ناول ”الکیمسٹ“ فرد کو ملنے والے غیبی اشارات پر عمل کرنے کا پیغام دیتا ہے

جائزہ نگار: لبابہ نجمی ناول الکیمسٹ پاؤلو کوہیلو کی زندگی کی اس روحانی بیداری کا عکس کہا جاسکتا ہے جو اس کے کہنے کے مطابق شمالی اسپین کا سفر تھا جو اس نے 1986 ء میں کیا۔ یہیں سے اس کی زندگی کے ایک نئے موڑ کا آغاز ہوتا ہے۔ مصنف ایک برازیلی مصنف ہیں ان کا ناول 56 سے زائد زبانوں کے ساتھ اردو میں بھی شائع ہو چکا ہے اور نوجوان نسل میں نہایت مقبولیت حاصل کرچکا ہے۔

Read more

کتاب: ”مذہب، سائنس اور نفسیات“: فلاح انسانیت کی جانب ایک اہم پیش رفت

جائزہ نگارہ : لبابہ نجمی زیر مطالعہ کتاب ”مذہب، سائنس اور نفسیات“ جس کے چیدہ چیدہ آرٹیکل ہمیں اس ”ہم سب“ سائیٹ پر وفتا فوقتاً پڑھتے رہے اور اس کی بہت سے قارئین کی خواہش بھی رہی کہ جلد ہی مکمل کتاب اردو ترجمے کے ساتھ قارئین کے لیے شائع ہو۔ یہ کتاب جو دو اہم شخصیات پروفیسر محمد سہیل زبیری اور ڈاکٹر خالد سہیل کی باہم کاوش کا نتیجہ ہے، جو سائنس، نفسیات، ادب کی دنیا میں کسی تعارف

Read more

قبر اور جرمانہ

سنا ہے قبر اور مردے کا گہرا تعلق ہے اور قبر خالی ہو تو مردہ مانگتی ہے مگر اب نہیں مانگے گی! کچھ دنوں سے حالات ابتری کی طرف جا رہے ہیں۔ ہر طرح کا کشت و خون جاری ہے۔ زندگی عجب ڈگر پر رواں۔ اس کا گھر بھی کسمپرسی میں تھا۔ کہنے کو تین ہی افراد تو تھے۔ اس کے بوڑھے ماں، باپ اور وہ خود۔ کچھ دن پہلے وہ دیہاڑی پر کچھ کما لا تا تھا پر اب

Read more

تبصرہ: افسانہ ”ناف کے نیچے“

مصنف: صغیر رحمانی وارثی تبصرہ نگارہ : لبابہ نجمی کہانی اپنے عنوان کے پس منظر میں طبقاتی اور مذہبی تفرقات کے ساتھ ملک گیر سیاسی ابتری کو ظاہر کرتی ہے۔ کہانی کے آغاز کے لیے مصنف مقام ”شمالی ٹولے کا ایک تاریک کمرہ“ منتخب کرتا ہے۔ ابتدائی منظر میں مرکزی کردار خواب میں دیکھتا ہے کہ اژدھا اسے اپنے دہانے میں دبا کر نگلنے کی کوشش میں ہے اور پھر اس کی آنکھ گھبراہٹ سے کھل جاتی ہے۔ وہ ادھر

Read more

نعیم اشرف کے افسانے ”پونم پریت“ کا تجزیہ

تجزیہ نگارہ : لبابہ نجمی پیشہ کے اعتبار سے مکینیکل انجینئر، افسانہ نگار اور مصنف نعیم اشرف 1964 میں وادی سماہنی، کشمیر کے پاکستانی حصے میں پیدا ہوئے۔ وہ بالترتیب مکینیکل انجینئرنگ، ہیومن ریسورس مینجمنٹ، وار اسٹڈیز، لیڈرشپ اور مینجمنٹ میں باضابطہ تعلیم حاصل کرنے کے لیے یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی لاہور، ورچوئل یونیورسٹی آف پاکستان اور یونیورسٹی آف بلوچستان گئے۔ فکشن کے شوقین، اشرف نے اپنے ادبی سفر کا آغاز 2016 میں افسانے کے ترجمے سے کیا۔ :

Read more