک بھی ایسی ہی علامتیں ہیں جو برطانیہ کی سامراجی اقتصادی جڑوں کو نہیں چھپا سکتیں۔ رد نو آبادیت کی تحریک میں، مورخین نے جدید اور عصری برطانیہ میں کیریبین غلامی کی مادی وراثت کو کھود کر اس میں پوشیدہ سامراجی تاریخ کو بازیافت کرنا شروع کر دیا ہے۔ برطانیہ کی متعدد تاریخی عمارتیں، غلاموں کی تجارت کرنے والے برطانوی مالکان کی جائیدادیں ہیں۔
ہندستان کی زرعی پیداوار نے برطانیہ کی بحر اوقیانوس میں تجارت کو تقویت بخشی۔ بحر ہند کی تجارت نے برطانویوں کو دو صدیوں تک تجارتی اجارہ داری کے طور پر مراعات حاصل کرنے کی تحریک پیدا کیے رکھی، کمپنی کے ملازمین، حصص یافت گان نے خوب دولت لوٹی اور یہ دولت برطانیہ منتقل کی جاتی رہی۔ اس عہد میں ہندستان کی صنعتی ترقی کو جامد کیا گیا، ہندستان کو خام مال کی فراہمی کے لیے محض منڈی سمجھا گیا، ہندستان کی مارکیٹ میں یورپی اشیاء کی فروخت کے لیے قانون سازیاں کی گئیں، برطانوی پارلیمان، برطانوی شاہی خاندان اور ایسٹ انڈیا کمپنی کی تکونی طاقت نے متفقہ طور پر ہندستان کے وسائل ہڑپ کر کے یہاں بھوک و افلاس اور سماجی انتشار کی پرورش کی۔
برطانیہ کی جانب ہندستانی دولت کے بہاؤ کا سراغ لگایا جا رہا ہے اور اس دولت سے تعمیر شدہ تاریخی عمارتوں کی نشاندہی کی جا رہی ہے، نوآبادیاتی ممالک کی دولت یا امپیریل دولت سے تعمیر ہونے والی ان عمارتوں کی کھوج کے لیے اسٹیفینی بارکز ہوسکی، نے تاریخی دستاویز مرتب کی ہے۔ اس دستاویز میں 1700 ء سے 1930 ء کے درمیان امپیریل دولت سے بنائی گئی عمارتوں کی نشاندہی کی ہے، اس دستاویز میں ایک ہزار سے زائد زمینی جائیدادوں کو شامل کیا گیا ہے۔ یہ دستاویز بتاتی ہے کہ 16 فیصد برطانیہ کی تاریخی عمارتیں ہندستانی امپیریل ازم کے عہد میں مسلط خاندانوں، اشرافیہ کی ملکیت تھیں۔
ایسٹ انڈیا کمپنی سے منسلک یورپی افراد نے ہندستان میں تاجر یا ملازم کی حیثیت سے معاشی غارت گری کی۔ بنگال کی دولت اور دیوانی کے اختیارات حاصل ہونے کے بعد ، برطانیہ میں جائیدادوں کی خریداری کا ایک عہد شروع ہوا، ہندستانی دولت سے 1850 ء تک 229 زمینی جائیدادیں برطانیہ میں خریدی گئیں۔ جنگ پلاسی میں رابرٹ کلائیو کی فتح کے بعد سب سے زیادہ جائیدادیں خریدی گئیں۔ یہ عہد کمپنی کی ہندستان میں سیاسی بد عنوانیوں اور دولت سمیٹنے کا سیاہ دور ہے جس نے انگریزوں کو نبوب بنایا۔ برطانیہ کی لینڈڈ اسٹیٹس میں سرمایہ کاری کے لیے ہندستانی دولت استعمال ہوئی۔
برطانیہ کے سویلو فیلڈ کی جائیداد کی خریداری کرنے والے تھامس ڈائمنڈ پٹ، ہندستان میں غیر قانونی تجارت کے حوالے سے بدنام تھے، انھوں نے یہ جائیداد ہندستانی دولت سے خریدی۔ یہ امر بھی حیران کن ہے کہ سویلو فیلڈ میں قائم موجودہ عمارت ٹموتھی ہارے ارل کی ملکیت رہی۔ ارل انسانوں کو غلام بنا کر خرید و فروخت کے کاروبار سے منسلک تھا۔ غلاموں کے اس تاجر کو تب نقصان ہوا جب 1834 ء میں غلاموں کی تجارت پر پابندی عائد ہوئی۔
برٹش پارلیمنٹ نے ارل کو 187 غلاموں کو آزاد کرنے کے عوض 3600 پاؤنڈز ادا کیے، یہ رقم اب 30 لاکھ پاؤنڈز کے برابر ہے۔ اس رقم سے سویلو فیلڈ کی عمارت خریدی گئی تھی۔ برطانیہ کا ریڈ کلف ٹاور کمپنی سے ریٹائرڈ کرنل رابرٹ سمتھ نے تعمیر کیا، آج یہ ٹاور برطانیہ کا اہم سیاحتی مقام ہے۔ نواب آف اودھ آرٹیلری کے کمانڈر جنرل پیڑک ڈف نے 1798 ء میں سکاٹ لینڈ میں 3 ہزار ایکڑ جائیداد خریدی اور اس زمین پر عمارات تعمیر ہوئیں۔ جدید برطانیہ پر نوآبادیاتی عہد کے نقوش کا تفصیلی مطالعہ کرنے کے لیے دی ایسٹ انڈیا کمپنی ایٹ ہوم کتاب دیکھیں۔
یورپی صنعتی انقلاب کے پہلے دور کے لیے دولت سے منتقل ہوئی، 1765 ء سے قبل برطانیہ و یورپی ممالک کے پاس مالی وسائل دستیاب نہیں تھے جس کی بنیاد پر صنعتی ایجادات ممکن ہو سکتی۔ ہندستانی دولت نے مشین کی ایجاد میں معاونت کی۔ مشین کی ایجاد کے بعد ہی، یورپ میں مرکنٹائل ازم کے مسائل نے جنم لیا اور مرکنٹائل ازم کے مسائل کو حل کرنے کے لیے پروفیسر ایڈم سمتھ نے ویلتھ آف نیشنز کتاب لکھی۔ یورپی نشاۃ ثانیہ نے برصغیر کو غلامی، پسماندگی، تقسیم، معاشی افلاس، سیاسی انحطاط اور تزویراتی مسائل سے دوچار کیا، جدید برطانیہ ہندستان کی غارت گری کی قیمت پر تشکیل پایا ہے۔

