کرائے کی کوکھ: مشہور شخصیات اب اس پر کھل کر بات کیوں کر رہی ہیں؟


مشہور شخصیات کی ایسی تعداد میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے جو بچے پیدا کرنے کے لیے ’سروگيٹ‘ (کرائے کی کوکھ) کا سہارا لے رہے ہیں اور اس سے متعلق کھل کر بات بھی کر رہے ہیں۔ عام خیال یہی ہے کہ سروگیسی (کرائے کی کوکھ سے بچے حاصل کرنے) والوں میں نومی کیمپ بیل، پریانکا چوپڑا، ایلون مسک، کم کارڈاشیئن اور پیرس ہلٹن جیسی مشہور شخصیات شامل ہیں۔

مگر کسی سیلیبریٹی کا سروگیٹ بننے کا تجربہ کیسا ہوتا ہے؟

شانا سینٹ کلائیر نے دو مرتبہ ایسا کیا ہے اور ان کا ہر بار کا تجربہ مختلف رہا ہے۔

شانا کے فون کی گھنٹی بجی۔ دوسری طرف کیتھرین تھیں۔ جب شانا اس لمحے کو یاد کرتی ہیں تو وہ کہتی ہیں کہ انھوں نے اس گفتگو کا آغاز بغیر دعا سلام کے اس طرح کیا: ’سنو اس سے پہلے کہ تم خبروں میں پڑھو میں تمھیں یہ بتانا چاہتی ہوں کہ میں نے ایک اور سروگیٹ کی خدمات حاصل کی ہیں اور اس نے ابھی بچہ جنم دیا ہے۔

شانا اپنے آپ کو سہارا دینے کے لیے بیٹھ گئیں۔ وہ کیتھرین کے بچے کے ساتھ ابھی چند ہفتے ہی قبل ہی حاملہ ہوئی تھیں۔ مگر اب اس کو چھوڑ کر کیتھرین نے سروگیسی سے ہی ایک اور بچہ حاصل کر لیا ہے۔ شانا کو اب معلوم ہوا کہ وہ کیتھرین کی واحد سروگیٹ نہیں تھیں۔ اب اس کا کیا مطلب ہوا؟ کیا کیتھرین ابھی بھی اس بچے کو حاصل کرنا چاہتی ہیں جو ابھی شانا کے پیٹ میں ہے۔

شانا نے انھیں ہمت کر کے یہ بتایا کہ کاش آپ نے اس بارے میں مجھے پہلے بتایا ہوتا۔ شانا نے پوچھا کہ ’کیا کل میرے چیک اپ کے بعد ہم اس معاملے پر بات کر سکتے ہیں؟‘

کیتھرین نے اس پر آمادگی ظاہر کی اور فون بند کر دیا۔
شانا نے کیتھرین کو چند گھنٹے بعد فون پر ایک پیغام بھیجا۔
ان کے مطابق ’میں اس خبر سے کسی حد تک پریشان ہوئی ہوں۔ مگر میں آپ کے لیے خوش ہوں۔ اپنے بچے کو انجوائے کریں۔ ہمیں چیک اپ کے بعد بات کرنے کی ضرورت ہے۔‘

کیتھرین نے اس ٹیکسٹ میسج کا کوئی جواب نہیں دیا اور نہ ہی اگلے دن انھوں نے فون کال کی۔
شانا کو سروگیسی کی دنیا سے ایک میگزین کے آرٹیکل کے ذریعے سے واقفیت ہوئی تھی۔ پینسلوینیا میں شانا کے تین بچے باہر فیملی فارم میں کھیل رہے ہیں اور وہ گرم چائے پیتے ہوئے گہری سوچ میں گم ہیں۔

انھیں روایتی سروگیٹ سے متعلق علم ہوا۔۔ جہاں سروگیٹ ماں کا اپنا بیضہ استعمال ہوتا ہے۔ دوسری طرح کی سروگیسی جیسٹیشنل کہلاتی ہے، جہاں سروگیٹ ماں کی کوکھ میں بیضہ (ایگ) اور نطفہ (سپرم) داخل کیے جاتے ہیں۔

شانا کو کمرشل (یعنی پیسے لے کر بچہ پیدا کرنے) اور بے لوث سروگیسی (یعنی کسی کے بھلے لیے اپنی خدمات دینا) کے درمیان بھی فرق معلوم ہوا۔

مگیزین میں شائع ہونے والے اس آرٹیکل میں سروگیسی کو ایک جائز عمل قرار دیا گیا تھا۔ حتیٰ کہ کمرشل بنیادوں پر کی جانے والی سروگیسی کو بغیر اولاد کے والدین کے لیے ایک تحفہ قرار دیا گیا تھا۔

شانا کے ذہن میں ایک خیال گھر کر گیا۔

وہ ابھی 30 برس کی ہوئی تھیں۔ وہ تین بچوں کی ماں ہیں۔ وہ اور ان کے خاوند مزید بچے نہیں پیدا کرنا چاہتے ہیں۔
شانا نے سوچا کہ ’میں جیسٹینشل سروگیٹ بن سکتی ہوں۔‘

سروگیسی کی ایک ایجنسی کا حصہ بننے کے لیے شانا اور ان کے خاوند نے متعدد سوالنامے بھرے۔ شانا کے مطابق ماہرین نفسیات اور ڈاکٹرز نے ان کے معائنے کیے اور وکلا کے ساتھ ان کی درجنوں ملاقاتیں ہوئیں۔ چند ہفتے بعد انھیں فون کال موصول ہوئی۔ سیلیبریٹی جوڑے، جینیفر اور مارک نے ان کی پروفائل پڑھی ہے اور اب ان دونوں نے شانا سے نیو یارک میں ملنے کی خواہش ظاہر کی۔

شانا فوراً ان کے ساتھ رابطے میں آ گئیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ’وہ رحمدل لوگ تھے۔ انھوں نے میری زندگی اور میرے بچوں کو سمجھنے کی کوشش کی۔‘ شانا کو ملنے والے پیسے میں ان کا ’آئی وی ایف‘ کلینک جانا، ہوٹل میں رہنا، پیٹرول استعمال کرنا، کھانے سمیت دیگر اخراجات شامل تھے۔ اس میں ان کے روزانہ کے ہیرڈریسر کے طور پر جو آمدنی تھی وہ بھی انھیں اس عرصے میں دی گئی۔ تین برسوں میں مجموعی طور پر شانا نے 50 ہزار ڈالرز موصول کیے۔

انھیں حاملہ ہونے میں وقت لگا۔ جب انھوں نے بچے کو جنم دیا تو جینیفر اور مارک نے ان کا ہاتھ ایسے پکڑا کہ جیسے انھوں نے اپنی نئی فیملی کے لیے ان کا شکریہ ادا کیا۔

جینیفر نے چند ماہ بعد شانا کو فون کر کے بتایا کہ کیا وہ کیتھرین کو ان کے بارے میں بتا سکتے ہیں۔ شانا نے اس اسے اتفاق کر لیا۔

کیتھرین کا تعلق ایک مشہور خاندان سے ہے۔ وہ سروگیٹ اور اس کے علاوہ کئی برس تک اپنا بچہ پیدا کرنے کی کوشش میں تھیں اور جینفر کے کامیاب تجربے کے بعد وہ اب شانا سے اس متعلق بات کرنا چاہتی تھیں۔

شانا کا کہنا ہے کہ اب جب وہ پیچھے مڑ کر دیکھتی ہیں تو کیتھرین سے پہلی کال کے بعد سے انھیں خطرات ہی نظر آتے ہیں۔

شانا کہتی ہیں کہ فیس سے بچنے کے لیے انھوں نے ایک سروگیسی ایجنسی کی خدمات نہیں لیں اور اپنے وکلا کو معاہدہ تیار کرنے کے بارے میں کہا۔

ان کے مطابق چونکہ انھوں نے پہلے ہی نفسیاتی ٹیسٹ پاس کیا ہوا ہے جب وہ جینیفر کے ساتھ رابطے میں آئی تھیں لہٰذا اب انھیں دوبارہ اس کی ضرورت نہیں ہے۔ شانا نے کیتھرین کے ساتھ تین بار سروگیسی کی کوشش کا معاہدہ کر لیا۔

سب سے پہلے انھیں سائیکلنک نامی عمل کا حصہ بننا تھا۔ جس میں سروگیٹ اور بیضہ (ایگ) عطیہ کرنے والے اپنے روزانہ ہارمون انجیکشنز کے ذریعے ’پیریڈز سینکرونائز‘ کرتے ہیں۔

اس کے بعد شانا اور ان کے خاوند ایک ’آئی وی ایف‘ کلینک پر کیتھرین سے ملنے گئے، جہاں فرٹیلائزڈ بیضہ شانا کے کوکھ میں داخل کرنا تھا۔

اچھا لباس زیب تن کیے کیتھرین ان کے انتظار میں تھیں۔

شانا ان سے گلے ملنے کے لیے قریب ہوئیں مگر کیتھرین پیچھے ہٹ گئیں۔ وہ گلے نہیں ملتی تھیں۔ انھوں نے شانا کو بتایا کہ وہ صرف ٹرانسفر تک وہاں پر ہیں اور پھر اس کے بعد وہ چلی جائیں گی۔ شانا اور ان کے خاوند کو ان کا ڈرائیور واپس ان کے ہوٹل لے گیا۔

اپنی جگہ پر شانا نے یہ سوچا کہ یہ جینفر اور مارک کی طرح کا معاملہ نہیں ہو سکتا۔ حاملہ ہونے کی پہلی کوشش ناکام رہی۔ دوسری کوشش سے قبل کیتھرین نے شانا اور ان کے خاوند کو شام کے کھانے پر مدعو کیا اور انھیں نجی طیاروں اور ڈیزائنر فرنیچر کے بارے میں بتایا۔

شانا اس گفتگو میں گھٹن محسوس کر رہی تھیں کیونکہ ان کا کیتھرین کے ساتھ کوئی برابری کا معاملہ نہیں تھا۔ شانا کا کہنا ہے کہ اگلے دن فرٹیلیٹی کلینک میں کیتھرین گولیوں کی بوتل تھامے ہوئی تھیں۔ ان کے مطابق شانا کے اعصاب کی وجہ سے پہلی کوشش کامیاب نہیں ہوئی تھی۔

انھوں نے شانا کو ذہنی دباؤ کم کرنے والی گولیاں دیں۔ شانا نے شکریہ ادا کرتے ہوئے وہ دوائیں لینے سے انکار کر دیا۔
مگر کیتھرین نے اپنی کوششیں جاری رکھیں۔ وہ کہتی رہیں کہ شانا آپ کا مسئلہ کیا ہے؟ ایک گولی آپ کو کوئی نقصان نہیں پہنچائے گی۔ شانا نے سوچا کہ وہ مزید بحث نہیں کر سکتیں۔

شانا نے نے ایک گولی اپنے منھ میں اس طرح رکھ لی کہ جب کیتھرین نہیں دیکھ رہی ہوں گی تو پھر وہ اسے کہیں تھوک دے گی۔ اس بار بھی شانا حاملہ نہیں ہوئیں۔ اب ان کے پاس ایک موقع اور تھا۔

اس مرتبہ جب وہ کلینک میں ملے تو کیتھرین زیادہ وقت فون پر اپنی ماں سے اپنے ایک گھر کے انٹیریئر ڈیزائن پر ہی بات کر رہتی تھیں۔ انھوں نے شانا سے کم ہی بات کی۔

دس دن بعد ان کے لیے ایک اچھی خبر تھی۔ شانا کی پریگنینسی پازیٹو تھی یعنی اب وہ حاملہ تھیں۔ شانا نے کہا کہ ’میں بہت خوش تھی۔‘

مگر دوسری طرف کیتھرین نے کسی بھی طرح کے جذبات کا اظہار نہیں کیا۔
ان کے مطابق وہ زیادہ خوشی کا اظہار نہیں کرنا چاہتی ہیں کیونکہ گذشتہ بار بھی سروگیٹ حاملہ تھیں مگر پھر حمل ضائع ہو گیا۔

شانا نے کہا ’آئی ایم سوری مجھے اس بارے میں علم نہیں تھا کہ ایسا ہوا۔‘

شانا نے کہا کہ کیتھرین یہ کہہ رہی تھیں کہ ’یہ اس کا قصور تھا۔‘

کیتھرین نے کہا کہ سروگیٹ نے اپنے بیمار والد کو دیکھنے کے لیے ایک ایئرپورٹ پر 12 گھنٹے تک انتظار کیا۔ شانا نے کہا کہ وہ کیتھرین کے اگلے تبصرے سے ہکا بکا رہ گئیں۔ کیتھرین نے کہا کہ ’میں نے انھیں بتایا تھا کہ سفر نہ کرو مگر اس نے کیا اور دیکھو پھر کیا ہوا! ڈیڈ باڈی۔‘

چند دن بعد شانا کا ایچ سی جی لیول تھوڑا سے گر گیا مگر ڈاکٹر نے کہا کہ وہ امید سے رہیں۔ انھوں نے کیتھرین کو کال کی اور انھوں نے بہت اطمینان سے جواب دیا: اوکے دیکھتے ہیں کہ یہ معاملہ آگے کیسے چلتا ہے۔

اس کے فوراً بعد کیتھرین نے شانا کو کال کی کہ ایک اور سروگیٹ نے ابھی ان کے ایک بچے کو جنم دیا ہے اور اس کے بعد خاموشی چھا گئی۔ شانا نے اپنا باقاعدگی سے طبی معائنہ کرانا جاری رکھا۔ وہ کلینک تک ایک گھنٹے کی مسافت طے کر کے جاتی تھیں۔ انھیں یہ بھی اب خبر نہیں تھی کہ کیتھرین اس بچے کو حاصل بھی کرنا چاہتی ہیں یا نہیں۔

چار ہفتے بعد ان کا ایچ سی جی لیول بہت گر گیا۔ ان کا حمل ضائع ہو گیا۔ شانا نے کیتھرین کو کال مگر انھوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔ پھر بھی انھوں نے کسی نہ کسی طرح ان تک یہ افسوسناک خبر پہنچائی۔ اس کے چند گھنٹے بعد کیتھرین نے کہا کہ ’میں آپ کو جلد کال کروں گی۔‘

کئی دن بعد تک بھی کوئی کال نہیں موصول ہوئی تو شانا نے خود کیتھرین کو دوبارہ ٹیکسٹ پیغام بھیجا۔ اس پیغام میں انھوں نے لکھا کہ ’ہیلو، مجھے امید ہے کہ آپ اور بچہ صحت مند ہوں گے۔ کیا میں آپ کو باقی بل بھیج دوں۔‘

اس پیغام پر کیتھرین نے جواب دیا کہ ’شانا ہمارے تعلقات اب ختم ہو چکے ہیں۔ میں اپنے بچے کی پیدائش پر تمھاری سرد مہری پر حیران ہوں۔ اپنے بل بھیج دیجیے۔‘

اس کے بعد کیتھرین اور شانا نے ایک دوسرے سے بات نہیں کی۔

یہ بھی پڑھیے

’سروگیسی‘ یا کرائے کی کوکھ سے بچوں کی پیدائش پر بنگالی مصنفہ تسلیمہ نسرین کی ٹویٹس پر بحث

جب بچے کے دادا نے والد سے پوچھا ’یہ حرام کام آپ نے تو نہیں کیا ہے؟

ڈی این اے میچ میکنگ: کیا دل کے معاملات میں بھی سائنس مدد کر سکتی ہے؟

آریا سموئیل، جو ایک وی آئی پی سروگیسی ایجنسی چلا رہی ہیں کے مطابق مشہور شخصیات اب اگرچہ شاید سروگیسی سے متعلق بہت کھل کر بات کرتی ہیں، مگر اس میں کئی برس کا عرصہ لگا ہے۔

وہ اور ان کے بزنس پارٹنر دونوں نے اپنے آپ کو سروگیٹ کے طور پر پیش کیا تھا اس لیے ان چیلنجز سے بخوبی واقف ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ جب کوئی ہائی پروفائل شخصیت اپنے بزنس منیجرز، معاونین، ہیڈ آف سکیورٹی کے ساتھ آتی ہے تو یہ سروگیٹ کے لیے بہت وحشت کا باعث بن سکتا ہے۔

آریا کے مطابق اچھی ایجنسیز تعلقات کو استوار کرنے میں معاون ثابت ہوتی ہیں۔ پس منظر میں دیگر چھان بین اور نفسیاتی چیک اپ کے علاوہ وہ اس بات کو بھی یقینی باتی ہیں کہ سروگیٹ اطمینان بخش حالت میں ہیں اور اگر ضروری ہو تو اس کے لیے وکالت بھی کرتی ہیں۔

ان کے مطابق ایسی بھی مثالیں موجود ہیں جہاں سروگیٹ بننے والی خواتین نے اپنی حدیں پار کی ہیں۔ وہ بچے کے والدین کو رئیلٹی ٹی وی شوز میں آنے کا کہتی ہیں یا ان سے یہ کہتی ہیں کہ کیا وہ اپنے کسی کزن سے انھیں متعارف کرا سکتے ہیں جو ان کی فلم کے سکرپٹ کے لیے انھیں فنڈ دے سکیں۔

آریا کا کہنا ہے کہ معاہدے میں واضح ہونا چاہیے کہ یہ سب ان کی ڈیل کا حصہ نہیں ہے۔ کیتھرین کے ساتھ اپنے چار برس کے تجربے کے بعد شانا کی سابقہ سروگیسی کی ایجنسی نے ان سے رابطہ قائم کیا ہے کہ انھیں کسی اور جوڑے سے متعارف کرایا جائے۔ ان سے ملنے کے بعد اور ان سے اظہار محبت کے بعد وہ آخری دفعہ سروگیٹ کے طور پر اپنے آپ کو پیش کرنے جا رہے ہیں۔

اس بار شانا نے دو جڑواں بچوں کو جنم دیا ہے۔ شانا کا کہنا ہے کہ کیتھرین کے ساتھ ایک بہت بُرے تجربے کے داغ کو دھونے کے لیے ان کو اس طرح کے اچھے کام کی ضرورت تھی۔

ان کے مطابق ان کے دو بہت اچھے سروگیسی کے تجربات رہے اور ایک بہت خوفناک اور جبر والا تجربہ رہا۔ آج کل شانا اپنے قصبے میں ایک ہیئرڈریسنگ سیلون چلا رہی ہیں۔ ہئیر ڈریسنگ کے دوران ان کے کلائنٹس ان سے مقامی اور سیلیبریٹی سے متعلق گپ شپ لگاتے ہیں اور اکثر یہ بات چیت بچے پیدا کرنے اور خاندان بڑھانے کی طرف نکل جاتی ہے۔

ان کے مطابق وہ ہر ہفتے ایسے لوگوں سے ملتی ہیں جو بچے پیدا کرنے کی جدوجہد میں ہیں، جن کے حال ہی میں بچے ہوئے ہیں، جن کے بچے زندہ نہ رہ سکے، ایسے جو بچے پیدا نہیں کر سکتے، ایسے بھی ہیں جو کہتے ہیں کہ وہ کبھی بچے پیدا کرنا ہی نہیں چاہتے اور ایسے بھی جو بچے پیدا کرنا چاہتے ہیں اور اس کے لیے راستے تلاش کر رہے ہیں۔ سروگیسی ہر ایک کے لیے نہیں ہے۔ مگر کسی حد تک یہ ایک نجی معاملہ ہے۔ اگر ہر کوئی اس کا حصہ بننا چاہتا ہے اور مضبوطی محسوس کرتا ہے تو ہمیں دوسرے لوگوں کے انتخاب پر رائے قائم نہیں کرنی چاہیے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 33095 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments