ڈیزل کہا۔ چلو دوبارہ نکاح پڑھواؤ
ایک نیا فتویٰ آ گیا۔ جو تفصیلات سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہیں، ان کے مطابق ایک سائل نے فتویٰ دریافت کیا کہ اگر کوئی شخص کسی عالم کو ڈیزل، خبیث، منافق سیاسی لحاظ سے کہے تو اس شخص کا شریعت میں کیا حکم ہے۔ اور سائل کی مشکل حل کرتے ہوئے حبیب الرحمن صاحب اور عرفان اللہ حقانی صاحب مفتیان مدرسہ دارالفرقان نے یہ فتویٰ صادر کیا کہ مذکورہ کلمات سخت گستاخانہ ہیں اور تحقیق کے بغیر علماء کرام کو اس قسم کے قبیح و شنیع کلمات کہنا نہ صرف بدترین فسق اور گمراہی ہے بلکہ ان کلمات کے کلمات کفر ہونے کا اندیشہ ہے۔
مذکورہ شخص پر واجب ہے کہ فوراً ان کلمات سے صدق دل سے علانیہ توبہ کرے بلکہ اسے احتیاطاً تجدید ایمان اور تجدید نکاح بھی کر لینی چاہیے۔ اور جب تک وہ اپنے اس عمل سے توبہ نہ کرے اس کے ساتھ دوستانہ تعلقات نہ رکھیں۔ شاید مفتی صاحبان کا خیال تھا کہ اس کے بعد لاکھوں لوگ اپنے بچوں کو اپنے ساتھ لئے دوبارہ نکاح پڑھوانے کے لئے جوق در جوق نکاح خوان صاحبان کو ڈھونڈ نے نکل کھڑے ہوں گے۔
اگر یہ فتویٰ صرف دشنام طرازی پر ہوتا تو بحث ہو سکتی تھی لیکن سمجھ نہیں آتی کہ اس ساری بحث میں بیچارے ڈیزل کو کیوں گھسیٹا گیا۔ اور اس فتوے میں ”بغیر تحقیق“ کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں۔ بھلا کسی شخص کے ڈیزل ہونے یا نہ ہونے پر کیا تحقیق ہو سکتی ہے؟ البتہ کسی شخص کے خلاف کلام کرتے ہوئے مناسب حدود کا خیال رکھنا چاہیے اور بد زبانی سے بالکل کام نہیں لینا چاہیے۔ خواہ یہ شخص عالم ہو یا نہ ہو۔
ہماری سیاسی تاریخ میں اس قسم کے فتووں نے ایک خاص کردار ادا کیا ہے۔ اس کالم میں اس تاریخ کی چند جھلکیاں پیش کی جائیں گی۔ 1857 کی جنگ میں بہادر شاہ ظفر کی بادشاہت کا اعلان کر کے انگریزوں کے خلاف اعلان جنگ کیا گیا۔ جب یہ ہنگامہ فرو ہوا تو سر سید احمد خان صاحب نے اپنی کتاب اسباب بغاوت ہند میں اس بات کی دلائل دیے کہ کیوں تمام مسلمان بہادر شاہ ظفر کی قیادت میں جنگ نہیں لڑ سکتے تھے۔ ان میں سے ایک دلیل ملاحظہ ہو
”دلی میں ایک بڑا گروہ مولویوں اور ان کے تابعین کا ایسا تھا کہ وہ مذہب کی رو سے معزول بادشاہ دلی کو بہت برا اور بدعتی سمجھتے تھے۔ ان کا یہ عقیدہ تھا کہ دلی کی جن مسجدوں میں بادشاہ کا قبض و دخل اور اہتمام ہے ان مسجدوں میں نماز درست نہیں۔“ [مقالات سرسید حصہ نہم 59 ]
خیر ان فتووں سے تو سرسید بھی محفوظ نہیں رہے۔ کئی علماء نے جلد ان کے کفر کا فتویٰ بھی صادر کر دیا۔ چنانچہ مشہور اہل حدیث عالم مولوی محمد حسین بٹالوی صاحب نے اپنے رسالہ میں لکھا
”تکذیب رسول مقبول ﷺ آنریبل سید احمد خانصاحب کی مذہب کا اصول ہے اور جن تاویلوں کی آڑ میں وہ انکار و تکذیب کے منکر ہیں ان تاویلوں کی نصوص میں گنجائش نہیں اور۔ وہ رسالہ آپ پر فتویٰ تکفیر لگاتا ہے۔“ [اشاعۃ السنہ نمبر پنجم جلد 3 ص 130 ]
سر سید تو بچ نہ سکے مگر حالات نے ثابت کیا کہ علامہ اقبال بھی محفوظ نہ رہے۔ چنانچہ مسجد وزیر خان لاہور کے مولوی دیدار علی صاحب نے 1925 میں علامہ اقبال کے کچھ اشعار کو کفر قرار دیتے ہوئے لکھا
” جب تک ان کفریات سے قائل اشعار مذکور توبہ نہ کرے، اس سے ملنا جلنا تمام مسلمان ترک کر دیں ورنہ سخت گناہ گار ہوں گے۔“ [ذکر اقبال مصنفہ عبد المجید سالک ص 158 ]
سر سید احمد خان صاحب اور علامہ اقبال کو تو کافر قرار دے دیا تو اب قائد اعظم محمد علی جناح کو کس نام سے یاد کرتے۔ اس مشکل کا حل یہ نکالا کہ قوم کے اس محسن کو ”کافر اعظم“ کا نام دے دیا۔ چنانچہ مجلس احرار کے مظہر علی اظہر صاحب نے اس شعر کے ذریعہ قائد اعظم پر تیر چلائے
اک کافرہ کے واسطے اسلام کو چھوڑا
یہ قائد اعظم ہے کہ ہے کافر اعظم
جب 1953 کے فسادات پر بننے والی تحقیقاتی عدالت میں ان صاحب سے سوال کیا گیا کہ کیا آپ اب بھی اپنے اس نظریہ پر قائم ہیں تو ان صاحب نے ڈھٹائی سے جواب دیا کہ سوائے اس کے کہ حالات تبدیل ہو گئے ہوں میں اب بھی اسی نظریہ پر قائم ہوں۔ [رپورٹ تحقیقاتی عدالت فسادات پنجاب 1953 ص 11 ]
ملک کے پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان صاحب کی نسبت ان کی بیگم صاحبہ کو زیادہ نشانہ بنایا گیا۔ مجلس احرار کے جلسوں میں یہ اعلانات کیے گئے کہ بیگم لیاقت علی خان اور اور جو دوسری خواتین پردہ نہیں کرتیں وہ بازاری عورتیں ہیں۔ لیاقت علی خان صاحب شہید ہوئے تو نئے وزیر اعظم خواجہ ناظم الدین صاحب پر شمشیر زبان دراز ہوئی۔ پہلے یہ تحریک چلائی گئی کہ احمدیوں کو غیر مسلم قرار دیا جائے اور دوسرا مرحلہ یہ تھا کہ بار بار ان جلسوں میں خواجہ ناظم الدین صاحب کے متعلق یہ انکشاف کیا گیا کہ وہ احمدی ہو گئے ہیں۔ [ رپورٹ تحقیقاتی عدالت فسادات پنجاب 1953 ص 15 و 145 ]
ملک دو لخت ہوا۔ آئین بنا نے بیٹھے۔ اس عمل کے دوران 14 مارچ 1973 کو قومی اسمبلی میں مولوی غلام غوث صاحب نے یہ مطالبہ کیا کہ جو کسی مسلسل حدیث کی مقبول عام توضیح کا بھی انکار کرے وہ مرتد قرار دیا جائے۔ [اور علماء کا یہ مطالبہ ہے کہ مرتد کو سزائے موت دینے چاہیے۔ ] اب یہ فیصلہ کون کرے گا کہ مقبول عام تشریح کون سی ہے؟
بھٹو صاحب نئے آئین کے تحت پہلے وزیر اعظم بنے۔ جلد ان پر بھی مذہبی اعتراضات کی بوچھاڑ شروع ہو گئی۔ ان کے خلاف تحریک چلی، جس کا انجام ایک نئے مارشل لاء پر ہوا۔ بھٹو صاحب پر نواب محمد احمد قصوری صاحب کے قتل کا مقدمہ چلایا گیا۔ لاہور ہائی کورٹ نے انہیں سزائے موت تو سنائی لیکن اس کے ساتھ انہیں محض ”نام کا مسلمان“ بھی قرار دیا۔ بھٹو صاحب نے سپریم کورٹ میں اپنی زندگی کی آخری تقریر میں اس پر شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ اس سے تو بہتر یہ تھا کہ انہیں پھانسی دے دی جاتی۔
بہر حال پھانسی تو انہیں دے دی گئی۔ اس وقت جیل میں کرنل رفیع الدین ڈیوٹی پر تھے۔ وہ لکھتے ہیں کہ انٹیلی جنس کے ایک فوٹو گرافر نے بھٹو صاحب کی نعش کی تصویریں اتاریں۔ کیا دیکھنے کے لئے؟ یہ دیکھنے کے لئے کہ ان کا ختنہ ہوا تھا کہ نہیں۔ گویا اب یہ نوبت آ چکی تھی اس بیہودہ حرکت سے مرنے والے کے مذہب کا فیصلہ کیا جا رہا تھا۔ اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ [بھٹو کے آخری 323 دن ص 127 ]
گزشتہ کچھ دہائیوں سے عمل اب اور بھی ترقی کر چکا ہے۔ جیسا کہ مرحوم سلیم شہزاد صاحب نے اپنی کتاب Inside Al Qaeda and The Talibanمیں تفاصیل بیان کی ہیں کہ باقاعدہ فتوے جاری کیے گئے کہ یہ حکومت بھی کفر کی مرتکب ہو رہی ہے بلکہ جمہوریت ہی کفر ہے، فوج کے جو جوان اپنے ہم وطنوں کی حفاظت کرتے ہوئے شہید ہو رہے ہیں ان کا جنازہ پڑھنا درست نہیں، عدالتیں بھی غیر اسلامی ہیں وغیرہ وغیرہ اور اس طرح اپنے دام میں آنے والوں کو ریاست کے خلاف بغاوت پر اکسایا گیا اور اس روش کا جو انجام ہوا، اس پر کسی تبصرے کی ضرورت نہیں۔
اگر یہ ایک واحد واقعہ ہوتا تو شاید اس پر کچھ لکھنے کی ضرورت نہ ہوتی لیکن ایسے فتووں کا ایک طویل پس منظر ہے۔ میرے خیال میں اب وقت آ گیا ہے کہ سیاست اور ریاست کے معاملات میں اس قسم کے فتاویٰ اور مذہبی الزامات کا سلسلہ بند ہونا چاہیے۔

