غزالی ٹرسٹ

بدھ کی شب ہمیں غزالی ایجوکیشن ٹرسٹ کی جانب سے ایک پرتکلف افطار ڈنر پر مدعو کیا گیا۔ غزالی ایجوکیشن ٹرسٹ کا نام شاید آپ نے سن رکھا ہو۔ میں نے بھی نام سنا ہوا تھا۔ مختصراً یہ معلوم تھا کہ تعلیم کے حوالے سے کام کر رہے ہیں۔ لیکن اس افطار ڈنر پر ان کی ٹیم سے مل کر اور ان کی ملک بھر کے بچوں کے لیے تعلیم کے حوالے سے کی جانے والی کاوشوں کا سن کر

Read more

مارچ کیجیے

پاکستان میں ایک عام انسان کی عمر ایک سروے کے مطابق ساٹھ، ستر برس ہی ہوتی ہے۔ اس سال سانسیں چلتی رہیں تو اس دنیا کے رنگ دیکھتے ہوئے 34 برس بیت جائیں گے۔ اس حساب سے میں اپنی آدھی سے زیادہ زندگی گزار چکی ہوں۔ عورت ہونا، پاکستان میں اپنی آدھی سے زیادہ زندگی بسر کرنا کیسا تجربہ ہے یہی کہانی لکھنے بیٹھی ہوں۔ اگر ذہن پر زور ڈالوں تو ”عورت“ ہونے کا احساس پہلی بار تب ہوا جب لاہور سمن

Read more

ایک شاندار کانفرنس کا احوال جو اس دنیا میں نہیں ہو رہی

ہمیشہ سوچتی ہوں کیا پروین شاکر اب بھی شعر کہتی ہوں گی ۔ پھر خود ہی فیصلہ کر لیتی ہوں کہ آرٹسٹ تو آرٹسٹ ہے کہاں دماغ، دل اور انگلیوں پر کنٹرول رہتا ہو گا۔ جہان بدل جاتا ہے انسان تو وہی رہتا ہے نا؟ پھر سوچتی ہوں پروین شاکر کیسی غزلیں کہتی ہوں گی ؟ سامعین آج بھی ان کی پڑھت کے دلنشیں انداز کے مداح ہوں گے ؟ آج بھی خوشبو کی شاعرہ جہاں جاتی ہوں گی خوشبو

Read more

زرد موسم کی یادداشت

لمحے گزر جاتے ہیں، ان کی یاد رہ جاتی ہے، کچھ یادیں معدوم ہوتے ہوتے زرد ہو جاتی ہیں۔ کچھ ہمیشہ کے لئے تپتی شعلے کی طرح لو دیتی ہیں۔ یہ اچھی بری یادیں ذہن کی رگوں میں خون کے جرثومے کی طرح بہتی رہتی ہیں۔ جیسے دو مختلف راستوں پر یاد کو تپش دیتے مٹی کے گھر ہیں، جنھیں اب مضبوط کر دیا گیا ہے۔ ضروری نہیں کہ ان کے پاس جاؤ، کبھی کبھی دور سے ہی ان کی

Read more

کتاب : پاکستان کا قومی ترانہ

کیا ہے حقیقت کیا ہے فسانہ؟ پاک سر زمین شادباد کشور حسین شادباد تو نشان عزم عالیشان ارض پاکستان مرکز یقین شاد باد یہی وہ ترانہ ہے جس کے بغیر کبھی ہماری صبح ادھوری ہوتی تھی۔ آج بھی جہاں بھی یہ ترانہ گونجے محبت کی ایک لہر دل میں شور مچانے لگتی ہے۔ لیکن کیا کبھی آپ نے سوچا کہ یہ ترانہ کس نے لکھا؟ اس کی دھن کس نے تخلیق کی؟ اس سارے پراسیس میں کتنا وقت لگا؟ یہ

Read more

یاسین آباد کراچی کے باسی، تبدیلی سے تباہی تک کا سفر

کراچی یاسین آباد میں موجود کچرا کنڈی کے ساتھ ہی 376 جھونپڑیاں ہیں۔ جہاں سینکڑوں خاندان آباد ہیں۔ اتوار کو صبح 11 بجے ایک حادثہ ہوا۔ کچرا کنڈی میں لگی آگ نے جھونپڑیوں کو اپنی زد میں کب لیا کوئی نہ سمجھ پایا۔ دیکھتے ہی دیکھتے 200 سے زائد جھونپڑیاں جل کر راگ ہو گئیں۔ اسی رات خدا نے رحمت برسائی جو ان خاندانوں کے لئے زحمت ثابت ہوئی۔ سر کی چھت چھن چکی اور تن پر موجود کپڑے گیلے ہو چکے۔ پیچھلے دو روز سے یہ لوگ سڑک کنارے بیٹھے ہیں اور سردی کی ان طویل راتوں کو فٹ پاتھ پر گزارنے پر مجبور ہیں۔

Read more