سنومین

آج گھر کے نزدیک واقع لاکھوں برس پرانے قدرتی مناظر کی جھلکیوں سے مہکتے لاسیل پارک میں داخل ہوتے ہی پارکنگ لاٹ کے دائیں طرف کے میدان میں ایستادہ ایک سنو مین یا برف کے پُتلے نے ہم تینوں کے قدم آگے بڑھنے سے روک لیے۔
پارک کے بچوں والے گوشے میں ایک بچہ سلائیڈ پر اور دو بچیاں جھولوں پر تھیں۔ ایک خاتون ان کے پاس بیٹھنے کو لکڑی کے بینچ سے برف ہٹا رہی تھی۔ اس کے ساتھ آنے والے صاحب وہاں کھڑے کھڑے جانے کیوں دُور ہی سے ریموٹ کے ذریعے بار بار اپنی کار لاک اور اَن لاک کرنے کے کھیل میں مصروف تھے۔ پارکنگ لاٹ میں زیادہ کاریں نہ تھیں۔ دائیں طرف کی ڈھلوان پر چند نوعمر ٹوباگننگ کرتے ہوئے پھسلتے جا رہے تھے۔
مگر ہمارے قدم بے ارادہ سنو مین کی طرف بڑھنے لگے تھے۔ گزشتہ دو روز کی شدید برف باری کی پھیلائی دبیز سفید چادر میدان کو پوری طرح ڈھانپے ہوئے تھی۔ بوڑھے درختوں کی شاخیں اور بچے کھچے پتّے کئی روز بعد نکلنے والی دھوپ کی کرنوں میں شیشے کے ٹکڑوں کی طرح جھلمل جھلمل کر رہے تھے۔ اپنے سرمائی جوتوں سے گہری برف عبور کر کے ہم برف کے پُتلے کے پاس پہنچے تو محسوس ہوا کہ یہ پُتلا کل رات ہی بنایا گیا ہو گا ورنہ اس کے اعضا یوں صحیح سلامت نہ ہوتے۔ برف میں سَنی ہواؤں نے اس کے خد و خال بگاڑ دیے ہوتے۔
”سنو مین کی ناک تو گاجر سے بنتی ہے۔ یہ پائین کون کس نے لگادیا؟“ رابعہ بیٹی نے قدرے حیرت سے کہا
”اس کی ناک شاید پارک کے کسی شریر خرگوش کی بھوک مٹانے کے کام آ گئی ہو!“ طاہرہ بیگم نے مسکراتے ہوئے رائے دی۔
”نہیں، ایسا نہیں ہو سکتا۔ خرگوش برف باری میں کیوں نکلیں گے اپنے محفوظ ٹھکانوں سے؟“ رابعہ بولی تھی۔
”تو شاید چِپ منکس کی ٹولی کا کام ہو گا۔“ میں نے بھی اپنی سی ہانکی۔ ”
”چِپ منکس گاجریں نہیں کھاتے اور آپ یہ بات خوب جاتے ہیں تو پھر کیوں خواہ مخواہ۔“ رابعہ نے بسورتے اور مجھے گھورتے ہوئے بات ”ادھوری چھوڑ دی تھی۔
اور اس کی آنکھیں دیکھیے دو کنکر ٹھونس دیے ہیں اور وہ بھی کسی تناسب سے نہیں۔ ”رابعہ کا فن کارانہ اور ناقدانہ مشاہدہ اور تجزیہ جاری“ تھا۔ ”اور یہ کیا ہے؟ یہ کان ہیں کیا؟ سُوکھی ٹہنیاں اور وہ بھی اطراف کے بجائے سر پر۔ مجھے تو یہ سینگ لگ رہے ہیں کسی کینیڈین مُوس کے“ ۔
”کہِیں ایلیٹ مُوس کے تو نہیں؟“
طاہرہ یہ کہتے ہوئے باقاعدہ ہنس دی تھی۔ ”رابی، تم ابھی پیدا نہیں ہوئیں تھیں جب یہ شو شروع ہوا تھا ٹی وی پر۔ تمہارے بھائی اپنے دن کا آغاز اِسی شو سے کرتے تھے اور اس کا ٹائٹل سونگ دہرا دہرا کر ایک دوسرے کو زِچ کیا کرتے تھے۔ ایلیٹ مُوس اِز آن دا لُوز۔ ناشتے پر ہر صبح یہی منظر دیکھنے کو ملتا“ ۔
”کینیڈا شمالی امریکا کے یہ مُوس میرے لیے تو بارہ سنگھے ہی ہیں۔ ہاں، بارہ سنگھے سے کچھ مختلف اور بڑے ہوتے ہیں مگر ہیں تو ہرن ہی کے خاندان سے۔ تو کیوں نہ انہیں شمالی بارہ سنگھے کہا جائے! “ میں نے انٹرنیٹ سے حاصل شدہ اپنی سطحی معلومات کا خزانہ لٹایا تھا۔
ضرور، ضرور۔ آپ جس شے کو جو کہنا چاہیں کہہ سکتے ہیں۔ کون روکے گا آپ کو۔ شاعر جو ٹھہرے۔ تشبیہ و استعارہ کی آڑ میں کچھ کو کچھ بنا دینا تو آپ کا فن ہے۔ ”طاہرہ نے موقع سے پورا پورا فائدہ اٹھایا تھا۔
دیکھیں، آپ شاید طنزاً کہہ رہی ہیں مگر بات آپ پتے کی کر رہی ہیں۔ کچھ کو کچھ اور بنانے کا نام ہی تو فن ہے۔ یہی تو کرشمہ ہوتا ہے۔ ”میں نے سنجیدگی سے کہا تھا۔“
آپ کو یاد ہے میری نظم ”برف کا آدمی؟ جو جرمنی میں کہی تھی جب ہم۔“
جی، بالکل یاد ہے مجھے۔ کیسے بھول سکتی ہوں۔ وہ جرمنی کے شہر کولون میں ہماری پہلی سردیاں تھیں۔ مجھے یاد ہے سب سفید
کرسمس کی دعائیں کر رہے تھے اور پھر برف پڑ بھی گئی تھی۔ اُس شام امجد بھائی کے ساتھ جھیل کی طرف جاتے ہوئے ہی تو ناز بہن اور شاہ صاحب کے گھر کے نزدیک ہم نے پہلا سنو میں بنایا تھا۔ ”طاہرہ نے اپنی شفاف یادوں کی خوشبو بکھیر دی تھی۔
ہاں، مجھے یاد ہے۔ ہم نے کیسا پرفیکٹ سنو میں بنایا تھا۔ واہ۔ ”میں نے شعر پر داد کے سے انداز میں کہا تھا۔“
”جنابِ والا، ہم سے مراد میں اور امجد بھائی ہیں۔ آپ تو اپنے نہیں نائیکون کیمرے کا دکھاوا کرنے اور تصویریں اتارنے میں مصروف تھے۔“ طاہرہ جانے کیوں ہر وقت سچ بولنے پر تُلی رہتی ہیں۔
میرا خیال تھا کہ یہ مکالمہ میں لنچ پر سنوں گی مگر دنیا کے طویل ترین ڈرامے کی یہ قسط تو ناشتے کے بعد ہی چل گئی ہے۔ سوچتی ہوں آج ”لنچ میں کیا ملے گا!“ رابعہ نے اپنی ہنسی کو کمال ہُنر مندی سے چھپاتے ہوئے اور اپنے ہاتھوں کو عُنابی دستانوں سے نکال کر سنو مین کے خد و خال کو درست کرنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا تھا۔
لنچ کی فکر نہ کرو بیٹی۔ وہ بھی پُرلطف ہی ہو گا۔ تم دیکھ لینا۔ ابھی بہت سی قسطیں باقی ہیں۔ ”طاہرہ نے مسکرا کر بظاہر رابعہ کو“ تسلی دیتے ہوئے کہا تھا۔
اچھا، آپ دونوں واک جاری رکھیے۔ میں بس اس بے چارے سنو مین کی ری ٹچنگ کر کے آتی ہوں ”۔“ رابعہ نے ہماری طرف دیکھے بغیر کہا۔ وہ اب پوری طرح برف کے پتلے کی درستی میں منہمک ہو گئی تھی۔ ہوتی بھی کیوں نہ سنو مین سے فن کاروں کا تعلق ہے بھی تو بہت پرانا۔ قرونِ وسطیٰ کی تاریخ میں بھی اس کے شواہد ملتے ہیں۔ کہتے ہیں پندرہویں صدی میں عظیم فنکار مائیکل اینجلو نے بھی انیس برس کی عمر میں اٹلی کے شہر فلارنس میں سنو مین کا مجسمہ تخلیق کیا تھا۔ پھر یہ سنو مین یورپ اور شمالی امریکا میں بھی امید کی علامت بن کر آیا اور سردیوں کی شدت کو خوش گوار احساس میں بدلنے لگا۔
ٹھیک ہے شاعر باپ کی فنکار بیٹی ہم چلتے ہیں۔ جلد آجانا پلیز۔ مجھ میں زیادہ شعر سُننے کی سکت نہیں ہے آج۔ ”طاہرہ نے مسکرا کر“ میرے قدم سے قدم ملاتے ہوئے اور واک بورڈ کو جاتے ڈھلوانی حصے کی جانب بڑھتے ہوئے آواز لگائی تھی۔ اور میں یادوں کی پگڈنڈی پر چلتا چلتا اُس شام میں لوٹ گیا تھا جب طاہرہ اور امجد پوری لگن سے سنو مین بنا رہے تھے اور تصاویر لیتے لیتے میرا ذہن کچھ عجب سوالوں کی دھند سے ہوتا ہوا ایک نظم کے حصار میں آ گیا تھا۔ سنو مین۔ برف کا آدمی :واک بورڈ پر چلتے چلتے 1991 میں کہی اِس نظم کے مصرعے بے ساختہ میرے ہونٹوں پر کھیلنے لگے
برف کا آدمی
اے مِرے برف کے آدمی
تمھاری چمکتی دمکتی ہوئی زندگی کتنی ہوگی؟
فقط ایک بارش؟
فقط ایک دھوپ؟
یہ کیسا ستم ہے
یہ پانی، یہ حدت جومیرے لیے زندگی ہیں
تمھارے لیے موت ہیں
تمھی کچھ بتاؤ
تمھیں کیوں بنایا گیا ہے
فقط کھیلنے کے لیے
تمھیں کیا پتہ ہے
سوچتا ہوں
مجھے کیا پتہ ہے
مجھے کیوں بنایا گیا ہے
فقط زندگی کے لیے
بہتی سانسوں کی تکمیل کے واسطے؟
تم تو بارش کی بوندوں میں
سورج کی اجلی حرارت میں جل کر پگھلتے ہو
میں اپنی سوچوں کی اندھی تپش سے گُھلا جاریا ہوں
سلگتی ہوئی جستجو کے بدن میں جلا جا رہا ہوں
یہی سوچتا ہوں
تمھیں کیوں بنایا گیا ہے
مجھے کیوں بنایا گیا ہے؟

