کتاب : پاکستان کا قومی ترانہ
کیا ہے حقیقت کیا ہے فسانہ؟
پاک سر زمین شادباد
کشور حسین شادباد
تو نشان عزم عالیشان
ارض پاکستان
مرکز یقین شاد باد
یہی وہ ترانہ ہے جس کے بغیر کبھی ہماری صبح ادھوری ہوتی تھی۔ آج بھی جہاں بھی یہ ترانہ گونجے محبت کی ایک لہر دل میں شور مچانے لگتی ہے۔
لیکن کیا کبھی آپ نے سوچا کہ یہ ترانہ کس نے لکھا؟ اس کی دھن کس نے تخلیق کی؟ اس سارے پراسیس میں کتنا وقت لگا؟ یہ ترانہ کب لکھا گیا؟ دھن کب تیار ہوئی؟ اس ترانہ کو پہلی بار کن فنکاروں نے پڑھا؟
ان سبھی سوالوں کے جواب ہمیں اس کتاب ”پاکستان کا قومی ترانہ، کیا ہے حقیقت کیا ہے فسانہ؟ میں ملیں گے۔
لیکن پہلا سوال یہ ہے کہ یہ کتاب لکھنے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی؟
2004 میں جگن ناتھ آزاد کے انتقال کے بعد ایک بھارتی صحافی لو پوری نے یہ دعوی کیا کہ ایک انٹرویو میں جگن ناتھ آزاد اس بات کا اعتراف کر چکے ہیں کہ پاکستان کا پہلا ترانہ انہوں نے لکھا تھا۔ مزید یہ بھی کہا کہ قائد اعظم محمد علی جناح کی خواہش تھی کہ وہ ( جگن ناتھ آزاد ) پاکستان کا قومی ترانہ لکھیں۔
پاکستان کے سیکولر اور لبرل طبقے نے اس بات پر من و عن یقین کر لیا۔ لیکن بہر حال ایک debate کا آغاز ہوا یا یوں کہیے بحث و مباحث ہونے لگے۔
عقیل عباس جعفری نے اس موقع پر یہ فیصلہ کیا کہ جوش سے نہیں ہوش سے کام لیا جائے۔
آپ نے بھر پور مطالعہ اور تحقیق کے ذریعے اس بات کو ثابت کیا کہ پاکستان کا پہلا ترانہ حفیظ جالندھری نے لکھا۔
عقیل عباس جعفری صاحب نے سب سے اہم نقطہ یہ اٹھایا کہ پاکستان بننے سے پہلے یا پاکستان بننے کے بعد جن جن شعراء نے پاکستان کے لئے ملی نغمے یا ترانہ لکھے، وہ ان کے شعری مجموعہ کا حصہ ہیں۔ جگن ناتھ آزاد کی کسی بھی کتاب میں پاکستان کے لیے لکھا کوئی ملی نغمہ یا ترانہ موجود نہیں۔
(اس کتاب میں مشہور شعراء کے
لکھے ملی نغمے بھی شامل کیے گئے ہیں ) ۔
اس کے علاوہ عقیل عباس جعفری نے یہ نقطہ اٹھایا کہ چونکہ ان دنوں ابلاغ کا ذریعہ صرف ریڈیو تھا تو ایسا کوئی ترانہ ریڈیو پاکستان سے ضرور نشر ہوا ہو گا۔
آپ نے اس ضمن میں لکھی تمام کتابوں کے حوالوں سے یہ بات ثابت کی کہ 14 اور 15 اگست ( 1947 ) کی شب جگن ناتھ آزاد کا لکھا ترانہ ریڈیو پاکستان سے نشر نہیں کیا گیا۔
اس کتاب میں ایک عام پاکستانی کے لیے بہت اہم معلومات موجود ہے۔
پاکستان کے قومی ترانہ کی دھن کس نے تخلیق کی؟ کتنے دن میں یہ دھن تخلیق کی گئی۔ کن مسائل کا سامنا ہوا۔ کتنا عرصہ لگا۔ سبھی حقائق حوالوں کے ساتھ موجود ہیں۔
قومی ترانے کی دھن احمد علی غلام علی چاگلہ نے 21 اگست 1949 میں ترتیب دی۔ اس دھن کا دورانیہ 80 سیکنڈ تھا اور اسے بجانے میں 21 آلات موسیقی اور 38 ساز استعمال ہوئے تھے۔
10 اگست 1950 میں اس دھن کو قومی ترانے کی دھن کے طور پر منظور کر لیا گیا۔
14 اگست 1954 کو کابینہ کا ایک اجلاس منعقد ہوا جس نے حفیظ جالندھری کے لکھے گئے ترانے کو بغیر کسی رد و بدل کے منظور کر لیا گیا۔
کتاب میں اس بات کا ذکر بھی ہے احمد علی غلام علی چاگلہ قومی ترانے کے finalize ہونے سے پہلے ہی 5 فروری 1953 میں خالق حقیقی سے جا ملے تھے۔ یعنی جب پاکستان کا ترانہ اور آپ کی لکھی دھن قومی ترانے کے طور پر منظور ہوئی تو آپ میں دنیا سے جا چکے تھے۔
14 اگست 2022 میں جب پاکستان کی 75 ویں سالگرہ منائی گئی تو احمد علی غلام علی چاگلہ صاحب کو حکومت پاکستان کی طرف سے نشان امتیاز سے نوازنے کا اعلان کیا گیا۔
پاکستان کا قومی ترانہ پہلی بار 14 اگست 1954 میں ریڈیو سے نشر ہوا۔ ان کو پیش کرنے کے لئے گیارہ فنکاروں کو منتخب کیا گیا۔ جن میں احمد رشدی، کوکب جہاں، رشیدہ بیگم، نجم آرا، نسیمہ شاہین، زوار حسین، اختر عباس، غلام دستگیر، انور ظہیر اور اختر وارث علی شامل ہیں۔
یہ کتاب کئی وجوہات کی بناء پر تاریخی حوالے کی حیثیت رکھتی ہے۔ اسے پاکستان کے ہر گھر میں موجود ہونا چاہیے تاکہ آنے والی نسل کے ذہن میں ابھرنے والے ہر سوال کا حوالوں اور حقائق کے ساتھ جواب دیا جا سکے۔
یہ کتاب ورثہ پبلیکیشن نے چھاپی ہے اور فاضلی بکس کراچی سے حاصل کی جا سکتی ہے۔
اس کی قیمت 800 روپے ہے۔


