حاصل سے ہاتھ دھو بیٹھ اے آرزو خرامی
یوں تو انسان ہمیشہ سے انسان کے ہاتھوں دکھ اٹھاتا آیا ہے مگر گزشتہ صدی کے سرے پر جنگ عظیم اول کی صورت میں فقید المثال مصیبت انسانیت پر نازل ہوئی۔ یہ جنگ پچھلی جنگوں سے بڑھ کر مہلک تھی کیونکہ اس بار انسان کی خباثت کا ساتھ دینے کو بارود کی طاقت بھی مشین کے کندھوں پر سوار ہو چکی تھی۔ میدان جنگ مختلف براعظموں تک پھیلا ہوا تھا تو جنگ کے اثرات زندگی کے ہر شعبے پر اثر انداز ہو رہے تھے۔ جنگ کے موضوع پر شاہکار ادب پارے وجود میں آئے جن میں انسانی المیوں کو فنکارانہ انداز میں پیش کیا گیا، تو دوسری طرف کچھ افراد نے اپنے طور پر جنگ کی مصیبت میں ہنسنے کا بہانہ تلاش کیا اور ہلکے پھلے انداز میں یادداشتیں مرتب کی۔ ان میں ایک نام الفریڈ جارج کا بھی ہے۔
الفریڈ جارج نے ”سنگ ریزۂ ساحل“ ( pebbles on shores) کے نام سے جنگ کے زمانے کے شب و روز کو بیان کیا۔ یوں تو اس کا مقصد نامساعد حالات میں مسکراہٹ کی تخلیق تھا مگر وہ نادانستہ طور پر ایسا جملہ لکھ گیا جو اسی تعصب آمیز جذبے کو ہوا دے رہا تھا جو ہمیشہ سے کسی بھی جنگ کی بنیادی وجہ رہا ہے۔ جنگ کے دوران لندن کے گلی کوچوں کا ذکر کرتے ہوئے اس نے لکھا ”ہم میں سے کون بچپن میں یہ باور کر سکتا تھا کہ فرانسیسی زبان لندن میں اجنبی نہیں رہے گی“ ۔
اس جملے سے اس کا اشارہ لندن میں موجود فرانسیسی پناہ گزینوں کی طرف تھا۔ جملہ بے شک نادانستہ تھا مگر جاننے والے جانتے تھے کہ اس جملے میں ولیم آف نارمنڈی سے لے کر نپولین تک انگریز اور فرنچ قوم میں موجود رہنے والی رقابت بول رہی ہے جس نے ہمیشہ دونوں قوموں میں لسانی تعصب کو ہوا دی۔ اور یوں ایک بے ضرر اور غیر اہم جملے میں صرف ہونے والی فنی مہارت نے اہم ترین حالات سے وقتی طور پر نگاہ ہٹا دی۔
اس نے تو چلو نادانستہ طور پر یہ جملہ لکھا مگر ہمارے ہاں دانستہ طور پر غیر اہم موضوعات یا کسی درجے میں کم اہم موضوعات پر زور خطابت صرف کیا جاتا ہے۔ میڈیا پارلیمنٹ کی غلام گردشوں میں پنپنے والی سازشوں پر بیس بیس منٹ کے بلیٹن جاری کرتا ہے تو آٹے کی قطار میں کھڑے بھوکے بچوں کے لیے صرف دو منٹ بچتے ہیں۔ جے آئی ٹی پبلشنگ ہاؤس سے شائع شدہ والیم 10 اس توجہ کا حق دار ٹھہرتا ہے جو تھانے میں دھکے کھاتے کسی شریف شہری کی ایف آئی آر کو حاصل ہونی چاہیے تھی۔
جان کی امان پانے کے بعد یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ فلسطین اور کشمیر کی مظلوم بہو بیٹیوں کے لیے جس زور سے آواز اٹھائی جاتی ہے وہ وطن عزیز میں سانس لینے والی بنت حوا کے لیے اٹھے تو اس کو بھاگ لگ جائیں۔ مظلوم اقوام کے لیے آواز اٹھانا یقیناً ہمارا مذہبی و اخلاقی فریضہ ہے لیکن اس دوران ہمارے اردگرد موجود مظلوم نظر انداز ہوجائیں تو یہ سعی لاحاصل ہے۔
اسی طرح بچیوں کے ساتھ زیادتی کا واقعہ پیش آ جائے تو پوری قوم مغرب کو گالیاں دیتے نہیں تھکتی اور مقتدر حلقوں سے فحاشی کے سیلاب کے آگے بند باندھنے کی اپیل کی جاتی ہے۔ اس تمام سرگرمی کے دوران اصل مقصد فوت ہوجاتا ہے، چائلڈ لیبر، غربت، تعلیم کی کمی اور زیادتی کا سبب بننے والے دیگر اہم عوامل نظرانداز ہو جاتے ہیں۔
اس تمام خامہ فرسائی کا مقصد یہ ہرگز نہیں کہ ایوان اقتدار کے قصے یا اخلاقیات کے خطبے کوئی افادی حیثیت نہیں رکھتے۔ بے شک یہ اہم ہیں لیکن جس پرجوش انداز میں ان پر بات کی جاتی ہے ان کا عشرعشیر بھی فوری نوعیت کے نسبتاً کم پیچیدہ معاملات پر صرف کیا جائے تو ہماری کئی مشکلات حل ہوجائیں۔ لہٰذا ہمیں دیکھنا چاہیے کہ کہیں ہم ایشوز پر بات کرتے ہوئے الفریڈ جارج کی طرح کسی مقام پر ڈگمگا کر راستے سے ہٹ تو نہیں جاتے؟

