قاسم علی شاہ کے خلاف مہم: ایسی بلندی ایسی پستی


پہلے پہل قومی معیارات اور ترجیحات جاننے کے پیمانے مختلف ہوا کرتے تھے۔ لیکن آج کے دور میں سوشل میڈیا ایک بہترین پیمانہ ہے۔ جو لوگ اوچھی حرکتیں کریں، ہلڑ بازی کا مظاہرہ کریں، غیر مہذب زبان استعمال کریں، فحاشی پھیلائیں اور غیر اخلاقی مذاق (پرینک) کریں صرف وہی ہمیں پسند آتے ہیں۔ بحیثیت قوم یہ پسندیدگی ہمارا معیار ظاہر کرتی ہے کہ ہم کس قدر اخلاقی گراوٹ کا شکار ہوچکے ہیں۔

قدیم دور کی تحریکوں میں حرکت ہوا کرتی تھی، اور ان تحریکوں کی بدولت جو رجحان بنتا اس کا کوئی نہ کوئی مثبت نتیجہ بھی نکلتا۔ لیکن آج کل کی تحریکوں میں نہ وہ حرکت رہی اور نہ ہی ان کے کوئی مثبت مقاصد ہیں۔ آج کی تحریک اور رجحان میں پہلے سے یکسر تبدیلی آ گئی ہے۔ کیونکہ یہ جدید دور کی پیداوار ہے۔

یہ تحریک ایسی ہے جس میں ہر کوئی بغیر سوچے سمجھے شریک ہوتا ہے۔ تحریک چلتے چلتے کارواں کی بدولت باقاعدہ رجحان کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ جدید دور میں رجحان کو انگریزی اصطلاح ”ٹرینڈ“ سے بخوبی سمجھا جاسکتا ہے۔ اس ٹرینڈ کو سوشل میڈیا نامی پلیٹ فارم پر چلاتے ہیں۔

اس میں اتنی حدت اور قوت ہے کہ ہلکی سی چنگاری جلانے کی دیر ہے باقی آگ خود بخود بھڑک اٹھتی ہے۔ ایسی آگ جسے فخر کے ساتھ بھڑکایا جاتا ہے اور جلنے والے شوق سے جلتے ہیں۔

اسی کشمکش میں کبھی مولانا کا بینک بیلنس نکل آتا ہے تو اس پر تبصرے، کبھی ناچنے گانے والی لڑکی پر ، کبھی کسی کرکٹر پر ، کبھی کسی صحافی پر ، کبھی کسی حاکم پر تو کبھی محکوم پر ، گویا آئے روز ایک نیا ٹرینڈ چلتا ہے۔ نیا شخص ہوتا ہے کسی کی قسمت کو چار چاند لگ جاتے ہیں، اسے زیرو سے ہیرو بنا دیا جاتا ہے۔ کسی کی ساری زندگی کی محنت اور عزت چند لمحوں میں تار تار ہوجاتی ہے۔ درحقیقت یہ سب سوشل میڈیا کے ہی کرشمے ہیں۔

البتہ یہ سلسلہ چند دن چلتا ہے، اس کے بعد ہر کوئی بھول جاتا ہے، مینار پاکستان والی لڑکی کی اب کوئی بات نہیں کرتا، یہ ہماری پارٹی ہو رہی ہے کہنے والی لڑکی کا بھی کوئی ذکر نہیں، نہ پھلو ٹک ٹاکر کا کسی کو پتا ہے اور نہ ہی اسلامک ٹچ کسی کو یاد ہے، نہ کسی کو ملالہ یاد رہتی ہے نہ بلاول کی کانپیں، نواز شریف کو پڑنے والا جوتا بھی کھو گیا اور مریم نواز کا اسٹیج سے گرنا بھی سب بھول گئے۔ ہر چیز چند دن ٹرینڈ میں رہتی ہے اس کے بعد سب کچھ ختم ہوجاتا ہے۔ کچھ لوگ تو اسی ٹرینڈ کا مرکز و محور بننے کے لئے باقاعدہ پلان بھی کرتے ہیں۔ لیکن ایسے لوگ زیادہ تر ناکام ہی ہوتے ہیں۔

اسی سلسلے میں چند دن پہلے قاسم علی شاہ پر ٹرینڈ چل پڑتا ہے یا چلایا جاتا ہے۔ جو ماہر استاد، مصنف، مقرر اور موٹیویشنل اسپیکر ہیں۔ انہوں نے لاکھوں لوگوں کو مختلف اشکال میں تعلیم دی ہے۔ ادھر عمران خان کے ساتھ ان کا انٹرویو اور ایک بیان آیا ادھر سوشل میڈیا پر لعن طعن کا طوفان امڈ آیا۔ جن لوگوں کو اس واقعے کا علم بھی نہیں وہ بھی کھلم کھلا مغلظات بک رہے ہیں۔ اور یہی لوگ جو اس وقت نکتہ چینی کر رہے ہیں اگر آج ہی ان سے قاسم علی شاہ کہیں ملے تو اکثریت آگے پیچھے گھیرا ڈال لیں گے ”سر سیلفی پلیز سر ایک سیلفی“ ۔ یہ تصویر چند ماہ پہلے ان کی فاونڈیشن میں لی گئی تھی۔ اس وقت تو کسی کو نہیں دکھائی تھی۔ لیکن ہر چیز کا ایک وقت ہوتا ہے اور وہ اپنے درست وقت پر عیاں ہو ہی جاتی ہے۔

عوام میں سے کوئی اس ٹرینڈ کا حصہ بننے سے پہلے ذرا نہیں سوچتا۔ پانی کی رفتار جس جانب نظر آئے اسی جانب سب بہنے لگتے ہیں۔ اس بات کا بھی کسی کو خیال نہیں کہ ہر بات پر اپنی رائے دینا ہم پر فرض نہیں ہے۔ اگر نوے لوگ غلط بات کر رہے ہیں تو وہ غلط ہی ہیں۔ اور انہیں غلط کہنا چاہیے خواہ وہ تعداد میں زیادہ ہی کیوں نہ ہوں۔ اکثریت ہمیشہ درست نہیں ہوتی۔ لہذا اکثریت درستی اور اقلیت غلطی کی علامت نہیں ہے۔

اگر ہم کسی کی ذات پر اپنی رائے کی تشہیر کر رہے ہیں تو اس کا اثر سننے اور پڑھنے والے پر پڑے گا۔ اس کے ساتھ اس شخص کی ذات بھی متاثر ہوگی جس کے بارے میں ہم نے بغیر سوچے سمجھے بے لاگ تبصرہ جھاڑ دیا ہے۔ لاہور کے پاوے میں اور ایک استاد میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ لہذا ان دونوں پر رائے دینے سے پہلے سوچ بچار کرنا نہایت ضروری ہے۔ کیونکہ سوشل میڈیا پر ہر شخص اپنا آپ دکھاتا ہے۔ کچھ نے محنت و مشقت سے اپنا کردار کئی سال صرف کر کے بنایا ہوتا ہے۔ اور کچھ برساتی کیڑوں کے سر پر بغیر کسی حیل و حجت کے دو دن میں اسٹار بن جاتے ہیں۔ کسی استاد پر کی جانے والی منفی بات کی دلیل ہونا ضروری ہے جبکہ پاوے کے بارے میں جو بھی فضول بات کریں سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ کیونکہ ایسے لوگوں کا ایک ہی موقف ہوتا ہے۔

ہم طالب شہرت ہیں، ہمیں ننگ سے کیا کام
بدنام اگر ہوں گے تو کیا نام نہ ہو گا​

لیکن خالص انسان کا کردار مضبوط ہوتا ہے۔ اس کی سچائی اور راست بازی کی بدولت خواہ کم تعداد ہی کیوں نہ ہو، چند لوگ اس کے ساتھ ضرور کھڑے رہتے ہیں۔ جب آندھی اور طوفان آتا ہے تو ہلکے شاپر اور کاغذ ہوا میں اڑ جاتے ہیں جبکہ بھاری کنکر پتھر اپنی جگہ پر قائم رہتے ہیں۔ جو شخص ہزاروں کتابیں لوگوں میں بانٹے اور اپنی تلاش، زندگی، اخلاقیات، مذہب اور معاشرت کا درس دے۔ وہ کاغذی نہیں ہے کہ ان پھونکوں سے لائے گئے طوفان کے سبب ہوا میں اڑ جائے۔

ہم کسی کے بارے میں جو بات کر رہے ہیں وہ ہمارے لئے بھی اہمیت رکھتی ہے۔ کیونکہ ہماری باتیں ہماری پہچان بنتی ہیں۔ اور منہ سے نکلی ہوئی ہر بات خود بتاتی ہے کہ میرا معیار کیا ہے۔ اپنی باتوں سے ہی اپنی پسند ناپسند کا اظہار ہوتا ہے۔ لہذا اپنا معیار بلند کرنے کے لئے پہلے پسند اور ترجیحات پر غور کرنا ہو گا۔ وگرنہ اسی ریلے میں بہتے چلے جائیں گے جس میں اکثریت بہتی جا رہی ہے۔

Facebook Comments HS