نئی ہواوں کی جستجو

پچھلی صدی کو بلاشبہ ایجادات کی صدی کہا جا سکتا ہے۔ نت نئی بدلتی ٹیکنالوجی نے ہر شے کی ہیئت بدل دی۔ مشینوں کی ریل پیل نے جہاں کام آسان اور زندگی کی رفتار تیز کی ’وہیں حضرت انسان میں اپنے جذبات اور احساسات کی بے وقعتی کا احساس بھی بیدار کر دیا۔ گھنٹوں کی شفٹوں میں کام کرنے والے ایک دوسرے سے میلوں دور ہونے لگے۔ اس نے انسانی نفسیات پہ اس قدر گہرا اثر ڈالا کہ اس پہ باقاعدہ تحقیق ہونے لگی کہ کیسے انسان اس تیز رفتاری میں بھی اپنا اصل قائم رکھ سکے۔ اور اس بھاگم دوڑ میں بھاگتے بھاگتے کہیں اتنا دور نہ نکل جائے کہ اپنے جیسے ہی دیگر انسانوں سے رابطہ کٹ جائے۔
بالخصوص اس دور میں انسان کے کرب ’باطنی تنہائی‘ تخیلاتی درد ’ناکامی کے خوف‘ جیت کی امید ’بکھرتی خاندانی اکائی‘ مضمحل ہوتے اعضاء کی داستاں اور اپنی ہی پرجاتی سے دوری جیسے موضوعات زیربحث رہے اور کئی تحقیقی مقالوں کا عنوان بنے۔ ان تحقیقات سے نئی تخلیقات کے وجود کا ظہور ہوا۔ معاشرے کو ایک نئی رمق ملی کہ کیسے تیز دوڑتی مشینوں میں انسان کو انسان ہی کے قریب لایا جائے۔
جیسے جیسے ترقی کی رفتار بڑھتی رہی ویسے ویسے اندرونی خلفشار بھی بڑھتا رہا ’اپنے جیسے انسانوں سے آگے نکل جانے کی دوڑ نے انسان کو مشینوں سے بھی آگے نکلنے کی دوڑ میں ڈال دیا۔ اس دوڑ نے نئی منازل تو ضرور طے کروائیں لیکن بعضوں کو بعض سے اور بعضوں کو خود سے ہی دور کر دیا۔ ہر کسی کا‘ بعض ’اپنا اپنا ہے اور اس‘ بعض ’کی اہمیت و وقعت بھی اپنی اپنی ہے لیکن باز پھر بھی نہیں آتا۔ انسانوں میں دوری کی خلیج بڑھنے لگی تو اس کا پر کرنا ناگزیر ٹھہرا۔
بابا جی اشفاق صاحب فرماتے تھے کہ کیسے ولایت میں دوسرے انسان کا دکھ سننے کی روایت پڑی۔ اگرچہ سننے والا اس کے لئے اجرت وصول کرتا تھا لیکن اس سے سنانے والے کو ایک ایسا شخص میسر آتا تھا جس کے سامنے وہ اپنی سوانح عمری کی پوٹلی کھول کے بیٹھ جاتا اور اپنے مقررہ وقت تک بیٹھا دل ہولا کرتا رہتا۔ اس کے برعکس اس وقت ہمارے ہاں کی مشرقی روایات ’معاشرتی بصیرت اور تشویشی ادراک کا معیار نہایت اعلیٰ درجے پہ تھا۔ حتیٰ کہ ہمارے ہاں کے عام معاشرتی فنون بھی انسانی ہمدردی کی بنیاد پہ قائم تھے۔
مٹیاروں کے ترنجن کا کٹھ ہو یا جوانوں کے لئے بیساکھی کا میلہ ’دادیوں کے رضائیوں کے نگھندے (ٹانکے ) ہوں یا اناج کا پینڑھ (صفائی) ‘ شرط لگا کے بیاسا پار کرنا ہو یا پنچایت میں ایک ہی حقے سے باری لگاتے لوگ ’یہ سب پیڑیوں سے آپس میں جڑے تھے‘ انہیں احساسات کو الفاظی لباس پہنانے کی ضرورت نہیں ہوتی تھی ’معمول سے ہٹا ہوا کوئی بھی کام‘ اشارہ ’لہجہ اندرونی بے چینی کا پتا دے دیتا تھا۔ ہمسائے سے نمک محض اس لئے مانگ لیا جاتا تھا کہ ان کو اگر کچھ چاہیے ہو تو مانگنے میں جھجک آڑے نہ آئے۔
موجودہ دور کے دگرگوں ہوتے حالات میں پہلے سے زیادہ چوکنا رہنے کہ ضرورت ہے۔ ایک دوسرے کے حال سے واقفیت ’گاہے بگاہے ملاقات‘ غیر محسوس انداز سے حاجت روائی ’چھپ کے کی گئی نیکی‘ بندہ پروری ’صلہ رحمی اور محبت و اخوت ہی معاشرے کو مشکلات کے بھنور سے نکلنے میں مدد دے سکتے ہیں۔ جیسے سب انسان برابر نہیں‘ ایسے ہی سب کام سب کے لئے نہیں ہیں۔ اپنے حصے کا دیا جلانے کی کوشش ضرور کرنی ہو گی ورنہ احمد فراز تو فرما گئے کہ :
میں آج زد پہ اگر ہوں تو خوش گمان نہ ہو
چراغ سب کے بجھیں گے ہوا کسی کی نہیں

