"ماری جاؤ گی”
”تمہیں محبت ہو گئی ہے، ہے نا؟“ وہ اس کی چمکتی آنکھوں کو دیکھ کر پوچھے بنا نہ رہ سکا۔
”ہاں۔ ہو تو گئی ہے۔“ وہ اور بھی دلکشی سے مسکرائی تھی
”واقعی؟“ جانے کیوں اس کا دل ڈوب سا گیا تھا پھر بھی مسکراتے ہوئے پوچھ رہا تھا
”ہمم“ وہ جیسے گنگنائی سی تھی۔
”کون ہے وہ؟“ اس نے جبراً مسکراہٹ قائم رکھتے ہوئے پوچھا
”ہے کوئی جس سے مجھے محبت ہو گئی ہے لیکن یہ سب یک طرفہ ہی ہے۔“
اس کی آواز میں اب وہ چہک نہیں تھی۔
”کیا مطلب؟“ وہ ناسمجھی سے اسے دیکھنے لگا
”اس نے کہا ہے کہ وہ مجھے پسند کرتا ہے لیکن اسے مجھ سے محبت نہیں ہے۔“ اس کی آواز اب کسی سرگوشی جتنی ہی رہ گئی تھی۔
”اس دنیا میں بھلا ایسا کون ہے جسے تم سے محبت نہ ہو جائے؟“ وہ بس اسے دیکھ کر رہ گیا تھا۔
”اب نہیں تو نہ سہی۔ محبت میں زبردستی تو نہیں ہوتی نا۔ میرے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ مجھے تھوڑا تھوڑا سا ہی سہی لیکن میسر ہے۔“
وہ شاید خود کو تسلی دے رہی تھی یا پھر اسے۔
اب کہ اس سے رہا نہیں گیا، وہ بھینچے ہوئے جبڑوں کے ساتھ اس کے بالکل مقابل آ کر کھڑا ہو گیا اور آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر گویا ہوا
”تم کسی سے محبت کرو اور وہ تم سے محبت نہ کرے ایسا ہو ہی نہیں سکتا۔ میں جانتا ہوں تم کتنی ٹرانسپیرنٹ ہو۔ تمہاری مخلص اور خالص محبت جس کسی کو بھی مل جائے وہ تو دیوانہ ہو جائے گا۔ ساری دنیا تمہاری گرویدہ ہے۔ جو تم سے ایک بار مل لیتا ہے جیسے تمہارا ہی ہو کر رہ جاتا ہے اور تم مجھے کہہ رہی ہو کہ اسے تم سے محبت نہیں ہے؟“
وہ کچھ دیر تک اسے دیکھتی رہی پھر نم آنکھوں سے کہنے لگی،
”تم نے اب تلک اسے نہیں دیکھا نا۔ وہ بہت خاص ہے۔ بہت شاندار۔ اسے دیکھتی ہوں تو آنکھیں جھپکنا بھول جاتی ہوں۔ قریب آتا ہے تو اس کی مہک مجھے دیوانہ کرنے لگتی ہے۔ بات کرتا ہے تو میرا سارا جسم جیسے کان بن جاتا ہے اور اسے سننے لگتا ہے۔ وہ ایک دیوتا جیسا قد کاٹھ رکھتا ہے اور اسے دل جیتنا آتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ مجھے جیت چکا ہے اور مجھے ہر بار یہی کہتا ہے کہ اسے مجھ سے محبت نہیں۔“
وہ بس اسے دیکھ کر رہ گیا۔
اس انسان پر جہاں اسے رشک آیا وہیں ایک شدید نفرت کی لہر بھی اسے بھگو گئی تھی۔
کون تھا وہ خوش نصیب اور کیسا دکھتا ہے وہ آخر کہ وہ اس کی اسیر ہو کر رہ گئی ہے۔ ابھی وہ یہ سوچ ہی رہا تھا کہ پھر سے اس کی آواز اس کے کانوں سے ٹکرائی۔
”تمہیں پتہ ہے میں اسے بادشاہ سلامت کہتی ہوں“
وہ جیسے خود ہی اپنی بات کا لطف لیتے ہوئے ہنسی تھی۔
”لیکن تم تو خود ایک شہزادی ہو۔ ہے نا؟“
وہ جیسے کراہا سا تھا۔
”نہیں! میں تو خود کو اس کی کنیز کہتی ہوں۔ مجھے بہت اچھا لگتا ہے جب میں اس کے چھوٹے چھوٹے کام کرتی ہوں۔ جیسے چشمہ لا دینا، پانی پلا دینا۔ میرا دل کرتا ہے اس کی خدمت کروں۔ اس کے سارے کام اپنے ہاتھ سے کروں لیکن کبھی کبھی ہی موقع ملتا ہے۔“ وہ کہتے کہتے رنجیدہ سی ہوئی تھی اور میں محلوں میں رہنے والی اور ایک شہزادی کی سی آن بان رکھنے والی کی باتیں سن رہا تھا جس کے چہرے پر محبت نے اپنا رنگ جمایا ہوا تھا۔ وہ خوش تھی اور میں خوف زدہ تھا اس ان دیکھے شخص سے۔
مجھے اس شخص کی سنگ دلی سے ڈر لگ رہا تھا جس کا دل یہ شہزادی بھی نہ پگھلا پائی تھی۔
میں بس اس سے یہی کہہ کر وہاں سے اٹھ آیا کہ،
” واپس آ جاؤ۔ ورنہ۔ محبت کے اس سفر میں۔ ماری جاؤ گی!“ ۔



