لدھڑ بندا جرنیل ہووے تے پاک آرمی وچ ہووے
سوشل میڈیا پر ایک خبر گردش میں ہے کہ انڈین آرمی چیف کا کہنا ہے کہ ان کے کل اثاثے 29 لاکھ روپے (ایک کروڑ پاکستانی روپے ) ہیں۔ اس حوالے سے ایک زبانی سنا واقعہ یاد آ گیا۔ یقیناً اس واقعے کا کوئی حوالہ تو نہیں لیکن کافی عرصہ پہلے ایک فوجی افسر نے ہی سنایا تھا اس لئے بغیر سند کے پیش ہے۔
لیفٹیننٹ جنرل (ر) جسبیر سنگھ لدھڑ انڈین آرمی کے ایڈیشنل ڈی جی ملٹری آپریشن رہے ہیں۔ 2006 میں یو این او کے سیکرٹری جنرل کوفی عنان نے انہیں سوڈان میں یو این فورسز کا کمانڈر مقرر کیا تھا۔ وہ اس سے پہلے بھی موزمبیق میں یو این فورسز کا حصہ رہ چکے تھے۔
سوڈان میں پاکستان آرمی کے کچھ افسران نے بھی ان کے ماتحت خدمات سرانجام دیں۔ دروغ بر گردن راوی جب جنرل لدھڑ اپنی ذمہ داری سنبھالنے سوڈان پہنچے تو آرمی میس میں حسب روایت ان کے لئے شاندار عشائیے کا اہتمام تھا جس کی ذمہ داری ان کے نائب پاکستانی افسر کے ذمہ تھی۔ بھاپ اڑاتے شاندار کھانے، باوردی بیرے، مستعد عملہ جو جنرل صاحب کی چشم ابرو کے منتظر تھے۔ جنرل صاحب ماحول اور کھانے سے خوب سیر ہوئے۔ کھانے سے فارغ ہو کر جنرل لدھڑ اپنے بیڈ روم پہنچے تو وہاں بھی انواع و اقسام کے پھل اور خشک میوے ان کے لئے موجود تھے۔
کہا جاتا ہے کہ جنرل جسبیر سنگھ لدھڑ اپنے پروٹوکول سے خوب لطف اندوز ہوئے اور اگلے دن برصغیر سے تعلق رکھنے والے اپنے ماتحت افسروں سے اسی پس منظر میں ایک واقعہ شیئر کیا۔ یہ واقعہ ظاہر ہے کہیں چھپا تو نہیں لیکن سینہ گزٹ سے یہاں وہاں پہنچا۔
روایت کے مطابق جنرل صاحب نے کہا کہ کچھ عرصہ قبل جب میں انڈیا کا ایڈیشنل ڈی جی ایم او تھا تو میں نے اپنی بیوی کے ساتھ سکھ مقدس مقامات کی زیارت کے لئے پاکستان جانے کا پروگرام بنایا۔ ضروری حکومتی اجازتوں کے علاوہ میں نے اس دورے کو بالکل نجی رکھا اور کسی کو اپنے پاکستان آنے کی خبر نہ کی۔ ایک عام یاتری کی طرح جہاز کی ٹکٹ لے کر اپنی اہلیہ کے ہمراہ لاہور ائرپورٹ پر اترا۔ جہاز سے اترتے وقت میں نے دیکھا کہ ایک بندہ خصوصیت سے مجھے گھور رہا ہے۔ چند لمحوں میں وہ بندہ میرے پاس تھا۔ آتے ہی اس نے استفسار کیا کہ ”سر آپ جنرل جسبیر سنگھ لدھڑ ہیں؟“ میرے اثبات میں جواب دیتے ہی اس نے کچھ بندوں کو اشارہ کیا جو چند لمحوں میں ہمارے پاس تھے۔ میں ابھی کچھ سمجھنے کی کوشش کر ہی رہا تھا کہ انہوں نے ہم سے ہمارا سامان پکڑ لیا۔ ان میں سے ایک پاسپورٹ لے کر خود امیگریشن کاؤنٹر پر گیا، امیگریشن کلیئر کرائی۔ ہمیں وی آئی پی لین سے گزارا اور باہر لے آئے۔
اس افسر نے کہا کہ سر آپ ہمارے مہمان ہیں آپ کے وزٹ کے سارے انتظامات کر دیے گئے ہیں اور کور کمانڈر صاحب کی طرف سے ایک میجر رینک کا افسر آپ کا پروٹوکول افسر تعینات کر دیا گیا ہے۔ ائرپورٹ سے باہر نکلے تو لش پش کرتی کئی لینڈ کروزر ہماری منتظر تھیں۔ گاڑی میں بیٹھتے ہی میری بیوی جو یہ حیرت انگیز پروٹوکول دیکھ کر حیران و ششدر تھی، نے میری طرف دیکھتے ہوئے کہا ”لدھڑ بندا جرنیل ہووے تے پاک آرمی وچ ہووے۔“ (لدھڑ، بندہ اگر جرنیل ہو تو پاک آرمی میں ہو)۔
وہاں سے ہوٹل پہنچے، کمرے میں پھولوں کے گلدستوں کی بہار تھی جن پر ”خوش آمدید از کور کمانڈر، خوش آمدید از سی او، خوش آمدید از فلاں“ وغیرہ کے تہنیتی پیغامات درج تھے۔ ہم سے پوچھا گیا کہ یاترا کے لئے کتنے بجے نکلنا پسند کریں گے، ہم نے صبح آٹھ بجے کا کہا۔ ہمیں کہا گیا کہ آپ کی خدمت پر متعین عملہ ٹھیک آٹھ بجے ہوٹل کی لابی میں آپ کو تیار ملے گا۔ میری بیوی نے میری طرف دیکھا اور پھر کہا ”لدھڑ بندا جرنیل ہووے تے پاک آرمی وچ ہووے۔“
دوسرے دن پورے پروٹوکول میں ہمیں سکھ مقدس مقامات کی سیر کرائی گئی، وہاں دور دور تک کوئی ذی روح نہیں تھا۔ ہمیں بتایا گیا کہ آج کا دن صرف آپ کے لئے مخصوص ہے اور دوسرے لوگوں کو یہاں آنے کی اجازت نہیں۔ ہم وی آئی پی قسم کی یاترا کے بعد ہوٹل واپس آئے، پھر ایک دو دن کے بعد انڈیا واپس روانہ ہو گئے۔ ہماری روانگی تک ہمیں اس طرح کا پروٹوکول دیا گیا جس کا ہم دونوں میاں بیوی انڈیا میں تصور بھی نہیں کر سکتے تھے۔ اس دوران میری بیوی حیرانی سے دیکھتی رہتی اور جب بھی موقع ملتا یہ جملہ میری طرف اچھال دیتی بلکہ اب بھی کہتی رہتی ہے کہ ”لدھڑ بندا جرنیل ہووے تے پاک آرمی وچ ہووے۔“




جرنیل تو پھر بڑا عہدہ ہے پاکستان کی تو فوج میں ہونا ہی کافی ہے ۔ ان کے تو گھر کی خواتین نہیں چھوڑتی سویلین کو۔ بہترین تحریر