صحافیوں کی تاریخی جیل بھرو تحریک


میں ابھی اپنے دفتر میں داخل ہوا تو نیوز ایڈیٹر نے ٹیلیفون میرے آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ محمود شام صاحب کا آپکے لئے ٹیلیفون ہے میں نے بات کی تو شام جی نے کہا آپ کیلئے قرعہ نکلا ہے کل مولانا احتشام الحق کی جیکب لائنز والی مسجد سے گرفتاری دینی ہے، میں نے کہا ٹھیک ہے مگر مالک اخبار کو بتانا ہوگا اس کیلئے ارشاد راو سے کہا جائے کہ وہ ہمارے مالک کو فون کریں کیونکہ دونوں کی ا چھی دوستی ہے۔ تھوڑی دیر بعد ارشاد راو مرحوم کا ٹیلی فون آیا کہ بات ہوگئی اور کل کی تیاری پکڑو۔ پھر اچانک سے روزنامہ کے مالک بشیر صاحب ہانپتے کانپتے آئے اور مجھ سے حیرانی سے کہنے لگے تو گرفتاری دے گا میں نے کہا کیوں نہیں۔ انکی خاموشی پر میں نے کہا اگر چھٹی نہیں دیں گے تو میں پھر بھی جاوں گا۔ وہ زور سے ہنسے اور کہنے لگے پتر میں تو تنخواہ بھی دونگا۔ میں نے کہا سوچ لیں چھ مہینے بھی لگ سکتے ہیں انہوں نے آگے بڑھ کر گلے لگایا اور حیران ہوتے رہے کہ نیا نیا ملازم ہے اور گرفتاری دینے جارہا ہے۔ خیر بعد میں بشیر صاحب پر بھی ہماری وجہ سے مشکلات آئیں ان کا اخبار جنرل ضیا نے دوسرے بہت سارے اخبارات و رسائل جن میں مساوات، اعلان، الفتح، امن، معیار وغیرہ کے ساتھ بند کردیا تھا اور ان کو ان کے نجی کاروبار کے ٹیکس کے جھوٹے کیسز میں طویل عرصے تک قید میں رکھا کیونکہ ان کے ایک انقلابی دوست نے ایک ایڈیٹوریل میں شہوت اقتدار کے الفاظ لکھ کر فوجی حکومت کو جھنجھلا کر رکھ دیا تھا۔
می اس آرٹیکل میں سارے دوستوں کے نام نہیں لکھ رہا جنہوں نے انوکھے انداز سے گرفتاریاں پیش کی تھیں کیونکہ ناموں کی فہرست لمبی ہوجائے گی۔ میں اس پر الگ سے لکھوں گا۔

جیل بھرو تحریک کا یہ تاریخی واقعہ 1979 کا ہے جو کہ صحافیوں کی تحریک کہلاتی تھی مگر یہ تحریک اخباری کارکنوں، ٹریڈ یونین ورکرز، ٹریڈ یونینز فیڈریشنز، ہاریوں، سیاسی کارکنوں بشمول کمیونسٹ ورکرز، اور طلبہ تنظیموں کی بھرپور شرکت اور گرفتاریوں کے باعث کئی مہینوں تک چلتی رہی جس میں ملک بھر سے صحافیوں اور اخباری کارکنوں نے کراچی آکر گرفتاریاں دی تھیں۔ اسکو تاریخی بھی اس لئے بھی کہا جاتا ہے کہ اس تحریک میں کہیں جھول نہیں آیا تھا اور اس نے اپنے مقاصد حاصل کرکے جنرل ضیا کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیا تھا۔ ویسے بھی صحافیوں نے جو بھی تحریکیں چلائیں وہ ہمیشہ کامیاب رہیں جن کے دوران دو مارشل ڈکٹیٹرز اور خود ذوالفقار بھٹو کو مطالبات ماننے پڑے تھے۔ 1970 کی ویج بورڈ ایوارڈ کیلئے چلائی جانے والی تحریک شاید دنیا کی واحد تحریک تھی جس میں دس دن تک ملک بھر کے اخبارات میں صحافیوں اور اخباری کارکنوں نے مکمل ہڑتال کی اور کوئی بھی اخبار شائع نہیں ہوا تھا۔ دنیا کے کسی ملک میں ایسا نہیں ہوا کہ تمام اخبارات دس تک شائع نہ ہوئے ہوں۔

جنرل ضیا نے صحافیوں کی 1977/78 کی تحریکوں سے پریشان آکر انہیں مثالی سزا دینے کیلئے چار صحافیوں کو کوڑے بھی مارے تھے مگر فوجی حکومت کیلئے حیران کن بات تھی کہ کوڑے کھانے کے باوجود ان صحافیوں نے جیل بھرو تحریک میں پھر سے گرفتاری بھی دیدی بلکہ جب پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (پی ایف یو جے) اور آل پاکستان نیوز پیپرز ایمپلایئز کنفیڈریشن (ایپنک) نے جیلوں میں تادم مرگ بھوک ہڑتال کی اپیل کو تو اس میں بھی کوڑے کھانے والے صحافی بھی پیش پیش رہے۔ جیل کے اندر کی بھوک ہڑتال کا تو کوئی ہم سے پوچھے جس میں کوئی پرسان حال نہیں ہوتا۔ خیر، اس میں بھی یہ حکم تھا کہ روزانہ ایک فرد بھوک ہڑتال کریگآ اس طرح یہ ایک طویل بھوک ہڑتال رہی اور تحریک کے قائد منہاج برنا کی بھوک ہڑتال سب سے طویل رہی کیوں کہ بھوک ہڑتال کا آغاز ہی ان سے ہوا تھا۔

اس تحریک کے باعث فوجی حکومت نے جن اخبارات پر پابندی لگائی تھی وہ بحال کردیئے گئے تمام صحافیوں کی غیر مشروط رہائی اور تمام مقدمات کی واپسی ہوگئی۔ جسارت اخبار جو ہماری تحریکوں کے خلاف رہا اس پر پابندی جب لگائی گئی تو پابندی کیخلاف بھی تحریک پی ایف یو جے اور ایپنک نے چلائی۔ جب مولانا صلاح الدین نے جسارت میں ایک اداریہ مالٹا میں سات صحافیوں پر حکومت کی طرف سے گولیاں مار کر قتل کرنے پر تحریر کیا تو فوجی حکومت نے جسارت کیخلاف سخت ردعمل کا اظہار کیا۔ اس پر جماعت اسلامی کے محمود اعظم فاروقی نے جو منیجنگ ایڈیٹر تھے مولانا کو ملازمت سے فارغ کردیا تھا۔  خیر بعد میں وہ جنرل ضیا کے مزید قریب ہوگئے تھے۔ پی ایف یو جے نے جسارت کی بندش اور ایڈیٹر کی برطرفی کیخلاف بھی احتجاج کیاتھا۔ یہ ہمیشہ سے پی ایف یو جے اور ایپنک کی پالیسی رہی ہے کہ جب بھی اظہار رائے یا پریس کی آزادی پر قدغن لگائی جاتی وہ ہمیشہ اسکی سختی سے مزاحمت کرتے۔ کاش پیکا قانون کے اجراء کے وقت کے جی مصطفٰی، منہاج برنا، نثار عثمانی اور انکے ساتھی ہوتے تو یقینی طور پر یہ قانون منظور نہیں ہوسکتا تھا۔

یہاں کراچی پریس کلب کی جمہوری تحریکوں میں قائدانہ کردار کا ذکر کرنا بھی ضروری ہے۔ جب کبھی ملک میں مارشل لاز آئے یا آمرانہ رویوں پر مبنی طرز حکمرانی قائم کرنے کی کوششیں کی گئیں یا اظہار رائے پر جب کبھی پابندیاں عائد ہوئیں تو کراچی پریس نے آگے بڑھ کر قیادت کا کردار ادا کیا ہے۔ مذکورہ صحافی تحریک سے قبل جنرل ضیا کی تباہ کن آمریت کے دوران ایک آرڈیننس جاری کیا گیا تھا جس، کے تحت کسی پریس کانفرنس،  خطاب یا اجتماع کیلئے ڈپٹی مارشل لا ایڈمنسٹریٹر سے اجازت لینا ضروری ہوگا۔ اس اثناء میں کراچی یونیورسٹی میں طلبہ پر فوجی تشدد ہوا اور انکو پریس کانفرنس کرنے کی اجازت نہیں دی گئی اس وقت کراچی پریس کلب کے سیکریٹری حبیب خان غوری نے طلبہ سے کہا پریس کلب میں آکر پریس کانفرنس کرلیں طلبہ پریشان تھے کہ پیسے کس طرح ادا کریں گے کلب نے کہا کہ ایک روپیہ دیکر کانفرنس کرسکتے ہیں۔ اس کے بعد سیاسی جماعتوں، ٹریڈ یونینز، طلبہ تنظیموں نے مارشل لا آرڈیننس کو مسترد کرتے ہوئے کراچی پریس کو اپنی سرگرمیوں کا مرکز بنالیا۔ اسکے بعد جب جیل بھرو تحریک کا آغاز ہوا تو ہر طبقے کے لوگوں نے اس میں بھرپور حصہ لیا۔ ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے بعد بننے والے بڑے سیاسی اتحاد ایم آر ڈی کی تحریک کے آغاز میں ہی کراچی پریس کلب کا انتخاب کیا گیا تھا پھر تمام سیاسی لیڈروں کو آزادانہ اظہار رائے کیلئے ایک محفوظ جگہ مل گئی تھی۔


چونکہ آزادی صحافت اور آزادی اظہار کی تحریکوں میں اب وہ قد آور شخصیات نہیں رہی ہیں جنکا مطالعہ اور دور اندیشی بھی بہت تھی اور عوام کی صعوبتوں و مشکلات سے بھی خود کو منسلک رکھتے اس طرح وہ تحریکوں کو عوام سے جوڑنے میں پیش پیش رہتے تھے اب شاید تحریکوں نے مراعات کو اولین ترجیح دی ہے اسی سبب صحافی مختلف دھڑوں میں تقسیم ہوکر اسٹیبلشمنٹ کو اپنی گفتگو اور تجزیوں میں کافی گنجائش دینے لگ گئے ہیں۔

عمران خان اگر جیل بھرو تحریک شروع کرنا چاہتے ہیں تو صحافیوں کی تحریک کا بغور مطالعہ کریں ورنہ وہ اپنی شروع کردہ ہر تحریک کی طرح اس میں بھی ناکام رہیں گے۔ علاوہ ازیں وہ جیل بھرو تحریک کو بھی بدنام کرکے چھوڑ دیں گے

Facebook Comments HS