پاکستانی سماج، جنسی فرسٹریشن اور پدرسری معاشرے کے غلط تصورات

ہمارا معاشرہ بد ترین جنسی فرسٹریشن کا شکار ہو چکا ہے۔ بالخصوص نوجوان لڑکے ایک جانور کی طرح جنسی فرسٹریشن لے کر سڑکوں پر گھوم رہے ہیں۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے جس سے معاشرہ مسلسل آنکھیں چرا رہا ہے۔ اس کی وجوہات کیا ہیں، اس پر بعد میں بات ہو گی۔ پہلے ایک تازہ واقعہ آپ سے شیئر کرنا چاہوں گا۔
2 فروری کی شام جی ایٹ ون اسلام آباد کی ایک رہائشی لڑکی ایف 9 پارک میں دو نوجوانوں کے ہاتھوں جنسی ہوس کا نشانہ بنی ہے۔ تنہا راہ چلتی لڑکیوں کے ساتھ ایسے واقعات تو بے شمار رپورٹ ہوئے ہیں۔ مگر اس واقعے میں لڑکی کے ساتھ ان کے کولیگ بھی موجود تھے۔ پولیس ایف آئی آر کے مطابق لڑکی ایک رئیل اسٹیٹ فرم میں جاب کرتی ہے۔ اور معمول کے کام کاج سے فارغ ہو کر شام کو ایف 9 پارک میں اپنے کولیگ کے ساتھ موجود تھی کہ دو نوجوان نے انہیں آ کر پکڑ لیا۔
اسلحے کے زور پر ان سے پوچھ گچھ کرنے لگے۔ بالخصوص لڑکی سے سوالات شروع کر دیے کہ تمہارا اس آدمی سے کیا تعلق ہے؟ یہاں اس وقت کیا کرنے آئے ہو؟ وغیرہ۔ لڑکی کے مطابق اس نے دونوں نوجوانوں کو ڈاکو سمجھ کر پیش کش کی کہ جو کچھ لینا چاہتے ہو لے لو، مگر یوں اسلحہ مت تانو۔ مگر نوجوانوں نے اس کی نا سنی اور لڑکی کو اپنے کولیگ سے الگ کر کے جنگل کی طرف لے گئے۔ لڑکی اس دوران مزاحمت کرتی اور ساتھ پیسوں، موبائل کی آفر کرتی رہی لیکن انہوں نے جنگل کی طرف چلنے پر ہی ضد کی۔ چونکہ ان کے ہاتھ میں اسلحہ تھا تو وہ کر ہی کیا سکتی تھی؟
پولیس رپورٹ کے مطابق جنگل میں لیجا کر لڑکے نے اس کو بے لباس کر دیا اور کپڑے اس کی پہنچ سے دور رکھ دیے تاکہ وہ بھاگنے کی کوشش بھی مت کرے۔ لڑکی نے اس دوران ان کم بختوں کو بھائی کہہ کر بھی بلوایا۔ آپ میرے بھائی ہیں، مجھے جانے دیجئے۔ جو کچھ میرے پاس ہے وہ رکھ لیجیے مگر ایسا ویسا کچھ مت کریں۔ لیکن جنسی فرسٹریشن کے مارے جانوروں نے اس خاتون کی ایک نہ سنی اور باری باری اپنی ہوس کا نشانہ بنایا۔
خاتون کے مطابق جنسی عمل کے بعد ان دونوں نوجوانوں نے اسے دھمکی دی کہ کسی شخص کو بھی واقعے سے متعلق مت بتائے۔ اسے 1 ہزار روپے بھی دیے اور اس کے بعد خود جنگل کی طرف فرار ہو گئے۔
مذکورہ لڑکی نے واقعہ کی رپورٹ تھانہ مارگلہ میں درج کروا دی ہے۔ اسلام آباد پولیس واقعے کی تحقیقات کر رہی ہے۔ تحقیقات بھی ہو جائیں گی۔ آج کے جدید دور میں مجرم یقیناً پکڑے بھی جائیں گے۔ بشرطیکہ کسی کرنل، ایم این اے، ایم پی اے کے نوابزادے نہ ہوں۔
اب آتے ہیں اصل سوال کی طرف کہ آخر ایسا واقعہ کیوں پیش آیا؟ تو اس کا جواب سمجھنے کے لئے اس سماج کی جڑوں کو دیکھنا پڑے گا۔
دراصل پاکستان میں مردوں کا عورت کو لے کر بنیادی تصور ہی غلط ہے۔ یہاں عورت مرد کی طرح ایک انسان نہیں بلکہ ایک ’سیکس ٹول‘ ہے جسے خدا نے محض مردوں کی جنسی خواہشات کی تکمیل کے لئے اس دنیا میں بھیجا ہے۔ ایک ایسی نعمت جس کا واحد استعمال جنسی عمل کے لئے مختص ہے۔ جس کی الگ سے بطور انسان ہمیں شناخت قبول نہیں ہے۔ جس طرح پروٹین، وٹامنز اور دیگر غذائی ضروریات کے لئے خدا نے طرح طرح کے گوشت، سبزیاں، پھل اور دالیں ہمارے لئے نعمتوں کے طور پر زمین پر اتاری ہیں بالکل ایسے ہی ہماری تھکان اور جنسی فرسٹریشن، شہوت یا جنسی بھوک مٹانے کے لئے عورت پیدا کی گئی ہے۔ یہ تو رہا وہ پہلا تصور جو ہمارے سماج کی جڑوں میں پیوست ہے۔ ہمارے ہاں جو بچہ پیدا ہوتا ہے، وہ جوانی کی طرف قدم اسی بنیادی غلط تصور کو لے کر بڑھاتا ہے جو اسے ورثے میں اپنے گھر یا سماج سے ملتا ہے۔
اس کے بعد عورتوں اور مردوں کے باہمی اختلاط (میل جول) سے متعلق ہمارا فلسفہ دوسرا بڑا غلط تصور ہے جس کی بنیادی اوپر بیان کیا گیا پہلا تصور ہی ہے کہ ہم عورتوں کو بطور انسان قبول کرنے کی بجائے انہیں ایک ’سیکس ٹول‘ اور مرد کا ملکیتی جنس سمجھتے ہیں۔ بچوں اور بچیوں کے علیحدہ علیحدہ سکول، یہ کون سا فلسفہ ہے؟ بھئی کیا 10 سالہ بچہ اور بچی بھی جنسی کشمکش رکھتے ہیں؟ انسان عقل رکھتا ہے۔ آپ کے بچے بھی عقل لے کر دنیا میں آئے ہیں۔
ان کی تربیت کیجئے نا کہ انہیں جانوروں کی ڈگر پر چلائیں۔ کیا انسانوں کے بچے جنگل میں جنسی فرسٹریشن نکالنے والے کتوں کے جھنڈ یا چرواہے کے ریوڑ ہیں جن پر آپ نے اس قدر پہرے بٹھا دیے؟ پھر آپ کے پہرے بٹھانے سے کیا آپ کے بچوں کے اندر قدرتی جنسی رجحان کیا ظاہر نہیں ہو گا؟ فطرت کے خلاف ضابطے بنانے کی بجائے کیوں نہ فطرت کو قبول کر کے اس سے ہم آہنگ اخلاقیات ترتیب دی جائیں؟ یقین مانیے کہ اگر ہمارے بچے بچیاں سکول کے آغاز سے لے کر کالج، یونیورسٹی، جاب اور پھر ازدواجی زندگی تک ایک دوسرے سے مل کر رہنا سیکھ جائیں تو ہم ایک مہذب معاشرہ بن سکتے ہیں۔
اس کے لئے بچوں پر پر قدغنیں لگانا بند کرنا ہوں گی۔ انہیں قدرتی جنسی مقناطیسی قطب سمجھنا بند کریں۔ ایسے بچے جنہوں نے کبھی مخالف جنس کو قریب سے دیکھا نہ سمجھا، وہ جوان ہوتے ہی لڑکیوں کی عصمت دری ایسے ہی کرتے ہیں جیسے بھوکے کو سیٹ کی ٹوکری مل گئی ہو۔ آپ غور کیجئے اسلام آباد کے ان دو نوجوانوں کے روئیے پر کہ وہ اس لڑکی کو اپنی جنسی خواہشات کی تکمیل کے بعد 1 ہزار روپے بھی دے کر رخصت ہوئے۔ اور پیش کش کے باوجود مال اسباب نہیں لوٹا۔ یعنی وہ باقی ہر اعتبار سے خوشحال تھے سوائے جنسی فرسٹریشن یا جنسی بھوک کے۔ اس جنسی بھوک کی بنیادی وجہ اوپر بیان کی گئی ہماری عورتوں سے متعلق بنیادی سوچ ہی ہے۔
خواتین سے متعلق اس بنیادی غلط تصور کو بدلنے کے لئے بچوں کو پہلے گھر سے تربیت دیجیے۔ لڑکی کو برتن مانجھنے، جھاڑو لگانے کی تربیت اور لڑکے پر ہی گھر کی اکانومی کا بوجھ مت لا دیں۔ بچے اور بچی میں تقسیم ختم کرنے کا آغاز گھر سے کیجئے۔ اپنے بیٹے کو سکھائیے کہ بہن کی عزت کیسے کرنی ہے نا کہ اسے کم سنی سے ہی بہن کا محافظ بنا کر جوان کریں۔ لڑکی کی عزت کی رکھوالی اگر لڑکا ہی کر سکتا تو ایف نائن پارک میں لڑکی کا کولیگ کیسے ناکام ہوتا؟
گھر کے بعد سماج کی ذمہ داری بنتی ہے۔ اساتذہ کو صرف نصاب پڑھانے کی ورکشاپس ہی نہ کروائیں۔ انہیں بھی سکھائیے کہ کیسے بچوں اور بچیوں کو ایک ساتھ پڑھایا جا سکتا ہے۔ اور تعلیم کے ساتھ ساتھ دونوں کی تربیت بھی کی جا سکتی ہے۔ اسی طرح جب بچے بڑے ہوتے جائیں تو انہیں ان کے جنسی رجحان بارے رہنمائی دینا والدین کی ذمہ داری ہے۔ بچوں اور والدین میں کمیونیکیشن ہونی چاہیے۔
مختصر یہ کہ آج جس جنسی فرسٹریشن کا شکار ہمارا معاشرہ بالخصوص نوجوان بن چکا ہے، اس کا واحد حل اب یہی ہے کہ ہم حقیقت کو سمجھیں۔ پولیس، سزائیں، تھانے، جیل اور عدالتیں مجرموں کے لئے ہوتی ہیں۔ یہ تربیت گاہیں نہیں ہیں۔ معاشرہ جس جنسی گھٹن کا شکار ہو چکا ہے، اب وقت آ گیا ہے کہ عورتوں سے متعلق بنیادی سوچ بدلی جائے۔ انہیں ایک ’جنس‘ کی بجائے انسان سمجھا جائے۔

