تبصرہ: افسانہ ”ناف کے نیچے“
مصنف: صغیر رحمانی وارثی
تبصرہ نگارہ : لبابہ نجمی
کہانی اپنے عنوان کے پس منظر میں طبقاتی اور مذہبی تفرقات کے ساتھ ملک گیر سیاسی ابتری کو ظاہر کرتی ہے۔ کہانی کے آغاز کے لیے مصنف مقام ”شمالی ٹولے کا ایک تاریک کمرہ“ منتخب کرتا ہے۔ ابتدائی منظر میں مرکزی کردار خواب میں دیکھتا ہے کہ اژدھا اسے اپنے دہانے میں دبا کر نگلنے کی کوشش میں ہے اور پھر اس کی آنکھ گھبراہٹ سے کھل جاتی ہے۔ وہ ادھر ادھر پریشانی کے عالم میں آنکھیں کھول دیتا ہے مگر خواب کی ہیبت کا اثر اس قدر زیادہ ہے کہ اس کے جسم کا ایک ایک عضو پھوڑے کی شکل میں ٹیس رہا تھا۔
پسینے سے تر بہ تر اور پیاس کی شدت سے نڈھال۔ وہ یہ خواب کئی راتوں سے تواتر کے ساتھ دیکھ رہا تھا جس کی ہیبت کئی دنوں تک مسلط رہتی۔ ”اس کی عمر کوئی پینتیس سال تھی، اکہرا جسم اور خواب میں ڈنڈوں کی مار اس کے جسم کے اندر تک حلول کر گئی تھی۔“ اس کی بیوی نے ہلدی اور چونے کے مرکبات پورے جسم پر مل تو دیے تھے لیکن اسے یہ بھی تنبیہ کردی تھی کہ جب جب پروا چلے گی، انگ انگ ٹیسے گا اور یہی اس کے ساتھ ہوا۔ دفعتاً اسے اذان کی مانوس آواز سے رات کے ڈھلنے اور نور کا تڑکا پھیلنے کا احساس ہوا کہ یہ آواز بلا تفریق اپنے معبود کی عبادت کے لیے پکارتی ہے مگر اسے ایک ایک منظر یاد آیا۔
نکیلے گنبد وہی عبادت گاہ، چارپائی، چپل، ڈنڈے۔ اس کے باپ کی موت بھی اسی ٹیس سے واقع ہوئی تھی جب ایک مرتبہ ٹولے کے سامنے والی سڑک سے سواری بڑے گھر سے باہر نکلی تھی اس کا باپ نشے کی حالت میں راستے میں بیٹھا رہ گیا تھا۔ سواری تو نکل گئی مگر شام کو بلاوا آ گیا اور بڑے گھر کے دالان میں ستون کے ساتھ لگا کر اتنے ڈنڈے برسائے گئے کہ وہ نیم مردہ ہو کر چل بسا۔ بے چارے سے راہ میں بیٹھنے کی غلطی جو ہو گئی تھی۔ کہانی فلیش بیک میں بنی گئی ہے کہ کسی کم ذات کا یوں اشراف کے راستوں میں بیٹھنا طوفان کا پیش خیمہ ہوتا ہے۔
کم ذات سے مذہب بھی خطرے میں پڑتا ہے اور مذہب خطرے میں ہو تو معاشرہ خطرے میں گھر جاتا ہے اس لیے ہر شخص کی حد یہاں لوگوں نے مقرر کر رکھی ہے۔ اس شخص نے مذہب کے پیروکاروں کی راہ میں بیٹھ کر ان کی عزت کو خطرے میں ڈال دیا تھا اور وہ مستحق اسی کا تھا کہ اس پر ڈنڈے برسائے جائیں اور ہمیشہ کی نیند سلا دیا جائے۔ مرنے سے پہلے اس کے باپ نے اسے نصیحت کی تھی کہ ”ہم ناف کے نیچے والے ہیں ناف کے اوپر والوں کی خوشنودی حاصل کرنا ہی فرض ہے، مجھ سے بھول ہو گئی، تم ایسی بھول نہ کرنا، اپنی حد کو عبور نہ کرنا۔“
میرے باپ کو اس کے باپ نے یعنی میرے دادا نے اور میرے دادا کو اس کے باپ نے یعنی میرے پردادا نے نصیحت کی تھی۔ یہ نصیحت نسل در نسل چلی آ رہی تھی اور یہی مجھے اپنے بیٹے کو کرنی تھی۔ مصنف لکھتا ہے کہ ایک دن وہ گاؤں سے واپس آ رہا تھا کہ راستے میں بارش اور کیچڑ نے گھیر لیا۔ وہ بارش سے بچنے کے لیے نیلے گنبد کے چبوترے پر چڑھ گیا مگر یہ بات پھیل گئی کہ اس نے چبوترے کو ناپاک کر دیا ہے اور اسے ڈنڈوں سے پیٹ ڈالا۔
اس کی بیوی منتیں کرتی رہی مگر اس کی ایک نہ سنی۔ کردار جو راوی بنا اپنی کہانی سنا رہا ہے اس نے سوچا کہ وہ اپنے بیٹے کو اپنی جدی پشتی نصیحت نہ سونپے گا مگر وہ کیا دیکھتا ہے کہ ایک اژدھا اس کے بیٹے کو خونخوار نظروں سے دیکھ رہا ہے۔ وہ زخمی جسم کے ساتھ باہر نکلا۔ نسیم سحر کی روشنی کو اس نے اپنے جسم میں جذب کیا اور اپنے ٹولے سے نکل کر گاؤں میں داخل ہونے والی سڑک پر آ گیا۔ نیلے گنبد کی مسجد میں نماز کی اجازت لے کر نماز ادا کرنے کے بارے میں ایک شخص سے پوچھا جو مسجد میں نمایاں تھا۔
اس نے کہا کہ بھائی یہ عبادت گاہ میری نہیں یہ تو اس کی ہے جو ایک ہے اور سارے جہاں کا مالک ہے۔ راوی نے پوچھا کہ اگر وہ بھی اس ہستی کو ماننے لگے تو یہاں عبادت کر سکتا ہے؟ اس کے بعد اس نے یہاں عبادت کی۔ جب وہ یہاں سے نکلا تو ہر شخص اسے اپنی جماعت میں شامل کر لینا چاہتا تھا۔ ہر شخص نے اسے برتر سمجھ کر اپنی جماعت میں شامل ہونے کا مشورہ دیا۔ مصنف یہاں لکھتا ہے کہ بالآخر ایک جماعت نے کہا کہ وہ ہماری اعلی خصوصیات کی بنا پر ہم میں داخل ہو رہا ہے سب نے خوش آمدید کہا۔
دوسری جماعتوں اس شخص کے اپنی جماعت کے تنازعے پر لڑ پڑیں۔ کہانی نگار راوی کی مدد سے اب ایک سیاسی پارٹی کے دفتر کا منظر پیش کرتا ہے کہ سب پارٹی کارکن میٹنگ کے انتظار میں ہیں اور پارٹی کو مشتہر کرنے کے لیے نئی حکمت عملی طے ہو رہی ہے۔ تمام کارکنان کا جوش ٹھاٹھیں مار رہا تھا۔ سب نے کہا کہ ہم آپ کے وفادار ہیں۔ یہ کہتے ہوئے دو مخصوص کارکنان کو لگا کہ ان کے جسم کے عقبی حصے میں کوئی زائد عضو نمودار ہو آیا ہے اور تیزی سے ہل رہا ہے۔
رہنما کے ہونٹ مسکراہٹ سے پھیل گئے۔ راوی اس گاؤں سے اچانک غائب ہو گیا۔ اس کے اثاثے گھر میں پڑے تھے۔ تمام جماعت کے افراد اس کی گم شدگی میں ایک دوسری جماعت پر الزام لگا رہے تھے۔ وہ تو چار خانے کی لنگی اور تیز خوشبو لگائے واپس آ گیا سب حیران تھے مگر سب نے ایک دوسری جماعتوں کے گھروں کو جلا دیا تھا۔ ہر طرف چیخ و پکار اور نوحہ تھا۔ تمام ہلاک شدہ افراد کو قبرستان میں دفنایا جا چکا تھا۔ مگر ان دونوں میاں بیوی اور بچے کا لاشہ اس لیے اس قبرستان میں دفنایا نہیں جا سکا اور تعفن پیدا ہونے لگا۔
اس لیے کہ یہ ناف سے نیچے والے تھے اور سب ناف کے اوپر والے۔ عالم ارواح میں تینوں باپ، ماں اور بیٹا بیٹھے ہیں۔ باپ نے بیٹے کی جانب مسکرا کر دیکھا اور پشتینی نصیحت اپنے بیٹے کو سونپ دی۔ جسے وہ سونپنا نہیں چاہتا تھا۔ مصنف نے اس علامتی افسانے کی معنویت میں فرقہ واریت اور سیاسی جماعتوں کی منافرت کو موضوع بنایا گیا ہے۔ یہ دونوں طرز کی جماعتیں اپنی اپنی جماعت کے حامیوں کی تلاش اور انکار پر جو سلوک کرتے نظر آتے ہیں یہ افسانہ ان کے رویوں کی سختی کو پیش کرتا ہے۔
ہمارا ملک ان گروہ کی جکڑ بندیوں میں نسل در نسل چلا آ رہا ہے اور سب سے افسوس ناک پہلو یہ بھی ہے کہ ہم اپنے شعور اور لا شعور دونوں میں ان جماعتوں کی پرداخت کرتے چلے آرہے ہیں۔ مذہبی طور پر جہاں رنگ و نسل کے تمام تفرقات مٹنے چاہئیں وہیں یہ فرق کا مٹانے والی جماعتیں خود افضل ترین بن بیٹھی ہیں۔ مزید یہ کہ مسجدیں اور قبرستان تک جدا کر دیے گئے ہیں۔ مصنف لکھتا ہے کہ سیاسی جماعتیں اپنے ووٹرز کی تلاش میں مصروف رہتی ہیں اور اپنے سیاسی منشور پر اپنے کارکنان سے ایسے عمل کرواتی ہیں کہ جس طرح کتا اپنے مالک کے اشارے پر دم ہلاتا ہو۔
کہانی اپنے انجام تک پہنچ کر معنویت میں اضافہ کرتی ہے جب عالم برزخ میں دنیا کے دھتکارے اور کچلے ہوئے افراد اپنی اگلی پشتوں تک یہ نصیحت کرتے ہیں کہ ہم ناف سے نیچے والے افراد ہیں جنھیں عالم بالا میں ہی عزت نصیب ہو سکے گی مگر دنیا میں ان کی نسلیں اس ہی طرح مذہبی اور سیاسی جماعتوں کے بھینٹ چڑھتی رہیں گی۔ مصنف نے عنوان ”ناف کے نیچے“ اژدھے، شمالی ٹولے کا ایک تاریک کمرہ اور عالم برزخ کی علامات استعمال سے کہانی کی مقصدیت اور تاثر میں اضافہ کیا ہے۔ یہ کہانی متنازعہ موضوع رکھتی ہے۔ مذہب پر بات کرنا کئی عقائد و نظریات کی وجہ سے بحث طلب ہے ہی تاہم سیاست پر بھی کچھ کہنا جرات مندی سے کم نہیں اس لیے مصنف صغیر رحمانی کی بے باکانہ کاوش کہی جا سکتی ہے۔


