کشمیر کے نام پر ڈرامے بازی بند ہونی چاہیے


ہر سال 5 فروری کو یوم یکجہتیٔ کشمیر منایا جاتا ہے۔ پاکستان اور آزاد کشمیر میں عام تعطیل ہوتی ہے۔ آزاد کشمیر کے اہم مقامات پر جلوس نکلتے ہیں۔ جلسے منعقد کیے جاتے ہیں۔ تقریریں ہوتی ہیں۔ بینر لگائے جاتے ہیں جن پر اس طرح کے نعرے درج ہوتے ہیں :پوری پاکستانی قوم کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتی ہے۔ کشمیر بنے گا پاکستان۔ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے۔ کشمیریوں کو حق خودارادیت ملنا چاہیے۔ کشمیر کے مسئلے کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل ہو نا چاہیے۔ وغیرہ وغیرہ۔ اقوام متحدہ کے دفتر میں یاداشت جمع کروائی جاتی ہے اور اگلے سال پانچ فروری تک پوری قوم کشمیر کے تکیے پر سر رکھ کر چین کی نیند سو جاتی ہے۔ ہاں البتہ متعلقہ ادارے مقبوضہ کشمیر کے اندر اپنے ڈرامے جاری رکھتے ہیں۔

کشمیر کا مسئلہ آخر ہے کیا؟
کیا یہ کوئی مذہبی مسئلہ ہے یا سیاسی؟
کیا اس سے دریاؤں کے پانیوں اور پاکستان کی زرخیزی و آب پاشی کا بھی کوئی تعلق ہے؟
کشمیر کا مسئلہ حل نہ کر نے میں کس کس کے مفادات وابستہ ہیں؟
عالمی برادری پاکستانی لیڈروں کے کشمیر پر بیانات کو سنجیدہ کیوں نہیں لیتی؟

اس مضمون میں یہ اور اس سے جڑے دیگر سوالات کے جوابات دینے کی کوشش کی جائے گی۔ اور حقیقت پسندانہ تجاویز دینے کی سعئی کی جائے گی۔

کشمیر کا مسئلہ اس وقت پیدا ہوا جب 26 اکتوبر 1947 ء کی صبح ساڑھے آٹھ بجے انڈین ائر فورس کا ایک ڈاکوٹہ طیارہ فرسٹ سکھ رجمنٹ کی ایک کمپنی کو لے کر لیفٹیننٹ کرنل دیوان رنجیت رائے کی سربراہی میں سری نگر کی بڈگام ائر سٹرپ پر لینڈ کر گیا۔ ایسا اس پہل کے ردعمل کے طور پر کیا گیا جس کے تحت پاکستان کی طرف سے پشتون مجاہدین جو جنوب مغربی سرحدی سے لائے گئے تھے، 20 اکتوبر 1947 ء کو سری نگر پر قبضہ کرنے کے لیے وادی جہلم سے کشمیر میں داخل ہوئے مگر چھ دن تک بارہ مولہ کے ارد گرد گھومتے رہے۔

اس دوران انھوں نے لوٹ مار کی اور کشمیری خواتین کی بے حرمتی کی۔ یہ مجاہدین پاکستان کے پہلے گورنر جنرل اور سپریم کمانڈر محمد علی جناح کے کہنے پر اس وقت بھیجے گئے جب اس وقت کے کمانڈر ان چیف جنرل گریسی نے فوج کشی کے ذریعے کشمیر پر قبضہ کرنے کے جناح کے احکامات ماننے سے انکار کر دیا تھا۔ 1947 ء میں کشمیر کا فرماں روا مہاراجہ ہری سنگھ تھا۔ وہ اپنے اس خط میں جو اس نے ہندوستان سے مدد طلب کرنے کے لیے لکھا، کہتا ہے :

”میری ریاست کا تاریخی، جغرافیائی اور مذہبی الحاق قدرتی طور پر پاکستان کے ساتھ بنتا ہے۔ میں نے کوشش کی کہ مسٹر جناح سے مل کر دفاع، تجارت، سفر اور مواصلات کے چند معاملات طے کرنے کے بعد ریاست کا الحاق پاکستان سے کر دوں۔ مگر بدقسمتی سے میری کوشش بسیار کے باوجود میری ملاقات پاکستان کے گورنر جنرل سے نہیں کروائی گئی۔“

یہ خط اس اطلاع پر تحریر کیا گیا جس کے تحت پاکستانی گوریلا دستے اس کے دارالخلافہ پر قبضہ کرنے کے لیے بارہ مولا میں داخل ہو چکے تھے۔ خط تحریر کر کے مہاراجہ سری نگر (گرمیوں ) کے دارالخلافہ سے سردیوں کے دارالخلافہ جموں کے سفر میں تھا۔ ہندوستان نے اس موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مہاراجہ کے سامنے یہ تجویز رکھی کہ ہندوستانی افواج اس علاقے میں داخل نہیں ہو سکتیں جو ہندوستانی علاقہ نہ لہٰذا ضروری ہے کہ وہ کشمیر کا ہندوستان کے ساتھ الحاق کے معاہدے پر دستخط کردے۔ مہاراجہ نے اپنی ریاست بچانے اور امن و امان قائم کرنے کے لیے جواہر لال نہرو کے بھیجے گئے خصوصی ایلچی سے جموں میں ملاقات کر کے اپنی ریاست کے کشمیر کے ساتھ الحاق پر دستخط کر دیے۔ یہ ایسی خطا تھی جس کی سزا کئی دہائیوں سے کشمیری قوم بھگت رہی ہے۔ ا۔ بقول شاعر:

؎ یہ جبر بھی دیکھا ہے تاریخ کی نظروں نے
لمحوں نے خطا کی تھی صدیوں نے سزا پائی

پاکستانی مجاہدین کی ناکامی اور ہندوستانی فوج کے سری نگر پر قبضے کے فوراً بعد ہندوستان اور پاکستان کے درمیان دو سالہ جنگ ( 1947۔ 1948 ) چھڑ گئی۔ یہ جنگ مقامی تھی جس میں کشمیری لیڈروں نے رضاکاروں کے ذریعے پاکستانی فوج کی بھر پور مدد کی۔ اس جنگ کے خاتمے پر ایک تہائی کشمیر، آزاد کشمیر کی صورت میں پاکستان کے حصے میں آیا جبکہ سری نگر سمیت دو تہائی کشمیر ہندوستان کے پاس ہی رہا۔ گلگت بلتستان جو اس سے قبل کشمیر کا ہی حصہ تھا۔ پاکستان کے قبضے میں رہا۔

لارڈ ماؤنٹ بیٹن کی سفارش پر اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل نے یکم جنوری 1949 ء کو سیز فائر کروا کر لائن آف کنٹرول قائم کردی۔ اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل نے اپنے 47 ویں اجلاس منعقدہ 21 اپریل 1948 ء میں ایک قرارداد پیش کی جس کے مطابق کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ رائے شماری سے ہونا قرار پایا۔ اور یہ کام ”اقوام متحدہ کے کمیشن برائے ہندوستان اور پاکستان“ کی زیر نگرانی کرنے فیصلہ کیا گیا۔ اس قرار داد کے ذریعے پاکستانی حکومت کو یہ ہدایت کی گئی کہ وہ کشمیر کے علاقے سے مجاہدین اور ان افراد کا انخلا کرے جن کا تعلق کشمیر سے نہیں جبکہ ہندوستانی حکومت کو ایک لمبا چوڑا ہدایت نامہ جاری کیا گیا جس کے چیدہ چیدہ نقاط یہ ہیں کہ ہندوستان علاقے میں کم سے کم فوج جو امن و عامہ کے لیے ضروری ہے رکھ سکتا ہے اور یہ کہ اقوام متحدہ کا رائے شماری کمیشن کو ہر قسم کی سہولت بمعہ فوجی مدد فراہم کرے گا مگر زیادہ تر ہندوستانی فوج کا کشمیر سے انخلا کردے۔

خطہ کشمیر کی بد قسمتی کہ دونوں اطراف سے قرارداد پر عمل درآمد کے حوالے سے سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا گیا۔ اس عمل کی بڑی ذمہ داری ہندوستانی حکومت پر عائد ہوتی تھی جو اس نے بد نیتی سے سر انجام نہ دی۔ اس کے علاوہ بھی کشمیر پر 3 اور قراردادیں موجود ہیں مگر دونوں طرف سے غیر سنجیدگی یا باہمی عدم اعتماد کی فضا کی وجہ سے نا قابل عمل ہو کر رہ گئیں ہیں۔

31 اکتوبر 2019 ء کو ہندوستانی پارلیمنٹ نے ایک قرارداد کے ذریعے ریاست کشمیر کی خصوصی حیثیت جو اس کو ہندوستانی آئین کے آرٹیکل 370 کے تحت حاصل تھی، خاتمہ کرتے ہوئے دو علاقوں جموں وکشمیر اور لداخ کو ہندوستان کی یونین کا حصہ قرار بنا دیا۔ اس پر پاکستان میں کچھ دن زبانی کلامی احتجاج ہوا مگر پھر سب لوگ بھول بھلا گئے۔ اس وقت کے وزیراعظم عمران خان نے مظفرآباد جا کر آزاد کشمیر کی قانون ساز اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے وعدہ کیا کہ وہ کشمیر کا مقدمہ خود لڑیں گے۔ بلکہ پاکستان نے ہندوستان کی اس حرکت پر ( سیکورٹی کونسل کے پانچ مستقل ممبرز میں سے ایک) چین کو سیکورٹی کونسل کا اجلاس بنانے پر آمادہ بھی کر لیا۔ مگر پاکستانی وزارت خارجہ اور اقوام متحدہ میں تعینات مستقل مندوب نے اپنا ہوم ورک سنجیدگی سے نہ کیا۔ نتیجہ کیا نکلنا تھا؟

اجلاس منعقد ہونے سے قبل بند کمرہ شنوائی میں سیکورٹی کونسل کے نمائندوں کے سامنے پاکستان اپنا مقدمہ ہار گیا۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ پاکستانی وفد نے اس کو مذہبی رنگ دینے کی کوشش کی۔ لہٰذا کشمیر پر سیکورٹی کونسل کا اجلاس نہ بلایا جا سکا۔

ایک بات ذہن نشین ہونی چاہیے کہ کشمیر مذہبی نہیں بلکہ سیاسی مسئلہ ہے۔ عالمی تناظر میں مذہب اسلام کے ساتھ بد قسمتی سے دہشت گردی جڑ گئی ہے۔ لہٰذا جب بھی مذہب کا نام لیا جائے گا۔ عالمی برادری معذرت کر لے گی۔

پاکستان کو زرخیز کرنے والے بڑے دریا کشمیر سے بہہ کر پاکستان میں داخل ہوتے ہیں۔ پاکستانی کی گزشتہ کئی حکومتیں مزید ڈیم نہیں بنا سکیں۔ یہ ذخائر بنائے گئے اپنے نئے بنائے گئے ڈیموں کے ذریعے کنٹرول کر کے ہندوستان پاکستان کی زراعت کا بیڑہ غرق کر دے گا اور یہی حال رہا تو پاکستان کی سر زمین بنجر ہو جائے گی۔

میری ناقص رائے میں ہندوستان اور پاکستان کے مقتدرہ حلقے یہ سمجھتے ہیں کہ کشمیر کا مسئلہ جوں کا توں رہے۔ کیونکہ انھوں نے اپنے اپنے مفادات وابستہ کر رکھے ہیں۔

یاد رہے کہ جس طرح کوئی اپنا والد تبدیل نہیں کر سکتا اس طرح کوئی ملک اپنا ہمسایہ تبدیل نہیں کر سکتا۔ کشمیر پر جنوبی ایشیا کی دو احمق ایٹمی طاقتوں کے مابین تین جنگیں ہو چکی ہیں۔ لائن آف کنٹرول جلد یا بدیر انٹرنیشنل بارڈر بن جائے گی۔ پاکستان سے منسلک نام کا نہ صحیح مگر انتظامی طور پر پاکستان کا صوبہ ہی ہے جیسا کہ گلگت بلتستان۔

ہندوستان کو چاہیے کہ کشمیر سے اپنی فوج واپس بلائے اور کشمیری نوجوانوں کے لیے ہندوستانی یونیورسٹیوں میں برابری کی سطح پر داخلوں کی اجازت دے اور جموں وکشمیر اور لداخ کو باقی علاقوں کی طرح ڈیویلپ کرے۔

پاکستان کو چاہیے کہ وہ ہندوستان کے ساتھ باہمی اعتماد کا رشتہ قائم کرنے کی کوشش کرے اور دریاؤں پر ڈیم بنائے۔

یہ معاشیات میں تقابل کا دور ہے۔ سیانے ممالک اپنی دشمنیاں ختم کر رہے ہیں تاکہ وسائل ہتھیاروں کی خریداری پر خرچ کرنے کی بجائے ترقی و خوشحالی پر خرچ کیے جا سکیں۔ ہندوستان اور پاکستان کو سمجھداری کا مظاہرہ کرنا ہو گا۔ ان دونوں نے اسی خطہ زمین پر رہنا ہے۔ فی الحال کشمیر پر رونے دھونے کی بجائے دونوں ممالک آپس میں تجارت شروع کردی ہیں۔ جب دونوں اطراف سے اربوں ڈالرز کی سرمایہ کاری ہو چکے گی تو وہ اپنے معاشی مفاد کے لیے اپنے تنازعات بات چیت کے ذریعے حل کر لیں گے اور یہ امن دائمی ہو گا۔

Facebook Comments HS