بے روزگاری و مہنگائی کا عفریت: زخم ہم اپنے دکھائیں تو دکھائیں کس کو


صدیوں قبل قحط نے دمشق کے خوش لقا، خوش طبع، خوش ذوق شہریوں کا جو حال کیا تھا، وہ اب مہنگائی پاکستان کے ہنستے بستے باشندوں کا کر رہی ہے ؎

چناں قحط سالے شد اندر دمشق
کہ یاراں فراموش کر دند عشق

”جب دمشق میں خوفناک قحط پڑا تو لوگ عشق کرنا بھول گئے“ ۔ شیخ مصلح الدین سعدی کی ندرت فکر قابل داد ہے کہ عشق میں عموماً انسان کو بھوک پیاس کی پروا نہیں رہتی مگر دمشق میں بھوک نے عشق بھلا دیا۔

شیخ سعدی کے اس شعر کے متعلق کبھی ہم سوچا کرتے تھے کہ شیخ سعدی نے خیالی کھچڑی پکائی ہے، یار لوگ عشق سے کہاں باز آتے ہیں۔ دمشق میں ایسا قحط بھلا کب پڑا ہو گا۔ شیخ نے بس ہمیں ڈرانے کے لیے خبردار کیا ہے کہ شہروں پر ایسے وقت بھی آتے ہیں اور قوموں پر ایسی قیامت بھی کبھی کبھی ٹوٹتی ہے کہ جانوں کے لالے پڑ جاتے ہیں۔ اس فکر میں آدمی اپنے سارے شغل اشغال بھول جاتا ہے۔ سیر سپاٹے، ہنسی دل لگی، کھیل کود، محبت یاراں، شعر و شاعری سارے مشغلے معطل ہو جاتے ہیں۔ ایسے ہوش اڑتے ہیں کہ عشق و عاشقی کا خیال بھی رفو چکر ہو جاتا ہے۔

پاکستان کے حالات بھی ان دنوں کچھ ایسے ہی ہیں مہنگائی اور بے روزگاری کے عفریت سے متوسط طبقہ محفوظ ہے نہ غریب و کمزور۔ مفلوک الحال شہریوں کی جان ایسے شکنجے میں ہے، سمجھ نہیں آتا حالات پر کس طرح ماتم کیا جائے؟

مادر وطن کے باسیوں کو مہنگائی اور بے روزگاری کی چکی میں ابھی مزید پسنا پڑے گا! عوام بے بسی، بے کسی او لاچاری کی تصویر بنے ہوئے ہیں! مہنگائی کا اس سے اندازہ لگا لیں کہ مرغی کا گوشت چھ سو 50 روپے فی کلو کی بلند ترین شرح کو چھو رہا ہے۔ انڈے 300 روپے فی درجن کی سرحد عبور کر چکے ہیں۔ یہ غریب کی وہ غذا ہے جس سے وہ کبھی ہفتے عشرے میں اپنے بچوں کو ”عیش“ کراتا ہے گویا آج کا مزدور اور محنت کش پورے دن کی اجرت 800 یا 900 روپے کے بعد ایک کلو گوشت اور ایک درجن انڈے اکٹھے نہیں خرید سکتا۔

روزانہ کی بنیاد پر اشیاء ضروریہ کے نرخوں میں اضافہ ہو رہا ہے، آٹے، چینی، دال، سبزیوں اور روزمرہ استعمال کی دیگر اشیاء کے نرخ آسمان سے باتیں کر رہے ہیں اسی طرح ادویات کے بے قابو نرخوں سے عوام مسلسل ذہنی پریشانی اور کرب میں مبتلا ہیں، بجلی، گیس، پٹرول کی قیمتیں عوام کو پہلے ہی حیران و پریشان کیے ہوئے ہیں، ایک طرف ہنر مند افراد روزگار کی تلاش میں دھکے تو دوسری جانب تعلیم یافتہ افراد ملازمتوں کے لئے در در کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں، تلاش بسیار کے باوجود بھی کسی کو روزگار اور ملازمت نہیں ملتی، بے روزگار روز صبح کام ملنے کی امید پر گھر سے نکلتے ہیں کہ ان کے گھرکا چولہا جلے مگر شام کو وہ مایوس لوٹتے ہیں۔

ایک جانب بے روزگاری اور دوسری طرف بدترین مہنگائی نے عوام کی زندگی مشکل بنا دی ہے، لوگ فاقہ کشی اور خودکشی پر مجبور ہیں مگر حکمرانوں کو ان کے حال پر ترس نہیں آتا وہ صرف زبانی تسلیاں دے رہے ہیں، عوامی نمائندوں اور حکومت کی کارکردگی صرف اخباری بیانات، فوٹو سیشنز اور تقریبات میں لمبی چوڑی تقریروں تک محدود ہے۔ ملک میں بے روزگاری کا کیا عالم ہے اس کا اندازہ شہر اقتدار ”اسلام آباد“ کی ماضی قریب کی اس خبر میں ملاحظہ فرمائیں :

وفاقی دارالحکومت پولیس نے کانسٹیبل کی 16 سو آسامیوں کا اشتہار دیا۔ تو ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ درخواستیں آئیں۔ درخواستوں کی سکروٹنی (چھانٹی) کے بعد ، مناسب قد اور چھاتی کی پیمائش کے بعد 28 ہزار نوجوان ٹیسٹ انٹرویو کے اہل قرار پائے۔ ملازمت کے امیدوار نوجوانوں کو 31 دسمبر 2022 کو سپورٹس کمپلیکس لیاقت جمنازیم کے اسٹیڈیم میں مدعو کیا گیا۔ 28 ہزار نوجوانوں کا نظم و ضبط دیدنی تھا۔ 16 سو ملازمین، ڈیڑھ لاکھ درخواستیں انٹرویو کے لئے 28 ہزار امیدوار یہ ہے پاکستان کے نوجوانوں کی حالت زار جنہیں سیاسی جماعتیں اور سیاسی راہنما اپنا سرمایہ کہتے ہیں۔

چینی لیڈر جو این لائی کہا کرتے تھے ”بے روزگار نوجوان کا ذہن ایٹم بم سے زیادہ خطرناک ہوتا ہے“ پاکستان میں 2 کروڑ بے روزگار گریجویٹ ہیں، ہنر مند نوجوانوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔ دوسری جانب حال ہی میں ایف بی آر اور الیکشن کمیشن کے آنے والی رپورٹ ”عوام“ اور ”خواص“ میں فرق کو مزید اجاگر کرتی نظر آتی ہے جس سے حکمران اشرافیہ کی ترجیحات واضح ہو رہی ہیں۔ اس رپورٹ کے مطابق عام پاکستانی کی آمدن میں کمی اور ارکان اسمبلی کی دولت میں 85 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

گزشتہ پانچ برسوں میں اراکین اسمبلی کے اثاثے 49 ارب سے بڑھ کر 91 ارب تک جا پہنچے ہیں۔ عمران خان کے اثاثوں میں 250 فیصد، شیخ رشید کے اثاثوں میں 278 فیصد، رانا ثنا اللہ کے اثاثوں میں 287 فیصد، شاہ محمود قریشی کے اثاثوں میں 241 فیصد، چوہدری پرویز الٰہی اور ان کی اہلیہ کے اثاثوں میں 200 فیصد، مونس الٰہی کے اثاثوں میں 100 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ آصف علی زرداری کے اثاثوں میں 55 فیصد اور حمزہ شہباز کے اثاثوں میں 22 فیصد اضافہ ہوا۔

صرف میاں شہباز شریف اور شاہد خاقان عباسی کے اثاثوں میں معمولی کمی ہوئی۔ اکنامک سروے آف پاکستان کے مطابق پاکستانیوں کی فی کس آمدنی میں گزشتہ تین سال میں 197 ڈالر تک کمی ہوئی ہے۔ قصہ مختصر، عوام طبقۂ اشرافیہ کی ترجیحات میں کہیں بھی دکھائی نہیں دیتے۔ شہباز شریف وزیر اعظم ہیں، تاریخ میں پہلی بار 12 جماعتی اتحاد نے حکومت بنائی یہ اتحاد مہنگائی کے خلاف تحریک انصاف کی ناقص کارکردگی کی بناء پر وجود میں آیا تھا مگر اس نے مہنگائی کے سارے ریکارڈ توڑ دیے۔

پٹرول کی قیمت 250 روپے تک پہنچ گئی ہے۔ دنیا میں پٹرول کی قیمتوں میں کمی آ رہی ہے لیکن پاکستان میں اضافہ ہو رہا ہے۔ جب پٹرول 144 کا لٹر تھا تو اس میں پٹرولیم لیوی زیرو تھی اب 50 روپے فی لٹر لیوی آئی ایم ایف کے حکم پر ہے۔ اور اب مزید لیوی بڑھانے کا مطالبہ پورا کیا گیا ہے۔ وزیراعظم میاں شہباز شریف نے حد سے زیادہ مہنگائی ہونے کا بالا آخر اعتراف کیا ان کا کہنا تھا کہ حکومت مہنگائی پر قابو پانے کے لیے سخت اقدامات کرے گی۔ شاید وہ اقدامات اس وقت ہوں گے جب مہنگائی سانس کی ڈوری بھی توڑ دے گی۔

کی میرے قتل کے بعد اس نے جفا سے توبہ
ہائے اس زود پشیماں کا پشیماں ہونا

اس وقت اقتصادی صورت حال یہ ہے کہ پاکستان شدید مالی بحران سے دو چار ہے۔ وفاق اور صوبوں کے سرکاری انتظامی اخراجات، جنہیں غیر ترقیاتی بجٹ کہا جاتا ہے، بڑھ رہے ہیں اور وقت کے ساتھ ساتھ ان میں مزید اضافہ ہوتا چلا جائے گا۔ دوسری طرف قوم و ملک کی براہ راست ترقی و خوشحالی سے تعلق رکھنے والا ترقیاتی بجٹ، عملاً سکڑتا جا رہا ہے۔ بجٹ خسارا، یعنی آمدنی اور اخراجات کی خلیج وسیع ہوتی جا رہی ہے۔

پنجاب میں آٹا 145 سے 150 روپے کلو بک رہا ہے سندھ حکومت رعایتی نرخوں پر پنجاب سے آدھی قیمت پر آٹا دے رہی ہے لیکن اس کے اس اقدام کو ”محب وطن حلقوں“ نے یہ کہہ کر مسترد کر دیا ہے، کہ سندھ حکومت نے بلدیاتی الیکشن میں ووٹ لینا تھے اس لیے اس نے یہ ”غیر مناسب“ اقدام کیا۔ سابق، چیف، کے حوالے سے ایک مشہور کالم نویس نے اپنے کالم اور پروگرام میں کہا ہے کہ پنجاب کے خزانے میں گزشتہ جولائی میں 500 ارب اضافی تھے، جولائی میں نئی حکومت آئی اور یہ 500 ارب روپے دو اڑھائی مہینوں میں لاپتا ہو گئے۔ لاپتا لوگوں کی طرح لاپتا کھاتوں کا سراغ کون لگائے؟

کون اس شہر میں سنتا ہے فغاں درویش
اپنی آشفتہ بیانی سے رلائیں کس کو
کوئی پرسان وفا ہے نہ پشیمان جفا
زخم ہم اپنے دکھائیں تو دکھائیں کس کو

ہر شعبہ زندگی مہنگائی کی زد میں آنے کے جو نتائج سامنے آ رہے ہیں ان کی انتہا اب یہ ہے کہ تدفین کے اخراجات بھی لوگوں کی دسترس سے باہر ہونے لگے ہیں، انسان کے لئے جینا پہلے ہی دشوار ہو رہا تھا کہ اب مردوں کے لئے قبروں کا حصول ان کی کھدائی اور تدفین کے اخراجات بھی ناقابل برداشت ہو گئے ہیں۔ اس پر مرزا غالب کا یہ شعر پوری طرح منطبق ہو رہا ہے کہ

اب تو گھبرا کے یہ کہتے ہیں کہ مر جائیں گے
مر کے بھی چین نہ آیا تو کدھر جائیں گے

صورتحال تب تک پھر بھی قابل برداشت تھی جب قبروں کی کھدائی اور دیگر رسومات اہل خاندان خود اٹھاتے تھے۔ وقت کے ساتھ ساتھ اب یہ کام گورکن معقول معاوضہ لے کر کرتے ہیں، بڑھتی ہوئی مہنگائی نے اس کو بھی مشکل سے مشکل تر بنا کر رکھ دیا ہے۔ اسی طرح کفن کا کپڑا اور دیگر اشیاء پر بھی اخراجات بہت بڑھ چکے ہیں۔

پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ نے پی ٹی آئی کے غیر مقبول فیصلوں اور مہنگائی کو تحریک عدم اعتماد کی سب سے بڑی وجہ قرار دیا تھا کیونکہ عوام مہنگائی سے تنگ تھے ؛ تاہم آج اتحادی حکومت بھی تحریک انصاف کے نقش قدم پر چل رہی ہے۔ پی ٹی آئی حکومت کے لئے سب سے بڑا چیلنج عوام کو ریلیف فراہم کرنے میں ناکامی تھی، آج اتحادی حکومت کے لئے یہ چیلنج کئی گنا بڑھ چکا ہے۔ تحریک انصاف کی حکومت نے آئی ایم ایف کے پاس جانے میں تاخیر کی تو معاشی تباہی میں اضافہ ہو گیا، اتحادی حکومت نے بھی اس غلطی کو دہرایا ہے۔

وزیر خزانہ نے آئی ایم ایف کے بغیر ملک کو چلانے کے دعوے کیے تو روپے کے مقابلے میں ڈالر بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔ اب نقصان کے بعد آئی ایم ایف کے پاس جانے کا فیصلہ کیا گیا ہے تو بہت دیر ہو چکی ہے۔ جو نقصان ہو چکا اس کی تلافی ممکن نہیں ہے، کیونکہ ایک دن میں ملکی قرضوں میں چار ہزار ارب روپے کا اضافہ ہو گیا ہے۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے اور ڈالر پر عائد کیپ (فکس ریٹ) ختم کیے جانے کا تعلق آئی ایم ایف کی شرائط کو تسلیم کرنے ہی سے ہے۔

منی بجٹ میں دو سو ارب روپے کے اضافی ٹیکس لگائے جانے کا امکان ہے جس سے مہنگائی میں کئی گنا اضافہ ہو جائے گا۔ روپے کی قدر میں کمی اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ایسے اقدامات ہیں جن سے ہر فرد اور شعبۂ زندگی متاثر ہوتا ہے، اس کے نتیجے میں ہر چیز کی قیمت بڑھ جاتی ہے۔ اس سے لوئر مڈل کلاس اور غریب افراد کی مشکلات میں بے پناہ اضافہ ہو جائے گا۔ حکومت نے آئی ایم ایف سے قرض کے حصول کے لئے بظاہر کڑی شرائط پوری کر دی ہیں جس کے بعد ایک ارب ڈالر کی اگلی قسط کے اجرا کا ابتدائی مرحلہ طے ہو سکتا ہے۔

آئی ایم ایف سے قسط کے اجرا کے بعد دوست ممالک سے بھی قرض کا حصول آسان ہو جائے گا۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف یا دوست ممالک سے ملنے والا قرض ہمارے لیے آکسیجن کا کام کرے گا لیکن یہ قرض ہمیں مسائل کی دلدل یا خسارے سے مکمل طور پر باہر نہیں نکال سکے گا کیونکہ 2023 ء کے اختتام تک عالمی کساد بازاری اور پاکستان کے لئے مشکلات کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ اگر اس میں صداقت ہے تو پھر بنیادی سوال یہ ہے کہ حکومت عوام کو ریلیف کیسے فراہم کرے گی؟

ہر لمحہ بڑھتی ہوئی مہنگائی، افراط زر، بے روز گاری اور معاشی ابتری کی بدولت اگر عوام کے صبر کا پیمانہ چھلک پڑا، عوام گلگت سے گوادر تک ہڑتالوں، مظاہروں، اور ہنگاموں کی طرف چل پڑے تو پھر کیا ہو گا؟

اگر انسان کو روٹی میسر نہیں تو ہر نظام، ملک، مذہب، قوم اور تہذیب کوئی معنی نہیں رکھتی۔ حکمرانوں کو وقت سے پہلے آنکھیں کھول لینی چاہئیں۔ مہنگائی اور بیروزگاری کو سنجیدہ لیں، ورنہ بے روزگاری اور مہنگائی کا طوفان سب کچھ بہا لے جائے گا۔

 

Facebook Comments HS