اسٹینڈ اوپر کر لیں
ایک موٹر سائیکل سوار تیزی سے منزل کی جانب رواں ہے۔ روڈ پر رش بھی ہے اور کئی مقامات پر گہرے گڑھے بھی، ساتھ ہی ساتھ موٹر سائکل سوار نے موٹر کا ”اسٹینڈ“ دھرتی کے ساتھ جوڑ رکھا ہے۔ اطراف میں ٹھہرے لوگ گاہے بگاہے ہاتھ کے اشاروں اور تیز آوازوں سے سوار کو ”اسٹینڈ چک لو“ ( اسٹینڈ اوپر کر لیں ) کی تلقین کر رہے ہیں۔ آس پاس سے گزرتی گاڑیوں کے ڈرائیور بھی نیچے لگا اسٹینڈ دیکھ کر موٹر سائکل سوار کو ہارن دے رہے ہیں۔ سبھی دیکھنے والوں کو کھٹکا ہے کہ نیچے لگا اسٹینڈ جلد کسی حادثے کا باعث بنے گا۔ سب کی طرف سے پیشگی اطلاع کے باوجود موٹر سائکل سوار اسٹینڈ کو نیچے ہی کیے منزل کی جانب رواں ہے۔ کیا یہ سوار اپنی منزل تک پہنچ پائے گا؟ کیا ایسے حالات میں کسی بڑے حادثے کو ٹالا جا سکتا ہے؟ آئیے جاننے کی سعی کرتے ہیں۔
لمحہ موجود میں جو بے یقینی کی فضا مملکت خداداد میں قائم ہے کیا یہ فضا اچانک قائم ہو گئی یا اس کے قائم ہونے میں دہائیوں کی عرق ریزی شامل ہے، ماضی کی کچھ جھلکیوں کو دیکھ لینا معاملے کی سمجھ کے لیے شاید مدد گار ثابت ہو سکے۔
سرد جنگ کی اٹھان سے ہی نومولود ریاست پاکستان نے سوشلسٹ بلاک کے خلاف سرمایہ دارانہ بلاک میں شمولیت اختیار کی، سیٹو اور سینٹو جیسے معاہدوں میں شمولیت بھی سامراج کے ساتھ، سوشلسٹ بلاک کے خلاف کی۔ سرد جنگ کی حدت کے دوران ”U۔ 2“ جاسوسی طیارے کی پرواز کے لیے اپنی سرزمین ( پشاور، پاکستان) مہیا کرنا بھی سامراج کی گڈ بک میں آنے کے لیے، ساٹھ کی دہائی میں پاکستان کی جانب سے بطور حلیف ایک انتہائی قدم تھا۔ شاید اس وقت بھی یہ بات مقتدرہ کو واضح تھی کہ ہمیں اپنی معاشی ساکھ سرمایہ دارانہ طرز پر استوار کرنا ہوگی۔
سرمایہ دارانہ بلاک میں شمولیت کی بدولت اس وقت پاکستان کی خاصی امداد بھی کی گئی۔ سامراج نے ہمیں سراہا، ہماری قدر کی، ان کا ہمیں اپنانا، ہمیں اچھا لگا۔ سرد جنگ کے دور کی ایک یاد صدر پاکستان ایوب خان کا دورہ امریکا ہے۔ کہا جاتا رہا ہے اور تاحال کہا جاتا ہے کے جو قدر و منزلت صدر پاکستان کو اس وقت امریکہ میں ملی شاید ہی کسی دوسرے ملک کے سربراہ کو ملی ہو۔ صدر پاکستان کا جہاز جب امریکی ہوائی اڈے پر اترا تو امریکی صدر جان ایف کینیڈی، امریکی خاتون اول جیکلین کینیڈی اور امریکی وزیر خارجہ، صدر پاکستان کے استقبال کے لیے پہلے سے کھڑے تھے۔ اندازہ کیجئے کے ماضی قریب میں سابق حکومت کی سبکی دوران بحث مخالفین اس لئے بھی کرتے کرتے رہے کہ امریکی صدر، وزیر اعظم پاکستان کا فون اٹھانے سے کنی کترا رہے ہیں۔
سرد جنگ کے اختتام کے بعد جب سامراجی طاقتوں کو ہماری ضرورت نہ رہی تو ہمیں دوبارہ تاریک راہوں میں اکیلا چھوڑ دیا گیا۔ سرد جنگ کے دوران سامراج کیمپ میں شمولیت سے جو معاشی مفادات حاصل کیے گئے ان کا زیادہ تر حصہ سیاستدانوں اور عسکری طالع آزماؤں نے اپنے ذاتی مقاصد اور مفادات کی گلہ بانی میں صرف کیا۔ عام آدمی کی بہتری اور معاشی اصلاحات سے یکسر انحراف کیا گیا۔ اب جب سامراج کو دینے کے لیے کچھ نہ بچا تو سامراج نے بھی ہماری خیر کی خبر لینا چھوڑ دی۔ ہم اپنے تئیں امریکہ کو دل ہی دل میں یہ کہہ کر پشیمان کرتے رہے کہ ”کبھی ہم میں تم میں بھی چاہ تھی“ ۔ اور امریکہ خود کلامی میں گویا ہوتا کہ مجھے ذرا ذرا بھی یاد نہیں۔
پاکستان کی خارجہ پالیسی کے اصول رونق قرطاس تک تو انتہائی دلچسپ ہیں جس میں ریاست کو عالمی سطح پر ایک جدید، جمہوری اور اسلامی ریاست کے طور پر اجاگر کرنا، تمام ملکوں کے ساتھ بہتر تعلقات استوار کرنا خاص طور پر بڑی علمی طاقتوں اور قریبی ہمسایہ ممالک کے ساتھ، بیرون ممالک مقیم پاکستانیوں کے مفادات کا تحفظ کرنا، اقتدار اعلیٰ کی حفاظت کرنا اور عالمی علاقائی سالمیت کا پاس کرنا ساتھ ہی ساتھ جارحیت کے بجائے امن کی راہ سے تنازعات کا حل کرنا شامل ہے۔
اس کے ساتھ مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اجاگر کرنا بھی بنیادی خارجہ اصولوں میں شامل ہے۔ آئین کی شق چالیس بردار اسلامی ممالک کے ساتھ خصوصی تعاون کے فروغ کا اصول وضع کرتی ہے۔ مذکورہ بالا اصول بیان کرنے کی حد تک تو اپنے اندر خوش گوار احساس رکھتے ہیں مگر ان تمام اصولوں کی عملداری سے ہنوز اجتناب ہی برتا گیا ہے۔ اقتدار اعلیٰ کی بات کریں تو کسی ریاست کے ہونے کا بنیادی جزو ہوتا ہے۔ ان گنت تاریک دور اس ریاست نے دیکھے جب اقتدار اعلیٰ کو کچلا گیا۔
ریاست کو بطور پرزہ عالمی طاقتوں کے آگے پیش کیا گیا۔ تمام ممالک کے ساتھ تعلقات کی بجائے زور محض امریکہ پر رکھا گیا۔ ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات براستہ واشنگٹن استوار کرنے کی راہ لی گئی۔ سمندر پار پاکستانیوں کو ایک نفسیاتی الجھاؤ زدہ ریاستی شناخت دی گئی، عالمی سطح پر ریاست کا تعارف ایک بد امن خطے کے طور کروایا گیا۔ بردار اسلامی ممالک میں ایران اور سعودی عرب کے ساتھ تعلقات ایک کے ہو جانے اور ایک کو کھو جانے جیسے رہے۔
نائن الیون واقعے کے بعد آخر امریکہ کو ہماری بھولی یاد آ ہی گئی۔ ایک مرتبہ پھر ہماری پھرتیاں ادھار پر مانگ کی گئی۔ تب کے مطلق العنان حکمران پرویز مشرف نے ترجیحی بنیادوں پر ایک مرتبہ پھر امریکی سنگ کر لیا اور صنم سے آشنائی کا رنگ مانگ میں پھر بھر لیا۔ وقت یہ بھی گزر گیا۔ اس دوران جو مالی امداد ملی وہ بھی حکمرانوں کی آنیوں جانیوں کی بھینٹ چڑھ گئی۔ بدلے میں عدم استحکام ملا، چولیں کھلی ریاست کو مزید افغان مہاجرین کی آباد کاری کا بوجھ ملا۔ ملکی ساکھ تباہ ہوئی وہ الگ اور معیشت کا دھڑن تختہ وہ الگ۔
یہاں یہ بات واضح کرنا انتہائی اہم ہے کہ ہمارے یہاں پائے گئے پاپولر بیانیے کے برعکس یہ بھی دیکھ لیجیے کے اس افغان جنگ نے امریکی معیشت پر کیا برے اثرات مرتب کیے۔ 2001 میں جب امریکا افغانستان میں داخل ہوا تو اس کی مجموعی قومی پیداوار گیارہ ہزار ارب ڈالر تھی جبکہ 2021 میں انخلا کے وقت یہ دوگنا ہو کر بائیس ہزار ارب ڈالر تھی۔ جنگ امریکہ نے لڑی ہم محض حلیف تھے ہماری معیشت کا جنازہ نکل گیا اور امریکی معیشت 2.26 ٹریلین ڈالرز کھپانے کے باوجود آپ کے سامنے ہے۔
اب آئیے جانی نقصان کی جانب۔ اس بیس سالہ قیام میں امریکی افواج کے تقریباً 2400 فوجی مارے گئے۔ یعنی فی سال 120 فوجی۔ وہ الگ بات ہے کہ کسی ایک جان کی قیمت کا تعین کرنا بھی ممکن نہیں ہے۔ اس المیے میں امریکی جانوں کا زیاں ایک ڈیڑھ فیصد سے بھی کم رہا لیکن اس کے بعد بھی امریکی میڈیا پر یہ سوال اب بھی اٹھ رہے ہیں کہ ان جانوں کی قربانی آخر کس مقصد کے لیے دی گئی۔
دوسری طرف اس دور میں تقریباً ستر ہزار افغان فوجیوں اور پولیس اہلکاروں نے اپنی جان دی۔ پچاس ہزار سے زائد جانوں کا نقصان امریکا مخالف دھڑوں نے برداشت کیا جبکہ شہری اموات کا تخمینہ پچاس ہزار سے ایک لاکھ کے بیچ ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اس جنگ کے اثرات جو معاشی، سیاسی اور سماجی اثرات پاکستان پر پڑے اس کا کوئی شمار نہیں۔ تقریباً ساٹھ ہزار سے زائد جانوں کا ہم نے نقصان اٹھایا۔ کیا کوئی حساب دے گا کہ اس انسانی نسل کی بلی کا آخر کیا مقصد تھا؟
میر نے جس عطار کے لونڈے سے دوا لینے کا تذکرہ کیا تھا ہم اسی راہ پر چل نکلے ہیں آج بھی عالمی مالیاتی فنڈ کی شرائط میں نرمی کی استدعا ہم ہمراہ امریکہ ہی کر رہے ہیں یہ الگ بات ہے اس استدعا کا فائدہ تاحال کوئی نہیں ہوا اور اس قوم پر لدے قرض پر مزید قرض حسنہ کا بوجھ جوں کا توں ہے بلکہ آئے دن زیادہ ہو رہا ہے۔
غیر واضح خارجہ پالیسی کے باعث دیگر ریاستوں کے ساتھ ہمارے شکوے تاحال جاری ہیں۔ امریکہ کی خوشنودی میں دائم وضع کردہ خارجہ پالیسی کے باوجود ہم امریکہ کے لیے قابل استعمال نہیں رہے۔ اور اب ماضی میں قابل استعمال رہنے کا رنگین دور یاد کر کے ہرجائی کی فراموشی پر سیاہی مل کر سکون کشید کر رہے ہیں۔ امریکہ کے ساتھ دوستی میں ریاست کو آخری حد تک لے جانے اور ریاست کی سبکی کروانے والوں سے جب بطور ”پرزہ استعمال ہوتے رہنے کا گلہ عوام کی جانب سے کیا جاتا تو مقتدرہ خاص طور پر عسکری حکام کا جواب ہمیشہ دلچسپ ہوتا۔ اس سوال کا جواب ہوتا کہ ”امریکہ گھر واپسی کے لیے اپنے ٹینک گھسیٹ کر لے جانے کے لیے گزرے گا تو ہماری جی ٹی روڈ اور ہماری گلی، ہماری حدود سے نا، بس تبھی دبوچ لیں گے، حساب تو تب ہو گا“ ۔ امریکہ ہاتھ جھاڑ کر جا چکا اور ہم تب سے روڈ پر کنٹینر لگا کر ہاتھ میں چابک لیے انتظار میں کھڑے ہیں۔
مزید پشیمانی یہ بھی رہی کے خارجہ پالیسی وضع کون کرے گا اور عملداری کون کروائے گا؟ حکمران یا عسکری حکام؟ یہ سوال تاحال کائنات کے رازوں میں سے ایک راز ہی رہا ہے۔
شروعات میں جس موٹر سائیکل سوار کا ذکر کیا گیا تھا وہ سوار اپنی خصلت شاید اس ریاست کے کرتا دھرتاؤں کو بھی منتقل کر گیا ہے۔ یقیناً اس سوار کا کسی حادثے کی زد میں آنا نوشتہ دیوار تھا اور ہے اور یہی حال اس ریاست کا بھی ہو چکا۔ اگر موٹر سائیکل سوار کا محض ایک دن کا اس روش پر سفر حادثے کا پیش خیمہ ہے تو بتائیے سات دہائیوں کی ریاضت کا نتیجہ کیا ہو گا؟ ریاست کا سات دہائیوں پر مشتمل سفر جس میں خارجہ پالیسی، تحفظ اقتدار اعلیٰ، معاشی ترقی اور امن و امان وغیرہ جیسے امور شامل ہیں کو چلانے میں اسٹینڈ ہمیشہ دھرتی سے لگا رہا ہے۔
ریاست اپنی ساکھ بہتر کرنے کے بجائے ہمیشہ اپنا آپ ایک رنگروٹ کی طرز پر پیش کرے گی تو ہنگامی صورت سے نمٹنے کے بعد رنگروٹ کی ضرورت نہیں ہوگی یہ بات حکمرانوں کو سمجھنا ہوگی۔
صدر پاکستان کا ساٹھ کی دہائی میں استقبال اور ماضی قریب میں وزیر اعظم پاکستان کو فون کال سے اجتناب کے فرق کو حکمرانوں کو سمجھنا ہو گا۔ یہ قربت اور دوری کسی فرد کی ذاتی حیثیت کی متقاضی ہرگز نہیں تھی نہ ہے بلکہ یہ قربت اور دوری ریاست کی مجموعی ساکھ کے حوالے سے ہوتی ہے۔ قربت کے لمحے میں ریاست کے پاس دینے یا بیچنے کو بہت کچھ تھا جو کہ اب نہیں ہے۔
امید تو کی جا سکتی تھی کہ حکمران اپنا اسٹینڈ اوپر کر کے سنجیدگی اور سمجھ داری سے اگلا سفر کریں گے مگر واقعات کچھ اور ہی پتہ دیتے ہیں۔ یہاں حزب اختلاف جب اقتدار میں آ جائے تو وہ سفاکی میں گزشتہ حکومت کے جبر اور سفاکی کو بھی روند کر نئی تاریخ رقم کرتی ہے۔ ریاست اپنی بقا کی جنگ میں خم دار ہو گئی اور یہاں وہی پکڑ دھکڑ، پریس کانفرنسوں میں مغلظات، توڑ دیں گے منجھی ٹھونک دیں گے وغیرہ کی تکرار۔ پشاور پر نوحہ لکھنے کو ہاتھ بانجھ ہیں اور دل اپنی معمول کی دھڑکن سے بھی بیزار ہے۔
غالباً کوئلوں کی دلالی میں کیا گیا کالا منہ ہم خود بھی دیکھنے سے ڈر رہے ہیں۔ یہ ڈر کتنا واجبی اور کتنا حقیقی ہے اس کا پتہ وقت ہی دے گا۔ آپ کو کیا لگتا ہے صاحب اقتدار، فیصلہ ساز اگلے سفر میں اسٹینڈ اٹھا لیں گے یا یہ سفر دائرے کا سفر ہی رہے گا؟ جواب کے بجائے اختتام میں ایک اور تشنہ سوال اس لیے کے اس سوال کے جواب میں رنگ آپ، میں، ہم سب، مل کر بھریں گے


