محبت کے شاعر امجد اسلام امجد


کل صبح کا آغاز امجد اسلام امجد صاحب کے گزر جانے کی خبر سے ہوا۔ دل بہُت بہُت رنجیدہ رہا اور اس رنج کی بہُت ساری وجوہات تھیں۔

سب سے پہلی تو یہ کہ شاعری اور کتاب کے حوالے سے وہ ہمارے پہلے استاد تھے، محبت، بارش، پھول، خوشبو، چاند، ستارے، بادل اور ہوا، یہ سارے لفظ اور خیال سب سے پہلے اُن ہی کی کتابوں سے سیکھے۔

کچھ یہ ملال بھی تھا کہ دو ماہ پہلے جب ہماری بھابی عاصمہ فصیح نے عالمی اُردو کانفرنس میں اُن سے ملاقات کا احوال اور تصویریں شیئر کیں اور بتایا کہ وہ کتنی محبت اور شفقت سے ملے تو بڑی ہی خوشگوار حیرت ہوئی، اس بار پورا ارادہ تھا کہ پاکستان جائیں گے تو اُن سے ضرور ملیں گے، جب تک ہماری کتاب بھی آ جائے گی، آپ کے لکھے ہوئے الفاظ آپ کے پسندیدہ تخلیق کار کی نظر سے گزر جائیں اس سے بڑا اعزاز اور کیا ہو سکتا ہے لیکن اس بات کا ذرا سا بھی گمان نہیں تھا کہ وہ ایسے اچانک چلے جائیں گے۔

یوں بھی اجل کا گمان کون کرتا ہے۔

اُن سے تو پھر ہمارا بس لفظوں کا رشتہ تھا، دور رہنے والے تو ایسی کیفیات سے گزر کر اپنے بہُت قریبی پیاروں کو کھو کر بھی ہمیشہ ایک خلا لیے جیتے رہتے ہیں، یہ ایک بُہت بڑی قیمت ہے۔

امجد اسلام امجد صاحب سے ہمارا پہلا تعارف تقریباً بچپن میں ہوا، شاید دس بارہ سال کی عمر ہوگی ”ذرا پھر سے کہنا“ گھر میں نظر آئی، بس پڑھ لی، اس وقت الفاظ اوپری اوپری تھے، اُنہیں سوچنا اور جذب کرنا نہیں سیکھا تھا۔ پھر پندرہ سولہ سال کی عمر میں جب اُن کی نظمیں، غزلیں اخباروں، اور ڈائجسٹوں میں ”میری ڈائری سے“ قسم کے سلسلوں میں پڑھنے کو ملیں تو ”میسمرائزنگ“ یا سحر انگیزی کا عمل شروع ہوا، الفاظ کیسے روح کو چھوتے ہیں اور دلوں میں اُتر جاتے ہیں اسی وقت محسوس کرنا شروع کیا، یوں بھی اس عمر میں تن من سب ہی بہُت اجلا ہوتا ہے، دل، دنیا کی سیاست، لوگوں کے رویے اور حرص و ہوس کی گند سے پاک ہوتا ہے۔ آدمی ہواؤں کو محسوس کرتا ہے، بارش جلترنگ سناتی ہے، ستارے باتیں کرتے ہیں اور چاند اٹکھیلیاں کرتا نظر آتا ہے، ایسے میں امجد اسلام امجد صاحب کی شاعری پڑھنے کو مل جائے تو خیالوں میں بھی پھول کھل اٹھتے ہیں، تو بس وہ وہی دور تھا، خیالوں میں شگوفے پھوٹتے تھے، موسم موڈ بدل دیتے تھے اور ہوا اور بارش باتیں کرتی تھی۔

زندگی میں میلے میں خواہشوں کے ریلے میں
تم سے کیا کہیں جانا اس قدر جھمیلے میں
وہ تیرے نصیب کی بارشیں کسی اور چھت پہ برس گئیں
دلِ بے خبر میری بار سن اُسے بھول جا اُسے بھول جا
ابھی تو رُت بدلنی تھی ابھی تو پھول کھلنے تھے
ابھی تو رات ڈھلنی تھی ابھی تو زخم سلنے تھے
محبت خواب کی صورت
نگاہوں میں اُترتی ہے کسی مہتاب کی صورت
سائے آرزو کے اس طرح سے جگمگاتے ہیں
کہ پہچانی نہیں جاتی دِل بیتاب کی صورت
دنیا میرے ساتھ چلے
ہر چیز ٹھہر جائے
جب تم سے بات چلے
گزرے ہیں ترے بعد بھی کچھ لوگ اِدھر سے
لیکن تیری خوشبو نہ گئی راہ گزر سے
چہرے پہ میرے زلف کو پھیلاؤ کسی دن
کیا روز گرجتے ہو برس جاؤ کسی دِن
جاگتے میں بھی سوتی ہیں
کچھ آنکھیں ایسی ہوتی ہیں
زندگی کے پرچے کے
سب سوال لازم ہیں
سب سوال مشکل ہیں
کھڑکی کھول کے باہر دیکھو
موسم میرے دل کی باتیں، تم سے کرنے آیا ہے۔
بھیڑ میں اک اجنبی کا سامنا اچھا لگا
سب سے چھپ کے وہ کسی کا دیکھنا اچھا لگا
وہ تو گیت تم نے سنا نہیں میری عمر بھر کا ریاض تھا
میرے درد کی تھی وہ داستاں جسے تم ہنسی میں اڑا گئے

پڑھتے پڑھتے ادراک ہوا کہ یہ ساری نظمیں اور غزلیں جو ہمارے دل میں اُترتی جا رہی ہیں زیادہ تر ”ذرا پھر سے کہنا“ کا حصہ ہیں، پھر بڑے اہتمام سے وہ کتاب دوبارہ خریدی گئی۔

اُن دِنوں ایک نیا شوق چڑھا تھا، گلاب کی کلیاں لا کے کتابوں میں اپنی پسندیدہ نظموں اور غزلوں کے درمیان بند کرنا، تھوڑے عرصے بعد کلیاں سوکھ کے بک مارک بن جاتی تھیں یعنی

جس طرح سوکھے ہوئے پھول کتابوں میں ملیں!
جب جب کتاب کھولو وہ صفحہ بھی سُوکھے گلاب سمیت سامنے آ جاتا تھا اور لفظ دوبارہ جی اٹھتے تھے۔
کیا پیارے دِن تھے۔

یوں اُن کی کتابوں سے محبت کا سفر شروع ہوا اور بڑھتا ہی چلا گیا۔ اُن کی ساری کتابیں ایک ایک کر کے شیلف کی زینت بنتی گئیں اور غالباً سب ہی میں کہیں نہ کہیں گلاب بھی محفوظ تھے، کئی نظمیں اور غزلیں ازبر بھی ہو گئیں، بیت بازی یا شاعری کی محفل ہوتی تو یہ کلیکشن بہُت کام آتا۔

ایک بار کراچی کلب میں کلب کی لائبریری کے کمپیوٹرائز ہونے پر بیت بازی کا انعقاد ہوا، لائبریری کی اوپننگ میں مشتاق احمد یوسفی صاحب کو بھی آنا تھا۔ یہ ایک غیر روایتی بیت بازی تھی یعنی آپ شعر کے علاوہ نظم، غزل، قطع کچھ بھی پڑھ سکتے تھے کیونکہ اس کا مقصد اچھی شاعری پڑھنا اور سننا تھا۔ اُن دِنوں ایف ایم 100 پہ رات میں خلیل اللّٰہ فاروقی شاعری کا پروگرام کیا کرتے تھے جو بہُت مقبول تھا، بیت بازی اُنہیں ہوسٹ کرنا تھی، کراچی کلب والوں نے ایک دِن پہلے سب کو بلوایا تاکہ پروگرام کو پلان کیا جا سکے، اُن کے کانفرنس روم میں بڑی ساری میز کے ارد گرد بورڈ کے ممبرز، ہماری یونیورسٹی کی ٹیم اور خلیل اللہ فاروقی صاحب بھی موجود تھے۔ بیت بازی کا ڈیمو کیا گیا اور دلچسپ بات یہ تھی کہ میز کے ارد گرد بیٹھے تمام لوگ عمر اور عہدے سے بے نیاز اس میں شریک تھے۔ کلب کے چمکتے دمکتے کانفرنس روم میں چائے کی پیالیوں کی کھنک کے درمیان دیر تک خوش گپیوں کے ساتھ شاعری کی محفل جمی رہی، آخر میں حفیظ میمن صاحب جو اُن دنوں کراچی کلب کے روحِ رواں تھے انہوں نے امجد اسلام امجد کی مشہور نظم

محبت کی طبیعت میں یہ کیسا بچپنا قدرت نے رکھا ہے
پڑھی

ماحول بڑا ہی خوبصورت ہو گیا تھا، کیونکہ یہ نظم کافی طویل ہے تو شاید اُنہوں نے قصداً آدھی پڑھ کے چھوڑ دی یا پھر باقی اُن کی یاداشت میں نہیں تھی لیکن کچھ یوں ہوا کہ جہاں اُنہوں نے چھوڑی وہیں سے ٹکڑا جوڑ کے ہم نے اسے مکمل کر لیا، بے حد پذیرائی ملی، سب کو اتنی پسند آئی کہ یہ فیصلہ ہوا کہ بیت بازی کے آخر میں اسی طرح وہ یہ نظم پڑھیں گے اور ہم اسے یونہی مکمل کریں گے، خلیل اللہ فاروقی اور اُن کی بیگم سے بھی اچھی ملاقات رہی، اس کا احوال پھر تفصیل سے لکھیں گے۔ بہرحال اوائل سردیوں کی وہ شام بڑی ہی یادگار اور خوبصورت تھی جس میں شاعری نے کئی رنگ بھر دیے تھے۔ پھر ایک دن بعد بیت بازی بھی ہوئی، محسن بھوپالی اور زکیہ غزل جج تھے، مہمانوں میں یوسفی صاحب بھی موجود تھے، ایک ڈیڑھ گھنٹہ کے پروگرام کے بعد جب اختتامی کلمات بیان ہوئے تو دوبارہ امجد اسلام امجد صاحب کی نظم پڑھی گئی، ہال میں جامد خاموشی اور الفاظ اور آواز کا سحر، پھر دیر تک تالیاں بجتی رہیں۔

الغرض ہماری قلمی جدوجہد اور کامیابیوں میں ایک بُہت بڑا ہاتھ امجد اسلام امجد صاحب کا بھی ہے۔

کتابوں میں رکھی کلیاں اور گلاب سوکھ جاتے ہیں لیکن لفظ تازہ رہتے ہیں، گنگناتے مسکراتے ہیں، ذہن کے دریچے مہکاتے ہیں اور ہمیشہ خوش خوشبو بکھیرتے رہتے ہیں اور

جن کے الفاظ دلوں اور محفلوں کو زندگی اور خوشی بخشتے ہیں وہ خوبصورت لوگ کہیں نہیں جاتے ہمیشہ ہمارے آس پاس رہتے ہیں۔

محبت کے مسافر زند گی جب کاٹ چکتے ہیں
تھکن کی کرچیاں چنتے ’وفا کی اجرکیں پہنے
سمے کی رہگزر کی آخری سر حد پہ رکتے ہیں
تو کوئی ڈوبتی سانسوں کی ڈوری تھام کر
دھیرے سے کہتا ہے
! یہ سچ ہے نا
ہماری زندگی اک دوسرے کے نام لکھی تھی
دھندلکا سا جو آنکھوں کے قریب و دور پھیلا ہے
اسی کا نام چاہت ہے
تمہیں مجھ سے محبت تھی
! تمہیں مجھ سے محبت ہے
محبت کی طبیعت میں
! یہ کیسا بچپنا قدرت نے رکھا ہے
اللہ تعالیٰ اُنہیں جنّت میں محبت کے ساتھ رکھے، آمین

Facebook Comments HS