کراچی کے بلدیاتی انتخابات اور عمران خان کی مقبولیت


عمران خان صاحب کی جانب سے حال ہی میں بساط سیاست پر کھیلی چند چالوں نے ان کے مخالفین کو بوکھلارکھا ہے۔کراچی میں ہوئے بلدیاتی انتخاب کے نتائج ایسے عالم میں ان کے لئے ڈوبتے کو تنکے کا سہارا ثابت ہو رہے ہیں۔ ان کی بابت شادمانی محسوس کرتے ہوئے روایتی اور سوشل میڈیا پر تاثر یہ پھیلانے کی کوشش ہورہی ہے کہ سابق وزیر اعظم کی ”ہر دن بڑھتی مقبولیت“ ایک واہمہ ہے۔ انتخابی میدان میں کارگرنہیں۔محض ان کی ذاتی مقبولیت پر تکیہ غالباََ پنجاب اسمبلی کے انتخابات کے دوران بھی تحریک انصاف کے نامزد کردہ امیدواروں کے کام نہیں آئے گا۔

کراچی کے بلدیاتی ا نتخابات کے نتائج کی بنیاد پر جی کو خوش رکھنے والے منظر نامے بناتے ہوئے یہ حقیقت بھلائی جارہی ہے کہ آبادی کے اعتبار سے ہمارے سب سے بڑے شہر کے سیاسی معاملات اپنی ترکیب میں خاص ہیں۔اس کے علاوہ یہ حقیقت بھی نظر انداز ہو رہی ہے کہ پیپلز پارٹی، تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کی جانب سے چلائی بھرپور انتخابی مہم بھی اس شہر کے 75 فی صد افراد کو ووٹ ڈالنے کو مائل نہ کرپائی۔ ایم کیو ایم کا ”پاکستان“ کے لاحقے کے ساتھ کام کرتا دھڑا مذکورہ لاتعلقی کا کریڈٹ لینے کے چکر میں ہے۔ سیاسی حرکیات کا طالب علم ہوتے ہوئے میں اس دھڑے کی سوچ سے متفق نہیں۔ سیاسی جماعتوں اور انتخابی عمل سے کراچی کے شہریوں کی جانب سے دکھائی بے اعتنائی کے اسباب قطعاََ مختلف ہیں۔انہیں دریافت کرنے کے لئے ٹھوس تحقیق کی ضرورت ہے۔ لوگوں کی توجہ حاصل کرنے کو لکھے ٹویٹس اس جانب توجہ دینے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کرتے۔

اکتوبر 2011ء میں لاہور کے مینار پاکستان تلے ہوئے جلسے کے ذریعے عمران خان صاحب نے ایک نئے انداز کی سیاست روشناس کروائی تھی۔ ہم صحافیوں کی اکثریت اس سے بے پناہ متاثر ہوئی۔فرطِ جذبات میں یہ تاثر پھیلانا شروع کر دیا کہ نظام کہنہ سے اکتائے عوام کو بالآخر ”چور، لٹیرے اور نااہل“ سیاستدانوں کے مقابلے میں وہ ”مسیحا“ مل گیا جس کا برسوں سے انتظار ہورہا تھا۔ مجھ بدنصیب کا ضرورت سے زیادہ جھکی ذہن مگر مرعوب نہ ہوا۔ مستقل مزاجی سے مصر رہا کہ خان صاحب کا اپنایا انداز سیاست اپنے تئیں اقتدار کے حصول میں کامیاب نہیں ہوسکتا۔ تحریک انصاف کوبالآخر روایتی سیاستدانوں جنہیں ہم ”الیکٹ ایبلز“ پکارتے ہیں سے رجوع کرنا ہی پڑے گا۔ اس کے علاوہ اس پہلو کی جانب بھی توجہ دلاتا رہا کہ 1950ء کی دہائی کے آغاز سے ہماری ریاست کے دائمی ا داروں کی اقتدار  کے کھیل پر گرفت مضبوط سے مضبوط تر ہوتی رہی ہے۔ان کی سرپرستی کے بغیر سیاستدانوں کو اقتدار میں لانا ممکن نہیں رہا۔

دیانتداری سے بیان ہوئی میری سوچ  نے عاشقان عمران خان کو چراغ پا بنا دیا۔ سوشل میڈیا کے تمام پلیٹ فارموں پر اپنی گرفت کی بدولت انہوں نے مجھے ”لفافہ“ بدکردار اور بدعنوان شخص بناکر دکھانا شروع کر دیا۔ میرا ”آتش“ بھی مگر ان دنوں تھوڑا پھڑپھڑارہا تھا۔ کامل ڈھٹائی سے روایتی ہی نہیں سوشل میڈیا پر بھی جذبات سے مغلوب ہوکر ان کا ”مقابلہ“ کرتا رہا۔یہ دریافت کرنے میں بہت دیر لگائی کہ اندھی نفرت و عقیدت پر مبنی ہیجان میں حصہ ڈالتے ہوئے میں اپنا وقت اور توانائی ضائع کررہا ہوں۔ اگست 2018 میں عمران حکومت کے قیام کے بعد ٹی وی سکرینوں سے ذلت آمیز انداز میں فارغ ہوا۔عمر کے آخر ی حصے میں گزشتہ نشین ہوکر محض یہ کالم لکھنے کو مجبور ہو گیا۔

عمران خان صاحب کے اندازِ سیاست کے بارے میں اپنی رائے پر میں آج بھی اسی مقام پر کھڑا ہوں جہاں اکتوبر2011ء کے جلسے کے بعد پہنچا تھا۔ سیاسی حقائق مگر انفرادی رائے سے بالاتر ہوتے ہیں۔صحافی اگر اپنی رائے درست ثابت کرنے کی ضد میں ٹھوس حقائق کو نظرانداز کرنا شروع ہو جائے تو اندھی نفرت وعقیدت میں تقسیم ہوئے ہجوم میں کھو جاتا ہے۔

ذاتی رائے کو یکسر نظرانداز کرتے ہوئے ٹھوس سیاسی حقیقتوں کے دیانتدارانہ مشاہدے کی بدولت ہی گزرے برس کا آغاز ہوتے ہی میں تواتر سے اصرار کرنا شروع ہو گیا کہ عمران حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی گیم ایک ”محلاتی سازش“ ہے۔وہ بالا ٓخر تحریک عدم اعتماد کی چال چلنے والوں کے الٹا گلے بھی پڑسکتی ہے۔عمران مخالف جماعتوں خاص طورپر نواز شریف کے نام سے منسوب مسلم لیگ کے کئی سرکردہ رہ نما میری رائے سے ناراض ہونا شروع ہوگئے۔نجی محفلوں میں رعونت سے سمجھانا شروع ہو گئے کہ گوشہ نشین ہو جانے کی وجہ سے میں سیاسی حرکیات کا ادراک کرنے کے قابل نہیں رہا۔ تحریک عدم اعتماد کی گیم لگانے والے بہت ”کائیاں اور تجربہ کار سیاست دان“ ہیں۔ مجھے ان کی ”بصیرت“ پر توجہ دینا چاہیے۔

جس ”بصیرت“ کا ڈھونڈورا پیٹا گیا وہ عمران خان صاحب کی وزارت عظمیٰ سے فراغت کے بعد تیزی سے بے نقاب ہونا شروع ہو گئی۔ بھان متی کا کنبہ دکھتی حکومت نے فوری انتخاب کے بجائے اقتدار سے چپکے رہنے کا فیصلہ کیا۔ اس فیصلے پر قائم رہنے کی وجہ سے مہنگائی کا جوطوفان کھڑا ہوا ہے وہ عام پاکستانیوں کی اکثریت کو غضب ناک بنائے ہوئے ہے۔جارحانہ انداز سیاست کی بدولت ان دنوں عمران خان صاحب ہی ان کے دلوں میں پلتے غضب کا یک وتنہا ”ترجمان“ سنائی دے رہے ہیں۔

معاملہ مگر اب ”ترجمانی“ تک ہی محدود نہیں رہا۔ چند روز قبل سابق وزیر اعظم نے بالآخر چودھری پرویز الٰہی کو مجبور کردیا کہ عدالتی فیصلے کا انتظار کرنے کے بجائے وہ صوبائی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ حاصل کریں۔ اپنے بندے گنوانے کے عین ایک دن بعد چودھری صاحب نے پنجاب اسمبلی کی تحلیل بھی یقینی بنادی۔ تحریک انصاف کی مخالف جماعتوں میں موجود ”کائیاں چالبازوں“ کو ان دونوں امکانات کی ہرگز توقع نہیں تھی۔ وہ رونما ہوئے تو بوکھلا گئے۔ گومگو کی کیفیت میں مبتلا شخص کے لئے انگریزی زبان میں ایک فقرہ استعمال ہوتا ہے۔ سادہ الفاظ میں وہ مذکورہ شخص کو ایک ایسے اداکار کی صورت پیش کرتا ہے جوسٹیج پر رچائے کھیل کے دوران اپنے کردار کے لئے لکھا ”سکرپٹ“ بھول جاتا ہے۔

ہمارے ہاں ان دنوں سیاستدانوں کے ”سکرپٹ“ کا نہیں بلکہ”بیانیے“ کا ذکر ہوتا ہے۔ مسلم لیگ (نون) کا پنجابی محاورے والا بھانڈا (برتن) اس ضمن میں قطعاََ ”خالی“ نظر آرہا ہے۔توقع یہ باندھی جا رہی تھی کہ پنجاب اسمبلی کے لئے اگر الیکشن سے مفر بالآخر ممکن نہ رہا تب بھی وفاقی حکومت اپنی ”ا?ئینی مدت“ پورے کرے گی۔ پیر کے روز قومی اسمبلی میں لوٹنے کا عندیہ دیتے ہوئے عمران خان صاحب نے اس خوش فہم تصور کو بھی گہری زک لگادی ہے۔سیاسی حرکیات کا دیرینہ شاہد ہوتے ہوئے میں اس رائے کا اظہار کرنے کو مجبور ہوں کہ معاملات اب عام انتخاب کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ انہیں رواں برس کے اکتوبر تک ٹالنا ممکن نہیں رہا۔

(بشکریہ نوائے وقت)


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments