شکر کریں ہم کسی پر خرچ کر سکتے ہیں؟


کیشیر کی سکرین کا وہ حصہ جو گاہک کی طرف ہوتا ہے۔ جوں جوں اس پر آنے والے ہندسے ایک سے دو، دو سے تین، تین سے چار اور پھر پانچ ہندسوں میں تبدیل ہونے لگے۔ تو اس نے فکر مندی سے ٹرالی کی طرف دیکھا۔ جس میں رکھی چیزیں، سالوں بعد بھی کم و بیش وہی تھیں۔ لیکن بل کے ہندسے روز بروز بڑھتے ہی جا رہے تھے۔ ہر دفعہ جب بھی بل بنتا، تو اس کی طرف دیکھنا اور وہیں کھڑے رہنا محال ہو جاتا۔ وہ بری طرح خود احتسابی کا شکار ہوتی۔

سوچتی کہ کیا وہ غیر ضروری اشیاء خریدتی ہے؟ تو ٹرالی میں پڑے آئٹمز اس کا منہ چڑاتے۔ خود سے پوچھتی کہ کیا آہستہ آہستہ خواہشیں ضرورت کا لبادہ تو نہیں پہن رہیں؟ تو اس کو اپنے ہی بچوں کی آوازیں کانوں میں گونجتی سنائی دیتیں کہ مما! آپ یہ نہیں لے کر دیتیں۔ وہ کیوں نہیں لائیں؟ فلاں کا یہ، فلاں کا وہ۔ کہتی کہ کیا اپنی کمائی کی تو چلو الگ بات ہے، کیا شوہر کو پیسے چھاپنے اور کمانے کی مشین تو نہیں سمجھ لیا؟

تو شوہر کی کئی دفعہ کی بات یاد آتی کہ آپ فضول خرچ نہیں ہیں۔ ہم مزاج بیوی ہی قسمت سے مل گئی ہے۔ پریشان ہوتی کہ کہیں فیشن اور ٹرینڈز کی دوڑ میں گھر تو بے جا سامان سے نہیں بھر رہی؟ تو گھر کے مختلف کمرے نظروں کے سامنے آ جاتے۔ جہاں کچھ بھی ایسا نہیں تھا جو ضرورت سے اوپر ہو۔ ہاں سلیقے اور سگھڑاپے کے تڑکے نے ایک الگ رنگ ضرور دے رکھا تھا۔ پھر بھی مہینے کا وہ دن جب سودا خریدنا ہوتا، کاؤنٹر پر آخری وقت تک کھڑے رہنے اسے محال لگتا اور ایک طرف کھڑی ہو جاتی اور اللہ سلامت رکھے، عموماً شوہر ہی ادائیگی کا فریضہ نبھاتے۔

بہرحال سامان گاڑی تک لا کر رکھا اور گاڑی بیس منٹ کے بعد ایک اور اسٹور پر رکی۔ جہاں سے گوشت خریدنا تھا۔ راستے بھر وہ یا تو خاموش رہی یا اگر دو بار بولی تو بس اتنا کہ ماہانہ سودا کافی مہنگا ہوتا جا رہا ہے۔ مولا کا لاکھ شکر ہے کہ ہم پھر بھی خرید سکتے ہیں۔ لیکن ہر ماہ اس کی خریداری دل و دماغ کو بوجھل کر دیتی ہے۔ شوہر سامع بنا ڈرائیو کرتا رہا۔ جب مطلوبہ جگہ کی پارکنگ میں پہنچے اور گاڑی کھڑی کی۔ تو اس نے اپنے شوہر سے کہا، کیا آپ بھی پریشان ہوتے ہیں؟

ہر مہینے اس طرح کے کئی مخصوص اخراجات آپ کی جیب سے پورے ہوتے ہیں۔ ٹھیک ہے کہ ہمارے کیس میں بھی ہم دونوں کماتے ہیں۔ لیکن گھر کی روزمرہ پیسوں والی زیادہ ذمہ داریاں تو آپ ہی کرتے ہیں۔ ویسے مردوں کو بھی اس سلسلے میں رب نے بڑا حوصلہ دے رکھا ہے۔ شوہر جو گاڑی کی چابی کوٹ کی جیب میں رکھ کر باہر اترنے لگا تھا۔ رک گیا۔ بیوی کی طرف دیکھا۔ سیٹ کی پشت سے کمر ٹکائی اور بڑے ٹھہراؤ سے جواب دیا۔ اس میں پریشانی کی کیا بات ہے؟

انسان کماتا کس لئے ہے کہ خرچ کرے۔ بیوی، بچوں، ماں، باپ پر جائز لگائے۔ خاندان اور معاشرے پر لگائے۔ اپنے اہل و عیال کے لئے خرچ کرنا بھی نیکی ہے۔ یہ کہہ کر وہ گاڑی سے اتر گیا۔ پیچھے وہ بھی چل دی۔ نئی ٹوکری پکڑتے، ریکس کے درمیان چلتے، گوشت کا بتاتے، کٹواتے وہ ادھیڑ بن کا شکار رہی۔ اسی طرح شام تک گھر واپسی ہوئی۔

مرکزی دروازے کو کھولتے بھی وہ اپنے شوہر کی بات میں ہی الجھی ہوئی تھی۔ در و بام پر اترے اندھیرے کو مٹانے کے لئے اس نے بتیاں روشن کیں۔ باورچی خانے میں جا کر ہاتھ میں پکڑے تھیلے رکھے۔ کہ پیچھے سے بچے نے ایک پلیٹ لا کے دی کہ دو گھر چھوڑ کے جو بزرگ خاتون رہتی ہیں انھوں نے دی ہے۔ کہہ رہی تھیں کہ پہلے بھی دو چکر لگا چکی ہیں لیکن دروازے پر تالا تھا۔ ریٹائرڈ، بیوہ خاتون ہیں۔ بیٹی بیاہ کر اور بیٹا روشن مستقبل کی چاہ میں دیار غیر کے شہری بن گئے۔ تو بس اب پیسے بہت تھے۔ شوہر اور اپنی پنشن۔ بیٹا بھی بھیجتا اور بیٹی بھی زبردستی خیال کرتی لیکن کس پر لگائیں، کس کے لئے پکائیں اور خرچیں؟ تو دل کی حسرتوں کی تشفی یوں ہوتی کہ ہر دو چار دن بعد کچھ پکاتیں اور ہماری طرف بھیج دیتیں۔ کہ میرے بچوں سے لگاؤ تھا۔

ساتھ ہی اسے اپنے شوہر کی وہ کولیگ یاد آئی۔ جو آج کل ایک بین الاقوامی ادارے کے ساتھ نوکری کر رہی ہے۔ تنخواہ ڈالرز میں ہے۔ ملکوں ملکوں گھومتی ہے۔ غیر شادی شدہ ہے۔ والدین عدم سدھار چکے۔ بہن، بھائی سب گھر بار والے۔ اس لئے مستقل کوئی ذمہ داری اس پر کوئی نہیں۔ چاہے تو خرچ کر لے، نہ چاہے تو کوئی زور زبردستی نہیں۔ اور اگر کر بھی لے تو بنک بیلنس کو کم ہی فرق پڑتا ہے۔ زندگی میں آسانی کے باوجود وہ پھیکے پن کا شکار ہے۔ بے چین رہتی ہے اور بلا ضرورت بس خریدتی ہے۔

اور اس کے ایک عزیز بھی تو ہیں جنہوں نے شادی میں ناکامی کے بعد اکیلے رہنے کو ترجیح دی۔ پچپن کے ہیں۔ اور علاقے کے زمیندار بھی۔ ہن برستا ہے اور وہ ادھر ادھر خرچنے کے بعد بھی کم نہیں ہوتا۔ سامان، گاڑیاں جمع کرنے کا شوق ہے۔ لیکن ایک اکیلا بندہ کتنا برتے۔ اس لئے دھول، مٹی میں اٹا رہتا ہے۔

یہ سب یاد آتے ہی اس نے خوف سے جھرجھری لی۔ اور بے ساختہ رب سوہنے کا شکر ادا کیا۔ کہ اس کے ارد گرد رشتے ہیں۔ بچے، اور ماں باپ ہیں۔ خاندان کا وجود ہے۔ جن کے لئے ان کی کمائی با مقصد استعمال ہوتی ہے۔ بھلے مہینے کی آمدن کا کم حصہ بچت کی مد میں بچتا ہے۔ لیکن بہت سوں کے رزق کا وسیلہ بنتا ہے۔ تو کچھ نیکی ان کے حصے میں بھی لکھ دی جاتی ہوگی۔ اگر یہ سب نہ ہوتے، نہ مہینے کے راشن کے جتن ہوتے۔ نہ پکانے کا لالچ۔ نہ کھلانے کی کوششیں۔ نہ دور ماں باپ کو رقم بھجوانے کے کشت۔ تو زندگی کیسی بے رنگ ہوتی۔ ورنہ کم ازکم خرچ کرنے پر نیکی کا حصول اتنا قریب نہ ہوتا۔ کفالت کرنے کا حسن گہنا جاتا۔

Facebook Comments HS