مسکراہٹ بھری زندگانی



”شمائلہ جلدی کرو دیر ہو رہی ہے تمھیں بتایا بھی تھا کہ آج جلدی تیار ہو جانا تاکہ وقت سے پہلے شادی حال پہنچ جائیں۔“
”دیر میری وجہ سے تو نہیں ہوتی لیکن آپ ہمیشہ مجھے ہی کہتے ہیں۔ کبھی اپنی امی کو بھی بول دیا کریں کہ جلدی کر لیا کریں“ ۔

میں انہیں کیا بولوں؟ وہ تو کب کی تیار بیٹھی ہیں، بلکہ جب میں باتھ روم گیا تھا وہ اس وقت اپنے کمرے سے تیار ہو کر نکل رہیں تھیں اور تم کہہ رہی ہو کہ وہ جلدی کیا کریں۔ مجھے تیار ہو کر بیٹھے ہوئے پون گھنٹہ ہو چلا اور تمھارا میک اپ ابھی تک مکمل نہیں۔

کسی بھی فنکشن پر جانا ہو تو زبیر اور شمائلہ کی اسی طرح نوک جھونک چلتی رہتی تھی اور اس بیچ میں زبیر کی امی اپنے پوتے اور پوتی کو سنبھال رہی ہوتیں تھیں اور ہم اوپر کے پورشن میں ان باتوں سے لطف اٹھا رہے ہوتے تھے۔

ماشا اللہ سے زبیر کا بولنے کا والیم کافی اونچا تھا شاید اس کے کانوں میں بچپن کے ٹائفائیڈ کی وجہ سے کچھ خرابی پیدا ہو گئی تھی جو وہ اونچا سنتا تھا اور پھر اسی وجہ سے بولتا بھی اونچا ہی تھا۔ اس کی بیوی شمائلہ ایک پڑھیں لکھی اور جاب کرنے والی خاتون ہے۔ ماشاءاللہ ایک پرائیویٹ ادارے میں اچھے پیکیج پر جاب کرتی ہے۔

میری بیوی اور شمائلہ بچپن کی سہیلیاں ہیں۔ دونوں کے گھر ساتھ ساتھ ہیں۔ میں اور زبیر کزن ہیں۔ جب زبیر کی شادی ہوئی تو اس سے کوئی دو سال پہلے میں لاہور شفٹ ہوا تھا اور وہ بھی اپنی جاب کی وجہ سے، میرا تعلق اسلام آباد سے ہے تین بہن بھائیوں میں میرا نمبر تیسرا ہے۔ چھوٹا ہوں اس لیے خوب لاڈوں میں پلا بڑھا۔ سب سے بڑی بہن ہے اور اس کے بعد بڑے بھائی ہیں اور بڑے بھائی کی اور بہن کی عمروں میں چار سال کا فرق ہے اور میرا اپنے بھائی سے عمر کا نو سال کا فرق ہے۔

میں اپنی جاب سے پہلے تک کبھی ماں باپ سے علیحدہ نہیں رہا بلکہ امی بابا نے ساتویں کے بعد بورڈنگ کی کوشش کی لیکن میں نے رو رو کر آسمان سر پر اٹھا لیا تھا کہ میں نے بورڈنگ نہیں کرنی اور اس طرح ان کا فیصلہ تبدیل کروایا اور اب خیر سے جب جاب لگی تو لاہور جاتے ہوئے کافی اپ سیٹ تھا۔ میں تو خیر سے جو اپ سیٹ تھا میرے ساتھ امی اور بابا بھی اپ سیٹ تھے کہ میں اکیلا کیسے رہوں گا اس وجہ سے انھوں نے شروع کے دو ہفتے میرے ساتھ گزارے اور اس دوران وہ تسلسل کے ساتھ میرے لیے کسی اچھی آبادی میں فرنشڈ گیسٹ ہاؤس جا جا کر دیکھتے تھے اور آخر کار جب ایک گیسٹ ہاؤس انہیں پسند آیا تو چھ مہینے کا ایڈوانس دے کر لے لیا۔ اس گیسٹ ہاؤس کے لیے انہیں تسلی مل گئی تھی کہ کھانا پینا ان کا اپنا ہو گا یعنی ان کی کوشش تھی کہ ان کا لاڈلا باہر ریستورانوں کا کھانا نہ کھائے اور جب وہ واپس گئے تو تب میں کافی زیادہ ہوم سک نیس کا شکار بھی ہوا۔

شروع شروع میں تو مجھے لاہور کے راستوں کی سمجھ ہی نہیں آتی تھی۔ کولیگز کے مشورے سے گوگل میپ کی مدد لیتا تھا زیادہ تر تو اس گوگل میپ کی وجہ سے بچت رہتی لیکن جب کبھی کسی وجہ سے راستہ بند ملتا اور مجھے جلدی ہوتی تو لازماً میپ سے ہٹنا پڑتا اور یہ راستہ تبدیل کرنا میرے لیے نیک شگون کبھی بھی نہیں لایا۔ ہر دفعہ رش میں میپ سے ہٹ کر راستہ بھول جاتا تھا پھر میں زبیر کو فون کرتا پہلے پہل تو اس نے مروتاً ساتھ دیا لیکن بعد میں اس کے ساتھ دوستی بڑھتی چلی گئی۔

اس دوران ایک دن زبیر نے بتایا کہ اس کے آفس میں ایک پوسٹ خالی ہو رہی ہے کیوں کہ اس کے کولیگ کو اعلی کارکردگی دکھانے پر ترقی دے کر دوسری جگہ بھجوایا جا رہا ہے۔ اگر میں مانوں تو وہاں میری سی وی بھیج دے۔ تنخواہ کا پیکیج اس موجودہ جاب سے کافی بہتر تھا اور بہتر ہوتا بھی کیوں نہ ایک ملٹی نیشنل کمپنی تھی۔ جو صاحب چھوڑ رہے تھے وہ اسی کمپنی کی یورپی برانچ جا رہے تھے۔ زبیر نے سی وی بھیج دی اور ہفتے بعد انٹرویو کال آ گئی۔ زبیر نے کہا اب آرام سے انتظار کرو اگر سلیکٹ ہو گئے تو اچھا ہے نہیں تو ادھر ہی جاب کرتے رہو۔ اور ایک مہینے بعد جاب جوائننگ کا پروانہ مل گیا۔ اب میں اور زبیر اکٹھے ہی جاتے اور آتے تھے۔

اب مجھے زبیر کے ساتھ رہ کر اندازہ ہوا کہ وہ ہر ایک کے ساتھ ایسا ہی مُخلص تھا۔ جہاں کوئی اچھا موقع دیکھتا فوراً کسی جاننے والے کو بتاتا اور پوری کوشش کرتا کہ اس کا کام بن جائے۔ یہی وجہ تھی کہ اس کا حلقہ احباب کافی وسیع تھا۔ جب کسی سے ملتا اپنے منہ پر مسکراہٹ رکھتا تھا کہ جیسے مسکراہٹ کو منہ پر چپکا رکھا ہو۔ اگلے بندے کو احساس بھی نہ ہونے دیتا کہ وہ جلدی میں ہے یا کسی کام سے جا رہا ہے۔

زبیر کی کوشش تھی کہ میں اس کے گھر شفٹ ہو جاؤں، میں راضی تھا لیکن ایک قباحت آڑے آ رہی تھی کہ میں ان کے گھر میں پیئنگ گیسٹ کے طور پر رہنا چاہتا تھا اور یہ بات زبیر کو ہضم نہیں ہوتی تھی وہ کہتا تھا تم میرے کزن ہو کوئی غیر تھوڑی ہو کہ پیئنگ گیسٹ بن کے رہنا چاہتے ہو اور مجھے اس کو سمجھانا مشکل ہو گیا تھا کہ میں کیوں اس طرح کرنا چاہتا ہوں۔ وجہ اس کی عام سی تھی کہ لوگ مجھے مفت خورہ نہ کہیں لیکن جب بھی میں اس پر بات کرتا تو زبیر ہتھے سے ہی اکھڑ جاتا تھا۔ ڈیڑھ مہینے میری اور اس کی بحث یہیں اٹکی رہی اور آخر میں وہ اس بات پر راضی ہوا کہ میں اوپر پورشن میں شفٹ ہو جاؤں اور کرایہ دوں اور پھر میں زبیر کے گھر شفٹ ہو گیا۔ شفٹ کیا ہونا تھا دو سوٹ کیس تھے تین بیگ تھے کیوں کہ جہاں پہلے رہائش رکھی ہوئی تھی وہ فرنشڈ گیسٹ روم تھا۔

زبیر کی امی خاصی ایکٹیو ہیں ویسے بھی اسی محلے میں بیاہ کر آئیں تھیں۔ زیادہ تر پڑوسی ایک دوسرے کو سالوں سے جانتے ہیں اسی ہی لیے ہر ایک کی خوشی اور غمی میں ساتھ ساتھ رہتے ہیں۔ زبیر کی امی کو دیکھ کر مجھے اندازہ ہوا کہ زبیر کی سب خوبیاں دراصل ان کی شاندار اور پروقار تربیت ہے۔ وہ بھی ہر ایک سے بات کرتے ہوئے مسکراہٹ چپکائے رکھتیں ہیں مجال ہے کہ کبھی میں نے ان کو غصے میں دیکھا ہو۔ اول انہیں غصہ نہیں آتا اگر کسی وقت وہ کسی بات پر خفا ہو بھی جاتیں تو زیادہ سے زیادہ ایک ہی لفظ بولتی ہیں اور وہ لفظ ہے ”گدھا“ اور یہ بولنے کے بعد وہ نارمل ہو جاتیں۔

زبیر کی امی کو اپنے بیٹے کی شادی کرنے کی بہت جلدی تھی اور اس واسطے زبیر کے رشتے کے لیے اپنے ہی پڑوس میں بات شروع کی ہوئی تھی، شمائلہ سے، جو زبیر سے کوئی ڈیڑھ سال چھوٹی تھی اس کے والدین حیات ہیں دو بہنوں میں شمائلہ بڑی تھی چھوٹی اس سے دو سال چھوٹی تھی اور میڈیکل کے دوسرے سال میں تھی۔ شمائلہ کے والدین کو رشتہ منظور تھا لیکن وہ شادی اس کی تعلیم مکمل ہونے کے بعد کرنا چاہتے تھے۔ زبیر کو اس پر اعتراض نہیں تھا لیکن زبیر کی امی شادی ابھی کرنا چاہتیں تھیں کیوں کہ ان کا خیال تھا کہ ان کا بیٹا بوڑھا ہو رہا تھا اور اس بات پر زبیر اور میری ہنسی کنٹرول نہیں ہوتی تھی کہ زبیر ابھی انتیس سال کا ہے اور اس کی امی اسے بوڑھا بولنے لگ پڑیں ہیں۔ اب اس کی امی کو یہ باتیں کون سمجھاتا۔ لہذا میرے ان کے گھر شفٹ ہونے کے کم و بیش چھ مہینے بعد زبیر کی امی نے اس کا نکاح شمائلہ سے کروا دیا لیکن رخصتی شمائلہ کی تعلیم کے مکمل ہونے کے بعد ہونا قرار پائی۔ پھر سات ماہ کا عرصہ گزرنے کے بعد شمائلہ بیاہ کر اس گھر میں آ گئی۔

شادی کے ہنگاموں میں امی نے بھی میرے لیے ایک لڑکی دیکھ لی تھی اور اس بارے مجھے کچھ پتہ نہیں تھا کیوں کہ شادی والے گھر میں اب کام کرنے والے ہم دونوں ہی تھے اور میری تو شامت آئی ہوئی تھی۔ ایک کام ابھی مکمل نہیں ہو پاتا تھا اور دوسرا اور تیسرا کام سامنے لائن میں ہوتے تھے۔ اس سارے میں زبیر صاحب تو اس طرح تھے کہ مہاراجہ ہوں۔ جب شمائلہ بیاہ کر گھر آئی تو زبیر کی امی نے کچن اس کے حوالے کر دیا۔ شمائلہ کے والدین کی ڈیمانڈ کے مطابق زبیر اور اس کی امی نے شمائلہ کو جاب کرنے کی اجازت دے دی تھی اس لیے اس نے کچھ اچھی ریپوٹیشن والے پرائیویٹ اداروں میں جاب ایپلیکیشنز بھجوا دیں اور کچھ مہینوں بعد ایک مناسب ادارے میں جوائن کر لیا یہ ادارہ ایک اچھی ریپوٹیشن والے کاروباری بندے کا ہے جو کہ آلاتِ جراحی اور کھیل کے سامان وغیرہ کو ایکسپورٹ کرتا ہے۔

نوکری کے شروع کرنے کے تقریباً گیارہ مہینے بعد زبیر کے گھر پہلی اولاد ہوئی، محلے بھر میں مٹھائی تقسیم کی گئی۔ اب گھر میں ایک چھوٹے بچے کی رونق موجود تھی جس کی وجہ سے ہم سب ہی خاصے مصروف ہو گئے۔

شام کو دفتر سے واپسی پر میں اور زبیر ”چھوٹو“ کو لے کر نکل جاتے اس دوران چھوٹو صاحب بہادر میری گود میں ہی رہتے اور اس طرح میں اور چھوٹو خاصے دوست بن گئے تھے اور جیسے ہی زبیر اسے لینے کے لیے آگے آتا موصوف رونے والی شکل بنا لیتے۔ بعض دفعہ زبیر کی امی اسے چھیڑتی بھی تھیں کہ چھوٹو اپنے باپ سے زیادہ چچا سے مانوس ہے اور اس کے پاس خوش رہتا ہے۔

اسی طرح دن گزر رہے تھے کہ ایک دن زبیر نے دفتر میں لنچ ٹائم پر کہا کہ آج رات کھانے کے بعد ذرا رکنا کچھ بات کرنی ہے۔ مجھے تجسس ہوا کہ یہاں ہی بتا دو لیکن کہنے لگا کہ شام کو آؤ پھر بات کر لیتے ہیں۔

شام کو گیا تو باتوں باتوں میں یک دم شمائلہ نے اپنی سہیلی رافعہ کا ذکر کیا کہ وہ تمہیں کیسی لگتی ہے۔ میں قدرے حیرانی سے ”کیا مطلب ہے آپ کا“ شمائلہ کہنے لگیں کہ تمھاری امی نے اس کے لیے تمھارا رشتہ بھجوایا ہے۔ اس لیے پوچھ رہی ہوں تاکہ تمھاری مرضی پوچھ لی جائے کہ اگر یہاں بات کی جائے تو تمھیں اعتراض تو نہیں یا تم کہیں اور تو انٹریسٹڈ نہیں ہو۔ زبیر کہنے لگا کہ ”میں نے تمھاری امی سے کہا تھا کہ آپ رشتے کی بات شروع کرنے سے پہلے مجھے اس کے ساتھ بات کرنے دیں اگر وہ راضی ہوا تو میں آپ کو بتا دوں گا۔ اس لیے ہی تم سے پوچھ رہے ہیں“ ۔ میں نے جواباً کہا کہ نہیں مجھے اعتراض تو نہیں ہے لیکن اگر ہو سکے تو ان سے ایک بات پہلے کنفرم کر لیں کہ ان کی کوئی خاص ڈیمانڈ ہو تو بتا دیں جیسے شمائلہ کے والدین کی ڈیمانڈ تھی کہ اگر یہ جاب کرنا چاہے تو اس کو اجازت ہو۔

زبیر اور شمائلہ کہنے لگے اس بارے ابھی تو پتہ نہیں بعد میں دیکھتے ہیں۔ ان معاملات کو طے ہوتے سال گزر گیا اور مزید چار مہینے کے بعد شمائلہ کی دوست رافعہ سے میری شادی ہو گئی اور وہ بیاہ کر میرے ساتھ اسلام آباد آ گئی کیوں کہ بہرحال میرا اپنا شہر اسلام آباد تھا اور میری بارات کی روانگی وہاں ہی سے ہوئی اور رافعہ بیاہ کر ادھر ہی گئی اور سیر سپاٹوں کے بعد میں اور رافعہ واپس لاہور آ گئے اور ہمارے شب و روز اسی طرح گزرنے لگے اس دوران زبیر کی ایک بیٹی بھی ہو گئی۔

ہم دونوں اوپر کے پورشن میں رہتے ہوئے عموماً زبیر کی گفتگو سے لطف اٹھا رہے ہوتے تھے کہ بھائی صاحب کا والیم خاصا اونچا ہوتا تھا۔ آج یہ دونوں کسی کے ولیمہ میں جا رہے تھے اور دونوں کی آپسی نوک جھونک بھی چل رہی تھی۔ خیر وہ گئے اور رات کو وہ لیٹ ہی آئے۔

وقت گزرتا رہا میرے بھی بچے ہو گئے اور زندگی اسی طرح گزرتی رہی کہ ایک دن زبیر کی امی کو کارڈیک اریسٹ ہوا انہیں ایمرجنسی میں لے جایا گیا لیکن وہ راستے میں ہی اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملیں۔ تجہیز و تدفین کے بعد زندگی دوبارہ اسی ڈگر پر چل پڑی۔ شمائلہ بھی زبیر کی طرح ملنسار تھی اور ہر ایک کے لیے مخلص تھی کبھی بھی اس کی اور رافعہ کی آپس میں اونچ نیچ نہیں ہوئی۔ آج بھی زبیر اور شمائلہ اسی محلے میں رہتے اور ہم بھی صرف اس فرق کے ساتھ کہ میں اس محلے میں اپنا گھر لے چکا ہوں۔ امی بابا بھی آتے ہیں بہن بھائی بھی آتے ہیں۔ میرا اور زبیر کے گھر میں پانچ گھروں کا فاصلہ ہے۔ زبیر اور میرے بچوں میں ماشاءاللہ سے بہن بھائی والا ہے پیار ہے سب مل کے رہتے ہیں۔ بچے ہیں کبھی کبھار بچوں میں جھگڑا بھی ہوجاتا ہے لیکن گھنٹے بعد دوبارہ اسی طرح کھیل کود رہے ہوتے ہیں۔

میں آپ سب کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ جو لوگ دل سے اچھے ہوں وہ کبھی بھی نقصان میں نہیں رہتے بلکہ ہمیشہ ان پر اللہ تبارک و تعالیٰ کا کرم ان پر رہتا ہے۔ ہمیں بھی چاہیے کہ ہم ہمیشہ دوسروں کے لیے مخلص رہیں اور دوسروں کو ہر ممکن مدد دیں لیکن اس مدد کے عوض اپنا کوئی مطلب ہرگز نہ رکھیں کیوں کہ جب آپ کا مطلب پورا نہیں ہوتا نا تو عداوت کا پیدا ہونا فطری عمل ہے لیکن آپ اگر کسی دوسرے کی بے لوث مدد کریں گے تو اللہ تعالیٰ آپ کو اس کا اجر اس دنیا کے ساتھ ساتھ آخرت میں بھی دے گا۔

Facebook Comments HS