پشاور اور مکڑوال پر دہشتگردوں کا وار، ہمارے سکیورٹی نظام پر سوال


پشاور کے بعد دہشتگردوں نے میانوالی کے تھانہ مکڑ وال پر حملہ کیا سے پولیس جوانوں نے بہادری سے ناکام بنا دیا۔ یہ حملہ پندرہ بیس دہشتگردوں نے کیا۔ آئی جی پولیس پنجاب کی طرف سے پولیس جوانوں کی بہادر و جرآت کا اعتراف کیا اور ایس ای او کو بھاری نقد انعام دینے کا اعلان کر کے پولیس جوانوں کی پیٹھ پر تھپکی دی ہے۔

دہشتگردوں نے ایک بار پھر پشاور کو نشانہ پر لے لیا، اس بار دشمنان دین و ملت کی ہوس کا نشانہ پولیس لائنز کی مسجد بنی۔ دہشتگردوں کے اس وار میں ( تادم تحریر) ایک سو سے زائد معصوم افراد شہید ہو گئے اور ڈیڑھ سو سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ پشاور پولیس لائنز کا علاقہ حساس ترین علاقہ شمار ہوتا ہے۔ حملے کے مقام کے اردگرد اہم ترین دفاتر و عمارتیں ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ علاقہ ریڈ زون شمار ہوتا ہے۔ پولیس لائنز کی مسجد میں داخل ہونے کے لیے دو سے زائد مقامات سے چیکنگ کے مراحل سے گزرنا پڑتا ہے۔

سولہ دسمبر 2014 کو آرمی پبلک سکول پشاور پر حملے کے بعد پولیس لائنز حملہ میں اس قدر بے گناہ افراد شہید ہوئے ہیں۔ اس حملے میں بظاہر صوبے کی پولیس فورس کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ اے پی ایس حملے کے بعد قومی ایکشن پلان پر عمل کرتے ہوئے دہشتگردی کی کمر توڑ دینے کے دعوے سامنے آئے اور یہ دعوے محض دعوے نہیں تھے حقیقت پر مبنی تھے لیکن سوال پیدا ہوتا ہے کہ

پاکستان میں شدت پسندی کی تازہ لہر: 2014 میں کامیاب فوجی آپریشن کے بعد شدت پسندی واپس کیسے آئی؟ اس سوال کا جواب بہرحال ارباب اختیار کو جواب دینا ہو گا۔ عام خیال یہ ہے کہ عمران خان کے دور حکومت میں جب ٹی ٹی پی سے منسلک افراد کو غیر مسلح ہو کر آنے کا کہا گیا تو وہ ملک میں آئے مگر وہ مکمل طور پر غیر مسلح نہیں ہوئے اور نئی حکومت نے بھی ان سے اس کا مطالبہ کیا کہ وہ آئین پاکستان کو تسلیم کریں اور قانون کے تحت غیر مسلح ہوں مگر ٹی ٹی پی نے ایسا نہیں کیا۔

خیبر پختونخوا کے ساتھ ساتھ بلوچستان کے عوام بھی مسلسل دہشتگردوں کے مذموم مقاصد کے نشانوں کی زد میں ہے جہاں ملک دشمن آئے دن معصوم اور بے گناہ شہریوں اور سکیورٹی اہلکاروں کے خون کی ہولی کھیلتے ہیں۔

دہشتگردی کی اس واردات نے ہمارے انٹیلجنس سسٹم اور سکیورٹی اداروں اور اس کے کرتا دھرتاؤں کو بھی چکرا کے رکھ دیا ہے۔ ہر کوئی انگشت بہ دندان ہے کہ دہشتگرد اتنے حساس ترین علاقہ میں کس طرح پہنچنے میں کامیاب ہوئے۔ آئی جی پولیس کا کہنا ہے کہ اس بات کی تحقیقات کی جا رہی ہیں حملہ آور مسجد میں داخل ہونے میں کیسے کامیاب ہوا؟ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ دہشتگرد ہمارے سکیورٹی اداروں تک رسائی رکھتے ہیں اور وہ جب چاہیں ہمارے سکیورٹی نظام کو مفلوج کر دینے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔ یہ ہمارے ارباب اقتدار و اختیار کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔

سوال پیدا ہوتا ہے کہ کالعدم تحریک طالبان دوبارہ کیسے متحرک ہوئے اور وہ کیا مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں؟ اس کے لیے رائے عامہ کے نمائندہ افراد کی رائے یہ ہے کہ ”حال ہی میں فوج نے افغانستان کی سرحد سے متصل قبائلی اضلاع میں اپنی تعداد کم کرنے کے ساتھ ساتھ وہاں موجود اپنے اڈوں اور چوکیوں کے دفاع کو بہت مضبوط بنایا ہے جبکہ دوسری جانب فاٹا کے خیبرپختونخوا میں انضمام کے بعد پولیس اور ایف سی کو بہت سے سابقہ قبائلی علاقوں میں سکیورٹی اور امن و امان کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ پولیس فورس فوج کی طرح جدید دفاع اسلحہ و بارود سے لیس نہیں۔ ہے اور ان کی تربیت سازی بھی نہیں ہے اس لیے وہ شدت پسندوں کے لیے ایک آسان ہدف ہیں۔

خیبرپختون خوا میں پولیس پر ہونے والا یہ کوئی پہلا حملہ نہیں ہے کیونکہ گزشتہ چند ماہ کے دوران صوبے کے مختلف علاقوں میں شدت پسندوں نے کامیابی سے بہت سے پولیس اہلکاروں، تھانوں اور چوکیوں کو نشانہ بنایا جن میں بڑے پیمانے پر جانی نقصان ہوا۔

ابھی آج یکم فروری کو میانوالی کے تھانہ مکڑ وال پر پندرہ سے بیس دہشتگردوں نے حملہ کیا جسے پولیس نے ناکام بنا دیا جس پر آئی جی پنجاب پولیس نے پولیس کو بھاری انعام دینے کا اعلان کیا ہے۔

وزیر اعظم شہباز شریف دہشتگردی کے اس سانحہ کا سنتے ہی پشاور پہنچے جائے وقوعہ پر گئے ہسپتال جاکر زخمیوں کی عیادت کی اور دہشتگرد کے اتنی حساس علاقے میں اتنے سارے حفاظتی حصار عبور کر کے کارروائی کرنے پر سخت برہمی کا اظہار کیا۔

دہشتگردوں اور انتہا پسندی کا مقابلہ اکیلی ریاست نہیں کر سکتی اس کے لیے قوم کو بھی نہ صرف میدان میں نکلنا ہو گا بلکہ متحد بھی ہونا ہو گا۔ سیاسی قائدین کا بھی امتحان ہے کہ وہ اس مرحلے میں اپنی ذمہ داریاں ادا کریں وہ قوم انہیں معاف نہیں کرے گی۔

حرف آخر کے طور پر عرض کرنا ہے کہ دہشتگردوں کے عزائم کو ناکام بنانے کے لیے پوری قوت سے ماضی کے آپریشن ردالفساد اور ضرب عضب طرز کے فوری آپریشن کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ ماضی میں ہماری فورسز ایسے آپریشنز کے ذریعہ دہشتگردوں کی کامیاب بیخ کنی کر چکی ہیں۔ اس کے علاوہ پولیس لائنز سانحہ میں کوتاہی کے مرتکب عناصر اور دہشتگردوں کے سہولت کاروں کو بھی کیفر کردار تک پہنچانا لازم چاہیے۔

Facebook Comments HS