محلہ طبیباں


یہ سڑک تقریباً آدھا کلومیٹر تک ہے۔ دونوں اطراف پہ اونچے اونچے مکانات ہیں۔ ہر ایک مکان کئی ایکڑ زمین پر محیط ہے۔ ان مکانوں کے سامنے تختیاں نصب کی گئی ہیں۔ اور ان تختیوں پہ ایک لفظ مشترک ہے۔ ”ڈاکٹر“

ان محلات کے علاوہ یہاں مٹی کے چند جھونپڑیاں بھی آباد ہیں۔ ان میں بعض کے دیواروں پر اپلے توپ دی گئی ہیں اور بعض کے دیواروں سے مٹی اکھڑ رہی ہیں۔

کچے گھروں میں ایک چوکیدار رہتا ہے جس کا نام فضل کریم تھا جو کہ محلے میں فضلو چاچا سے مشہور تھا۔ اس محلے میں ان کا ہم اسم ایک دوسرا شخص بھی تھا لیکن ان کا نام ڈاکٹر فضل کریم صاحب تھا۔

فضلو چاچا کے گھر میں ان کے علاوہ اس کی بیوی، بچے بھی تھے۔ بیوی گھر کے کام کاج کرتی تھی۔ فضلو چاچا کسی ڈاکٹر کے ہاں چوکیدار تھا اور بچے کسی سرکاری سکول میں پڑھتے تھے۔

بچوں میں چھوٹا بیٹا نہایت خوبصورت تھا لیکن وہ زیادہ تر بیمار ہی رہتا تھا۔ کئی مہینوں سے وہ بیمار تھا لیکن وہ زندگی کے دن پورے کر رہا تھا۔ سردی کے موسم میں اچانک ایک رات اس طبیعت بگڑی۔ ماں باپ نے نہایت کوشش کی، گھر میں پڑے دوائیوں سے دوا دی، گیلی پٹی سر پہ رکھوائی لیکن افاقہ نہیں ہوا۔ آخر باپ نے گود میں اٹھایا اور محلے کے بچوں کی ڈاکٹر کے ہاں لے گئے۔

ڈاکٹر کا دروازہ کھٹکھٹایا، اندر سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ دوبارہ کھٹکھٹایا، اسی طرح کئی مرتبہ۔ آخر کار اندر سے آواز آئی۔

”ڈاکٹر صاحب اب سو رہے ہیں صبح تشریف لائیے“ ۔ اور خود سے بڑبڑاتے ہوئے گھر کے دروازے سے دور کمرے کی جانب چلنے لگا۔

بچے کو گود میں رکھے اسی طرح باپ نے کئی ڈاکٹروں کے در پہ حاضری دی لیکن ہر طرف سے مایوسی ہی ملی۔

اتنے میں رات ڈھلنے لگی اور بچے کی حالت تمام ہونے لگی۔ ماں باپ نے ارادہ کیا کہ کسی گاڑی والے کو بلا کر ہسپتال لے جائیں۔ لیکن گاڑی کے پیسے نہیں تھے۔ لہذا پیدل ہی جانا پڑا۔

رات کو چونکہ ہسپتال بند ہوتے ہیں لہذا ایمرجنسی کی طرف گئے۔ وہاں چند نرسوں کے علاوہ کوئی مستند ڈاکٹر موجود نہیں تھا اور دوسری بات یہ کہ ایمرجنسی میں نہایت رش تھا۔ بچے کی حالت اور بھی بگڑ گئی تھی۔ کسی نرس نے ترس کھا کر اس کی طرف دیکھا۔ اور اسے اندر لے گئی۔

آدھا گھنٹہ گزر گیا۔ ماں باپ باہر بینچ پر بیٹھے بچے کے لئے دعائیں مانگ رہے تھے کہ اچانک کمرے سے ایک نرس باہر نکلتی ہوئی دکھنے لگی۔

ماں باپ کے چہروں پہ تازگی آ گئی۔ نرس اپنی ہاتھ میں چٹی پڑھتے ہوئے کہنے لگی۔
”مریض 144 نمبر کے ساتھ کون ہے؟“
باپ نے جواب دیا کہ
”ہم ہیں“
نرس نے خفگی ظاہر کرتے ہوئے کہا

”معذرت چاچا! ہم آپ کے بچے کو نہیں بچا سکے“ اور اپنی بات کو جاری رکھتی ہوئی کسی قدر رحم دلی کے ساتھ پوچھنے لگی

”ویسے چاچا آپ کہاں سے آئے ہیں؟“

باپ کے منہ سے بات کہاں نکل سکتی تھی! آنکھوں سے آنسوؤں بہہ رہے تھے۔ اور دھیرے لہجے میں منہ سے صرف اتنا نکال سکا۔

"محلہ طبیباں سے”

Facebook Comments HS