اسلامی معاشی نظام: ایک غیر مذہبی، مغربی تناظر میں تجزیہ


ہم سب کے پلیٹ فارم پر اسلامی معاشی نظام کے موضوع پر اکثر کالم شایع ہوتے رہے ہیں۔ ان کالمز میں گاہے بہ گاہے اسلامی بینکاری نظام کے بارے میں شکوک وہ شبہات کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔ حقیقتاً جس طرح ہمارے وطن عزیز میں اکثر چیزوں کو مذہبی لبادہ اڑھا کہ ان کی اہمیت بڑھا دی جاتی ہے اسی طرح یہ سمجھنا کہ اسلامی بینکاری نظام بھی روایتی بینکاری کا ہی کا دوسرا نام ہے اور کچھ نہیں، کوئی ایسا اچھوتا خیال بھی نہیں۔ اس لیے اسلامی مالیاتی نظام اور روایتی نظام میں بنیادی فرق کیا ہے اور یہ نظام کیسے روایتی مالیاتی نظام کا مقابلہ کر سکتا ہے کی بحث میں الجھنے سے پہلے یہ ضروری ہوجاتا ہے کہ اسلامی مالیاتی نظام کا تقابلی جائزہ ان مغربی ممالک کے تناظر میں کیا جائے جو اسلامی شریعت کے ہر جز کو لے کر محتاط رویہ اپناتے ہیں اور آج کی دنیا میں اسے فرسودہ سمجھتے ہیں۔ حالیہ کچھ دہائیوں میں پوری دنیا میں اسلامی بینکاری نے نمایاں ترقی کا مظاہرہ کیا ہے۔ اعداد وہ شماریات کی بنا پر دیکھا جائے تو حیرت انگیز طور پر اسلامی ممالک کے مقابلے غیر مسلم اور غیر اسلامی ممالک کی بڑھتی ہوئی تعداد نے اس متبادل مالیاتی نظام کو تیزی سے اپنایا ہے۔

اس بات کا اشارہ دنیا بھر کے معتبر شماریاتی اداروں کی رپورٹس سے ملتا ہے کہ اسلامی شرعی نظام سے وابستہ ہونے کے باوجود، اسلامی بینکاری ان غیر اسلامی افراد اور اداروں میں تیزی سے مقبول ہوئی ہے جو اخلاقی، شفاف اور پائیدار معاشی نظام اپنانا چاہتے ہیں۔ اسلامک فنانس ڈویلپمنٹ انڈیکیٹر (IFDI) کی حالیہ (دسمبر 2022 ) رپورٹ کے مطابق سب سے زیادہ اسلامی بینکنگ اثاثہ جات بھلے ہے ایران، سعودی عربیہ اور ملائیشیا کے پاس ہوں لیکن اثاثوں میں اضافے کے لحاظ سے سرفہرست بالترتیب روس، کینیڈا، امریکا اور مالدیپ جسے غیر اسلامی ممالک ہیں۔ ایس اینڈ پی گلوبل (S&P) نامی شماریاتی ادارے کی جون 2022 میں شایع ہونی والی رپورٹ میں سال کے اختتام تک 2 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے کی امید دکھائی تھی۔ جبکہ اسلامک فنانس ڈویلپمنٹ انڈیکیٹر کے حالیہ اعداد و شمار کے مطابق، دنیا بھر میں 130 سے زائد ممالک میں اسلامی مالیاتی اداروں کے اثاثوں کا تخمینہ نیا سال شروع ہونے سے پہلے ہی 17 % ترقی کے ساتھ 4 ٹریلین ڈالر تک پہنچ چکا تھا۔

اسلامی معاشی نظام کی شروعات بھلے ہی مڈل ایسٹ اور ایشیا سے ہوئی تھی، لیکن یہ صنعت تیزی سے یورپ، افریقہ اور شمالی امریکہ سمیت دوسری مغربی منڈیوں میں پھیل رہی ہے۔ اسلامک معاشی نظام بالخصوص اسلامک بینکنگ کی اس مقبولیت کی کئی وجوہات ہیں، جن میں سے سرفہرست اس کا لچکدار معاشی ڈھانچہ ہے۔ 2008 کی عالمی کساد بازار میں جب پوری دنیا کا تجارتی خسارہ 15 % رہا اور رائل بینک اسکاٹ لینڈ سے لے کر امریکا کے جنرل موٹرز تک دیوالیہ ہو گئے اس وقت اسلامک بینکنگ ہی وہ معاشی ادارہ تھا جو کساد بازاری کے اثرات سے محفوظ رہا اور اپنی اہمیت ثابت کی۔ اسی بات کو ”یوکے اسلامک فنانس مارکیٹ رپورٹ 2022“ میں بھی دوہرایا گیا کہ 2008 ہی کی طرح 2019 کے کوڈ بحران میں بھی اسلامی مالیاتی نظام نے خود کو ثابت کیا اور اگلے عشرے تک یہی اعداد وہ شمار دیکھنے کو مل سکتے ہیں۔

اسلامی مالیاتی نظام کا بڑا حصہ بینکاری اور بانڈ مارکیٹ پے مبنی ہے۔ گو کہ اسلامک بانڈ (سکوک) کی شروعات 7 عیسوی میں دمشق سے ہوئی تھی لیکن حالیہ سالوں میں 500 ملین ڈالر کی سکوک سرمایہ کاری کے ساتھ برطانیہ نے خود کو اسلامی مالیاتی نظام کا ایک بڑا صارف ثابت کیا ہے۔ یاد رہے کہ برطانوی ٹریزری کے مطابق اس بانڈ کی کھپت ملک کے اندر ہی ہوئی ہے جبکہ مسلم آبادی برطانیہ کا صرف % 6.5 ہی ہے۔ برطانیہ کے بعد اگر دیکھا جائے تو اسلامی مالیاتی نظام کی مارکیٹ کے حوالے سے فرانس اور جرمنی کا نام آتا ہے جن کی نہ صرف آبادی کا تناسب برطانیہ سے بھی کم ہے بلکہ وہ اکثر اپنی پالیسیوں کی وجہ سے مسلم دنیا کی تنقید کا نشانہ بھی بنتے رہتے ہیں۔ اسی طرح فرانس اور جرمنی کی سرحدوں سے متصل ایک چھوٹے سے ملک لکسمبرگ کو یورپ کے اسلامی مالیاتی فنڈ کے رہنما اور پالیسی ساز ملک کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ ایک ملین سے بھی کم آبادی والے اس ملک نے پچھلے چھے سال میں نہ صرف اپنے اسلامی فنڈ کو % 122 گنا بڑھایا ہے بلکہ اسلامی مالیاتی فنڈ کے حوالے سے اس کا شمار دنیا کے پانچ سرفہرست ممالک میں ہوتا ہے۔

برطانیہ نے نہ صرف آکسفورڈ، کیمبرج سمیت ہر اعلی یونیورسٹی کے ساتھ سینٹر فار اسلامک فنانس کھولنے کا آغاز کیا ہے بلکہ موجودہ برطانوی وزیراعظم کا اسلامی دنیا سے باہر برطانیہ کے سب سے بڑے اسلامی بانڈ جاری کردہ ملک بننے پر 2021 میں کیا گیا ٹویٹ بھی یہ ظاہر کرتا ہے کہ غیر اسلامی ممالک اسلامی مالیاتی نظام کو کس نظر سے دیکھتے ہیں۔ ورلڈ بینک کی رپورٹ کے مطابق 1.6 بلین مسلم آبادی میں سے صرف % 14 ہی ریگولر بینکنگ سہولیات سے استفادہ کرتے ہیں۔ اس بات کو ذہن میں رکھتے ہوئے یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ بنیادی طور پر اسلامی شرعی قانون سے جڑے ہونے کے باوجود، اسلامی بینکاری نظام کی ترقی کا دار و مدار ان افراد اور اداروں میں مقبولیت سے وابستہ ہے جو اخلاقی، شفاف اور پائیدار معاشی نظام سے جڑنا چاہتے ہیں۔

اسلامی مالیاتی نظام کس طرح کام کرتا ہے اور کیوں یہ روایتی نظام کے مقابلے زیادہ لچکدار ہے یہ بحث آئندہ کالمز میں کی جائے گی۔ اس تمہید کی ضرورت اس لیے بھی تھی کہ اکثر اسلامی نظام کو دقیانوسی نظام گردانا جاتا ہے جس پے سوالات تو اٹھائے جاتے رہے ہیں لیکن ان سوالات کے نتیجے کی گئی بحث کو غیر سنجیدگی سے دیکھا جاتا ہے۔

Facebook Comments HS